Tuesday, June 17, 2008

” لانگ مارچ کا رستہ ....آزادی کا رستہ "










اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے لانگ مارچ کامشکل ترین مرحلہ بخیر وخوبی گزر گیا۔ جمعہ13جون کی رات لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا ۔ اسی روز میں نے خبر دے دی تھی کہ ”حکومت اوروکلاءرہنمائوں میں یہ انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے کہ ہمیں امن وامان برقرار رکھنا ہے جس کی وجہ سے ملک اورقوم پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی ہے اورمزید کی شاید متحمل نہ ہوسکے۔ لانگ مارچ آرمی ہائوس ،چیئرمین جوائنٹ چیفس کی رہائش، پارلیمنٹ اور ایوان صدر کی طرف نہیں جائے گا تاہم پریڈ ایونیو میںجلسہ کیاجاسکے گا جہاں ایوان صدر بھی بالکل سامنے ہے اورپارلیمنٹ ہائوس بھی۔ اس طرح لانگ مارچ کے مقاصد بھی حاصل ہوجائیںگے اورحکومت امن وامان کے قیام کی ذمہ داری سے بھی عہدہ برآ ہوسکے گی۔ چونکہ بجٹ کے فنانس بل میں سپریم کورٹ ججوں کی تعداد29کرنے کااعلان ہوچکا ہے اس لیے بھی لانگ مارچ کی طرف سے کسی سخت اقدام کاامکان کم ہے“۔ شباب ملی اور اے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے حوالے سے حکومت کے خدشات ضرور تھے کیونکہ لانگ مارچ پرامن رکھنے کیلئے بات چیت مسلم لیگ(ن) کے مرکزی اوروکلاءکی جڑواںشہروں کی قیادت سے ہورہی تھی مگر اس میں اکثریت اوراہمیت چونکہ انہی دو کی تھی جن سے بات ہورہی تھی اس لیے کڑا وقت کسی آزمائش کے بغیر گزر گیا۔ یار لوگ بے شک شور مچاتے رہیں کہ دونوں طرف اپنے ہی لوگ تھے۔ حکومت میں بھی اورلانگ مارچ میں بھی بہرحال یہ بہت بڑی بات ہے کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کے اتنے لمبے مارچ کے باوجود کوئی جانی مالی نقصان نہیں ہوا اورپریڈ ایونیو سے چند گز کے فاصلے پرموجود عالمی برادری کے نمائندہ غیرملکی سفیروں کے شہر ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ پیغام پہنچنا کہ پاکستانی شدت پسندی ،توڑپھوڑ اورجلائو گھیرائو کے بغیر بھی احتجاج ریکارڈ کراسکتے ہیں۔ میری رائے میں بلاشبہ قابل تعریف ،لائق اعتراف ہے ورنہ غیرملکی سفیروں نے ڈنمارک ایمبیسی دھماکے کے بعد انتہائی سخت اورواضح الفاظ میں حکومت کوبتادیا تھا کہ یہی حالات رہے تو وہ یہاں نہیں رہ سکیںگے۔ علاوہ ازیں فرانس اورچین کے سفارتخانوں کودھمکی بھی مل چکی ہے اورفرانس ایمبیسی تو ہے بھی شاہراہ دستور کے بالکل اوپر۔باقی سفارتخانے تو پھر بھی ڈپلومیٹک انکلیو کی بائونڈری کے اندر ہیں۔مشیرداخلہ رحمان ملک ایک ملاقات میں بتا رہے تھے کہ کس لہجے میں سفیروں نے ان سے بات کی مگر انہوں نے یہ یقین دلا کرمطمئن کرنے کی کوشش کی کہ انشاءاللہ ان کی طرف کوئی نہیںجائے گا۔ ظاہر ہے میاں نوازشریف بطور سابق وزیراعظم اوراعتزاز احسن بطور صدر سپریم کورٹ بار ملک اورقوم کی طرف اپنی ذمہ داریوں سے بہت اچھی طرح واقف ہیںاس لیے 4روز تک ملک بھرسے عوام کے طوفان کے ساتھ گزرنے کے باوجود کہیں کوئی گڑ بڑ نہیںہوئی اور نہ غیرملکی نمائندوں ہی کوخوف وہراس کاسامنا کرنا پڑا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ جب لانگ مارچ اسلام آباد پریڈ ایونیو پہنچ جائے گا تو پھر کیاہوگا؟ جلسہ تو ہوگا مگر کیاکچھ اوربھی ہوگا۔ لانگ مارچ کالفظی مطلب لمبی پیش قدمی ہے۔ کیا ایک ہزار میل پیش قدمی کے بعد عوام کا”لشکر“ پسپا ہوجائے گا؟ کیاپارلیمنٹ ہائوس اورایوان صدر کے سامنے پڑائو ڈال دے گا جب تک جج بحال اور صدر فارغ نہ ہوجائیں؟ یاپھر مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہائوس اور ایوان صدر پرحملہ کردیاجائے گا؟ یہ سوال لوگوں کے ذہن میں تھے اورسب سے بڑا سوال ہی یہ تھا کہ ایساہوگیا تو پھر کیاہوگا ؟ پیر پگاڑا کافرمان لوگ پڑھ چکے تھے کہ جج بحال نہیںہوںگے اورملکی تاریخ کابدترین مارشل لاءلگنے والا ہے۔ گویہ امر باعث اطمینان ہے کہ مکمل تصادم سے دونوں فریقوں نے گریز بھی کیا اوراپنا اپنا کام بھی کرلیاجج تو تقریباً بحال ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ بجٹ فنانس بل کے ذریعے تعداد 29کردی گئی ہے اوراس پر نواز لیگ بھی راضی ہے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق ان کی تنخواہوں کی ادائیگی سے بھی ظاہر ہے کہ وہ حاضر سروس ہیں۔ اوربدترین مارشل لاءاب اس لیے نہیں لگ سکتا کہ جنرل مشرف کے مارشل لاءسے بدترین اورکیاہوگا؟ علاوہ ازیں خود وکلاءتحریک ،نوازلیگ کوبھی علم اورشعور ہے کہ ان کی طرف سے کسی بھی قسم کاسخت اقدام ایوان صدر کومضبوط اورپارلیمنٹ کوکمزور کرسکتاہے اوریہ دونوں کبھی نہیں چاہیںگے۔ جہاں تک ایوان صدر کی بات ہے یہ لوگ ایسی دیوار کودھکا مار کراپنی توانائیاں ضائع نہیں کریںگے جو پہلے ہی شکستہ ہوکرگرنے والی ہے اور پارلیمنٹ جو اب ان کی امیدوں کامرکز ہے اسے مجبور تو کرسکتے ہیں اپنے مطالبات ماننے کیلئے مگر اس پرحملہ آور نہیں ہوسکتے ورنہ ان میںاور آمروں میں کیافرق رہ جائے گا۔ 13جون جمعة المبارک کے روز پریڈ ایونیو پرجب لانگ مارچ کے قافلوں کی آمد ہورہی تھی اورسٹیج سے قومی وملی نغمے نشر ہورہے تھے ۔ اللہ اکبر اللہ اکبراے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیاہم زندہ قوم ہیں،پائندہ قوم ہیں۔یہ ترانے شرکاءکے جذبات کوگرما رہے تھے۔ جب قافلے نعرے لگاتے آرہے تھے اور سٹیج سے ان کوخوش آمدید کہا جارہا تھا۔ چاروں طرف چیف جسٹس افتخار کے حق اور صدر مشرف کے خلاف نعروں والے بینر لگے ہوئے تھے سٹیج کے ایک طرف وکلاءنے کیمپ لگا رکھا تھا جبکہ دوسری طرف ٹی وی چینلز کے کیمرے نصب تھے۔ ایمبیسی روڈ سے ہرلمحے کوئی نہ کوئی قافلہ،کوئی نہ کوئی جلوس آتا جارہاتھا۔ کوئی سرحد سے آرہا تھا تو کوئی بلوچستان سے، کوئی سندھ سے پہنچ رہاتھا اورکوئی پنجاب کے مختلف شہروں سے۔ لوگ آتے جارہے تھے اور پریڈ ایونیو کادامن تنگ پڑتا جارہاتھا۔ لوگوں کاجوش وخروش ہرگزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہاتھا ۔ سورج پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہاتھا اور جون کی گرمی اچھے بھلے آدمی کے کس بل نکالنے کیلئے کافی تھی مگر ایک عجیب کیفیت ہرشخص پرطاری نظر آرہی تھی۔ کسی کوگرمی کی پروا تھی نہ بھوک اورپیاس کی۔ ان میں مرد بھی تھے اورعورتیں بھی۔ بڑے بھی تھے اوربچے بھی۔ ہرکسی کے لب پرایک ہی نعرہ تھا۔ ”ہم ملک بچانے نکلے ہیں۔ آئو ہمارے ساتھ چلو“۔ اوراس ماحول کے درمیان میںایک طرف کھڑا ایوان صدر کی طرف دیکھ رہاتھا جوسٹیج کے عین پیچھے نظر آرہاتھا اورجس کی چھت پرقومی پرچم لہراتھا میرے ذہن میں اس وقت ایک ہی سوال گردش کررہاتھا۔ صدرمشرف اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں ہیں یاآرمی ہائوس میں ہیں؟12مئی کو جب کراچی مےں لاشےں گرائی جا رہی تھیں تو اسلام اÈباد مےں اسی مقام پر صدر نے جلسہ کیا جس میں کہا گیا کہ” دےکھی عوام کی طاقت “،اور اب وقت نے عوام کی اصل طاقت اسی جگہ لا کر دکھا دی ہے۔اب بھی کسی کو سمجھ آتی ہے ےا نہیں ،اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا،تاہم عوام کی اکثریت نے اےک بار پھر فےصلہ سنا دےا ہے اور خوب سناےا ہے۔اب جبکہ لانگ مارچ مکمل ہوچکا۔ کراچی سے اسلام آباد تک جوڈیشل بس چل چکی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے حاصل کیاہوا؟ ججوں کی بحالی اور صدر کی رخصتی کااعلان کب ہوگا؟ اس پر تاریخ کامثالی لانگ مارچ کرنے والے عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماوزے تنگ کاقول سامنے رکھناہوگا۔ مائو کے مطابق ”لانگ مارچ ایک منشور ہے۔ایک پراپیگنڈہ فورس ہے۔ یہ ظاہر کرتاہے کہ جس راستے پرچل کرلانگ مارچ اپنی منزل پرپہنچا وہی راستہ ہماری آزادی اورخوشحالی کاراستہ ہے“10 جون سے14جون تک پاکستان میں جولانگ مارچ ہوا اورجس میں ہرطبقہ فکر نے بھرپور شرکت کی دراصل ایک منشور تھا کہ آئین اورقانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہور کی حکمرانی ہی اس ملک کے 16کروڑ عوام کے مسائل کاحل ہے اوریہی وہ راستہ ہے جس پرچل کرہم بھی آزادی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ملکی تاریخ کی سب سے ”بڑی پیش قدمی “کس کس کو پچھاڑے گی ، ہم دیکھیں گے

Sunday, June 8, 2008

اور پھر صدر کونیند آگئی









ابراھم لنکن اپنے ایک دوست کے ہمراہ چہل قدمی کررہے تھے۔ دونوں میں جو گفتگو ہورہی تھی اس کا موضوع تھا ”انسان کوئی کام بھی بغیر غرض کے نہیں کرتا “ دوست کا موقف تھا کہ انسان بہت سے کام بے لوث ہو کر بھی کرتا ہے جبکہ لنکن اس کے قائل نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا انسان ہر کام کسی غرض اور فائدے ہی کیلئے کرتا ہے۔ بحث جاری تھی کہ ایک ”پلے “ کی دردبھری آواز نے دونوں کو چونکا دیا ۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو پلا ایک جھاڑی میں پھنسا نظرآگیا۔ وہ خود کو باہر نکالنے کی کوشش کررہا تھا اور اس کوشش میں جھاڑی کے کانٹے اسے چبھ رہے تھے لنکن سے یہ منظر دیکھا نہیں گیا۔ وہ تیزی سے لپکا اور جھاڑی ہٹا کر ”پلے “ کو باہر نکال دیا۔ ”پلا“ چوں چوں کرتا لنکن کے پیروں میں لوٹنے لگا اور پھر دور بھاگ گیا ۔ اب لنکن کے چہرے پر طمانیت تھی وہ دوست کی طرف پلٹے تو وہ مسکرا رہا تھا۔ لنکن دوبارہ موضوع کی طرف آتے ہوئے بولے ”میرے خیال میں انسان اپنے فائدے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا اور میں اس بات پر قائم ہوں “۔ دوست نے جواب دیا ”مگر صدر صاحب ! آپ نے ابھی ابھی بذات خود اپنے اس موقف کی نفی کردی “۔ لنکن نے پوچھا ”وہ کیسے ؟“ دوست بولا ”آپ نے ابھی ابھی ایک ”پلے “ کو مصیبت سے نجات دلائی ۔ بھلا ایک ”پلے“ سے آپ کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟“ اب مسکرانے کی باری لنکن کی تھی وہ زیرلب مسکرائے اور بولے ”اس میں بھی میرا فائدہ اور غرض شامل تھی“۔ دوست نے حیران ہو کر دریافت کیا ”اس میں آپ کی کیا غرض ہوسکتی ہے ؟“ لنکن کا جواب تھا ”اگر میں اس کو جھاڑی سے نہ نکالتا اور وہ پھنسا رہتا تو مجھے دن بھر چین آتا نہ رات کو نیند ۔ میں نے اپنا چین اور نیند بچالی “۔اپنے اپنے مزاج کی بات ہے۔ کسی کو کتے کے بچے کی مصیبت پر نیند نہیں آتی اور کوئی انسانوں کے سیکڑوں بچے اپنے ہاتھوں مار کر بھی چین کی نیند سو جاتا ہے 10 جولائی 2007ءکی رات کیسے بھلائی جا سکتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز اور رینجرز کے شیر جوانوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ صدر پرویز مشرف کے مطابق اندر ”دہشتگرد“ چھپے ہوئے تھے۔ ملک خطرے میں تھا۔ قوم کی آزادی خطرے میں تھی ۔ اس لئے انہوں نے فوج کے بہترین لڑاکے یہاں بھیجے تھے جو ”دہشتگردوں ”پر دن رات آگ اور لوہے کی بارش کررہے تھے۔ ایک ہفتے سے آپریشن جاری تھا دارالحکومت بالخصوص اور ملک بھر کو بالعموم ایک خبر کا انتظار تھا۔”غازی برادران اور صدر پرویز مشرف کے درمیان مذاکرات کامیاب ¾آپریشن ختم ¾مسلح افراد گرفتار ¾ خواتین ¾طالبات اور بچوں کو بحفاظت بازیاب کرکے ورثاءکے حوالے کردیا گیا۔“29جون2007ءکو صدر مشرف نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں مہمان خصوصی تھے۔ وہاں صحافیوں کو بھی بلوایا گیا تھا جس کا مقصد2جولائی کو لال مسجد پر فوجی حملے کے بعد سمجھ میں آیا ۔صدر نے صحافیوں سے کافی باتیں کیں مگر فوکس لال مسجد ہی تھا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ان پر لال مسجد والوں کے خلاف آپریشن کیلئے بہت دبائو ہے۔صدر نے سول سوسائٹی کے مظاہروں اور مطالبات کا حوالہ بھی دیا کہ ان لوگوں کو روکا جائے جو جب جی چاہئے مسجد سے لاٹھیاں لے کر باہر نکلتے ہیں اور مسلمانوں کو مسلمان بنانے لگتے ہیں۔ کبھی پولیس والوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور کبھی غیر ملکی عورتوں کو ۔ ان لوگوں نے اسلام آباد میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود صدر کا یہ بھی کہنا تھاکہ ”وہ جانتے ہیں مسجد اور جامعہ میں سیکڑوں بچے اور بچیاں بھی ہیں۔ اس لئے ہم آپریشن نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں مسئلہ خونریزی کے بغیر حل ہوجائے“۔ اس گھڑی تمام تر باقی اختلافات کے باوجود صدر مشرف مجھے بہت اچھے لگے مگر یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہیں رہی۔ چند روز بعد ہی فوجیں آگئیں اور لاشیں گرنے لگیں۔2جولائی کی وہ منحوس سہ پہر مجھے آج بھی یاد ہے۔ فوجیں آنے کی اطلاع پر لال مسجد روانہ ہوا تو میلوڈی چوک میں کمانڈوز نے روک لیا۔ چوک میں خاردارتاریں بچھا کر مسجد کی طرف جانے والا راستہ بند کردیا گیا تھا ابھی گولی نہیں چلی تھی ۔ صحافیوں کی بڑی تعد اد میلوڈی چوک اور لال مسجد چوک میں جمع تھی۔ کمانڈوز نے پوچھنے پر بتایا کہ آپ گلیوں سے ہو کر لال مسجد چوک تک جاسکتے ہیں۔ گلیوں میں ہو کا عالم تھا۔ لوگ آنے والی قیامت کے خوف سے گھروں میں دبک گئے تھے یا فوجیوں کے گشت کی وجہ سے باہر نہیں نکلے۔ لال مسجد چوک پہنچا تو کچھ فوجی مسجد اور جامعہ کے عین سامنے موجود میدان میں پوزیشنیں سنبھالے نظر آئے۔ مسجد اور جامعہ کی چھت پر مزاحمت یا نقل وحرکت کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ چند روز قبل بھی میں اسی چوک سے گزرا۔ رات10بجے کا عمل تھا اور بارش ہورہی تھی۔ مسجد کی چھت پر ہلکی ہلکی عمر کے چند لڑکے ڈنڈے تو نہیں کہہ سکتے البتہ چھڑیاں سی اٹھائے کھڑے تھے۔ گھر جاتے میں سوچ رہا تھا نہ جانے کن کے بچے ہیں۔ ان کو خبر بھی ہے کہ نہیں کہ ان کے لخت جگر کن حالات میں گھر چکے ہیں۔ موت ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ آپریشن کے روز بھی چوک میں ایک سکول کی دیوار سے ٹیک لگائے یہی سوچے جارہا تھا کہ یہ کیسا آپریشن ہے؟ ایک طرف دنیا کی بہترین فوج کے بہترین تربیت یافتہ کمانڈو اور دوسری طرف چھڑیاں اٹھائے چودہ چودہ ¾پندرہ پندرہ سال اور اس سے بھی ہلکی عمر کے بچے اور بچیاں۔ ایک طرف بھی مسلمان دوسری طرف بھی مسلمان۔ ایک طرف بھی پاکستانی اور دوسری طرف بھی پاکستانی۔ اور جو مارنے آئے ہیں دراصل ان کا کام دشمن سے بچانا ہے اور جو مرنے والے ہیں درحقیقت وہ تحفظ کے حقدار ہیں۔ اس سے قبل کہ سوچوں کے دھارے میں بہتے بہتے دور نکل جاتا میرے سر کے اوپر جیسے کسی نے ہتھوڑا دے مارا ۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ جس سکول کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہوں اس کی اوپری منزل میں بھی مورچہ ہے۔ اس کی کھڑکی سے ایک کمانڈو نے پہلی گولی چلا دی تھی۔ پہلی لاش گر چکی تھی۔غازی برادران کے سول سوسائٹی اور قانون کے خلاف تمام اقدامات کے باوجود جوں جوں آپریشن آگے بڑھتا اور لاشیں گرتی رہیں توں توں لوگوں کو احساس ہوتا گیا کہ انہوں نے یہ تو ہرگز نہیں چاہا تھا اور یہ بات درست تھی۔ غازی برادران اور ان کے چند ساتھی مسلح تھے۔ باقی اکثریت خواتین معلمات ¾ طالبات ¾ طلباءاور بچوں کی تھی جو معصوم تھے۔ جن کا دہشتگردی ¾ قانون شکنی یا ملک دشمنی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ لہٰذا چند مسلح افراد پر قابو پانے کیلئے وفاقی پولیس کے تھانہ آبپارہ کی پولیس ہی کافی تھی۔وہ سب لوگ جو لال مسجد والوں کے خلاف کارروائی کیلئے شور مچاتے رہے انہیں محسوس ہوا کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی جارہی ہے۔ یقینا وہ اس قسم کی وحشیانہ کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ یقینا ً یہی وجہ رہی ہوگی کہ صدر کو پھر مذاکرات کی طرف آنا پڑا حالانکہ گولی چل چکی تھی اور گولی تبھی چلتی ہے جب بولی رک جاتی ہے۔پھر10جولائی کی وہ رات آپہنچی۔ لال مسجد آپریشن کے ڈراپ سین کی رات ¾ بہت سی لاشیں گرچکی تھیں مسجد کے اندر بھی اور مسجد کے باہر بھی۔ اندر نہ جانے کون کون مرا ؟ باہر لیفٹیننٹ کرنل ہارون السلام کی جان گئی ¾ وہ تو ہونا ہی تھا۔ ایک فوٹو گرافر ¾ایک تاجر ¾ایک مزدور مفت میںمارے گئے۔ پتہ نہیں ان کو کن کی گولیاں چاٹ گئیں۔ ”دہشتگردوں ” کی یا قوم کے ”محافظوں “ کی ۔ پتہ نہیں ان میں کون شہید ہوا اور کون صرف کام آیا۔ بہت نقصان ہوچکا تھا مگر پھر بھی ابھی ایک المیہ ہونا باقی تھا۔ اسے روکا جاسکتا تھا۔ اسی لئے ایک طرف میڈیا غازی عبدالرشید اور صدر کے ساتھیوں میں رابطے کرانے میں مصروف تھا اور دوسری طرف چوہدری شجاعت حسین رات گئے تک صدر اور غازی عبدالرشید کے بیچ کسی مفاہمت کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔اس دوران وقفے وقفے سے طلباءاور طالبات مسجد سے باہر آتے رہے۔غازی عبدالعزیز کو پہلے ہی زندہ گرفتار کیا جاچکا تھا۔ پیچھے صرف غازی عبدالرشید رہ گئے تھے جنہیں قائل کرکے باقی معصوموں کی جان بچائی جاسکتی تھی جو اب بھی سیکڑوں کی تعد اد میں اندر موجود تھے اور ایک ہفتے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ آگ اور لوہے کی بارش کا بھی سامنا کررہے تھے۔ نیند کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ شاید انہیں احساس ہوچکا تھا کہ بس تھوڑی دیر کی بات ہے اس کے بعد تو سونا ہی ہے۔ ایک ایسی نیند جو بہت میٹھی ہے ¾ بہت پرسکون ¾پھر چاہے گولے برسیں یا پہاڑ ٹوٹیں۔ ان کی آنکھ نہیں کھلنی رات گزرتی جارہی تھی مذاکرات جاری تھے ¾مذاکراتی ٹیم ایک کال غازی عبدالرشید کو اور دوسری صدر کو کررہی تھی۔ میڈیا سے پتہ چل رہا تھا بات آگے بڑھ رہی ہے ۔غازی صاحب نرم پڑرہے ہیں امید بندھ رہی تھی کہ شاید معاملہ سلجھ جائے۔ سیکڑوں بے گناہ انسان اور انسانوں کے بچے بچ جائیں مگر ایوان صدر کو کچھ اور ہی مقصود تھا ۔ مذاکراتی ٹیم اور غازی عبدالرشید کے درمیان مذاکرات تقریباً کامیاب ہوچکے تھے۔ ٹیم لیڈر نے آپریشن روکنے کیلئے حتمی منظوری کی خاطر صدرکے موبائل فون پر رابطہ کیا تو وہ بند ہوچکا تھا۔ صدر مملکت سونے کیلئے جاچکے تھے ۔ ان کو نیند آگئی تھی۔

Monday, June 2, 2008

پر ویز مشرف کے پائوں سے زمین نکل چکی ہے ۔تحریر : اے پی ایس ، اسلام آباد




عوامی تجزیہ نگا روں کا دعوی ہے کہ بلال بیٹے نے ا پنے پپا مشرف کو فون کیا ہے کہ پا پا فوری طور پر ملک چھوڑ دیں آپ کی جان کو خطرہ ہے اس ضمن میں مشرف نے اپنے دوستوں سے غور و فکر کیا طے یہ ہوا کہ آپ کو تحفظ فراہم کیا جا ئے گا۔ جبکہ تجزیہ نگا روں نے یہ بھی رائے دی ہے کہ مشرف واحد حکمران ہوگا جس کا انجام سب کے لئے مقام عبرت ہوگا۔ تجزیہ نگا روں نے یہ بھی کہا ہے کہ فرعون بھی موت کے آخری وقت بھی اپنے آپ کو بہت مظبوط سمجھتا تھا لیکن جب خدا تعالی کا حکم ہوا تو اس کا دبد بہ خاک میں مل گیا ۔ تجز یہ نگا روں نے یہ بھی کہا ہے کہ مشرف بذ ریعہ ہوائی جہاز نہیں بھا گیں گے البتہ رات کی تا ریکی میں امریکن کے اشا روں پر جلال آباد کی طرف امریکن ایئر بیس کی طرف پیش قد می کریں گے اور اس دوران امریکن طالبا ن کو مخبری کر دیں گے جس کے نتیجے میں طالبان مشرف کو پکڑ لیں گے اور مشرف کو ایسا عبرت کا نشان بنا یا جا ئے گا کہ دنیا بھر کے آنے والے آمر سو بار سوچیں گے ۔ تجزیہ نگا روں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ مشرف کے مقام عبرت کا خا کہ بھی مشرف کے دوست امریکہ نے ہی بنایا ہوا ہے۔ ملک میں جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا معیشت مضبوط نہیں ہوگی۔ پرویز مشرف قومی مجرم ہیں ۔ آرٹیکل 6کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلنا چاہئے حکمران اتحاد کی جانب سے جو آئینی پیکج لایا جارہا ہے اس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو بھی بحال رکھنا شامل ہے یہ وکلاءکی آزاد عدلیہ کی تحریک کی نفی ہے اسے نہ اے پی ڈی ایم اور نہ ہی وکلاء قبول کریں گے۔عوام کا موقف ہے کہ 2نومبر کی پوزیشن پر ججو ںکی بحالی کے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہوسکتا۔ دونوں ایوانوں میں حکمران اتحاد کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے اسے سنجیدگی کے ساتھ قومی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے قدم بڑھانے ہوں گے۔ پرویز مشرف کے مواخذے ، ججز کی بحالی کو آئینی پیکج اور بیرونی دباو¿ کے تحت التواء کا شکار کیا جارہا ہے۔ ا بجٹ کا مرحلہ آرہا ہے۔ قومی اسمبلی وسینٹ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے ملک معاشی بحران سے دوچار ہے۔ صنعت وزراعت تباہ حال ہے کوئی مکمل وزیر خزانہ نہیں ہے۔ بجٹ کی تیاری کے مراحل کو ضائع کردیا گیا ہے۔ اس لئے کوئی بڑی توقع نہیں کہ عوام کو اس بجٹ سے ریلیف ملے گا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو قومی اقتصادی کونسل، عوام کو مطمئن کئے بغیر ختم کردینا ثابت کرتا ہے کہ جمہوریت، پارلیمنٹ اورعوام کی بات کرنے والے اس میدان میں مخلص نہیں ہیں۔ سٹیٹ بینک، عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ نے ہماری معیشت کیلئے خطرات کی گھنٹیاں بجادی ہیں۔ ہماری معیشت پہلے سے زیادہ قرضوں میں دب گئی ہے۔ فنانشل مس مینجمنٹ پہلے سے زیادہ بدتر شکل اختیار کرچکی ہے۔ آٹھ سالوں میں گڈ گورننس دینے کی بجائے مراعات یافتہ کو نوازا گیا۔احسن اقبال نے کہا ہے کہ پارٹی کے قائد محمد نواز شریف اور صدر محمد شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری نے عام انتخابات میں جنرل مشرف کے دھاندلی کے ایک اور منصوبے کا پول کھول دیا ہے۔ ان رہنماو¿ں کے کاغذات نامزدگی کی منظوری نے جنرل پرویز مشرف ، پرویز الہی اور پی سی او ججوں کی اس سازش کو ناکام کردیا جس کے تحت وہ نواز شریف کو قومی اسمبلی اور شہباز شریف کو صوبائی اسمبلی میںپہنچنے سے روکنا چہاتے تھے نواز شریف اور شہباز شریف کی کامیابی جمہوریت کے لیے بہت بڑا تحفہ ہو گی اور ملک میں جمہوری قوتوں کی طاقت میں بے اپناہ اضافہ ہو گا ۔ جنرل مشرف نے گزشتہ آٹھ سالوں میںپاکستان کو تباہ وبرباد کردیا ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ انہیں تمغہ دے کر رخصت کیا جائے پاکستان کے سولہ کروڑ عوام ملک کے مستقبل کو داو¿ پر لگانیوالے مجرم کا احتساب چاہتے ہیں ۔12 اکتوبر 99 ء کو جب جنرل مشرف نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت سے ملک چھینا تھا توپاکستان میں بجلی ، آٹا ، گیس اور عدلیہ نام کے کسی بحران کا وجود نہیں تھا لیکن آٹھ سالوں میں انہوں نے ہنستے بستے ملک کو لوڈ شیڈنگ سے اندھیر نگری بنا کر اور آٹا و گندم ،بحران سے فاقہ زدہ بنا کر جمہوری قیادت کے حوالے کردیا ہے ۔ جنرل مشرف کے جرائم میں قدر گھناو¿نے ہیں کہ جو بھی انہیں معافی دے گا وہ بھی ان کے جرائم میں برابرکا حصہ دار کہلائے گا۔پاکستانی عوام کی اکثریت نے صدر پرویز مشرف کو آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر سزا دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ گیلپ پاکستان کی تازہ سروے رپورٹ کے مطابق 61فیصد عوام صدر پرویز مشرف کو آئین کی پامالی پر سزا دینے کے حق میں ہیں21فیصد ان کو معاف کرنے جبکہ 18فیصد نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ 64فیصد عوام نے ایمرجنسی کے نفاذ پر مواخذے اور انہیں ہٹانے کے حق میں رائے دی 11فیصد اس کو غلطی نہیں سمجھے۔ 23فیصد نے درمیانی رائے جبکہ 2فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔ یہ سروے 15مئی کے بعد کیا گیا جس میں پاکستان کے مختلف شہروںاور دیہاتوں سے مختلف آمدنی والے اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگوں سے رائے لی گئی یہ سروے چاروں صوبوں کے عوام سے کیا گیا ہے 8سال قبل جب صدر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو 70فیصد عوام نے ان کی حمایت کی تھی جو گیلپ کے اس وقت کے سروے سے ثابت ہوتا ہے 2007ءکے شروع میں 60فیصد عوام انکے مخالف تھے حالیہ سروے میں نواز شریف ملک کے مقبول ترین رہنما اور صدرپرویز مشرف سب سے غیر مقبول شخصیت بن چکے ہیں سروے رپورٹ کے مطابق صدر پرویز مشرف 59فیصد عوام کی ناپسندیدہ شخصیت ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن اور الطاف حسین 53فیصد کی ، آصف علی زرداری 26فیصد کی ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی 17فیصد اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما میاں نواز شریف 13 فیصد عوام کی ناپسندیدہ شخصیت ہیں ‘ 47 فیصد عوام کا یہ خیال ہے کہ صدر پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کی وجہ صرف امریکی حمایت اورپشت پناہی ہے ۔ 26 فیصد انکے اقتدار میں رہنے کی وجہ فوج کو 8فیصد پاکستانی عوام کو سمجھتے ہیں جبکہ 14فیصد انکے اقتدار میں رہنے کے حق میں اور 5فیصد نے کوئی رائے نہیں دی ۔ اگر مستقبل میں صدر پاکستان اٹھاون ٹو بی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلیوں کو تحلیل کرتے ہیں تو جب وہ اپنے اس اِقدام کو چودہ روز کے اندر ریفرنس کی صورت میں عدالت بھیجتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے ایک آزاد عدلیہ کی عدم موجودگی میں اس ریفرنس پر کس قسم کا فیصلہ سامنے آئے گا اگر یہ ریفرنس معزول ججوں پر مشتمل’آزاد عدلیہ کے پاس بھیجی جائے گی تو اس کافیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوگا کیونکہ معزول ججز نے ماوراء آئین اِقدام کی مخالفت کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کیا تھا اور اگر عدلیہ آزاد نہیں ہوگی تو آپ صدارتی ریفرنسوں پر مثبت فیصلوں کی توقع نہ رکھیں۔ اگر عدلیہ آزاد نہیں ہوگی تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی بصورت دیگر’اب پچھتائے کیا جب چڑیا چک گئی کھیت آزاد عدلیہ کی غیر موجودگی میں دہشت گردی، لوٹ مار اور تخریب کاری میں اضافہ ہوگا ۔ان کے مطابق کراچی میں ڈاکو¿وں کی زندہ جلانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے اداروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے اوروہ اب اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک کا مقصد صرف عدلیہ کی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی آزادی ہے تاکہ ملک کو قومی سلامتی کی ریاست سے فلاحی ریاست میں تبدیل کیا جائے جس میں ہر شہری کو انکی دہلیز پر انصاف مل سکے۔1958ء میں ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر قائداعظم کے فلاحی ریاست کے تصور کو غیر محسوس طریقے سے قومی سلامتی ریاست میں تبدیل کردیا۔ان کے مطابق سوویت یونین کے پاس چالیس ہزار ایٹم بم ، جدید میزائل سسٹم اور ٹینک تھے مگر قومی سلامتی کی ریاست ہونے کی وجہ سے آج صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے ۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی حمایت جاری رکھنے کے اشاروں کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے صدر مشرف کو عوام کے دباو¿ کے نتیجے میں صدارت سے ہٹانے پر اتفاق کرلیا ہے اور اس سلسلے میں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ مرکزی حکومت دس جون سے وکلاء کے ہونے والے لانگ مارچ کو فری ہینڈ دے گا جس کا رخ حکومت کی بجائے صدر مشرف کی جانب موڑا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کے قائدین نے اس فیصلے پر بھی اتفاق کرلیا ہے کہ وکلاء کے لانگ مارچ کی مسلم لیگ(ن) کھل کر جبکہ پیپلزپارٹی پس پردہ حمایت کرے گی جس کا مقصد صدر پرویز مشرف کی پشت پر کھڑے امریکہ کو باور کرانا ہو گا کہ صدر پرویز مشرف کے ہٹانے کے لیے حکمران اتحاد سخت عوامی دباو¿ کا شکار ہے ۔اور ان کو ہٹانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق 28 مئی کو یوم تکبیر کے موقع پر لاہور میں مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے ایک تقریب میں جذباتی تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا صدر مشرف کے مواخذے کے لیے ان کے اور آصف علی زرداری کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے ۔ جس کا مقصد ایوان صدر کی توجہ دو سری طرف رکھنا تھا اگرچہ بعض اطلاعات کے مطابق آصف علی زرداری ایوان صدر کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک فوری طورپر نہیں لائی جائے گی ۔ آصف علی زرداری پر امریکہ سمیت ان بین الاقوامی حلقوں کا دباو¿ ہے کہ وہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ مل کرکام کریں جبکہ دوسری طرف زرداری شدت سے محسوس بھی کررہے ہیںکہ صدر مشرف کو برقرار رکھنے پر ان کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے اور پارٹی کو بھی نقصان ہو رہا ہے ۔ ان حقائق کے تناظر میں آصف علی زرداری نے اپنے بڑی اتحاد نواز شریف کو اپنی مجبوریوں سے آگاہ کردیا ہے تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ حکومت وکلاء کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو طویل عرصے سے اپنے گھر پر نظر بند ہیں اور ان کی میڈیا تک رسائی بھی نہیں تھی کو ایک پالیسی کے تحت آزادانہ انٹرویوز دینے کی اجازت دی گئی ہے جو ہر انٹرویو میں صدر مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ماضی میں کی گئی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے انٹرویوز صدر مشرف پر عہدہ صدارت چھوڑنے کے لیے دباو کا حصہ ہیں ۔ حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے معاملات کو سٹریٹجک پلاننگ ڈویڑن ڈیل کررہا ہے جو فوج کے ماتحت ادارہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق فوج جس نے سیاسی معاملات سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے نے صدر پرویز مشرف پر واضح کیا ہے کہ وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے گی اور صدر اور حکومت کے درمیان ہونے والے کسی بھی امکانی تصادم میںفریق نہیں بنے گی۔ ذرائع کے مطابق فوج نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ کا رخ اگر آرمی ہاوس کی جانب کیا گیا تو یہ فوج کے لیے باعث شرمندگی ہو گا لہذا ایسی صور تحال سے گریز کیا جائے جس سے فوج کے امیج کو نقصان پہنچے جو عوام میں بتدریج اب بہتر ہو رہا ہے ۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لانگ مارچ جو دراصل معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جا رہا ہے ۔ کو صدر مشرف کوہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور آصف علی زرداری صدر کو ہٹا کر باسانی اعلی عدلیہ کو اپنی شرائط پر بحال کرنے کے لیے نواز شریف کو رضا مند کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وکلاء اور پاکستان مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے میاں نواز شریف کو پیش کئے گئے مجوزہ آئینی پیکیج کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔آئینی پیکج میں ججز کی برطرفی کا اختیار سپریم جوڈیشنل کمیشن کو دینے کی تجویز دی گئی ہے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان آئینی پیکیج کے مسودے کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم کچھ نکات پر مسلم لیگ ن اور وکلاء اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وکلاء نے کہا ہے کہ یہ آئینی پیکج صرف دو افراد کے لیے بنایا گیا ہے اس میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت کم اور عبدالحمید ڈوگرکی مدت ملازمت میں اضافہ کیا گیا ہے ۔وکلاء نے کہا ہے کہ ایسے کسی آئینی پیکج کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر آنچ آئے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی طرف سے آئینی پیکیج کو حتمی شکل دینے کے بعد مسودے کو اتحادیوں تک پہنچانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ابھی اس پر مشاورت جاری ہے جس کے بعداس آئینی پیکج میں تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں آئینی پیکیج میں ججوں کی برطرفی کا اختیار سپریم جوڈیشنل کونسل کے بجائے جوڈیشنل کمیشن کو دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صدر کو اختیار ات کے استعمال کیلئے وزیر اعظم کے مشورے کا پابند بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی پیکیج کو پارلیمنٹ میں بحث کیلئے اتحادیوں کی مشاورت کے بعد پیش کیا جائے گا جبکہ میاں نواز شریف نے وزیر قانون سے ملاقات میں کہا ہے کہ مل کر چلیں گے تو بچیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے مجوزہ آئینی پیکج میں آئین توڑنے اور انہیں تحفظ دینے والوں پر غداری کے مقدمات چلانے ، ایک بار پھر چیف جسٹس کا عہدہ حاصل کرنے والا دوبارہ اس عہدے پر فائز نہ ہونے ، اہم تقرریوں کے اختیارات وزیراعظم تفویض کرنے ، صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے ، صدر کو وزیراعظم سے مشاورت کا پابند بنانے اور ججز کی بحالی کا طریقہ کار اتحادی جماعتوں سے طے کرنے58-2-B کے خاتمے ، سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے ،وزیر اعظم موجود نہ ہونے پر کابینہ کے سینئر ترین وزیر کو یہ اختیارات دینے سمیت اہم نکات کو شامل کیا گیا مسودہ 80نکات پر مشتمل ہے ججز کی مدت ملازمت کے فیصلے کو مشاورت سے طے کرنا بھی آئینی پیکج کے نکات میں شامل ہے۔ مجوزہ آئینی پیکج حکمران جماعت میں شامل تمام جماعتوں کے سپرد کردیا گیا ہے آئینی پیکج پر غور کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر حکومتی جماعتوں نے خصوصی کمیٹیاں قائم کر دیں ہیں ججز کی بحالی کا طریقہ کار آئینی پیکج کا حصہ نہیں ہے اسی طرح ججز کی مدت ملازمت کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد مشاورت سے کرے گا مجوزہ آئینی پیکج کے تحت ایک بار چیف جسٹس کا عہدہ حاصل کرنے والے دوبارہ اس عہدے پر فائز نہیں ہو سکے گا آئینی پیکج کے حوالے سے حکومتی اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کا اجلاس بھی آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے جس میں پی ڈی اے کے قائدین سمیت وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی شرکت کریں گے۔اتحادی جماعتوں نے تجویز دی ہے کہ اتحادیوںکا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہونا چاہیے ۔ مجوزہ آئینی پیکج میں بیشتر نکات پارلیمنٹ کی بالادستی اور اداروںکے استحکام سے متعلق ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ آئینی پیکج میں سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی ، قدرتی وسائل کی پچاس فیصد آمدنی صوبوں کو دینے ، بلوچستان میں لیویز کی بحالی مقامی حکومتوں سے انتظامیہ کے اختیارات واپس لے کر صوبائی حکومتوں کو دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں ۔آئینی پیکج میں کہا کہ ججز کی مدت ملازمت آرٹیکل 179اور 195کے بارے میں اتحادیوں کے صلاح مشورے سے طے کی جائے گی ۔ آرٹیکل 243اے ججز کی بحالی کا معاملہ 270سی سی کے حوالے سے فیصلہ آئینی پیکج میں خالی چھوڑ ا گیا ہے ۔ آرٹیکل پیکج کے مطابق 270ٹرپل اے ججز کی بحالی کے طریقہ کار اور 3نومبر کے اقدامات سے متعلق ہے اس بارے میں بھی اتحادیوں کے ساتھ صلاح مشورے سے کیا جائے گا ۔آرٹیکل 1دن میں صوبہ سرحد کا نام پختون خواہ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آرٹیکل 6آئین توڑنے والوں سے متعلق ہے اس میں اب آئین توڑنے والوں اور ان کو تحفظ دینے والوں پر غداری کی سزا تجویز کی گئی ہے اور ان پر غداری کا مقدمہ درج کرایا جائے گا جبکہ آئینی پیکج میں جو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے متعلق ہے اس میں چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس آف ہائی کورٹس کے عہدے کی معیاد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔سپریم کورٹ کے ججوں کی عمر 65سال سے 68سال اور ہائی کورٹ کے ججز کی عمر 62سے 65سال کرنے کی تجویز ہے ۔دوسری بار چیف جسٹس نہ بننے کے حوالے سے تجویز میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کے لئے یہ آپشن رکھا جائے گا کہ یا تو وہ ریٹائرڈ ہو جائیں ۔ اس پر انہیں تنخواہ اور مراعات ملی گئیں اور اگر وہ اپنی مدت ملازمت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اس میں انہیں چیف جسٹس کی مراعات اور پیکج ملے گا اور وہ اپنی سروس کو 68اور 65سال تک جاری رکھ سکیں گے ۔ اس تجویز میں چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیار ات میں بینجوں کو تشکیل دینے کے معاملے میں بھی قداغن لگائی گئی ہے ۔آئین کے آرٹیکل 1843میں عوامی اہمیت کا شامل کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی مفاد عامہ کا مسئلہ آئے گا اس میں کم از کم پانچ ججز پر مشتمل بینج سماعت کرے گا اور بینج کی تشکیل چیف جسٹس اور دو سینئر ترین ججز کریں گے ۔ آرٹیکل 209جو ججز کے احتساب سے متعلق ہے ۔ اس میں 209-Aجس میں ایک فیڈرل جودیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا ،کی تجویز دی گئی ہے ۔ جس میں ریٹائرڈ ججز کو شامل کرنے کی تجویز شامل ہے ۔کمیشن آکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا پہلے صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کا ریفرنس بھیجا جا سکتا تھا لیکن اب اس ترمیم میں عدالت عظمی اور عدالت عالیہ دونوں کے چیف جسٹس صاحبان کے ریفرنس بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ آئینی پیکج میں 58ٹو بی کے خاتمے کی تجویز بھی شامل ہے اسی طرح چیف الیکشن کمشنر سروس چیفس اور آرمی چیف کی تقرری کے تمام اختیارات صدر سے وزیر اعظم کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے نئے آرٹیکل کا اضافہ نکات میں شامل ہے ۔ آئینی پیکج میں شامل ہے کہ وزیر اعظم کسی بھی وجہ سے موجود نہ ہوں یہ نہ اہل ہو جائیں تو ایسی صورت میں وفاقی کابینہ کا سینئر ترین وزیر بطور وزیر اعظم کا چارج سنبھال لے گا اور اپنے فرائض ادا کرے گا ۔ جبکہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی پیکج کا مسودہ حتمی نہیں اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے آئینی پیکج میں آرٹیکل 6 کو بدلا گیا ہے جو جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائے گا وہ جج نہیں رہے گا ۔آئینی مسودے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے یہ حتمی نہیں ہے ۔ اس بارے میں اتحادی جماعتوں سے تجاویز لی جائیں گی ۔ صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کیا جائے گا اور ایسی شقیں ختم کر دی جائیں گی جو 1973 ء کے آئین میں بعد میں شامل کی گئی ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہے ۔ آئینی مسودہ ایک سوچ کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا یہ ایک مثبت مسودہ ہو گا ۔ جس میں تمام طبقات کی رائے شامل کی جائے گی ۔ آئینی پیکج کے مسودے کی کاپیاں اتحادی جماعتوں کو فراہم کرنا شروع کر دی گئی ہیں ۔ اے این پی کے سربراہ اسفندر یار ولی کی ہدایت پر پارٹی کی نائب صدر بشریٰ گوہر کو مسودے کی کاپی فراہم کر دی گئی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کی درخواست پر مسودے کی کاپی جے یو آئی کے راہنما مفتی ابرار کو دے دی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم کے ایک نمائندے کو بھی آئینی پیکج کا مسودہ فراہم کر دیا گیا ہے جو لندن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھیجا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں نواز شریف کو آئینی پیکج کا مسودہ دینے کے لئے خود لاہور آئے ہیں ۔سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے لال مسجد آپریشن کو قتل عام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرستان طرز پر اس آپریشن کی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی تھی اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں انہوں نے ججز کی بحالی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں دعوت دی گئی تو وہ اس میں شامل ہوں گے ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ 28 فروری کے انتخابات میں ہارنے والے امیدواروں کی نسبت انہیں زیادہ ووٹ ملے ہیں انہوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ ٹارگٹ دھاندلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے ایک پروگرام بنا تھا جس کا این آر او ایک حصہ تھا اور اس کے مطابق پیپلزپارٹی اور اعتدال پسندوں کو لے کر آنا ہی ہے ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ ق لیگ کے چند راہنماو¿ں نے این آر او کی مخالفت کی تھی اور اسی لئے این آر او کی مخالفت کے بعد انہیں میٹنگ میں نہیں بلایا گیا ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ بے نظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر معاہدے کے تحت پاکستان آئیں تو سعودی عرب والوں نے نوٹس لیا ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کو سعودی عرب کا دورہ کرنا پڑا ۔ طے پایا کہ نواز شریف بھی واپس آئیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ الیکشن سے ایک سال پہلے فیصلہ ہو گیا تھا کہ ایم ایم اے کو ختم کر دیا جائے گا ۔ لال مسجد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش تھی کہ معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرایا جائے ۔ اسی لئے کابینہ میں ان پر تنقید کی جاتی تھی اور صدر پرویز مشرف نے ذاتی طور پر بھی گلہ کیا کہ میرے کہنے پر انہوں نے مولانا عبدالرشید کو چھوڑا تھا ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ انہیں آخری دن معلوم نہیں تھا کہ آپریشن ہونا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لال مسجد آپریشن میں فائرنگ صبح 4 بجے شروع ہوئی تھی پہلے 19 اپریل کو آپریشن ہونا تھا جسے چوہدری شجاعت حسین کے کہنے پر ملتوی کیا گیا تھا اور متعدد اجلاسوں میں انہوں نے کہا کہ غیر متعلقہ افراد کے لال مسجد میں جانے کو روکا جائے اور مسجد کی مکمل نگرانی کی جائے تاکہ کوئی بھی اندر اور باہر نہ جا سکے ۔ اس طرح مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے رات پونے چار بجے ہمیں لال مسجد سے چلے جانے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا ۔ اور اسے قتل عام بھی کہا جا سکتا ہے ۔ فریقین کی طرف سے ضد کی وجہ سے ہوا اور جس دن ایک کرنل شہید ہوئے اس دن کے بعد معاملات بگڑتے ہی چلے گئے کیونکہ کرنل کو گولی اندر سے ماری گئی تھی ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ ان کے خیال میں کابینہ سے اس آپریشن کی منظوری نہیں لی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس طرح کا آپریشن تھا جیسا وزیرستان میں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت تک پہنچا جا سکے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تازہ بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اندرونی کہانی انہیں معلوم نہیں تاہم شنید ہے کہ خارجی دباو¿ کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے صدر سے ملاقات میں اعتراف کر ایا تھا ۔ اعجاز الحق نے کہا کہ جو بھی ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کے ہیرو ہیں اور ان سے زبردستی قوم کے سامنے اعتراف نہیں کر اا جانا چاہئے تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا ۔ 3 نومبر کو جو فیصلے کئے گئے تھے وہ مارشل ایڈمنسٹریٹر کے فیصلے تھے اور 12 اکتوبر کو بھی مارشل لاء لگا تھا اور آئین سے ماورا اقدامات کئے گئے تھے 9 مارچ کو وزیر اعظم کے ساتھ ازبکستان جا رہے تھے ۔ لیکن بعد میں ملتوی ہوا اور پھر چلے گئے اور جہاز میں انہوں نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے کہا تھا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوئی ہے ۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حوالے سے اعجاز الحق نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس بحال ہونا چاہئے اور اگر دعوت دی گئی تو تحریک میں شامل ہوں گے اور ق لیگ کی اکثریت اس حق میں تھی کہ ان کی حکومت خو د ہی چیف جسٹس کو بحال کر دے اور چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ مل کر انہوں نے کوشش بھی کی لیکن صدر اور وزیر اعظم نہ مانے ۔ سابق وزیر اعجاز الحق نے کہا کہ صدر پرویز مشرف اپنی مرضی سے کرسی صدارت پر براجمان نہیں ہیں ۔ پس منظر میں کچھ ان کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے اور پیپلزپارٹی کی مرضی بھی اس میں شامل ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2002 ء کے انتخابات میں ان کے حلقے میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز کو باہر سے لا کر وزیر اعظم بنانے والوں نے غلطی کی تھی اور اگر شوکت عزیز کے خلاف کوئی شواہد ہیں تو انہیں واپس بلانا چاہئے اور وہ خود بھی آ سکتے ہیں ۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں چاہے جو بھی پارٹی جیتے لیکن امریکہ ایشیاء کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا ۔ یہ بات امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہی ہے ۔ یہ پیغام انہوں نے ایشیائی سیکیورٹی اور دفاع سے متعلق ایک کانفنرس میں افسروں کو دیا ہے ۔ اس پیغام کاایک مقصد اپنے اتحادیوں کو یقین دلانا اور چین کو وارننگ دینا ہے جو حالیہ برسوں کے دوران ایک بڑی اقتصادی اور فوجی طاقت بن کر ابھرا ہے ۔ رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے 7 صدور کی خدمت کر چکے ہیں اس لئے میں اعتماد کے ساتھ یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کی ایشیائی سلامتی کی پالیسی ہمیشہ برقرار رہے گی کیونکہ اس کے تمام مفادات اس علاقے سے وابستہ ہیں انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں امریکہ کی ایشیائ کے ساتھ وابستگیاں اور قریبی و مستحکم ہوں گی ۔ سنگاپور میں گیٹس نے چین پر تبصروں کو متوازن کرنے کی کوشش کی ۔ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ وہ واشنگٹن کا نظریہ واضح کرنا چاہتے ہیں لیکن بیجنگ کے ساتھ کوئی کھلی دشمنی مول لینا نہیں چاہتے ۔ گیٹس نے بیجنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شمالی کوریا کی نیوکلیئر بات چیت میں زبردست تعاون کیا ہے انہوں نے چینی فوجی بجٹ مین شفافیت برتنے امریکہ کی اپیل کا اعادہ کیا ۔ جاپان کے وزیر دفاع شکیئر وا اشیبا نے بھی مفادات کے بارے میں وضاحت کرے لیکن چین کے لیفٹیننٹ جنرل مازیاو¿ نیان نے کہا کہ ان کے ملک کے دفاعی اخراجات دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دفاع بجٹ کا دوتہائی حصہ دیکھ بھال اور تربیت پر خرچ ہوتا ہے انہوں نے امریکی میزائل دفاعی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام حقیقتا صرف دفاع کے لئے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین ایک امن پسند ملک ہے اور اس کے عوام بھی امن پسندہیں ہماری فوج دوسرے ملک کے لئے خطرہ نہیں ہے ۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ میانمر میں سمندری طوفان سے متاثرہ ہزاروں لوگ اس وجہ سے مر گئے کیونکہ وہاں کی حکومت نے ان کے لئے غیر ملکی امداد ٹھکرا دی ۔ پینٹگان کے سربراہ نے میانمر کے فوجی حکمرانوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی امداد بھیجنے کی اجازت دینے کی درخواست پر گونگے بہرے ہونے کارویہ اختیار کیا ۔ میانمر نے چار ہفتہ قبل طوفان نرگس کے آنے کے بعد امریکی فوج سے امداد قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی جبکہ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک حالیہ برسوں میں قدرتی آفات کے وقت اسے قبول کرتے رہے ۔ اخبارات کی عالمی تنظیم ( ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز) نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر صحافتی آزادیاں بری طرح پامال کی جا رہی ہیں جس میں آمر حکومتوں ‘ بدعنوان حکام اور منظم گروہوں کا ہاتھ ہے ۔ ڈبلیو اے این نے چھ ماہ کی رپورٹ جاری کی ہے یہ رپورٹ تنظیم نے ورلڈ نیوز پیپرز کانگرس اور ورلڈ ایڈیٹر فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سویڈن کے شہر گوئی برگ سے شائع کی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کے اندر صحافتی آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں لاطینی امریکہ میں مختلف گروہ گینگرز اور بدعنوان حکام سے انہیں خطرہ ہے جبکہ مشرق وسطی میں آمر ‘ افریقہ میں جنگ و جدل ‘ ایشیا میں حکومتیںا ور سنٹرل ایشیا اور یورپ موت اور عدالتی کارروائیاں صحافتی آزادیوں کو پامال کررہی ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اورافغانستان میں صحافی آزادی اظہار رائے کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ لاطینی امریکہ میں صحافیوں پر حملے معمول بن چکے ہیں جہان مختلف گینگز اور حکام اپنے آپ پر ہونے والی تنقید کو روکنے کے لیے صحافیوں پر قاتلانہ حملے کرتے ہیں جن میںگزشتہ چھ ماہ کے دوران چار صحافی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ لاتعداد صحافیوں پر حملہ اور انہیں ہراساں کیا گیا ہے ۔ یہ خطہ صحافیوں سے بدسلوکی کرنے میں سب سے آگے ہے ۔ مشرق وسطی اور جنوبی افریقہ مین گزشتہ چھ ماہ کے دوران آمر حکومتوں نے صحافیوں کو خاموش کرنے اور ان کی آزادی کو دبانے کے لیے کئی غیر قانونی اقدامات کیے ہیں پورے خطے میں حکومتی کنٹرول میں میڈیا کو رکھنے کی کوششیں جاری ہیں افریقہ میں بغاوت والے علاقوں میں صحافیوں مین حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت ‘ صدر اور فوج پر تنقید کرنے کے جرم میں کئی صحافیوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے ۔ یورپ کے کئی ممالک میں پریس کی آزادی کو بری طرح سے پامال کیا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی ممالک میں صحافتی آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں ۔ مختلف مقامات پر بات کرنے والے صحافیوں کو قتل کرنا اور انہیں عدالتوں میں گھیسٹنا معمول بن گیا ہے ۔ ایشیا میں صحافت کوکئی رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔ اورخصوصا یہ رکاوٹیں حکومت کی طرف سے کھڑی کی جا رہی ہیں پاکستان اورافغانستان میں صحافی اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ برما‘ جنوبی کوریا اور لاو¿س میں آمریت صحافیوں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہیںد ے رہی ۔ نومبر 2007 ء سے 29 صحافی قتل ہو چکے ہیں عراق صحافیوں کے لیے سب سے خونی ملک رہا ہے جہاں 9 صحافی قتل ہوئے ہیں۔ جبکہ سابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ (ق) سے مستعفی ہوتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے نام سے اپنی نئی جماعت کا اعلان کر دیا ہے ۔ انہوں نے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ان کی جانب سے این اے 55کے ضمنی الیکشن کیلئے بیگم نسیم نامی خاتون امیدوار کو نامزد کیا گیا ہے اس امر کا اظہار انہوں نے لال حویلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیخ رشید احمد نے کہاکہ یلو کارڈ دکھایا جاچکا ہے آصف علی زرداری اس کا اشارہ دے چکے ہیں انہوں نے کہاکہ وہ طویل انگز نہیں دیکھ رہے ہیں مختصر کھیل دیکھ رہے ہیں ضمنی انتخابات بھی زیادہ مدت کیلئے نہیں دیکھ رہا ہوں انہو ںنے کہاکہ حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں لوگ حوصلے سے کام لیں ملک میں خود کشی کا رحجان تشویش ناک ہے لوگ حوصلے نہ ہاریں انہوں نے کہاکہ سیاسی صنعتکاروں اور جاگیر داروں کو دو دو تین تین بار وقت دیا گیا لوگوں کے اعتماد پر پورا نہیں اترے بد اعتمادی کی فضا ہے حالات انہائی سنگین ہی ں۔ تاہم حکمران اتحاد کیلئے دعا گو ہوں انہوں نے کہاکہ انتخابات بنیادیں ہلا دیتے ہیں عوام انتخابات میں درست فیصلے کرتے ہیں مگر ملک کی بدقسمتی ہے انہوں نے کہاکہ دو تین ماہ میں ایک بڑا سیاسی گروپ ان کی جماعت میں شامل ہو جائے گا ورکروں اور محروم پسماندہ طبقات کی حمایت ہو گی ۔ ییلو کارڈ دکھا دیا گیا ان سے حکومت نہیں چل رہی جبکہ ملک کی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جسے پارلیمنٹ میں کسی اپوزیشن اور چیلنج کا سامنا نہیں ہے بھاری کم مینڈیٹ کو زیادہ وقت نہیں دیکھ رہا ہوں صدر مملکت حکومت کے کسی فیصلے میں رکاوٹ نہیں ہیں سارے معاملات طے ہیں یہ عوام کی توجہ دوسری طرف سے ہٹا رہے ہیں انہو ںنے کہاکہ ابھی سابقہ سٹوریاں اور کلپ دکھا رہا ہوں ٹاپ ٹو باٹم سب اس میں شامل ہیں عوامی مسلم لیگ عوام کے گرد گھومے گی خواص کی جماعت نہ ہو گی عوام سیاستدانوں سے زیادہ سمجھدار ہیں انہوں نے کہاکہ اقتدار کی اپنی اور اپوزیشن کی اپنی باتیں ہوتی ہیں جس طرح یہ ہمیں لیتے ہیں تھے ہم بھی ان کو اس طرح لیں گے ہم نے پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹے ہیں اپنی ذمہ داری کو قبول کرنا چاہیے صدر کی حمایت کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہاکہ میں نے انہیں ووٹ دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو لوگ پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اب اس میں کیڑے کیوں نکال رہے ہیں میں نے مسلم لیگ (ق) کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا ہے پنڈی میں جینا مرنا ہے موجودہ حکومت کی مدت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انگز کو جلد سمیٹا جائے گا شاید کچھ اور منظر ہو انہو ںنے کہاکہ موجودہ حکمران اتحاد کے پاس ججز کی بحالی کیلئے مطلوبہ ارکان کی تعداد موجود ہے شروع دن سے مائنس ون کا فارمولا چل رہا ہے۔ جبکہ عوامی حلقوں نے اس کے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ جماعت ملک بھر کے عوام میں مقبول ہوسکتی ہے بشرطیکہ شیخ رشید کو ملک بھر کے چور ،ڈاکو ، بد معاش جاگیر داروں اور قرضہ چور سیاستدانوں کے خلاف سرعام عوام دشمن سوچ کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا۔ اے پی ایس اسلام آباد




Saturday, May 31, 2008

ایٹم بم تو ہے مگر۔۔۔۔بجلی نہیں(تزئین اختر کا کالم رائے عامہ )




۔ دس سال قبل پاکستان آج کے روز ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرا تھا۔ یہ دھماکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں ہوئے اور وہی اس پروگرام کے خالق اور معماربھی تھے۔ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے دو بار ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان پر ایک کتاب ’’جو ہر طراز‘‘ لکھی گئی تھی جس کی دوبارہ اشاعت کا اہتمام جناب ضیاء شاہد نے کیا تھا۔ معذرت خواہ ہوں مصنف کا نام یاد نہیں۔ یہ 2003ء کے وسط کی بات ہے۔ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی تھے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کہوٹہ سے ہٹایا جاچکا تھا۔ وہ ان کے مشیر کے طور پر وزیراعظم سیکرٹریٹ ہی میں بیٹھا کرتے تھے۔ میجر اسلام ڈاکٹر صاحب کے سیکرٹری تھے۔ ضیاء شاہد صاحب نے لاہور سے کتابیں چھپوا کر اسلام آباد بھیجیں اور مجھے ہدایت کی کہ کسی اور کے ہاتھ بھیجنے کے بجائے خود جاکر پیش کرو۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نہ بھی کہتے تو بھی میں ہی جاتا کیونکہ ڈاکٹر صاحب سے مشرف ملاقات کا اس سے اچھا موقع شائد پھر نہ ملتا۔ ایک بار ڈاکٹر صاحب سے دفتر میں ملاقات ہوئی اور دوسری بار ان کے گھر۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر صاحب کوایک لحاظ سے کھڈے لائن لگایا جاچکا تھا۔ ایسے حالات میں کتابیں لے کر وزیراعظم سیکرٹریٹ پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کا دفتر ڈھونڈا۔ میجر اسلام نے بہت گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ کتاب دیکھی اور پھر جان پہچان کے بعد کہنے لگے ’’آپ بھی ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھیں‘‘۔ میرے لیے یہ بہت غیر متوقع فرمائش تھی۔ عرض کیا ’’میں ڈاکٹر صاحب پر کتاب کیسے لکھ سکتا ہوں؟ ابھی تو ان سے میری ایک ملاقات بھی نہیں ہوئی‘‘۔ میجر اسلام نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب پر کافی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میںسے ریفرنس لے لیں۔ اس کے علاوہ اخبارات سے تازہ مواد (کٹنگ) وغیرہ لے لیں‘‘۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ میں اس قابل ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھوں‘‘۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں خود کو کتاب لکھنے ہی کے قابل نہیں سمجھتا تھا اور ڈاکٹر صاحب تو ویسے ہی بہت بڑا موضوع تھے۔ پھر کتاب لکھنے کا جو طریقہ میجر اسلام صاحب نے بتایا اس سے بھی میں متفق نہیں تھا۔ بات چیت جاری تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے بلاوا آگیا۔ ان کے دفتر کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن و دل کی کیا کیفیت تھی مجھ میں وہ بیان کرنے کی سکت نہیں تو کتاب کیسے لکھی جاسکتی تھی۔ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا تھا کیونکہ میں ان لوگوں میں شامل ہونے جارہا تھا جن کی ڈاکٹر صاحب تک رسائی ہوئی اور جن سے وہ ہم کلام ہوئے۔ تاہم ایک بات کا افسوس رہے گا کہ فوٹو گرافر ساتھ کیوں نہیں لے کر گیا۔ ان جذبات و احساسات کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے دفتر میں قدم رکھا تو وہ بہت موٹی فائل سامنے رکھے اس کے مطالعے میں مصروف تھے۔ ہمیں اپنے سامنے پاکر متوجہ ہوئے اور بڑی شفقت کے ساتھ حال چال دریافت کیا۔ میں نے کتاب پیش کی تو بہت خوش ہوئے۔ ضیاء شاہد صاحب نے کتاب کا سر ورق خوبصورت انداز میں دوبارہ بنوایا تھا۔ اس کا کاغذ بھی پہلے ایڈیشن سے بہتر تھا اور پرنٹنگ بھی معیاری تھی۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ (Presentable) بنانے کے لیے ضیاء شاہد صاحب نے اپنے ادارے کے سب سے سمجھدار اور ہنرمند رکن عبدالجبار ثاقب کی ذمہ داری لگائی تھی جو انہوں نے بخوبی پوری کی۔ ڈاکٹر صاحب کو کتاب بہت پسند آئی۔ اس طرح رسمی بات چیت کے دوران ہی میں نے دریافت کیا کہ آج کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’ان دنوں تعلیم کے فروغ پر کام کررہا ہوں۔ انہوں نے موٹی سی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دبئی میں یونیورسٹی کے قیام کی فائل ہے۔ اس پر کام ہورہا ہے۔ وہاں بن جائے تو پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔ یہاں بھی کیمپس بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات سے پہلے میجر اسلام کے ساتھ گفتگو کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ان کے حالات اچھے نہیں۔ گویا آگے چل کر جو ڈی بریفنگ ہوئی اور بعدازاں صدر جنرل مشرف نے پی ٹی وی پر لاکر معافی منگوائی اور قید کر دیا اس کی ابتداء ہو چکی تھی۔ میجر اسلام اس وقت دو مختلف کیفیات میں گفتگو کررہے تھے۔ ایک طرف وہ ڈاکٹر صاحب کے اس وقت کے حالات سے پریشان تھے اور آگے کا منظر انہیں نظر بھی آرہا تھا اور دوسری طرف وہ ایک نئے بندے کے سامنے جو اخبار والا بھی تھا حقائق کھول کر بیان کرنے سے بھی ہچکچارہے تھے۔ یعنی بولنا بھی چاہ رہے تھے مگر گھبرا بھی رہے تھے۔ تاہم اس گو مگو کی گفتگو سے بھی میں نے اتنا مطلب ضرور اخذ کر لیا کہ ’’یہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اچھا نہیں کررہے‘‘۔چند روز بعد جب کتابوں کی مکمل کھیپ لے کر ڈاکٹر صاحب کے گھر جانا ہوا تو میری کیفیت پہلے سے اس طرح مختلف تھی کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ ان کے دفتر جاتے ہوئے چیک کئے جانے یا کسی جگہ نوٹ ہونے کا احساس نہیں تھا لیکن میجر اسلام کی گفتگو کے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا تو مجھے علم تھا کہ میری آمد اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ایجنسیوں کے رجسٹر میں ضرور آئے گی مگر چونکہ میری ایسی کوئی حیثیت نہیں تھی جس پر کسی کو اعتراض ہو سکتا۔ اس لیے مجھے کوئی ڈر خوف یا پریشانی بھی لاحق نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت گھر سے باہر نکل کر سڑک پر ٹہل رہے تھے جیسا کہ ای سیون کے مکینوںکا شام کو مارگلہ کے دامن میں چہل قدمی کرنا مشغلہ ہے۔ اس سے اتنا ضرور واضح ہوا کہ ابھی ان پر کوئی خاص پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور وہ کہیں بھی آجاسکتے تھے مگر ان کے ہاتھ میں موجود چھڑی بتارہی تھی کہ ان کی صحت گر رہی ہے۔بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے گرد اسی وقت سے شکنجہ کسنا شروع کر دیا گیا تھا۔ دسمبر2003ء میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھیوں اور پھر خود ڈاکٹر صاحب سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ اسی دوران ’’ڈی بریفنگ‘‘ کا لفظ بھی سننے کو ملا۔یہ خبریں سب سے پہلے روزنامہ ’’جناح‘‘ میں عبدالودود قریشی صاحب نے دیں۔ میں اس وقت ’’خبریں‘‘ سے ’’پاکستان آبزرور‘‘ جاچکا تھا جہاں زاہد ملک صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب پر زاہد ملک صاحب کتابیں لکھ چکے ہیں جو بلاشبہ قوم کی بڑی خدمت ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح انہوں نے تاریخ رقم کی ہے ۔ زاہد ملک کی دیگر کتابوں میں ایک کتاب ڈی بریفنگ پر بھی ہے جو انہی دنوں مرتب ہورہی تھی۔ جب میں پاکستان آبزرور میں تھا یہ 2004ء کی پہلی سہ ماہی کا عرصہ تھا۔ مجھے افسوس رہے گا کہ زاہد ملک صاحب کے اعتماد کے باوجود اس کتاب کے سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکا۔ میں ان کا ہمیشہ ممنون رہوں گا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا مگر اس کا کیا کروں کہ میں نے خود کو اس لائق کبھی نہیں سمجھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بے شک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے معتبر اور محترم ہے۔ اسلامی دنیا کو ایٹمی طاقت سے ہمکنار کرکے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اعتماد اور اہمیت کا احساس دلانے والا اور کوئی سپوت اسلامی دنیا میں بلامبالغہ اور بلاخوف تردید کسی اور ماں‘ کسی اور دھرتی نے نہیں جنا۔ ان جیسا کہیں سے لایا نہیں جاسکا۔ وہ اپنے جیسا ایک ہی تھا جو پاکستان نے مہیا کیا پھر یہ کیوں ہوا کہ ہمی نے اس کو مجرم بنا کر پیش کر دیا؟ امریکیوں نے جنرل مشرف کے سامنے ایسا کیا رکھ دیا کہ ان کی زبان گنگ ہو گئی؟ ان کی ساری کی ساری فصاحت و بلاغت جس کا اظہار ہم وطنوں کو مخاطب کرکے کرتے رہتے ہیں امریکیوں کے سامنے کیوں دھری کی دھری رہ گئی؟ وہ کیا نقطہ تھا جس نے محرم کو مجرم بنا دیا؟ یہ جنرل مشرف وہی ہیں نا جنہوں نے بش کی ایک ٹیلی فون کال پر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نام نہاد فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ قوم اور قومی لیڈروں کی تو بات ہی جانے دیں کسی ایک کور کمانڈر تک سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ یقیناً یہ وہی جنرل مشرف ہیں پھر یہ جنرل مشرف ڈاکٹر قدیر کے خلاف امریکی چارج شیٹ پر دوسری بات کس طرح کرتے؟ پچھلے دنوں خارجہ امور کے ماہرین ایک چینل پر یہی رونا رو رہے تھے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پارلیمنٹ سے مشورہ کرکے جواب دے سکتا ہے۔ اس سے Do this ، Do that اورDo More کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے اس ایک فرد کو کرنا ہے اس لیے ڈکٹیٹر ’’ناں‘‘کرنے یا وقت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا مگر اس پر محترم نسیم انور بیگ صاحب کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر کا ضمیر تو ہوتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر سے پوچھ سکتا ہے کہ جو وہ کرنے جارہا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط۔ بیگ صاحب کی بات درست ہے مگر ضمیر کوئی مجسم چیز نہیں۔ اس کو اگر دیکھا جاسکتا ہے تو وہ صرف اعمال اور اقدامات کی صورت میں ہی ممکن ہے اور ہمارے ڈکٹیٹروں کے سب اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں ضمیر کی جھلک کسی کو نظر آتی ہے تو آکر بتا سکتا ہے ورنہ اکثریت اس بارے میں مکمل نابینا واقع ہوئی ہے۔اب منتخب حکومت جہاں دیگر جمہوری روایات کو فروغ دینے جارہی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے مسئلے پر بھی فرد واحد کے اقدامات کو کالعدم قرار دے کر جمہوری فیصلہ کرنے پر غور کر لیا جائے۔ پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات بھی زیر غور آئیں اور امریکی الزامات پر بھی بات ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان میں حقیقت کتنی ہے اور پروپیگنڈا کس حد تک ہے اور اگر ڈاکٹر قدیر پر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا وہ یہ کام اکیلے کر سکتے تھے؟ نہیں تو اور کون کون شامل تھا اور وہ لوگ کیوں مقدس گائے بن کر قوم کو چارہ بنا کراس کی جگالی کئے جارہے ہیں۔ اوپن ڈی بیٹ ہو۔ اس کے لیے جرات چاہیے ہو گی۔ اس ایشو کو صدر کے کورٹ میں پھینکنے کے بجائے قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے خود ڈیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس ملک میں ہر ہیرو کو زیرو بنا کر رکھ دینے کی روایت جاری رہے گی اور اس کی آڑ میں لیڈر شپ کے فقدان کا بہانہ بنا کر آمریت مسلط کرنے کا مکروہ کھیل بھی چلتا رہے گا۔ اس کی زد میں یقیناً وہ لوگ بھی آکر رہیں گے جو فی الحال اس سے پہلو تہی کررہے ہیں۔ بہرحال صدر مشرف پر باقی بہت سے سوالوں کے ساتھ ساتھ اس کا جواب بھی قرض ہے کہ بقول آپ کے جب ڈاکٹر قدیر ایٹمی پھیلاؤ پر کام کررہے تھے تو اس وقت بطور نگران و محافظ ایٹمی پروگرام آپ کیا کررہے تھے۔ آپ سے پہلے والے کیا کررہے تھے؟ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کس کس کے ساتھ کیا کیا ہوا؟ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بقول ہنری کسنجر ’’عبرت کا نشان‘‘ بنایا گیا۔ ملک کے ایک اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر کے پہلے قید میں ڈالا پھر جلا وطن کر دیا گیا۔ اس پروگرام کے خالق کو خجل کر کے رکھ دیا گیا۔ یہ چند موٹی موٹی مثالیں ہیں اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ یہ سب کس نے کیا اور کون کون آلہ کار بنا اور یہ جو لوگ بھی تھے دیکھنا ہے کہ یہ ہر بار کیوں بچ نکلتے ہیں؟ان کا’’کِلاّ‘‘کون سی ایسی جگہ لگاہواہے کہوہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتاہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدناماس ملک کے سیاستدان بھی غلط، اس ملک کے سائنسدان بھی غلط، اس ملک کے جج بھی غلط، یہاں سب غلط، نہیں غلط تو صرف جرنیل۔ کتنی عجیب بات ہے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی ہمیشہ آرمی کے پاس رہی مگر اس کے مبینہ ’’پھیلاؤ‘‘یا ایٹمی دھماکوں یا اس کے آغازکی سزا صرف اورصرف سیاستدانوں اور سائنسدانوں کو ملتی رہی اور اس کے لئے آلہ کار بھی ہمیشہ یہی آرمی چیف ہی بنے تو پھر قوم کی اس امانت کے اصل محافظ تو سیاستدان ہوئے وہی سیاستدان جن کے متعلق مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں نے ہمیشہ یہی کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کا فقدان ہے جبکہ اصل لیڈر شپ ان کے سامنے موجود تھی اور جس کو وہ منظرسے ہٹاتے رہے۔کیونکہ یہ امریکہ بہادر کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے جو وہ چاہتاتھا۔ہم بھی کیسی بدقسمت قوم ہیں۔ ایٹمی طاقت سے لیس کرنے والے کو نشان عبرت بنا دیا اور پچاس سال قوم کے لیے بہترین دماغ اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے جو طاقت حاصل کی اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک فون کال کا سامنا کرنے کی جرات نہیں ہوئی اور وہیں ڈھیر ہو گئے۔چلیں اس نقطہ نظر ہی سے دیکھ لیتے ہیں کہ ایٹم بم چلانے کی نہیں دکھانے کی چیز ہے جس کو دکھا کر ایٹمی طاقت کا حامل ملک دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے اور ترقی کی دوڑ میں تیز بھاگ سکتا ہے مگر ہمارے ساتھ ایسی بھی کوئی صورتحال نہیں۔ دنیا میں کون ہماری بات مان رہا ہے۔ سب ہم سے منوائے جارہے ہیں اور ترقی کی جس دوڑ کے خواب ہمیں دکھائے گئے تھے ہم تو ان خوابوں سے بھی محروم ہو گئے کیونکہ جب کئی کئی گھنٹے بجلی بند ہو گی تو نیند بھی نہیں آتی۔ آنکھ لگے تو کوئی خواب بھی دیکھے۔ ایٹمی پروگرام کے خالقوں اور نگرانوں سے کوئی پوچھے ایٹم کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے پر کیوں کام نہیں کیا؟ جب ایک ایٹم پھٹتا ہے تو اس سے لامتناہی توانائی خارج ہوتی ہے اس سے تباہی ہوتی ہے۔ اس توانائی کو بجلی کی شکل دینے پر کوئی توجہ دی گئی ہوتی تو آج پاکستان ایشیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ بجلی اتنی ہوتی کہ مفت بانٹنے سے بھی ختم نہ ہوتی بلکہ برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا۔ ہم تصور ہی کر سکتے ہیں کہ اگر بجلی مفت ملنے لگے تو عام آدمی سے لے کر ملک تک اس کے کیا معاشی اثرات ہو سکتے تھے۔ یہ اثرات کثیر الجہتی ہوتے۔ بجلی کا بل تو ختم ہو ہی جاتا۔ گھر میں آنے والی روز مرہ استعمال کی اکثر اشیائے صرف بھی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتیں۔ یہ سب تو نہیں ہو سکا البتہ ایک کریڈٹ ضرور پاکستان کے حصے میں آگیا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے مگر بجلی نہیں ۔کل تلک جو امر تھا افتخار کاآج کیوں باعث ہے اعتذار کا ؟ہم نے سمجھا جس کو اپنا نگہباںآمر مطلق تھا وہ بے کار کا

Thursday, May 22, 2008

عوام کا قانون شکن قیادت سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

حکومت کومعاشی استحکام کے لیے سخت کام کر نا ہوگا تاکہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو جس میں غریب عوام کو ریلیف پیکج فراہم کیا جاسکے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اشیائے خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔ عوام کو قومی مجرموں نے مصیبت میں ڈال دیا ہواہے اور دور دور تک دکھائی نہیں دیتا کہ تمام بحرانوں پر قابو پا لیا جائے گا۔ حکمرانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے اور عوام ایک وقت کی روٹی کیلئے بلبلا رہے ہیں۔ملک میں انصاف نا م کی کوئی چیز نہیں اور جس ملک میں انصاف نہ ہو و ہاں چور چکے اور قرضہ چور بد معاش دن دیہاڑے پو لیس اسکواڈ کے پروٹوکول میں سرعام دھند ناتے پھرتے ہیں۔ ججز کی بحالی کے بعد بھی اگرچہ تما م بحران جوں کے توں رہیں گے لیکن یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ بحران کے پیدا کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف کار وائی ضرور ہوگی۔ اور اس وقت عوام کا تماشا دیکھنے والے سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے منہ زور قانون شکن بد معاش جوابدہ ہوں گے۔ اور جب ان سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پوچھیں گے کہ یہ کر سی اور اقتدار آپ کو جہیز میں نہیں ملا اور جب انہیں بتا یا جا ئے گا کہ یہ ملک آپ کے باپ کا نہیں کہ آپ جو چاہیں من ما نی کر تے رہیں بلکہ یہ ملک اس سولہ کروڑ عوام کا ہے جس کی خوشحالی اور ترقی کے نا م پر آپ اربوں ڈالرز غیر ملکی قرضے کھا گئے ہیں اور یہ سا را بوجھ مختلف بحرانوں کی شکل میں عوام کے کندھوں پر ڈال پر دیا گیا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے کہ تما م قومی مجرم ،ججز کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس وقت ججز کی بحالی ملک و قو م کی بقا کا مسئلہ ہے۔ عوام اس وقت آٹا،بجلی،پانی،مہنگائی،بے روزگاری اور نا انصافی سے تنگ آ کر چلا رہے ہیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ اور نہ ہی کوئی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتدار کی ہوس نے سب کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے کو ئی بھی اقتدار چھوڑنے کو تیا ر نہیں قانون شکن ما فیا بے شرم ہو چکا ہے اور ایک دوسرے کی ٹا نگیں کھیچنے میں لگا ہوا ہے۔ اس وقت جو ملک کے حا لات کا ناک نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ سرحد والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں، پنجاب والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں جبکہ گورنر پنجاب اپنی بیان بازی کر رہے ہیں اور یہی صورت حال مر کز میں ہے کہ پیپلز پا رٹی کس خفیہ ہاتھ سے بلیک میل ہو رہی ہے ؟ جو کہ حیران کن بات ہے حالانکہ پیپلز پا رٹی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی قیادت ماضی میںکسی حا ضر سروس جر نیل سے بھی بلیک میل نہیں ہوئی ۔جان دے دی لیکن اپنے اصولی موقف پر ڈٹی رہی۔ ایوان صدر اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہے۔ن کے وفاقی وزراء کے جانے سے وازرتیں خا لی پڑی ہوئی ہیں اگرچہ ان کے اضافی چارج دے دیے ہوئے ہیں لیکن ایک وزیر کے پاس چار چار اضافی چارج ہیں وہ کسی ایک وازرت میں وقت نہیں دے سکتا جس کی وجہ سے عوام کو دقت کا سا منا ہو رہا ہے ۔ پیپلز پا رٹی کے اراکین اسمبلی کی اکثریت ہے لیکن قیادت کو ان پر اعتبار ہی نہیں کہ انھیں کسی وزارت کی ذمہ داری سونپی جا سکے۔ ان وزارتوں کے متعلقہ محکموں اور ڈا ئریکٹورٹ میں طرح طرح کی من مانیاں اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے وہاں کے ملازمین اور عوام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ عوام کو وزراءکی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے رسائی حاصل نہیں ہورہی اور آئے روز مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم جناب خورشید شاہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ وفاقی نظامت تعلیمات کی بھی خبر لیں وہاں کچھ اساتذہ کو دو دو سال سے مکا نوں کا کرایہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے انھیں کئی مسائل کا سامنا ہے کرایہ اسلئے نہیں دیا گیا کہ بجٹ شاٹ ہے بلکہ بعض سکولز کی پر نسپل نے بعض ٹیچر کو تنگ کرنے کیلئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہائرنگ فارمز کی تصدیق ایک سال تک روکے رکھی اور جب ایک سال بعد ان کی فائل جمع ہوئی تو پتہ چلا کہ اب بجٹ شاٹ ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم اور قائم مقام ڈی جی ایجوکیشن عتیق الرحمن سے گزارش ہے کہ ان پر نسپلز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور اس ضمن میں ایف جی جونئیر ماڈل سکول کی پر نسپل مسرت صادق کے دحونس آمیز رویے کا سکینڈل قومی اخبارات میں آ چکا ہے لیکن اس کے خلاف ابھی تک کو ئی کا روائی عمل میں نہیں آسکی۔ جسکی وجہ وفاقی نظامت تعلیم میں اسے ان کا لی بھیڑوں کی پشت پنائی حاصل ہے جو مسرت صادق جیسی بدکردار پر نسپلز کو استعمال کر کے شریف النفس ٹیچرز کو ذہنی کو فت پہنچا تے ہیں اور ان کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازشیں کر کے اور جھوٹے الزامات لگا کر بد نام کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی اولین فرصت میں حل کریں اور اس سر کش پر نسپل کے خلاف کا روائی کریں تاکہ اس پتہ چلے کہ اختیارات کا غلط استعمال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔جبکہ اب عوام عدلیہ کی آزادی اور آئین وقانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس وقت ملک میں لاقانونیت کا سیلاب آیا ہوا ہے جس میں عوام خشک تنکوں کی طرح بہہ رے ہیں اور بعض ڈوب کے مر رہے ہیں اگرچہ فوج کو سیاست سے دور کیا جا رہا ہے جو کہ جنرل کیا نی کا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن پاک فوج کی یہ روایت اور شان رہی ہے کہ جب بھی وطن عزیز میں کوئی ناگہانی آفت یا مصیبت آئی ہے اس نے اس عوام کو بچانے کی کوشش کی ہے مثال کے طور پر ملک کے کسی حصے میں جب بھی کوئی سیلاب آیا ہے تو پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ڈوبتے لوگوں کو بچایا ہے بلکہ ہیلی کاپٹروں سے ان تک خوراک بھی پہنچانے کا اہتمام کیا ہے میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں قانون شکن اور اقتدار کی ہوس کے بھوکے قومی مجرموں کی وجہ سے مختلف بحرانوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اور یہ سیلاب اتنا شدید ہے کہ عوام کو کچھ نظر نہیں آ رہا کہ یہ بحران کسی کنارے بھی لگے گا اور اس کے حل کیلئے عوام کو فوج کی مدد درکار ہے عوام ا پنی پاک فوج سے بے حدمحبت کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں نااہل قیادت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں درا ڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہمارے عوام با شعور ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کہ ہماری پاک فوج دنیا کی ایک بہترین منظم فوج ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کو پاک فوج کھٹکتی ہے۔ ملک میں اس وقت جو عدلیہ کا بحران ہے اس کو عوامی خواہشات اور قانون کے مطابق حل کرنے میں کوئی بھی تیار نہیں اور بچوں کی طرح ہر کوئی ضد کر رہا ہے کہ میں ئینی صدر ہوں کوئی کہتا ہے کہ ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے کوئی کہتا ہے کہ عوام نے عدلیہ کی بحالی اور مشرف کی پا لیسوں کے خلاف ووٹ دیے ہیں وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل کر نے کی کسی کو ہوش نہیں ۔عوام کدھر جائیں تو اس نا امیدیں میں بھی عوام ما یوس نہیں کیونکہ ان کی نظریں پاک فوج کے سر براہ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ آئینی بحران کو حل کرنے میں عوام کی مدد کریں گے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاک فوج قوم کی حمایت سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ جبکہ عوام نے خبر دار کیا ہے کہ مائنس ون یا مائنس ٹو کا فارمولہ وکلاء اور عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہر صورت بحال ہونا ہے ان کے بغیر معزول ججوں کی بحالی وکلاءتحریک کے منافی ہوگی جس پر سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ وکلاء تحریک کو عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے اور آئندہ چند روز کے اندر وکلاء تحریک کا فیصلہ کن اور آخری راو¿نڈ شروع ہونے والا ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے دیگر معزول جج صاحبان کو 24 مئی کو فیصل آباد اور اس کے بعد لاہور میں وکلاء کنونشن کے موقع پر آئین کے تحت ان جج صاحبان کو مکمل پروٹوکول اور سیکورٹی فراہم کرے گی جبکہ وکلاء تحریک کے دوران لانگ مارچ سمیت ہر ایونٹ کے موقع پر وکلاء کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی ۔ مسلم لیگ (ن) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے ججوں کے معزولی کے 3 نومبر کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھتی ہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور معزول کئے جانے والے دیگر تمام ججوںکو آئین کے تحت انہیں سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا وہی پروٹوکول ہو گا جو آئین و قانون کے تحت ایک چیف جسٹس کا ہونا چاہیئے کیونکہ آئین کے تحت انہیں معزول نہیں کیا گیا اور عوام کی نظرمیں وہ آج بھی حقیقی چیف جسٹس ہیں ۔ ججوں کی بحالی کے حوالہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم ان کی بحالی کیلئے طریقہ کار پر اختلاف ضرور ہے ۔ وفاقی حکومت تو ان ججوں کو تنخواہ دینے کی پیش کش بھی کر چکی ہے ،تنخواہ صرف حاضر سروس ججوں کو ہی دی جا سکتی ہے ۔ ججوں کی بحالی کوئی غیر آئینی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کسی کو بھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیئے ۔پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر اختلافات کو دور کیا جا چکا ہے ۔ باقی ماندہ اختلافات دور کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کی جانب سے 3`3 ارکان پر مشتمل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے ۔ اگر چیف جسٹس کے پروگراموں پر متعلقہ بار ایسوسی ایشن سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت دیں تو اسے قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ماضی میں ایسے پروگراموں میں سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تاہم مسلم لیگ (ن) کے ورکرز چیف جسٹس اور دیگر معزول جج صاحبان کا بار ایسوسی ایشن کی باو¿نڈری وال کے باہر بھرپور استقبال کریں گے ۔ ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے تاہم جب وہ نگران وزیر تھے اس دوران کچھ مسائل ضرور پیدا ہوئے ۔ پنجاب حکومت کی معزول ججوںکو پروٹوکول دینے کی پالیسی ایوان صدر سے ٹکراو¿ نہیں ہے ۔ جب 3 نومبر کا اقدام ہی غیر آئینی اور غیر قانونی تھا تو پھر ٹکراو¿ کیسا ۔ جبکہ پنجاب کے وزیر قانون نے یہ بھی کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے مسلم لیگ اپنی صوبائی حکومت سمیت کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کر ے گی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف کو بھی پنجاب حکومت سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ یہاں آئیں گے تو اس کا فیصلہ بھی کرلیا جائے گا ہماری اپنی سیاسی سوچ اور اپنا منشور ہے جس پر ہم اپنے اپنے طریقے سے عمل پیرا ہیں ۔ ایوان صدر نے 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا حالانکہ جنرل (ر) پرویز مشرف انتخابات سے پہلے اعلان کر چکے تھے کہ اگر ان کی حامی جماعتیں الیکشن ہار گئیں تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ۔ قوم مایوس نہ ہو ججز ایک نہ ایک دن ضرور بحال ہوں گے ۔ مسئلہ کشمیر کا ایسا حل ہونا چاہیے جو دونوں ملکوں کو قابل قبول اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ ججز کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی سے دوبارہ معاہدہ کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کو گولی سے نہیں بات چیت سے خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کیاجا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقد یر کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہونا چاہیے ۔با اختیار حکومت ہی روٹی کپڑا اور عوام کے دیگر مسائل حل کر سکتی ہے ۔ پنجاب کے گورنر کی تعیناتی پرن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا انھیں اقتداد چھوڑنے کا نہیں اتحاد ٹوٹنے کا دکھ ہے ۔ ملک میں عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی میں میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے قوم کا حکمران اتحاد کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر ججوں کو بحال نہ کر کے قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ اتحاد ٹوٹنے سے ایوان صدر میں تھوڑی سی جان پڑی ہے۔ لوگوں نے تبدیلی کیلئے ووٹ استعمال کیا مگر ابھی تک تبدیلی نظر نہیں آرہی ابھی تک وہی چہرے اقتدار پر براجمان ہیں ۔ پرویزمشرف کے تمام اقدامات کو ختم کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔ لوگ ججز کی بحالی چاہتے ہیں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ایک معاہدہ کیا مگر اس پر تاحال عمل نہیں ہوا مشرف ابھی تک سیٹ پر موجود ہیں اس لئے لوگ مایوس ہیں اتحاد میں دراڑ جس نے بھی ڈالی ہے قوم سب جانتی ہے پہلی مرتبہ دو بڑی جماعتوں نے اتحاد قائم کر کے ایک نئی مثال قائم کی مگر اس میں دراڑ سے قوم مایوس اور پریشان ہے اتحادی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ ڈکٹیٹر کے تمام غیر آئینی اقدامات کو فوراً ختم کر دیتی مگر تاحال مسئلہ جوں کا توں ہے دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی اسی کے تحت ہی معاہدہ طے پایا مگر اس پر عملد رآمد نہیں ہو سکا جس سے قوم میں مایوسی پھیلی ۔ ججز کی بحالی کیلئے سادہ قرار داد ہی کافی تھی کہ آئینی پیکج کی ضرورت نہ تھی جمہوریت کے دشمن جو مختلف روپ دھار کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ مل کر ڈکٹیٹر کے اقدامات کو ختم کریں وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت پھلے پھولے ۔ جبکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں کابینہ سے استعفے دینے پر افسوس ہے ہم نے بیس سال متحارب رہنے کے بعد اتحاد کا راستہ اپنایا تھا مگر یہ زیادہ دیر نہ چلا اس کا ہمیں افسوس ہے انہوں نے کہا ہے کہ اقتدار کی لالچ نہیں اگر ایسا ہوتا تو اتنی وزارتیں نہ چھوڑتے ہمارے سامنے ایک مقصد تھا مگر افسوس کہ وہ پورا نہ ہوا ہم کسی آمر کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک نہیں کرنا چاہتے میرے خیال میں آصف علی زرداری نے ایسا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ججز بحال ہونے چاہیے تھا عدلیہ صرف ہماری نہیں پوری قوم کی ہے او رپوری قوم کو اس کی بحالی کی امیدیں ہو چلی تھیں قوم کی محبوب عدلیہ کو مشرف نے نکال کر اپنی من پسند عدلیہ لگائی عدلیہ کو بحال کر کے قوم کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے تھا مگر افسوس ہم کامیاب نہیں ہو سکے قوم نے ہمیں ججز کی بحالی کیلئے ہی ووٹ دیا تھا ہم نے ایسا نہ کر کے قوم کو مایوس کیاہے ہم نے اس مقصد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لندن گئے دبئی گئے انہوں نے امید ظاہر کیا کہ ججز ایک نہ ایک دن عزت ووقار کے ساتھ ضرور بحال ہوں گے۔ تاہم اس کیلئے ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کب بحال ہوں گے مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ ضرور بحال ہوں گے ۔ میڈیا کی اس سلسلے میں کوششوں کی داد دیتا ہوں ایک سوال پر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ آمر کبھی بھی غیر قانونی طور پر اقتدار میں نہیں رہ سکتا مصمم ارادہ یہی ہونا چاہے کہ عدلیہ آزا دہو میڈیا آزاد ہو فوج کی سیاست میں مداخلت ختم ہو ہمارا ملک ہماری عزت کا سمجھوتہ نہ ہو ہمارے فیصلے ملک کے اندر ہی ہوں باہر نہ ہوں لوگوں نے پارلیمنٹ با اختیار منتخب کی ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کو بالادست ہی رکھیں اگر ایسا نہیں تو قصور ہمارا ہے کسی اور کا نہیں ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنے اختیارات واپس لے اس کا فائدہ قوم اور ملک کو پہنچے گا سیاسی جماعتوں کو تو پہنچے گا ہی عوام نے ہمیں اختیار دیا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنا اختیار استعمال کریں اسی اختیارات سے آٹا ، بجلی اور ضروری اشیاء سستی کریں آج عوام روٹی کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں بجلی نہیں ہے اگر پیچھے سازشی عناصر بیٹھے ہوں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہمیں چائیے کہ ججز بحال کرتے سترہویں ترمیم کرتے آئین بحال کرتے صدر سے غیر قانونی اختیارات واپس لیتے ہم اس سب کو ممکن بنانے کیلئے ساتھ دینے کو اب بھی تیار ہیں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے منشور میں ججز ،معیشت کی بحالی کی بات ہے امن وامان کی بات کی ہے عوام کو ریلیف د ینے کی بات ہے ججز کی بحالی ، عدلیہ کی آزادی پر ملک و قوم کا مستقبل وابستہ ہے نواز شریف اس معاہدے کا پابند ہوں جو مری میں ہوا اگر پیپلزپارٹی اس سے ہٹی ہے تو میں نے اسے منانے کی بھرپور کوشش کی ہے عوام کا ہمارے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ہم کبھی بھی پیپلز پارٹی کو غیر مستحکم نہیں کریں گے ہم اس عمل کو چلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت حکومت سے باہر آگئے ہیں حکومت کو گرانے کی کوئی بات نہیں کریں گے بلکہ چلانے میں مدد کریں گے ججز کی بحالی اگر اعلان مری کے مطابق ہوتی ہے تو دوبارہ اتحاد کے آپشنز کھلے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ مشرف ہمیں سائیڈ پر کر دیں اگر ہم کابینہ سے باہر ہو گئے ہیں تو کوئی قیامت نہیں آئی مشرف نے آگے ہمیں ملک سے باہر کر دیا تو سیاست اور عوام کے دلوں سے تو باہر نہیں کر سکے ہم الحمد اللہ اب بھی عوام اور سیاست میں موجود ہیں پرویزمشرف سیاسی اور اخلاقی طور پر بہت کمزور ہو گئے ہیں ایوان صدر اٹھارہ فروری کو تو بالکل فارغ ہو گیا ہے ہمارے اتحاد ٹوٹنے سے تھوڑی سے اس میں جان پڑی ہے انہوں نے کہاکہ فوج کو ا پنا کام کرنا چاہیے صدر یا سیاستدانوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے قوم اور ملک کی ہوتی ہے وہ کسی شخص کی نہیں ہوتی اس وقت فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اسی طرح ہمیشہ ہونا چاہیے ماضی میں مشرف نے جو کچھ کیا ہے وہ قوم کی طرف سے نہیں کیا ہے اس وقت کے جرنیلوں کو اس کام کیلئے مشرف کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہو سکتا ہے کہ صدر بش کی ذاتی حمایت مشرف کے ساتھ ہو مگر انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ حالات کیا رخ اختیار کر چکے ہیں ہم پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیکھنا چاہتا ہم کسی بیرونی طاقت کی ملک کے اندر مداخلت کو پسند نہیں کر تے ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم ججز کو اندرونی طورپر بحال کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام میں مایوسی کی کیفیت ہے تاہم ہم حالات کو بحال ضرور کر لیں گے ہم جمہوری سسٹم کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی پاکستان کو مستحکم کرے گی اگر ایسا ہو گا تو ہم بہت خوش ہوں گے ہم پھر سے زرداری کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں گے پنجاب میں ہماری مخلوط حکومت ہے پیپلزپارٹی کو ہر فیصلے میں اپنی اتحادی جماعت سے پوچھنا چاہیے ان کے ووٹ ہم سے کوئی بہت زیادہ نہیں اس لئے کوئی فیصلہ کرنا سے پہلے ہم سے ضرور پوچھا جانا چاہیے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہماری پارٹی کو نقصان پہنچایا ان کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے طاقت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا طاقت استعمال کر کے دیکھ لیا گیا ہے دہشت گردوں کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ بات چیت کا راستہ ہر ایک کیلئے کھلا رکھنا چاہیے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات کو حل ہونا چاہے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اگر دونوں ممالک کے درمیان ویزہ سسٹم ختم کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے دونوں جانب کی عوام کو آر پار آزادانہ آنا جانا چاہیے میں بھارتی حکام سے بھی صرور بات چیت کروں گا کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے ہم چاہتے ہیں کہ کارگل کے مسئلے پر کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طے شدہ فارمولے کے تحت ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی راولپنڈی سمیت کسی جگہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے مین امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ۔ 18 فروری کے انتخابات بھی پوری طرح شفاف نہیں تھے تاہم نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کو جمہوریت کی کی فوری ضرورت تھی ۔ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے مکمل حامی ہیں لیکن عجلت میں کوئی کام کرنے کی بجائے عدلیہ کی مستقل آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ان اندرونی سازشوں کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے بعض عناصر پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ آٹھ سال کے دوران راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں اپنے خلاف زیر سماعت ریفرنسز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے اعزاز مین ایک تقریب کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ‘ پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر ‘ سینیٹر ڈاکٹر بابر اعوان بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران آصف زرداری مزاح سے بھرپور دلچسپ چٹکلے اور جملے بھی چست کرتے رہے ۔ آصف زرداری نے خوشگوار موڈ میںگپ شپ لگاتے ہوئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان یہ فارمولہ پہلے سے طے ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹ پر دوسری پارٹی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جس کی پابندی کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نواز شریف اور شہباز شریف کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جبکہ راولپنڈی کے حلقہ این اے 55 سمیت دیگر حلقوں میں بھی مسلم لیگ کے مدمقابل کو ئی امیدوار کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے 18 فروری کے نتائج کے حوالہ سے کہا کہ یہ نتائج پوری طرح تسلی بخش نہیں اور نہ ہی میں یہ نتائج تسلیم کرتا ہوں ہم نے حالیہ انتخابات کے نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کوجمہوریت کی فوری ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت پوری پیپلزپارٹی ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی حامی ہے ا ور ہم ہر قیمت پر ججوں کو بحال اور عدلیہ کو آزاد کریں گے ۔ لیکن اس حوالے سے بعض لوگ عجلت میں جو نتائج چاہتے ہیں وہ آسان نہیں ہم سیاستدان ہیں اور سیاست میں ایسا راستہ تلاش کررہے ہیں جس سے عدلیہ کی آزادی ‘ جمہوریت کے استحکام ‘ معیشت کی مضبوط ملک وقوم کی ترقی کے ذریعے عوامی خواہشات پر عمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے آئینی پیکج تقریبا تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور نواز شریف کی اسلام آباد آمد پر انہیں اس کے مندر جات سے تفصیلی آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ملک میں پیدا کردہ خوراک کا بحران مصنوعی ہے ۔ کیونکہ بعض عناصر ملک قوم کے خلاف اندرونی سازشوں میںملوث ہیں جس طرح چنگیز خان کوئی علاقہ یا قلع فتح کرنے سے پہلے اپنے ایجنٹ بھیج کر وہاں کی طاقت کو اندرونی طورپر کھوکھلا کرتا تھا اسی طرح آج پاکستان کو تورنے کے لیے بھی سازشیں ہو رہی ہیں ۔ اور اندرونی سازشیں باہر سے مسلط کردہ جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گندم سمیت خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے مشاورت جاری ہے جلد اس پر قابو پالیا جائے گا انہوں نے گندم کی افغانستان سمگلنگ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی گندم پالیسی میں ہمیشہ افغانستان کو شامل رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا انحصار ہی پاکستان پر ہے ۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اب تک ملک وقوم کو پانچ بھٹو دے چکے ہین انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے جس کے لیے پنجاب ‘ بلوچستان اور سندھ مین ان کی حفاظت کے لیے الگ الگ گاڑیاں اور سخت سیکورٹی پلان تھا لیکن ہم نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ بی بی کے ساتھ پنجاب میں اتنا بڑا سانحہ پیش آئے گا ہمارا خیال تھا کہ وہ یہاں محفوظ ہیں اور یہاں انہیں کچھ نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ جیلوں کے نظام میں اصلاحات کے لیے صوبوں کوہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ جبکہ صدارتی ترجمان راشد قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی قسم کے آئینی پیکج کو ایوان صدر میں پیش کرنے کی تردید کرتے ہوئے اس خبر کو بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ نہ کوئی آئینی پیکج ایوان صدر میں پیش کیاگیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں ایوان صدر کے پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی رابطے ہیں یہ بالکل لا شعوری بات ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدارتی ترجمان نے کہاکہ اس بارے میں خبریں اور تبصرے بالکل غلط ہیں میں نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایوان صدر کی آئینی پیکج پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی سے کوئی رابطہ ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے عدلیہ کی بحالی کے لئے ہونے والے لانگ مارچ اور وکلاء کنونشن کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے عملدرآمد کمیٹی کے قیام اور اس کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے ، لانگ مارچ کا نام”جسٹس افتخارمارچ“رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وکلاء رہنماو¿ں نے جنرل باڈی اجلاسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او کے خاتمے کے خوف سے ججوں کو بحال نہیں کیا جارہا،لیکن وکلاء اپنی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم بہت کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری منیر الرحمن نے کہا ہے کہ وکلاء تحریک ضرور کامیاب ہوگی‘ وکلاء اتحاد کا مظاہرہ کریں ورنہ 9 مارچ‘ 12 مئی‘ 9 اپریل اور 3 نومبر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ جنرل باڈی سے شعاع النبی‘ غفار کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف لینا غیر آئینی ہے‘ عوام کا حکمرانوں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق عملدرآمد کمیٹی کے عہدیداروں میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حاجی سیدالرحمن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن کو عملدرآمد کمیٹی کا معاون کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ارکان میں حاجی سیدالرحمن، چوہدری اعتزازاحسن، رشید اے رضوی، حامد خان، امداد اعوان، علی احمد کرد، چوہدری امین جاوید تمام صوبائی بار کونسلوں کے وائس چیئرمین، تمام ہائی کورٹس بار ایسوسی ایشنوں کے صدر اور لاہور کراچی پشاور اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشنوں کے صدر شامل ہیں۔ عملدرآمد کمیٹی کو لاہور میں ہونے والے آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کی قرارداد کی روشنی میں حتمی شکل دی گئی ہے۔ عملدرآمد کمیٹی لانگ مارچ کے روٹس کا تعین کریگی اور وکلائ کنونشن سمیت دیگر تمام معاملات کو بھی حتمی شکل دے گی تاکہ 10 جون سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جاسکے۔ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سردار عصمت اللہ خان کی زیرصدارت ہوا جس میں کراچی بار کے جنرل سیکرٹری نعیم قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ اجلاس میں صحافیوں کو بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا نہ ہی اجلاس میں موجود ڈویڑنل نمائندوں کی فہرست جاری کی گئی۔ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں سردار عصمت اللہ خان نے کہا کہ 10 جون کو جو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس کا نام چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مارچ رکھا گیا ہے۔ 24 مئی کو فیصل آباد میں وکلاء کنونشن میں شرکت کیلئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وکلاء جلوس کی شکل میں صبح 7 بجے ان کی رہائش گاہ سے لے کر بذریعہ موٹر وے فیصل آباد جائیں گے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، طلبہ، تاجر برادری، مزدوروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 24 مئی کے کاروان میں شرکت کریں کیونکہ ججز کو فنکشنل کرنے کی تحریک اب ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہمیں کسی سے گلہ نہیں ہماری جنگ جاری رہے گی۔ کراچی بار کے سیکرٹری جنرل نعیم قریشی نے کہا کہ 19 اپریل کو کراچی میں بار اور وکلاء کو جلایا گیا لیکن اس پر راولپنڈی میں جو ردعمل تھا اس نے ہمارا حوصلہ بلند کیا ۔ این آر او کی تلوار معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے ججز کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ جبکہ وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے اتحادی حکومت پر کوئی دباو¿ نہیں ہے اور نہ ایسا کچھ قبول کیا جائے گا، عوام کو مایوس نہیں کرینگے،انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لئے طریقہ طے کرنا ہے ،کیو نکہ کرسی ایک ہے اور چیف جسٹس دو ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اسے دہرایا نہیں جا سکتا، ن لیگ کے وزراء جلد کابینہ میں شامل ہو جائیں گے، دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے تیار کی گئی 3نکاتی حکمت عملی کو امریکا نے سراہا ہے ۔ اس بارے میں میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں، نواز شریف کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے اور کسی سیاسی جماعت کے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان معزول ججوں کو جلد از جلد بحال کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ یہ وسیع البنیاد ہے اور اس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماہرین طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں اور جلد سفارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اور اسے دہرایا نہیں جا سکتا۔ گزشتہ دنوں انھوں نے بین الاقوامی فورم پر اس کمٹمنٹ کا اظہاربھی کیاکہ تمام معزول جج صاحبان کو بحال کیا جائے گا۔ جب ان سے طریقہ ہائے کار کے بارے میں استفسار کیا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ ایک موجودہ چیف جسٹس ہے اور ایک دوسرا چیف جسٹس ہے، جسے بحال کرنا ہے، ہمیں ایک چیف جسٹس رکھنا ہے اور آئینی ماہرین اس بارے میں طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی طرف سے دیئے گئے استعفوں کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے بعد بہت جلد کابینہ میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ججوں کی بحالی کیلئے لوگوں کو کب تک انتظار کرنا ہو گا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے عوام بہت بالغ النظر، ذہین اور متحمل مزاج ہیں۔ وہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر بش کو بتایا کہ انتہا پسندی و دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے تین نکاتی حکمت عملی کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شامل ہے جو عسکریت پسند نہیں ہیں یا جو ہتھیار ڈال کر دہشت گردی کے انسداد میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، مواصلات کو بہتر بنانے، روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے فاٹا میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی بھی خواہاں ہے اور آخری چارہ کار کے طور پر اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے وہاں فورس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی امریکہ کو قابل قبول ہے اور انہوں نے ہماری کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہماری سرزمین پر 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین ہیں، عالمی غذائی سیکورٹی کا خطرہ بھی ہمارے اوپر منڈلا رہا ہے، ہمیں نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں بلکہ افغانستان کی بھی اور گندم وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اسمگل کی جا رہی ہے۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان کی تعمیرنو کیلئے 30 کروڑ ڈالر کی معاونت دے رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ شاندار تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان بھارت سے اچھی توقعات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب بنیادی مسائل کو حل کرنا ہو گا، کشمیر کے عوام اپنا حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔ مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ شرم الشیخ میں مسلم رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقاتوں میں انہوں نے بہت اچھی بات چیت کی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، زراعت، دفاع اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے بارے میں تجربات کا تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے سیاسی حمایت کو تقویت دینے اور ملک و قوم کیلئے وسیع تر اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی، ہم تیز تر اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ وکلاء نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان کہ ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس نہیں لایا جاسکتا ،پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے انکا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سے پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف مزید گررہاہے اور پارٹی عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی ہے ریٹائرڈ جسٹس وجہیہ الدین احمد نے کہا کہ 3نومبر 2007کو جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس لایاگیا اور پیپلز پارٹی مشرف کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی رہی ہے اور یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم 3نومبر کے اقدامات کا حوالہ دے رہے تھے یا کسی اور صورتحال کا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے سے اب تک کسی بھی ایشو پر نتائج دینے میں ناکام رہی ہے اور وزیر اعظم کا بیان مری اعلامیہ کے خلاف ہے۔ چاہے ججوں کا معاملہ ہو یا اقتصادی بحران ، سکیورٹی مسائل ہوں یا سیاسی معاملات، پیپلزپارٹی نے عوام کو مایوس کیا ہے پارٹی نے ایک بھی ایشو پر نتائج نہیں دیئے وکلاء رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی کے ترجمانوں سے اس سلسلے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے انہوں نے مزید کہا پیپلز پارٹی کو موجودہ مسائل حل کرنے ہونگے ورنہ اسکی مقبولیت مزید گرے گی“ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی پیکیج تیار کررہی ہے جس سے چاروں مستفید ہوں،پرویز مشرف ، آصف زرداری، پی سی او ججوں کو فائدہ ہو اور کچھ عوامی مطالبات بھی تسلیم ہو جائیں انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ اگر ہر ایک کو” خوش“ کرنے کی کوشش کی گئی تو سب کچھ ضائع ہو جائیگا ۔جسٹس وجہیہ الدین نے کہا کہ ”وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی کیلئے شروع ہوئی تھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زرداری یا وزیر اعظم کیا کہتے ہیں ۔جسٹس (ر) طارق محمود نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کو واضح اعلان کرنا چاہئے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے درمیانی راستہ اختیار کرکے معزول عدلیہ کی بحالی پر پوری قوم کو ابہام کا شکار کیا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ 3نومبر کو ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں گن پوائنٹ پر دوسرا لایا گیا مگر وکلاء یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں کہ کسی جج کی تعیناتی صرف خالی سیٹ پر ہی کی جاسکتی ہے موجود ججوں کی جگہ پر نہیں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنی مرضی سے ایسا بیان نہیں دے سکتے ہیں یہیں سے ”کسی“ نے انکو ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی پر واضح نہیں ہے مگر تنخواہوں کی ادائیگیوں کے حکم سے وہ انہیں سپریم کورٹ کا جج تسلیم کرتے ہیں وکیل نے کہا کہ اگر 2نومبر کے مطابق معزول ججوں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں تو پیپلز پارٹی جسٹس افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے خود بخود تسلیم کرتی ہے لیکن انکا وزیر اعظم اصل صورتحال کے برعکس بیان دے رہا ہے ۔سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے قریبی معاون اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے منتخب وزیر اعظم نے ایسا بیان جاری کیا جس سے ایک آمر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیان بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں اور انکے فلسفے سے انحراف ہے جنہوں نے ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے اپنی زندگیاں قربان کیں یہ خوفناک بات ہے کہ ایسی پارٹی کا منتخب وزیراعظم مشرف کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنیوالے بیانات دے رہا ہے ۔اس طرح ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ۔اطہر من اللہ نے کہا ”کسی سپریم کورٹ نے کبھی پی سی او کو معطل نہیں کیا “لیکن اس پی سی او کو سپریم کورٹ کے 7رکنی بنچ نے معطل کیا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا بیان میثاق جمہوریت کی بھی واضح نفی ہے ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ہٹنے تک خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جب تک پرویز مشرف منظر سے نہیں ہٹتے پاکستان میں خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جبکہ وفاقی سیکرٹری برائے انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ محمد اکرم شہیدی نے کہا ہے کہ نئے انفارمیشن ایکٹ میں صحافیوں کو اطلاعات تک بروقت رسائی دینے ، احتساب کا عمل یقینی بنانے میں مدددینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے میڈیا کی تمام ضروریات کا احاطہ کیاجائیگا،شہید ی نے اس موقع پر مزید کہا کہ سی پی این ای، اے پی این ایس اور پی ایف یوجے سمیت تمام فریقین کے ایک اور اجلاس 25 تا26 مئی تک ہوگا جس میں اس پر غور کیاجائیگا جس کے بعد یہ بل منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کر دیاجائیگا۔سیکر ٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت ایک آزاد فضاپیدا کرنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے اور اس حقیقت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اب تمام ٹی وی چینلز کے اینکرز مختلف معاملات پر آزادانہ بحث کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں60 کے قریب ٹی وی چینلزکام کر رہے ہیں اور میڈیا سے وابستہ اداروں کو ذمہ داری اور بالغ نظر صحافت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور وزارت اطلاعات ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اس طرح میڈیاکی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت میڈیاکو دبانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کریگی ۔ جبکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول تک صدر پرویز مشرف کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ(ن) لیگ کو پیپلزپارٹی سے دور کرکے پی پی پی (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے اور اس میں وہ کافی کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں مرزا اسلم بیگ نے کہا ک ہے ہ جب ذاتی مفادات قومی مفادات پر مقدم ہو جائیں تو کمزور فیصلے ہوتے ہیں این آراو کے تحت جو آصف زرداری کو مفادات حاصل ہوئے ہیں مقدمات ختم ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم کے خلاف قتل سمیت 2800 مقدمات تھے سب ختم ہو گئے جب اتنا بڑا احسان مندی کا بوجھ ہو تو پھر ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آجاتے ہیں اور جب تک یہ غالب رہیں گے یہ لوگ دب کر بات کرتے رہیں گے مگر ایسا کوئی دباو¿ نواز شریف اور اے پی ڈی ایم پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس ٹکراو¿ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں جو آج پیدا ہوا ہے اگر یہاں مضبوط قومی حکومت قائم ہوئی تو وہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت نہیں ڈال سکتی بلکہ طاقت کے زور پر ان معاملات کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہو گی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن ناکام اور ناقص خارجہ پالیسی کارد عمل ہے۔ پرویز مشرف صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے وطن عزیز کے محب وطن اور معصوم شہریوں کو اپنی انا اور نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی حملوں اور دیگر دھماکوں میں معصوم شہری اور پاکستانی فوجی ہی مارے جارہے ہیں لیکن حکومت سچ چھپا رہی ہے ۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج قبائلی علاقو ںمیں ستر ملین ماہانہ لے کر امریکا کی خدمت کررہی ہے اور اس کے کرائے کے گوریلوں کاکردار ادا کر رہے ہیں ۔ طالبانائزیشن کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان اور پاکستانی فوج قبائلی علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں اور سنگین مسئلہ کا حل مذاکرات سے ہی نکالا جائے بصورت دیگر وطن عزیز پر طالبانائزیشن اور دہشت گردی جیسا عذاب مسلط ہی رہے گا۔ ملکی موجودہ صورتحال سے ثابت ہو گیا کہ اے پی ڈی ایم کے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا ۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر نیگرو پونٹے اور باو¿چر کی پارٹی قیادت سے ملاقاتوں اور امریکی مداخلت پر پیپلز پارٹی الیکشن لڑنے پر مجبور ہوئی تھی لیکن اس وقت ساری سیاسی جماعتیں اے پی ڈی ایم کی کال پر الیکشن کا بائیکاٹ کرتیں تو آج یہ کھچڑی نہ پکتی اور ججز اور عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ۔ عمران خان نے کہا کہ ملک پر مسلط چور ڈاکو قومی لٹیرے اور الطاف حسین جیسے دہشت گرد معزول ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اسی لیے اب آئینی پیکج کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ہاتھ باندھنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں لیکن وکلاء سیاستدانوں سمیت پوری پاکستانی قوم چیف جسٹس کی پشت پر ہے اور معزول ججز سمیت عدلیہ کی بحالی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے ملک بھر کے وکلاء کی جرات اور تحریک کو سلام پیش کیا کہ شریف الدین پیرزادہ سمیت کئی ایک میر جعفر اور میر صادق ان کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں مگر وکلاء نے ان کی سازشیں ناکام بنا کر ملک کو لیڈر شپ دی ۔عمران خان نے کہاکہ یہ کہاں کا قانون و انصاف ہے کہ مفاہمتی آرڈیننس کے تحت آصف زرداری اور سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت تھوک کے حساب سے کرپشن کیسز والوں کے مقدمات ختم کر کے انہیں این آر او کی گنگا سے نہلا کر پاک صاف کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دور میں 55 ارب سے زائد رقم کے قرضے لے کر معاف کروائے گئے ایک غریب معمولی جرم اور معمولی قرضے کی پاداش میں سالوں جیلوں میں سڑتا رہتا ہے لیکن پرویز مشرف نے اربوں روپے لوٹنے والوں اور کتنے ہی معصوم بے گناہ شہریوں کے قاتلوں کو تحفظ فراہم کر کے انہیں ہر قسم کے احتساب سے بچا لیا ہے ۔عمران خان نے بتایا کہ پرویز مشرف نے آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر کیسز کے سلسلے میں صرف ایک وکیل کو بارہ کروڑ روپے دئیے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی لٹیروں کے خلاف قائم کیسز کے لیے کروڑوں روپے کا کس قدر بے دریغ استعمال کر کے اور خزانہ خالی کر کے ان قومی مجرموں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کر دیاگیا اس کا احتساب ضروری ہے جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ان کا سیاسی کردار ہے لہذا وہ استعفیٰ نہیں دیں گے آئینی طورپر منتخب صدر ہوں پانچ سالہ مدت پوری کروں گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور حامد ناصر چٹھہ سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ججز کی بحالی اور صدر ، وزیراعظم کے درمیان اختیارات میں توازن قائم کرنے اور سیکیورٹی کونسل کے خاتمے سے متعلق آئینی پیکج اور حالیہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ یہ ملاقات صدر پرویز مشرف کی خواہش پر ہوئی ہے جس میں (ق) لیگ کی طرف سے معزول ججز کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر صدر پرویز مشرف نے عدم اطمینان اور ناخوشی کا اظہار کیا ہے کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف( ق) لیگ بھی میدان میں آ گئی ہے صدر مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی او ر(ن) لیگ سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تحفظ دے دیا جائے تو وہ اپنے عہدے سے اس سال کے آخر تک مستعفی ہو جائیں گے یہ ایک گلے شکوے کی ملاقات تھی جس میں چوہدری شجاعت حسین نے ان کوششوں اور سازشوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے انہیں ہٹانے کیلئے کوشش کی گئیں اور اس میں کچھ سرکاری ادارے بھی شامل تھے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے تیار کئے جانے والے آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت سروسز چیفس اور صوبائی گورنرز سمیت اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم ہو کو ہو گا چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد تین سال مقرر کر دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں اس مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی ختم اور سروسز چیفس سمیت دیگر اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم کو منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی پیکیج میں صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو ہو گا جبکہ صوبوں کے گورنروں، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی تقرری بھی وزیراعظم کریں گے۔ عدلیہ کے حوالے سے آئینی پیکیج میں چیف جسٹس کی میعاد عہدہ تین سال مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی مدت ملازمت تین سال بڑھائی جائے گی۔صدارتی ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ آئینی پیکیج کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار ہے تاہم ججوں کی بحالی اور صدر وزیراعظم کے درمیان اختیارات کے توازن کے حوالے سے آئینی پیکیج کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو آئینی پیکیج کا کوئی مسودہ ایوان صدر آیا اور نہ ہی یہاں سے کوئی بھیجا گیا ہے ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج پر مشاورت کے لئے صدر پرویز مشرف سے چوہدری شجاعت، حامد ناصر چٹھہ، رضا حیات ہراج اور ماروی میمن نے ملاقات کی ہے۔جبکہ حکومت پاکستان نے واضح کیاہے کہ دہشت گردوں سے امن معاہدہ ہوا ہے او رنہ ہی ان سے بات چیت کی جائے گی اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کو گندم کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے تمام سرکاری محکموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپڈا کے واجبات ایک ماہ کے اندر ادا کر دیں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیریں رحمن نے میڈیا کو بریفنگ دی اورکہاکہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ کسی دہشت گرد سے بات چیت نہیں ہو گی اور فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ایسے لوگ رہا نہیں ہوں گے جو اسلحہ رکھتے ہوں اور زور و جبر سے عزائم منوانا چاہتے ہوں جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی میں کمی لائی گئی ہے تاکہ وہاں کے پرامن علاقائی لوگ واپس اپنے گھروں کو جا سکیں مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پا رہا ہے شیریں رحمان نے کہا کہ فوج نے اپنی کوئی بٹالین وہاں سے کم نہیں کی ہے بلکہ وہ سویلین کی مدد کے اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت ان لوگوں کو معاوضہ دے گی جن کے گھر یا جائیداد کو نقصان پہنچا ہے حکومت وہاں کے متعلقہ لوگوں کے ساتھ امن کے قیام کیلئے مل کر کام کرے گی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ گندم کی برآمد پر پابندی جاری رہے گی تاکہ صارفین تک وافر مقدار میں گندم کی رسائی ہو پاسکو کو کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان اور سرحد کے لئے مقرر کردہ گندم کا ہدف پورا کرے کیونکہ وہاں گندم کی سب سے زیادہ کمی ہے یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو گندم کی درآمد کی اجازت دے گی اور اس پر دس فیصد ڈیوٹی وہ بھی ہٹا دی گئی ہے گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف پچاس لاکھ ٹن مقرر کیاگیاہے جبکہ گندم کی برآمد پر پابندی برقرار رہے گی آٹے کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے مخصوص سطح پر گندم کا ذخیرہ سال بھر برقرار رکھا جائے گا آئینی پیکج کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے بتایا کہ تمام فیصلے قومی امنگوں کے مطابق کئے جائیں گے اگر کسی فیصلے پر کسی جانب سے کوئی احتجاج ہوتا ہے تو یہ عوام کا جمہوری حق ہے کابینہ کم از کم اجرت 6 ہزار مقرر کرنے کے فیصلے پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ قانون میں تبدیلی اور اسے بچت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا قومی مفاہمت کی پالیسی کے تحت کابینہ نے جہیز کی حد مقرر کرنے کا سرکاری بل واپس لینے کا فیصلہ کیاہے سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کے انور بھنڈر کا نجی بل پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے بل کے تحت جہیز کی حد 30 ہزار روپے جبکہ تحائف کی حد 50 ہزارروپے مقرر کی گئی ہے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران چین میں زلزلے کی وجہ سے اموات اور لا پتہ افراد کی تعداد 70ہزار سے بھی تجاوز کرنے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ نقصان کے پیش نظر ہم امدادی سامان میں جائزہ لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ چین ہمارا عظیم دوست ہے اور شرم الشیخ میں انہیں حکومت چین کی جانب سے درخواست کی گئی کہ متاثرین کیلئے خیموں کی اشد ضرورت ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے فوری طور پر چار۔130طیاروں اور 30ٹرکوں کے ذریعے خیمے اور دوسرا امدادی سامان چین روانہ کیاگیا چین میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی پاکستان میں 2005ء کے زلزلے کے بعد چین نے امدادی اشیاء کے علاوہ 3کروڑ ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کی تھی۔ تحریر : اے پی ایس اسلام آباد

Saturday, May 17, 2008

عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے . ملک پر امریکی حملہ، ججز کی بحالی اور مہنگائی کی لہر بلند ترین سطح ُپر۔۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

ملک میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ جاری ہے اور حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح تقریبا 30 فیصد کے قریب پہنچ رہا ہے ۔ یہ اضافہ ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ ، 15 مئی 2008 ء کوختم ہونے والے ہفتے کے دورا ن گزشتہ سال کے اسی ہفتے کی نسبت تین ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے ملک کے غریب ترین طبقے کے لیے حساس اعشاریوں میں مہنگائی میں29.89 فیصد 5 ہزار روپے آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی میں 29.16 فیصد 12 ہزار روپے کے آمدنی و الے متوسط طبقے کے لیے مہنگائی میں26.28 فیصد ،12 ہزارسے زائدآمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 23.22 فیصد اضافہ جبکہ مجموعی طورپر تمام طبقوں کے مہنگائی کی شرح میں 26.25 فیصداضافہ ریکارڈکیا گیا ہے زیادہ تر بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اضافہ ہوا جوغریب کے استعمال کے لیے ہیںاوریہ اضافہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ بتایا جاتا ہے ۔ 15 مئی 2008 ءکو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران گزشتہ مالی سال کے اس ہفتے کی نسبت موٹے چاول کی قیمت میں 146 فیصد ، دال مسور کی قیمت میں 119 فیصد ، چاول بناستی کی قیمت میں 94 فیصد ، گھی ویجیٹل (ڈبہ ) کی قیمت میں 59 فیصد ،گندم کی قیمت میں 67 فیصد ، گندم کے آٹے کی قیمت میں 66 فیصد ، دال چنا کی قیمت میں55 فیصد ،تیل سرسوں کی قیمت میں 72 فیصد ، کوکنگ آئل کی قیمت میں 59 فیصد ، سمیت 49 اشیائ خریداری کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 4 کی قیمتوں میں معمولی سی کمی ریکارڈکی گئی ہے ۔ ججوں کی بحالی کی تحریک صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں۔ تحریک کو روکنا جمہوری حکومت کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آ جائیں گی۔ جس سے جمہوریت کا عمل متاثر ہو گا۔ عدلیہ کی بحالی کے بغیر میڈیا کی آزادی کا دفاع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ججوں کی عدم بحالی سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تسلسل کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا تاہم اب بھی وفاق میں صدر مشرف کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔ گورنر پنجاب کی تقرری ایک متنازع معاملہ ہے۔ اس بارے میں مسلم لیگ ن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے۔اصولوں کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاقی کابینہ سے الگ ہوئی ہے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ واپس نہیں آئیں گے پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی نگران حکومت کے متنازع کرداروں کو پاکستان کے عوام پر مسلط کیا جارہاہے جو تبدیلی کیلئے ووٹ دینے والی عوام کے ساتھ بڑی نا انصافی ہے پیپلزپارٹی کا دوہرا معیار ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم کا گورنر نہیں بدلا گیا جبکہ پنجاب میں ان کی حکومت ہے اور پرویز مشرف کا آدمی گورنر لگا دیاگیا جبکہ احسن اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا اگر پیپلز پارٹی صعوبتیں سہنے والے اپنے کسی کارکن کو گورنر لگاتی تو مسلم لیگ (ن) کو کوئی اعتراض نہ ہوتا اسلمان تاثیر کو گورنر پنجاب لگاتے وقت ان کی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی صرف آگاہ کیا گیا تھا ان کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے مسلم لیگ(ن) کے وزراء اصولوں کی بنیاد پر کابینہ سے الگ ہوئے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ آپس میں نہیں آئیں گے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ ہمیں جمہوریت کوئی نہیں سکھا سکتا ، میرے لئے پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ میں چاہتا ہوں پیپلز پارٹی اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مجھے مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتروں ۔ اگورنر پنجاب سلمان تاثیر نے زندگی میں سیاست کے نشیب و فراز اور قید بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں جہاں ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما بھی شامل رہے ہیں ۔ انھیں کوئی نہیں سکھا سکتا کہ جمہوریت کیا ہے آج وہ اس گورنر ہاو¿س میں موجود ہیں تو اس کے لئے انھوںنے طویل جدوجہد کی ہے ۔ اٹنہو اتار چڑھا و¿ آتے رہتے ہیں سیاست میں آخری فتح ہوتی ہے اور نہ آخری شکست ہوتی ہے ۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے ان کی حکمت عملی اس احوال پر ہو گی کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں وفاق میں جو ہمیں مینڈیٹ ملا ہے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتریں اور پنجاب میں جمہوری تمل قائم رہے ۔ اب یہ گورنر ہاو¿س عوامی بن چکا ہے اور اس کے دروازے عوام کے لئے کھلے رہیں گے ۔ پنجاب میں اندر اور باہر سے آکر بہت سے لوگ اسے لوٹتے رہے ہیں لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو پنجاب میں آئے تو انہو ںنے عوام کے دل لوٹ لئے جبکہ گورنر پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب کے لوگ غیر مند لوگ ہیں ہم سے کوئی پیار کرے تو اس پر سب کچھ لٹا دیتے ہیں اس موقع پر انہوں نے جیو ے بھٹو سدا جیوے کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ بلاول کو بھی ہم پنجاب سے الیکشن لڑائیں گے سارا پنجاب لاڑکانہ ہے ہم بلاول کو پنجاب اسمبلی میں پہنچائیں گے ۔ باجوڑ پر امریکی طیاروں کا میزائل حملہ افسوسناک ہے ابھی تک موجودہ حکومت کی امریکہ اور بھارت کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جو پالیسی سابقہ حکومت کی تھی جاری ہے ۔پیپلز پارٹی دو کشتیوں میں سوار ہو کر جمہوریت کو سبوتاڑ کرنے کی جو کشش کر رہی ہے وہ ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ وہ غیر آئینی و غیر قانونی صدر پرویز مشرف کو عملا قبول کر چکی ہے اعلان مری اور اعلان دبئی سمیت کسی بھی معاملے میں پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ اختیارات عملا ایوان صدر کے پاس ہیں جبکہ اس حوالے سے حافظ حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے معزول ججز کی بحالی کی قرار داد کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کے بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تا ہم انہوں نے اس بارے میں اپنی کسی اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے مواخذے کی تحریک بھی پیش کی جائے کیونکہ ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔مسلم لیگ ن کی طرف سے مرکزی وزارتوں سے استعفوں کے بعد ایک متنازعہ شخصیت کو گورنر پنجاب بنایا جانا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ایوان صدر کی ایک اور سازش ہے ۔ پرویز مشرف کی اتحادی جماعت ق لیگ کو ری کنڈیشن کر کے اور ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات پیپلز پارٹی ایوان صدر کے اشارے پر کر رہی ہے ۔ آصف زرداری اپنی اتحادی جماعتوںکو اعتماد میں لئے بغیر جو قدم بھی اٹھائیں گے وہ ملک اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ جون کے پہلے ہفتے میں اے پی ڈی ایم کے زیر اہتمام قومی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔کانفرنس میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد بھی شرکت کریں گے اس نے حکمران اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا فوری طور پر مواخذہ کیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں پاکستان کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی ترتیب دینا ممکن نہیں ہے۔ 18فروری کے بعد بھی ملک پر اسی طرح امریکی دباو¿ موجود ہے اور باجوڑ ووزیرستان میں بغیر پائلٹ امریکی جاسوسی طیارے میزائل داغ رہے ہیں۔ جس کے بارے میں ہماری فوج اور حکومت بھی لاعلم رہتی ہے۔ حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کوئی آئینی پیکج منظور کرنے کیلئے ارکان کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے تاہم وہ اس پوزیشن میں ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کا مواخذہ کرسکے۔ آج بھی امریکہ پاکستان پر گذشتہ آٹھ سالوں کی طرح حاوی ہے۔ امریکی صدر بش کہہ رہے ہیں کہ آئندہ امریکہ پر حملہ ہوا تو اس کی منصوبہ بندی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کی جائے گی جبکہ امریکی کانگریس کے اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر انہیںموقع ملے تو ان کی ترجیح عراق یا افغانستان کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کرنا اور وہاں فوج لے جانا ہوگا۔ پاکستان کو عملا امریکی کالونی بنادیا گیا ہے۔ تین روز قبل جو باجوڑ پر بغیر پائلٹ طیارے نے میزائل داغا اس کیلئے ٹارگٹ پاکستان کے اندر سے ہی کسی نے فراہم کیا تھا جس کے نتیجہ میں پرامن عالم دین کے گھر، مسجد اور حجرے کو نشانہ بنایا گیا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حملے کے بعد پاکستان کی افواج اور حکومت نے اس حملہ سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ تین ماہ سے امریکہ کے یہ بغیر پائلٹ طیارے جنوبی وزیرستان اور باجوڑ پر پرواز کررہے ہیں۔ اب وزیراعظم نے محض یہ بیان دیا ہے کہ وہ مصر میں منعقدہ کانفرنس میں امریکی صدر سے اس بات پر احتجاج کریں گے۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حملہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کو ملک کے دفاع کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ججوں کی بحالی بھی اس لئے ابھی تک نہیں ہوسکی کہ انہیں بحال کرنے پر بھی امریکی دباو¿ موجود ہے اور امریکہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے گمشدہ افراد کے حوالے سے نوٹس لیا جبکہ موجودہ حکمران کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ دباو¿ اس لئے قبول کررہے ہیں کہ امریکہ کی ملٹری ودوسری امداد کے بغیر پاکستان کا گزارہ نہیں ہے یہ کیسی پالیسی ہے کہ امریکہ سے فوجی امداد اپنے ہی شہریوں پر استعمال کرنے کیلئے حاصل کی جارہی ہے۔ افتخار محمد چودھری کا دوسرا جرم پرویز مشرف کے الیکشن لڑنے سے متعلق اہلیت کے بارے میں آنے والا فیصلہ تھا اور تیسرا جرم این آر او جس کے تحت اربوں روپے کی کرپشن معاف کی گئی کو عدالت میں ٹرائل کرنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کی سب سے بڑی وجہ ایوان صدر میں کی جانے والی سازشیں ہیں۔ ملک میں مہنگائی اور غربت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے۔ کشمیر پر بھی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ پاکستان کے دریا خشک ہوچکے ہیں، عوام کو پانی میسر نہیں ہے لیکن حکومت کو ان معاملات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ا عام شہری حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ اس نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے کیا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں اے پی ڈی ایم کا موقف آج بالکل سچ ثابت ہوچکا ہے۔ دو ماہ قبل میاں برادران کو اسی الیکشن کمیشن نے الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور آج ان کے کاغذات منظور کرلئے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو جو ہدایت دی جاتی ہے وہ اسی پر عمل کرتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بغیر عدالتی بحران حل نہیں ہوسکے گا۔ ملکی مسائل کو قومی حکومت کے ذریعے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ملک میں گشتہ جمعہ کو دینی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ڈمہ ڈولہ میں امریکہ کے میزائل حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ صوبہ سرحد کے تمام علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ دینی و مذہبی جماعتوں نے حکومت سے اس امریکی جارحیت کا سخت نوٹس لینے اور موثر انداز میں اس کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ امریکی جارحیت کے خلاف ملک بھر کی مساجد میں مذمتی قرار داد منظور کی گئیں ۔ جبکہ صوبہ سرحد کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ضلعی وتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے ۔ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام جماعت اسلامی ‘جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر مذہبی و دینی تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا جے یو آئی(ف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانافضل الرحمان کی اپیل پر ملک بھر میں باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ پر امریکی حملے کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا ۔ صوبہ سرحد اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ملک بھر اور صوبائی دارالحکومت میں اس موقع پر احتجاجی قرار داد منظور کی گئی جس میں باجوڑ پر امریکی حملے کوپاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ واقعہ انسانیت کے خلاف ہے قرا رداد میں کہاگیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں لیکن اقوام متحدہ ا ور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں قرا رداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت امریکہ میں باقاعدہ احتجاج کرے ۔ قرار داد میں وزارت خارجہ کی طرف سے مذمتی بیان جاری نہ کرنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ۔ حکومت خارجہ پالیسی کوپارلیمنٹ میں زیر بحث لائے اور خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کرے اور سابقہ حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل کرے ۔تحریر اے پی ایس،اسلام آباد