Tuesday, August 19, 2008

Pakistan: Pervez Musharraf to "seek refuge" in London




Pervez Musharraf could seek a life in exile in London after he resigned yesterday as President of Pakistan, according to a senior Western diplomat
.ISLAMABAD:AUG 19(APS)Mr Musharraf, a former general who came to power in a coup nine years ago, stepped down to avoid impeachment charges that were to be brought by Pakistan's civilian government.The United States, a close ally in the war against terrorism, and Pakistan's army have demanded that the government allow Mr Musharraf "an honourable exit" that includes indemnity from prosecution.According to daily Telegraph a senior Western diplomat in the capital Islamabad said that Mr Musharraf could first head for Saudi Arabia on a Muslim pilgrimage, but that London could be his ultimate destination.The Foreign Office would not comment on the speculation about Mr Musharraf's plans.Announcing his resignation on national televison, Mr Musharraf defended his record and said that he was leaving office knowing that whatever he has done "was for the people and for the country".He added: "I hope the nation and the people will forgive my mistakes. 'Pakistan First' has always been my philosophy."The speaker of the assembly, Mohammedian Soomro, has takes over as interim president and assumes responsibility for Pakistan's nuclear arsenal.Bilawal Bhutto Zardari, the Oxford student whose mother and the former prime minister Benazir Bhutto was assassinated in December, said: "After the martyrdom of my mother I said that democracy was the best revenge - and today it was proved true." Associated Press Service ,Islamabad
Posted by Associated Press Service at 6:35 AM 0 comments

وہ جارہا ہے مگر

پرویز مشرف اپنے زرعی فارم واقع چک شہزاد میں خوشگوار موڈ میں
پرویز مشرف کا متوقع استعفیٰ تو آگیا مگر اب اس سے بھی بڑامسئلہ یہ ہے کہ چھوڑ دیا جائے یا قید کیا جائے۔ ۔ ۔ بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ 16اگست ہفتے کو خبر دی تھی کہ فریقین اور ضامنوں کے درمیان پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس پر رکھنے کی بات بھی ہو رہی ہے اور اس کی خواہش خود پرویز مشرف نے ظاہر کی ہے مجھے اس کا تو علم نہیں کہ فیصلہ کیا ہوا یا ہوگا مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ تجویز دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو سکتی ہے حکمران اتحاد کو مواخذے سے بڑا چیلنج محفوظ راستے کا درپیش ہے پرویز کو جانا تو تھا مگر عوام صرف مواخذہ نہیں محاسبہ بھی چاہتے ہیں ۔حساب مانگتے ہیں ۔ اپنے گمشدہ پیاروں کا ،آگ اور لوہے کی بارش میں جل مرنے والے اپنے جگر گوشوں کا، بم دھماکوں میں چیتھڑے ہو کر اڑ جانے والے اپنے بیٹوں کا۔ چند ڈالروں کے عوض فروخت کردئیے جانے والے بے گناہوں کا ۔نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں لٹ جانے والی عصمتوں کا ،اپنے خالی پیٹوں کا اور بلال مشرف کے 20ارب ڈالر کا، غربت کی وجہ سے بیچے جانے والے جسموں کا اور تنگدستی کے باعث ماں باپ کے ہاتھوں مار ے جانے والے معصوم بچوں کا۔ آئین کے خلاف بغاوت کا ،منتخب وزیراعظم (نواز شریف) کا تختہ الٹنے کااور سابق وزیراعظم( بی بی شہید) کے قتل کا ۔ پتہ نہیں پرویز مشرف کے کسی بیج میٹ نے انہیں بتایا یا نہیں کہ فوجیوں کے شہر راولپنڈی کے درودیوار پر ان کے متعلق کیا لکھا ہے ۔نوشتہ دیوار تو ایک محاورہ ہے ۔جرنیلوں کے شہر میں باقاعدہ دیواروں پر لکھا ہے کہ پرویز مشرف فلاں ہے، پرویز مشرف فلاں ہے، اس لئے ہم شروع سے کہتے آئے ہیں کہ پرویز مشرف کا جانا مسئلے کا حل نہیں حل یہ ہے کہ ان پر لگے الزامات کا حساب لیا جائے۔ اس بار عوام قبول نہیں کریں گے کہ سویلین کے ساتھ کچھ اور ملٹری والے کے ساتھ کچھ اور سلوک ہو، قانون اور آئین کی بات کرنا ہے تو سب کیلئے کریں ، یہاں ہوتا کیا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو غلط کیس بنا کر ناحق عدالت کے ذریعے قتل کردیاجاتا ہے۔ اکبر بگٹی آمر کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں تو پہاڑ کوقبر بنا دیا جاتا ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر کے گھر گھس کر اس کا ریپ کیا جاتا ہے اور بجائے مجرموں کی نشاندہی کر کے انہیں پکڑنے اور سزا دینے کے مدعی ہی کو غائب کردیا جاتا ہے کیونکہ تحقیق وتفتیش کی صورت میں ان کی بدنامی ہو گی جو اللہ میاں سے لکھوا کر لائے ہیں کہ یہ فرشتے ہیں کوئی غلط کام نہیں کر سکتے۔ بینظیر بھٹو کو سڑک پر خون میں نہلا دیا جاتا ہے ۔منتخب وزرائے اعظموں کو ہتھکڑیاں لگا دی جاتی ہیں اور قلعوں کے تہہ خانوں میں اس طرح بند کر دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی ملک دشمن عناصر ہوں اور خود جو مرضی گل کھلاتے رہیں ۔ انہیں کچھ نہیں کہنا بس جانے دینا ہے، کیا بات ہے ۔حکمران اتحاد کے لئے یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ایوان صدر سے نکلنے کے بعد پرویز مشرف کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کا دونوں کو بخوبی احساس ہے کہ عوام رخصتی ہی نہیں سزا بھی چاہتے ہیں مگر اس پر کلےئر صرف نواز شریف ہیں جن کا موقف ہے کہ وہ اپنے ساتھ کی ہوئی زیادتیاں تو پرویز مشرف کو معاف کر سکتے ہیں مگر ملک اور قوم کے ساتھ جو کھلواڑ انہوں نے کیا وہ معاف کرنے کا اختیار صرف اور صرف قوم کا ہے اور قوم پرویز مشرف کو معاف نہیں کرناچاہتی۔ چند روز قبل ان کے ساتھی خواجہ سعد رفیق بھی یہی بات کررہے تھے۔ ایک مذاکرے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان، ممتاز پارلیمنٹیرین میاں عبدالستار اور راقم شریک تھے۔ مجھ سے سوال ہوا کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ پرویز مشرف ایسے ہی چلے جائیں گے اور الزامات کا سامنا نہیں کریں گے ۔اس پر میرا موقف یہ تھا کہ ’’ پرویزمشرف باقی آمروں سے مختلف واقع ہوئے ہیں ۔پھر ان کو اپنے کمانڈو ہونے کا بھی بڑا زعم ہے ۔ اس لئے مہم جوئی کرسکتے ہیں کوئی بعید نہیں کہ وہ سامنے آجائیں اور کہیں ’’لائیں میرے خلاف کیا الزامات ہیں ؟ ‘‘اس پر خواجہ سعد رفیق کا موقف بھی ملتا جلتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ پرویز مشرف نے 8سال تک اس ملک اور قوم کے ساتھ جو ظلم کئے ہیں ان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں ‘‘۔علاج یہی ہے کہ وہ قوم کو جواب دیں خود نہ آئیں تو بھی انہیں پکڑ کر پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر دیا جائے جیسے انہوں نے نواز شریف کو پولیس اور فوجیوں کے ہاتھوں عدالتوں ، جیلوں اور قلعوں میں رسوا کیاتھا اور صفائی کا پورا موقع دے کر سزا سنا دی جائے کیونکہ ویسے تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ہمارے کہنے کی بات نہیں یہ تو زبان حلق کہہ رہی ہے کہ وہ کیا ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ زبان خلق اب کہنے لگی ہے اور ہم نے ’’2002‘‘ہی میں لکھ دیا تھا کہ ’’قہر ٹوٹے گا اور ایسا ٹوٹ کر برسے گا کہ نام نہاد فرنٹ لائن کے تمام بند بہا کر لے جائے گا‘‘ ۔جب غزنی سے علاج کے لئے معصوم بچے پاکستان آنا چاہ رہے تھے مگر فرنٹ لائن اتحادیوں نے سرحد پر ہی روک لیا اور وہ دسمبر کی سردی میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گئے۔اب اگر حکمران اتحاد پرویز کو استعفے کے بعد ایسے ہی جانے دیتا ہے تو پھر ان کی بھی خیر نہیں ۔ عوام پرویز مشرف کو مجرم سمجھتے ہیں تو وہ مجرم کو سزا دئیے بغیر بھگادینے والوں کو کیسے چھوڑ دیں گے ؟ قانون تو ان کو بھی مجرم گردانتا ہے جو مجرم کو بچانے میں اس کی مدد کریں اور فرار کرادیں ۔تو یہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے حکمران اتحاد کیلئے کریں تو کیا کریں ہماری رائے میں ابھی بھی انہیں پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر کے جواب لیا جاسکتا ہے۔پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس میں رہنے دینے سے آدھا مسئلہ حل ہوجاتا ہے چونکہ دونوں کے مفاد میں بھی ہے اس لئے اس کے امکانات بھی کافی ہیں ۔ اگر پرویز مشرف کو سیکیورٹی دے کر چک شہزاد میں رکھ لیتے ہیں تو عوام کا آدھا غیض وغضب ختم ہو جائے گا ۔ ان کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا جائے گا کہ ’’ ہم نے بھاگنے تو نہیں دیا‘‘ باقی کا غصہ وقت کے ساتھ رفع دفع ہو جائے گا کیونکہ اس دوران ایسے بیانات اور وعدے کئے جاتے رہیں گے کہ ’مجرم ہمارے پاس ہے ، مناسب وقت پر مقدمہ چلا کر سزا بھی دیں گے‘‘ عوام اپنی روزی روٹی کی تلاش میں لگ جائیں گے اور دو تین ماہ کے اندر بات آئی گئی ہو جائے گی۔پرویز مشرف کے لئے یہ حل اس لئے اچھا ہے کہ آگے ان کے لئے چانس موجود رہے گا۔ چند ماہ فارم ہاؤس پر سبزیا ں اگانے اور گائے بھینس پالنے کے بعد (جیسا کہ اسی مقصد کیلئے یہ فارم ہاؤس بنائے گئے تھے مگر حکمرانوں نے آپس میں بانٹ لئے)وہ پھر سیاست میں آسکتے ہیں اور ان کے پاس جواز بھی ہو گا کہ میں ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا اس کے لئے ضروری ہے کہ قائد لیگ تب تک باقی بھی ہو اور ان کو لینا بھی چاہے ۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد حکمران اتحاد عوام کے مسائل حل نہ کر سکے اور عوام اس سے بھی متنفر ہو جائیں ۔ حکمران اتحاد برقرار نہ رہے اور اس طرح قائد لیگ کو بھی دوبارہ عوام کے پاس جانے کا موقع مل جائے اور پرویز مشرف کو بھی ہمراہ لے لیں ۔ پرویز مشرف کے دل میں واپسی کی حسرت ضرور رہے گی اور وہ کسی بھی طرح اس کو ممکن بنائیں گے۔ گزشتہ روز کی تقریر سے وہ ماحول بنانے میں کامیاب رہے ہیں انہوں اپنا کیس خوبصورتی سے پیش کر دیا ،اس کا فائدہ انہیں چند ماہ کے اندر ہونے والا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اتحاد خوشیاں منانے میں مصروف ہو جاتا ہے یا اپنا کام پکا کرتا ہے ۔ پرویز مشرف اپنا ہاتھ اوپر رکھ گئے ہیں ۔ اس ہاتھ پر ہاتھ نہ ڈالا تو حکمران اتحاد گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار سیاسی قوتوں کے ہاں کتنی کمٹمنٹ ہمت اور برداشت ہے ۔ وہ صرف پرویز مشرف سے نجات پر اکتفا کرجاتے ہیں یا جرنیلی جمہوریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملک اور قوم کی جان چھڑا دیتے ہیں ۔ وقتی حل نکال کر ڈنگ ٹپاتے ہیں یا فرشتہ آمریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر انسان کی برتری یقینی بنالیتے ہیں ۔ سیاستدانوں نے ہمیشہ ’’ آخری مکے‘‘ کے وقت کمزوری دکھائی ہے قدرت نے باربار ان کو موقع دیا ، باور کرایا کہ انسان ’’فرشتوں ‘‘ سے افضل ہے، اپنا منصب سمجھو، خدا کے نائب تم ہو، یہ ’’فرشتے‘‘ نہیں مگر یہ ہر بار اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کر گئے ۔عوامی انقلاب کا باربار ماحول بنا مگر ہر بار کلائمیکس کے نزدیک پہنچ کر سکرپٹ بدل دیاگیا۔لوہا بار بار گرم ہوا مگر کسی نے چوٹ نہیں لگائی۔ پانی ڈال دیا اب لوہا ایک بارپھر گرم ہے، بات صرف چوٹ لگانے کی ہے ،’’سلطانی جمہور‘‘ پر شب خون مارنے والے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔سلطانان جمہور انہیں انجام تک پہنچاتے ہیں یا نہیں ،ہم دیکھیں گے۔ سب دیکھیں گے مگر اس پر کیانی صاحب( ہمارے ملنے والے) کا کہنا ہے کہ دیکھنا کیا ہے ،سب کچھ طے ہو چکا ہے، اسی لئے پرویز مشرف کو قوم سے خطاب کا موقع دیاگیا، جب ہونا ہی کچھ نہیں تو دیکھنا کیا ہے ؟ ہونی صرف باتیں ہیں سنتے جائیے اور سردھنتے جائیے۔
Posted by Associated Press Service at 3:56 AM 0 comments

مشرف کے انتہائی مجرمانہ اقدامات تاریخ کا سیاہ ترین باب تحریر: چودھری ا حسن پریمی،اے پی ایس،اسلام آباد

پرویز مشرف کی روانگی نوشتہ دیوار بن چکی تھی ‘ امریکا اور فوج کی حمایت سے محرومی کے بعد عبرت آمیز ذلت ہی ان کا مقدر تھی۔ مشرف کے بعد اب ان کی پالیسیوں سے نجات بھی ضروری ہے ۔ پاکستان کے عوام برسوں سے اس دن کے منتظر تھے اب اگر پرویزمشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ عوامی امنگوں کے منافی ہوگا۔ پرویز مشرف کا دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ۔ انہوں نے قوم کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا ۔ امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے فوج اور عوام کو آپس میں لڑایا ‘ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو روشن خیالی کی بھینٹ چڑھایا۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ٹکوں کے عوض امریکا کے حوالہ کیا ۔ علمائے کرام کو قتل کیا گیا ۔ قوم کو مہنگائی اوربے روزگاری کا تحفہ دیا گیا ۔ آج باجوڑ خالی ہوچکا ہے اور باجوڑ کی عزت مآب خواتین اور معصوم بچے رو رہے ہیں وزیرستان اور بلوچستان کے عوام پر ستم ڈھایا گیا ہے ۔ مشرف دور حکومت نے سینکڑوں انسانی المیوں کوجنم دیا۔ مشرف ہی نہیں اس کی پالیسیوں سے بھی نجات ضروری ہے حکمران اتحاد اپنے وعدے کی روشنی میں اب فوری طورپر ججوں کو بحال کرے ۔ چارٹر آف ڈیمو کریسی کی روشنی میں ملک کو چلانے کی ضرورت ہے ۔ این آر او کو ختم کر کے لوٹی ہوئی دولت پاکستان لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر بنائی جاسکے ۔ بدامنی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے ۔ امریکی اثر سے خارجہ اور داخلہ پالیسی کو آزادی دلانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے عوام آزاد قوم کی حیثیت سے سانس لے سکے۔ عوام نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دینے کا مطالبہ کردیا ۔ ضروری ہے کہ عوام کی خواہشات اور جذبات کا احترام کیا جائے اور پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اٹھاون ٹو بی کو آئین سے ختم کردیا جائے گا۔ صدر پرویز مشرف کا استعفی سیاسی جمہوری قوتوں کی فتح ہے پوری قوم میں خوشی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔پرویز مشرف کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ملک کے قوم کے مفاد ات کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ پرویز مشرف کے استعفی سے پارلیمنٹ کو استحکام حاصل ہو گا۔ اگر چہ وزیراعظم نے اراکین کویقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اقدامات کرے گی عوامی خواہشات کے منافی کوئی اقدامات نہیں ہوں گے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئین کے آرٹیکل سکس کے تحت پرویزمشرف کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس امر کا اظہار صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اورمسلم لیگ (ن) کے سنیئر رہنما سردار مہتاب احمد خان نے پیر کو قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے استعفیٰ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی کو معطل کرتے ہوئے پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد کی ممکنہ صورتحال پر ارکان نے اظہار خیال کیا سردار مہتاب احمد خان نے کہاکہ تاریخ کا ایک اہم دن ہے پارلیمانی سیاسی تاریخ میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہے معمول کی کارروائی کو نہ لیا جائے ساری قوم پارلیمنٹ کو دیکھ رہی ہے معمول کے بزنس کو لیں گے تو اہم پیغام نہ جائے گا وقفہ سوالات کو معطل کیاجائے نو سالہ آمریت سے ملک و قوم کو نجات مل گئی ساری قوم شکر بجا لارہی ہے اٹھارہ فروری کے مینڈیٹ کا قوم کو نتیجہ ملا ہے قوم کو استحصال سے نجات ملی ہے اگرچہ تاخیر سے استعفیٰ آیا ہے ایوان صدر میں صدر پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف سازشیں جاری تھیں وہ پارلیمنٹ کی توقیر کو گرانے کی سازش کر رہا تھا حکمران اتحاد کے قائدین فاٹا کے اراکین سیاسی جماعتوں کو مبارک باد دیتا ہوں نازک مرحلے پر پارلیمنٹ کا ساتھ دیا اور مشرف سے نجات دلائی سازش کے تحت معیشت کو تباہ کیاجارہا تھا۔ عوام کی خواہش کے مطابق پرویز مشرف کو ملک سے نہ جانے دیا جائے احتساب ضرور ہو تاکہ مارشل لاءکا راستہ بند ہو سکے کسی آمر کو آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی جرات نہ ہو پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر اور تین نومبر 2007ءکو آئین کو پامال کیا گیا آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کو پھانسی دی جائے وزیر قانون فاروق نائیک نے تجویز دی کہ رولز معطل کر کے صدر مشرف کے استعفی کے حوالے سے صورتحال پر ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا جائے انہوں نے خود ہی قواعدو ضوابط معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے کہا کہ اس شخص سے نجات دلائی ہے جس نے صوبہ سرحد بالخصوص فاٹا کے عوام کا جینا حرام کر دیا تھا فاٹا کے مظالم کا ازالہ کیا جائے ہزاروں لوگوں کا خون بہایا گیا کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے مظالم کی تلافی کے حوالے سے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کیاجائے۔ پرویز مشرف کا جانا قوم کے لیے نیک شگون ہے جس طرح کوئی ڈکٹیٹر جاتا ہے اسی طرح جنرل(ر) پرویز مشرف بھی رسوا ہو کر رخصت ہوئے پرویز مشرف کے اپنے دور میں بہت ظلم کیے اس نے بے گناہ بچیوں اور لوگوں کو مروایا ۔ ڈالروں کے عوض بے گناہوں کو امریکہ کے حوالے کیا ۔ پرویز مشرف کا استعفی دینا ایک اچھافیصلہ ہے اس سے ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے جنرل(ر) مشرف نے انتہائی مجرمانہ اقدامات کیے معصوم بچیوں کو ماورا ا ور چند ہزار ڈالر کے عوض اپنے ہم وطنوں کو امریکہ کے حوالے کیا مشرف کا انجام بھی ایک ڈکٹیٹر کی طرح ہوا ہے جنرل مشرف کا بیٹا جو امریکہ میں ایک انشورنس کمپنی میں انتہائی کم رینک کے درجے کی ملازمت پر کام کررہا ہے اسے امریکہ سے دہشت گردی اور اپنے لوگوں کی حوالگی کے عوض ملنے والے اربوں روپے دئیے گئے اور ان پیسوں سے سعوی پرنس سے مل کر ایک انوسٹمنٹ کمپنی قائم کی ۔کہ آمریت کی تعفن زدہ بے گورو کفن لاوارث نعش کو کوڑے نہیں لگانا چا ہیے ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ہے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو بحال کردے ورنہ قوم انھیں معاف نہیں کرے گی مثبت عمل سے ماضی کے دھبے دھونے ہوں گے ۔ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ذہنوں میں نہیں بسا یا جا سکتا ۔ پرویز مشرف نے اچھا کیا یا برا کیا تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔ پرویز مشرف استعفی دینے کے بعد ایسے دوڑے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچا ایوان میں بیٹھے ہوئے ان کے سیاسی رفقاءکیسے حالات کا سامنا کریں گے۔ ملک پر چار جرنیلوں نے 34 سال براہ راست حکومت کی ۔ پہلا موقع ہے کہ سولہ کروڑ عوام کے فیصلے کو بندوق کی طاقت پر بالادستی حاصل ہوئی ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ۔ معلوم نہیں ہے کہ پرویز مشرف اس وقت کہاں ہے ۔ 12 اکتوبر 1999 ء کے اقدامات کو کسی سیاسی جماعت نے تسلیم نہیں کیا تھا آخری وقت میں مسلم لیگ(ق) نے پرویز مشرف کو قبول کرنے سے انکار کردیا آمریت کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ آمریت کی تعفن زدہ لاوارث نعش پڑی ہوئی ہے کوئی دفن کرنے والا نہیں ہے۔ آگے کی طرف دیکھنا ہے ۔ شخصیات کی جنگ نہیںہے خاک و خون کے مرحلے سے گزر کر اس مقام پر عوام آئے ہیں ۔ 60 ججز کو گھر بھیج دیا گیا افغانستان کے چپے چپے پر بمباری کے لیے پاکستان کی فضا ئی حدود کو استعمال کیا گیا آگ ہماری سرزمین پر آگئی ہے ۔ باجوڑ کے ساڑھے تین لاکھ افراد دربدر ہیں نو سالہ پالیسی کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کو بحال کیا جائے ورنہ قوم حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔ قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر آج بھی جیل میں بیٹھا ہوا ہے طالع آزماوں نے ملک کو بھوک دی ہے ۔ امریکہ کی غلامی دی ہے ۔ آنے والے کل سے حکمرانوں کااحتساب شروع ہو گا ۔ طے ہو گیا کہ آمریت مر چکی ہے ۔ جمہوریت کے چراغ روشن کرنے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی ‘ بے نظیر کے خون ‘ نواز شریف کی جلا وطنی ‘ آصف علی زرداری کی قید کے حوالے سے قربانیوں سے قوم سے کیے گئے وعدوں کو حکمرانوں نے پورا کرناہے ۔ اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 1:48 AM 0 comments

مشرف کا نو سالہ دورِ اقتدار تحریر : چودھری احسن پریمی، اے پی ایس،اسلام آباد

سابق صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ۔جنرل پرویزمشرف کو سات اکتوبر سنہ انیس اٹھانوے کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پراستعٰفی دے دیا تھا۔بارہ اکتوبر سنہ انیس ننانوے کو جنرل پرویزمشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔جنرل پرویزمشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ستائیس جنوری سنہ دو ہزار کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ بارہ مئی سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو تین مہینے کے اندر انتخابات کرانے کے لیے حکم دیا۔ سنہ دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور چودہ اگست دو ہزار ایک میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جبکہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا۔ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنرل پرویز مشرف امریکہ کےاتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔پانچ اپریل سنہ دو ہزار دو کو صدر مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تیس اپریل سنہ دوہزار کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔ اگست دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔ دس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے ۔ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔ تیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سے حلف لیا۔ پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کوراولپنڈی میں صدر مشرف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تاہم صدر مشرف محفوظ رہے۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس دسمبر سنہ دوہزار تین کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد سترھویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔یکم جنوری سنہ دو ہزار چار پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ چار فروری سنہ دو ہزار چار کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے۔ تیس جون سنہ دوہزار چار کو چودھری شجاعت حسین سے صدر مشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ پندرہ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو صدر مشرف کی جانب سے سرحد اسمبلی میں پاس کیے گئے حسبہ بل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ۔ پچیس ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو صدر پرویزمشرف کی کتاب ’ان لائن آف فائر‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی ۔ نو مارچ سنہ دوہزار سات کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ستائس جولائی کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ۔ پانچ اکتوبر کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکیا گیا۔ دو اکتوبر کو پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ۔ چھ اکتوبر کو ہونےوالے صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔ گیارہ نومبر صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔ پندرہ نومبر کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا۔ سولہ نومبر کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ا±نیس نومبر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ بائیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔ تئیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔ ستائیس نومبر صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا ۔اٹھائیس نومبر ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔ ا±نتیس نومبر صدر مشرف نے سویلئن لباس میں دوسری بار ملک کے صدر کا حلف ا±ٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔ نو دسمبر صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو ا±ٹھالی جائے گی۔ پندرہ دسمبر صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کو ناکامی ہوئی۔ پچیس مارچ دو ہزار آٹھ کو صدر مشرف نے وزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کوحلف دلوایا۔ سات اگست کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ پنجاب ،سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔ اٹھارہ اگست کو صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا۔ مشرف کا آخری قوم سے خطاب قارئین کی نذر ہے۔ صدر پرویز مشرف 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد آج پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاء جنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ آج یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔ جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فیصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی ریاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دیا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کیا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چیلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور میں نہیں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ء میں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چیلنج کا سامنا کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدیل ہوئی 2005 ء کے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گیا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو حل دیکھا اس میں ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجیح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل میں بھی میری یہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لیے دوجنگیں لڑیں خون کا نذرانہ دینے کے لیے تیار رہا یہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہیں کیا گیا یہ عناصر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری نو سالہ پالیسی غلط رہی ہے ۔ یہ ملک کے ساتھ فریب ہے۔ معیشت کے حوالے سے انہوںنے کہا ۔کہ دسمبر 2007 ء یعنی آٹھ ماہ قبل معیشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فیصد ، معیشت 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قیمت آٹھ سال تک 8 روپے کے ارد گرد رہی ۔ یہ معیشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنیا کی ایجنسیوں نے ملک کو این الیون ممالک میں قرار دیا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نیچے چلے گئے ۔ ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لوگ سرمایہ کار باہر لے جا رہے ہیں ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک دیا ۔ آٹے دال گھی کی قیمت دگنی ہو گئیں ۔ عوام تکالیف اٹھانے پر مجبور ہیں ۔ معیشت پختہ تھی ۔ اسی لیے عالمی صورتحال کا مقابلہ کیا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نو سالہ پالیسی کو غلط قرار دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پیسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو میں 3000 میگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ئ میں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000 میگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ء میں 10000 بجلی پیدا کررہے ہیں ۔ پیسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنیوں نے بجلی کی پیداوار میں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فریب جھوٹ ہے۔ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔میری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں میں ہر شعبے میں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام میں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو میٹر کوسٹل ہائی ، ایم ون ، ایم تھری ، اسلام آباد تا مری ایکسپریس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زیر تعمیر ہے۔ گوادر سے رتو ڈیرو شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئیں سڑکوں کا جال بچھایا ۔ میرانی ، سبک زئی ڈیم تعمیر کئے گئے منگلا ڈیم کی ریزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈیم کچی کینال زیر تعمیر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہیں مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15 سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوصبورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ئ سے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18 فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔ حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شففا انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علمائ کو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44 سال جان کو داو¿ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاو¿ں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں توقع ہے ذمہ داری ایک کردار جار رہے گا۔ میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا دل کی آواز کھل بنا دیا دل و دماغ میں جوخلفشار تھا قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی یہ ہمیشہ اس نے دکھائی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 12:30 AM 0 comments
Monday, August 18, 2008

مشرف کے مستعفی ہونے پر وزیر اعظم اور عالمی برادری کا رد عمل ۔ تحریر : سید جواد معین بخاری،اے پی ایس



اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کہا کہ وہ احتساب چاہتے ہیں لیک احتساب اور ا تقام میں بہت معمولی فرق ہے اور ہم ہیں چاہتے کہ ہم ا تقام لیں۔ آج سے اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں۔ وزیر اعظم ے کہا ’آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیک ہم پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے۔ آپ ے یہ ثابت کر ا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے یا آمریت کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیک میں کہتا ہوں کہ آمریت جت ی بھی بہتر ہو جمہوریت سے بہتر ہیں ہو سکتی۔‘ سید یوسف رضا گیلا ی سترھویں ترمیم اور اٹھاو ٹو بی کو ہ پہلے قبول کرتے تھے اور ہ اب کرتے ہیں۔وہ پہلے بھی کہتے تھے کہ صدر اور پارلیما کے درمیا تواز ہو ا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ سب مل کر اداروں کو مضبوط کریں کیو کہ جب بھی جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو آمریت کو موقع ملتا ہے۔ وزیر اعظم کو ج ہوں ے بھی جیل میں ڈالا ا کے خلاف ا کی کوئی ا تقامی یت ہیں ہے اوروہ ا کو معاف کر تے ہیں۔ ادارے مستحکم ہو ے چاہیں اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاو ٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی مضبوط کر ی چاہییں۔ حکومت سچ کمیش اور مفاہمتی کمیٹی ب ا ا چا ہتی ہے۔ قومی اسمبلی کے تمام اراکی کو حکومت کی مدد کر ی ہو گی کیو کہ اکیلا وزیر اعظم کچھ ہیں کر سکتا۔ ا ہوں ے کہا کہ ملک کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ا کا حل ڈھو ڈ ا ہو گا ایک تو ہے معیشت اور دوسرا ام و اما ۔ میڈیا، وکلاءاور عدالتی سرگرمی کا جمہوریت کے لیے بہت بڑا کردار ہے۔ قومی اسمبلی میں پاکستا مسلم لیگ واز کے ممبرا ے سابق صدر کو گارڈ آف آ ر دی ے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح آمریت ملک سے کبھی ختم ہیں ہو گی۔ لاکھوں افراد کے قاتل کو تو گارڈ آف آ ر دیا جا رہا ہے جب کہ ایک عام آدمی کو پھا سی کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ عوام کا مطا لبہ ہے کہ صدر مشرف ے تی بار آئی توڑا اور وہ کارگل اور لال مسجد میں شہید ہو ے والوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے ا کو محفوظ راستہ ہیں دی ا چاہیے۔ اگر شروع ہی میں آمر کو مثال ب ا دیا جاتا تو فوجی حکمرا یہ ہمت ہ کرتے ۔اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کی۔حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر کا موقف تھا کہ صدر مشرف کا احتساب ہو ا چاہیے۔ صدر مشرف کا احتساب اس لیے ہو ا چاہیے کہ آئی دہ اس عمل کو روکا جا سکے اور کوئی شب خو ہ مار سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کو ڈولیزا رائیس ے پاکستا کے سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے پر رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دوست رہے ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ امریکہ پاکستا کی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جسے اپ ے ملک کی فوری ضروریات پر توجہ دگ ی کر ے کی ضرورت ہے، ج میں بڑھتی ہوئی ا تہا پس دی کو روک ا بھی شامل ہے۔ امریکہ پاکستا کی مستحکم، خوشحال اور جدید جمہوری مسلم مملکت ب ے میں مدد کرے گا۔ گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ہم ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو ۔ افغا ستا کے وزیر خارجہ ے کہا کہ اس استعفے سے پاکستا میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا ایسا پاکستا چاہتا ہے جہاں قا و کی بالا دستی ہو۔ ا ڈیا ےج رل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستا کا ا درو ی معاملہ قرار دیا اور کوئی رد عمل ہیں دیا۔ ا ڈیا ے کہا کہ کہ وہ ایک مستحکم پاکستا کا خواہاں ہے۔ برطا وی حکومت ے کہا کہ دہشت گردی سے مٹ ے کے لیے اقدامات، ا ڈیا کے ساتھ مذاکرات اور کرپش کے خاتمے میں سابق صدر مشرف ے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برطا وی وزیر اعظم گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں دو وں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ’ہم ا کے لیے اچھے مستقبل کے خواہاں ہیں‘۔ ا ہوں ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو۔ اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 10:34 PM 0 comments

صدر پرویز مشرف ٩ سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے

پرویز مشرف کی آخری تقریرملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتاتصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہےمحاذ آرائی کی فضا میں ملک وقوم کو دھوکہ دیتے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہےدنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہےاللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرےمیری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہوصدر پرویز مشرف کا قوم سے آخری خطاباسلام آباد ۔ صدر پرویز مشرف 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد آج پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاء جنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ آج یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔ جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فیصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی ریاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دیا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کیا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چیلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور میں نہیں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ء میں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چیلنج کا سامنا کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدیل ہوئی 2005 ء کے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گیا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو حل دیکھا اس میں ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجیح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل میں بھی میری یہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لیے دوجنگیں لڑیں خون کا نذرانہ دینے کے لیے تیار رہا یہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہیں کیا گیا یہ عناصر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری نو سالہ پالیسی غلط رہی ہے ۔ یہ ملک کے ساتھ فریب ہے۔ معیشت کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ دسمبر 2007 ء یعنی آٹھ ماہ قبل معیشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فیصد ، معیشت 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قیمت آٹھ سال تک 8 روپے کے ارد گرد رہی ۔ یہ معیشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنیا کی ایجنسیوں نے ملک کو این الیون ممالک میں قرار دیا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نیچے چلے گئے ۔ ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لوگ سرمایہ کار باہر لے جا رہے ہیں ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک دیا ۔ آٹے دال گھی کی قیمت دگنی ہو گئیں ۔ عوام تکالیف اٹھانے پر مجبور ہیں ۔ معیشت پختہ تھی ۔ اسی لیے عالمی صورتحال کا مقابلہ کیا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نو سالہ پالیسی کو غلط قرار دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پیسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو میں 3000 میگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ء میں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000 میگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ء میں 10000 بجلی پیدا کررہے ہیں ۔ پیسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنیوں نے بجلی کی پیداوار میں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فریب جھوٹ ہے۔ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔میری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں میں ہر شعبے میں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام میں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو میٹر کوسٹل ہائی ، ایم ون ، ایم تھری ، اسلام آباد تا مری ایکسپریس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زیر تعمیر ہے۔ گوادر سے رتو ڈیرو شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئیں سڑکوں کا جال بچھایا ۔ میرانی ، سبک زئی ڈیم تعمیر کئے گئے منگلا ڈیم کی ریزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈیم کچی کینال زیر تعمیر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہیں مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15 سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوصبورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ء سے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18 فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔ حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شففا انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علماء کو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44 سال جان کو داؤ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاؤں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں توقع ہے ذمہ داری ایک کردار جار رہے گا۔ میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا دل کی آواز کھل بنا دیا دل و دماغ میں جوخلفشار تھا قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی یہ ہمیشہ اس نے دکھائی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے
Posted by Associated Press Service at 8:48 PM 0 comments

” خس کم جہاں پاک “ تحریر: محمد رفیق اے پی ایس

ججز تین دن میں بحال ہو نے کی توقع ہے اور پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے اعلان مری اوراسلام آباد میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ مواخذے کے فورا بعد ججز کو بحال کردیا جائے گا۔ ججز کو فورا بحال ہونا چاہیے اور عوام کویقین ہے کہ حکمران اتحاد کے وعدے کے مطابق تین دن میں جج بحال کردئیے جائیں گے۔ اور مشرف کا ستعفی ہوناوکلاءکی بھرپو ر جددجہد ‘ سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ لال مسجد آپریشن اور قبائلی علاقوں میں اپنے عوام کے خلاف کارروائی پرویز مشرف کے استعفی کا سبب بنی ہیں ” خس کم جہاں پاک “ پرویز مشرف بالاخر مستعفی ہو گئے ہیں پاکستان کی سیاسی جمہوری قوتوں وکلاءکی جدوجہد کی کامیابی ہے۔عوام کی قربانی رنگ لائی ہے ۔ حکمران اتحاد کی جانب سے اس معاملے میں پیش رفت کے باعث ملک وقوم کو مشرف سے نجات ملی پرویز مشرف کے لیے محفوظ راستہ حکمران اتحاد کی ساکھ کو تباہ کردے گا۔ حکمران اتحاد فوری طورپر وزیراعظم سے ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرائے اور تین نومبر 2007 ء کے معزول ججز کو بحال کرنے ہیںتو پی سی او ججز کو بھی پرویز مشرف کے ساتھ رخصت کیا جائے ۔ پرویز مشرف سانحہ 12 مئی‘ باجوڑ کے بے گناہ لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ‘ 9 الیون کے بعد یکطرفہ غلط پالیسی اختیار کرنے ‘ اور افغانستا ن کے بارے میں مسلمہ پالیسی کو تبدیل کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرا کو خطرات لاحق ہوئے ۔ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کے خلاف آزاد عدلیہ سے کارروائی کا آغاز کیا جائے ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور بے نظیر بھٹو شہید کے فرزند بلاول بھٹو زراری نے کہا ہے کہ پاکستان کا اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا تاہم فی الحال نام بتانے سے قاصر ہوں۔یہ بات انہوں نے دبئی سے واپسی پر کراچی ائیرپورٹ جناح ٹرمینل پر صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔انہوں نے اپنی بات چیت میں صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا اور عندیہ دیا کہ اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے استعفے سے یہ بات سچ ہوگئی کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ سابق صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کیلئے 9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کا دورانیہ سخت ترین ثابت ہوا۔عوامی مقبولیت کا گراف حد درجہ گرگیا اورمواخذے کی تحریک شروع ہوئی جبکہ یہ سلسلہ باالآخر صدر کے استعفے پر منقطع ہوا۔ صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے حکمران اتحاد کی جانب سے زور پکڑتی مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل 18 اگست 2008ءکو استعفیٰ دیا گیا۔صدر مملکت وسابق آرمی چیف مضبوط امریکی اتحادی کے طور پر پاکستان میں صدارت کرتے رہے تاہم گزشتہ 18 ماہ کے دوران ان کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کے دوران انہوں نے کئی ناپسندیدہ فیصلے کئے جن میں 9 مارچ2007ءکو انہوں نے ڈی ڑورے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا جس پر ملک بھر میں وکلاء تحریکوں کا آغاز ہوگیا۔10 جولائی کو لال مسجد پر فوج کشی کے احکامات صادر کئے گئے جس میں محتاط اندازے کے مطابق 105 افراد جاں بحق ہوئے اور ملک بھر میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔20 جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوگئے۔27 جولائی کو صدر پرویز مشرف نے دبئی میں بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات کی جس میں ملک کو سویلین اقتدار کی جانب لیجانے کی بات ہوئی اور بے نظیر بھٹو شہید کی جانب سے صدر سے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔10 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو جلاوطنی سے وطن واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے انہیں ملک واپسی کی کلین چٹ دی جاچکی تھی تاہم انہیں پاکستان سے سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔2 اکتوبر کو صدر پرویز مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو پر لگائے جانے والے تمام الزامات ختم کرنے کا اعلان کیا اور انہیں پاکستانی سیاست میں برارہ راست حصہ لینے کے لئے میدان فراہم کیا گیا۔16 اکتوبر کو پرویز مشرف بطور صدر منتخب ہوئے جبکہ 19 اکتوبر کو 8 سالہ خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر کارساز کے مقام پر خودکش حملہ ہوا۔3 نومبر کو صدر مملکت کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ہزاروں وکلاء و سیاستدانوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری معزول قرار دئے گئے۔11 نومبر کو صدر مشرف کی جانب ملک میں 8 جنوری 2008ءکو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا جبکہ 22 نومبر کودولت مشترکہ ممالک کی جانب سے پاکستان کی رکنیت معطل کردی گئی۔25 نومبر کو میاں نواز شریف پاکستان آگئے اور 28 نومبر کو صدر مملکت نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔15 دسمبر کو ملک میں ایمرجنسی رول اٹھالیا گیا اور آئین بحال کردیا گیا۔27 دسمبر سانحہ لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو شہید کردی گئیں جس کے بعد 2 جنوری 2008ء کو انتخابات کی تاریخ میں18 فروری تک اضافہ کردیا گیا۔18 فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط اتحادی حکومت وجود میں آئی اور سیاسی پنڈتوں کی جانب سے صدر پرویز کے استعفے کا عندیہ دیا گیا۔7 اگست 2008ءکو حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک کا آغاز کیا گیا جسے تمام صوبائی حکومتوںسے منظوری حاصل ہوئی۔16 اگست کو حکمراں اتحاد کی جانب سے صدر کے اقدامات کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی گئی اور18 اگست کو صدر مملکت نے استعفیٰ دے دیا۔صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر ملک کی تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا۔اسلام آباد اسٹاک ایکس چینج میں 117 پوائنٹس جبکہ لاہور اسٹاک مارکیٹ میں 173 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں صدر مملکت کے استعفیٰ پر کے ایس ای انڈیکس میں500 پوائنٹس جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک ہی جست میں 1روپے20 پیسے کااضافہ ہوا۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 4.47 فیصد یا 460.91 پوائنٹس اضافے سے 10719.62 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔283 سرگرم کمپنیوں میں سے 236 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 10 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم 15 کروڑ88 لاکھ حصص سے زائد رہا علاوہ ازیں کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 589.67 پوائنٹس اضافے سے 12279.90 پوائنٹس رہا۔ڈبلیو ای بروکریج ہاو¿س کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اظہر احمد باٹلہ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے استعفے سے ملک میں موجود سیاسی بے یقینی دم توڑ گئی ہے اور انڈیکس میں اضافہ اسکا عکاس ہے۔پیر کو نمایاں کمپنیوں میں نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے93پیسے اضافے سے 124روپے63پیسے رہے جبکہ بلحاظ حصص کاروبار نیشنل بنک آف پاکستان سرفہرست رہا جس کے 1کروڑ35لاکھ74ہزار5سو حصص کا کاروبار ہوا دیگر نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک کے حصص 1روپے اضافے سے 10روپے24پیسے، زیل پاکستان کے حصص 47پیسے اضافے سے 1روپے89پیسے، او جی ڈی سی ایل کے حصص 5روپے65پیسے اضافے سے 118روپے68پیسے، پرویز احمد کمپنی کے حصص 1روپے اضافے سے 19روپے43پیسے اور عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 5روپے82پیسے اضافے سے 122روپے37پیسے رہے۔شب برآت مشرف کے اقتدار کا سورج غروب کر گئی ۔ شب برآت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس روز فرشتے لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالی کے حضور پیش کرتے ہیں اور اس رات لوگوں کی قسمت کے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اس سال شب برآت مشرف کے اقتدار کی آخری رات ثابت ہوئی اور وہ رخصت ہو گئے ۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 8:08 PM 0 comments

پرویز مشرف ایک رویے کا نام جو اب بھی باقی ہے۔ تحریر: چودھری احسن پریمی،اے پی ایس


صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی قرآنی آیت کا ترجمہ ہے " اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑھائی نہیں چاہتے اور نہ فساد چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لئے ہے سو جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں لے آنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے وہ عمل کیا کرتے تھے"۔ سبکدوش ہونے والے صدر پرویز مشرف نے پیر کے روز قوم سے اپنے تقریبا پچاس منٹ دورانیے کے خطاب میں اپنی عدلیہ کی آزادی سلب کرنے ، لال مسجد آپریشن ، قبائلی علاقوں میں بمباری اور سینکڑوں پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق کوئی ذکر نہ کیا ۔ وہ اپنی تقریر کے دوران معاشی پالیسیوں جمہوری کاوشوں اور تعمیر وترقی سمیت 9 سالہ دور حکومت کے کار ہائے نمایاں گنواتے رہے ۔ جبکہ ان کی تقریر میں بعض جملے خالصتا مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف سے سخت نفرت اور رنج کا اشارہ دے رہے تھے۔بالآخر 18 اگست کو صدر جنرل پرویز مشرف مستعفی ہو گئے حالانکہ وہ کہتے رہے کہ مستعفی نہیں ہوں گے ۔اٹھائیس نومبر دو ہزار سات کو پاکستان فوج میں جنرل مشرف کا تقریباً چھیالیس سالہ عسکری کیرئر، جس میں نو برس بری فوج کے سپہ سالار کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں، بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اس موقعہ پر جنرل مشرف نے کہا کہ ملک کا وجود فوج کے بغیر ممکن نہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج اس وقت دباو¿ میں ہے۔ فوج پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھٹکے ہوئے عناصر ہیں جو نہیں سمجھتے کہ پاکستان کی سالمیت و ترقی میں فوج کا اہم ترین کردار ہے۔‘ جنرل مشرف نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’اس بات کا افسوس ہے کہ کل فوج کی کمان میں نہیں ہوں گا۔ یہ فوج میری زندگی ہے۔ یہ فوج میرا جنون ہے۔ اس فوج سے میں نے محبت کی ہے۔ یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا لیکن میں وردی میں اب نہیں رہوں گا۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ نئے صدر کے حوالے سے اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں مل کر کریں گی۔ عوام کو امید ہے کہ حکمران اتحادعنقریب عوام کو ججوں کی بحالی کی خوشی کی خبر بھی سنائیں گے۔وکلاءملک بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے استعفے کے ساتھ ہی معیشت میں کیابہتری آتی ہے۔ اگر مشرف کے جا نے کے بعد بھی نا انصافی، بے روز گا ری ، مہنگائی، آٹے و بجلی کا بحران جاری رہتا ہے تو عوام یہی سمجھتے رہیں گے کہ مشرف ایک رویے کا نام تھا جو مشرف کے جا نے کے بعد بھی قائم دائم ہے کیونکہ حکمران اتحاد کسی شخص کے خلاف مواخذہ نہیں کر رہی تھی بلکہ اس سوچ کے خلاف کر رہی تھی جو آئین کے خلاف ہے۔ حکمران اتحاد یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انھوں نے فی الفور ملک اور عوام کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں و معزول ججز کو بحال نہ کیا یا کوئی اور ہشیاری چالاکی کی تو معزول ججز ،وکلاءمیڈیا اور عوام جس کی وجہ سے آج مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہے۔یہی ہاتھ حکمرانوں سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ملک عوام کا ہے کسی کی نہ تو ذاتی جا گیر ہے اور نہ ہی کسی کے باپ کا ہے۔اگر حکمرانوں نے مذکورہ بحران و چیلنجز پر کو ئی اگر مگر کر نے کی کوشش کی تو یہ بھی ایک خدشہ ہے ایک بار پھرخون خوار ما رشل لاءبھی آ سکتا ہے۔ امید ہے کہ جمہوری ملک کے غیر جمہوری سیاستدان یہ نوبت نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا۔انہوں نے اپنا استعفیٰ قومی اسمبلی کی سپیکر کو دیا ہے۔ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو قائم مقام صدر ہوں گے اور آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذہ جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بحران سے پاکستان کو نکا لنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ صدر مشر ف نے فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے کردار کو سراہا اور انہیں سیلوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی دعائیں، بچوں اور بیگم کی مدد ان کی طاقت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔ پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔ صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔ ضیاءالحق سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ صدر مشرف نے اٹھارہ اگست کو استعفیٰ دیا۔صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ پندرہ ستمبر تک اعلی عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو ملک بھر کے کلیدی مقامات پر دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معزول جج پندرہ ستمبر سے پہلے بحال ہو جائیں گے۔ گذشتہ جمعہ کے روز اسلام کے جڑواں شہر راولپینڈی میں وکلاءکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد راو لپنڈی ہائی کورٹ بار میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے بتایا تھاکہ اعلان اسلام آباد کے مطابق حکمران اتحاد صدر کے مواخذے کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کو تین دن کے اندر بحال کرنے کا پابند ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر صدر مشرف کے مواخذے میں تاخیر ہوتی ہے اور پندرہ ستمبر تک ججوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انیس جولائی دو ہزار آٹھ کو آل پاکستان وکلاءکانفرس میں کیے جانے والے فیصلے کے مطابق ملک گیر دھرنے دیے جائیں گے اور دھرنے کو آہستہ آہستہ سول نا فرمانی کی تحریک میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اعلان اسلام آباد کا معاملہ بھی اعلان بھوربن جیسا ہوگا لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ حکمران اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمام ججوں کو بحال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان اسلام آباد کے بعد اب آئینی پیکج کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اور معزول ججوں کو اعلان بھوربن کے تحت انتظامی حکم نامہ کے ذریعے بحال کیا جائے۔ انہوں نے وکلاءکی طرف سے عوام سے درخواست کی کہ جس دن صدر مشرف کے مواخذے کی قرارداد منظور ہوتی ہے یا وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ملک بھر میں یوم نجات اور جشن منایا جائے۔ اعتزاز احسن نے صدر کے مواخذے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا تھاکہ کسی عدالت کو یہ آئینی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مواخذے کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری کرے اور اگر ایسا اقدام اٹھایا جاتا تو اس کی بھر پور مذمت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وکلاءکو یہ خدشہ تھا کہ صدر کے مواخذے میں تاخیر کی جائے گی لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ان کے خلاف قرداد منظور ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ صدر کا مواخذہ جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا احتساب کیاجائے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نو اکتوبر سے بارہ اکتوبر تک انٹرنیشنل کانفرس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرس میں ایک بہت بڑی تعداد میں وکلاءاور جج شرکت کریں گے۔ ججوں کی بحالی کے ل وکلاءتنظیموں کی جانب سے انیس جولائی کو حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی جس کے بعد وکلاءکی ایکشن کیمٹی کا اجلاس جمعہ کو ہوا جس میں جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، رشید اے رضوی سمیت دیگر وکلاءرہنماوں نے شرکت کی۔ واضع رہے کہ اس پہلے وکلاء رہنما حکمران اتحاد سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صدر مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جاتا۔کونڈولیزا رائس نے کہا کہ صدر مشرف امریکہ کے اچھے اتحادی ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر مشرف کو سیاسی پناہ دینے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ صدر مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی نفاذ کرنے کے فیصلے کے خلاف تھا لیکن انہوں نے وردی اتارنے کا اپنا دعدہ پورا کیا اور اب پاکستان میں ایک جمہوری حکومت ہے۔ صدر پرویز مشرف نے صوبائی اسمبلیوں کی طرف قراردادیں منظور کیے جانے کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کیا ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صدر مشرف سے ملاقات کے بعد کہا انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ صدر مشرف نے ان سے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں بھی مشورہ کیا۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں تو اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر حکمران جماعت صدر مشرف پر مستعفیٰ ہونے کے لیے دباو¿ بڑھا رہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم ر ہنماءاور سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے اپنا یہ واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو اب صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ صدر ایک وفاق کی علامت ہوتا ہے لیکن جب وفاق کی اکائیاں ہی پرویز مشرف کو پسند نہیں کرتیں اس لیے انہیں ان صوبائی اسمبلیوں میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں کہا گیا ۔ رضا ربانی نے کہا کہ اگر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوتے تو پھر آئین کے ارٹیکل 47 کے تحت ا±ن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں حکمراں اتحاد کے پاس تعداد پوری ہے۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا تھا کہ صدر کے خلاف تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ا±سے آئندہ ایک دو روز میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کے حوالے کردیا جائے گا اور اسے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کردیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صدر کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا قانونی پہلوو¿ں سے جائزہ لینے کے بعد ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کردیا۔پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ پاکستان ٹیلی ویڑن اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ایوان صدر اسلام آباد سے صدر پرویز مشرف کے قوم سے براہ راست خطاب کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ پی ٹی وی کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کا خطاب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ایک بجے پی ٹی وی سے براہ راست نشر کیا جائے ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صدر قوم سے براہ راست خطاب کریں گے۔ براہ راست تقریر نشر کرنے کے لیے ٹیکنیکل سٹاف ایوان صدر میں انتظامات کر رہا تھا ۔ پی ٹی وی نے تکینکی وجوہات کی بناء پر ایوانِ صدر کے حکام سے صدر کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کرنے اور پھر اسے نشر کرنے کی تجویز دی تھی۔ ماضی میں ہمیشہ صدر اور وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کیا جاتا تھا اور پھر اسے نشر کیا جاتا ۔ تاہم ایوانِ صدر نے اس بات پر اصرار کیا کے صدر اپنے قوم سے خطاب کو ریکارڈ نہیں کروانا چاہتے اور وہ براہ راست قوم سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء ایوان صدر نے پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن چینلوں کی ٹیموں کو بھی آرمی ہاو¿س راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی ۔ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف قوم سے خطاب کر رہے تھے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس خطاب کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس اچانک قوم سے خطاب کا محور ان کے اپنے مواخذے کی وہ تحریک ہوگی جس کے لیے حکمران اتحاد کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں۔ حکمران اتحاد کی جانب سے پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف نے تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے مواخذے کی تحریک کا تذکرہ کیے بغیر مفاہمت کی سیاست پر زور دیا تھا۔ پیر کی صبح صدر پرویز مشرف کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ وہ استعفی دینے کی بجائے مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق صدر نے یہ بات متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی۔ یاد رہے کہ حکمران اتحاد کے رہنما صدر کو مسلسل یہ مشورہ دے رہے کہ وہ مواخذے کی تحریک سے قبل خود ہی رخصت ہوجائیں تو بہتر ہے۔تاہم صدارتی ترجمان میجر جنرل راشد قریشی اور صدر کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے تواتر سے یہ بیانات آئے ہیں کہ صدر کا استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ معاشی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔یوم آزادیِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ پروگرام کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اختلافات بھلا دینے چاہیں‘۔ان کوحکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے بد عنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے کے لیے دباو¿ کا سامنا تھا۔ جمعرات کو جشن یوم آزادی کے حوالے سے ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھاکہ ’میں ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام عناصر سے مفاہمت کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کی جانب توجہ دے سکیں‘۔ ’ہمارے مخالفین مختلف سمتوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں‘۔صدر مشرف نے ملک کے دفاع کے حوالے سے کہا تھاکہ ’ہماری افواج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں‘۔صدر پرویز مشرف نے اپنا یہ خطاب ایسے دن کیا تھاکہ جب ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سرحد اور سندھ نے بھی ان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔ صدر کو اب مواخذے سے بچنے کے لیے ایک مشکل جنگ سے گزرنا پڑا۔صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے بتایا تھاکہ ’صدر مشرف کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور مواخذے کی تحریک کے خلاف لڑیں اور یا اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر جائیں‘۔ ’اگر وہ مواخذے کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی بھر پور حمایت کریں گے اور ہم اسی کو ترجیح دیں گے‘۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی پاکستانی لیڈر کا مواخذہ نہیں ہوا لہذا اگر یہ مواخذہ ہوتا ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کیونکہ حکمران اتحادی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مواخذے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد موجود ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ اگرچہ پاکستان کے صدر کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیا ل تھا کہ وہ اس کو استعمال نہیں کریں گے۔ جب سندھ اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی گئی تو صوبائی اسمبلی میں صدر مشرف کا دفاع کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ ایم کیو ایم اور اپوزیشن کے اراکین ایوان میں غیر حاضر رہے۔ حکمران جماعت نے ایم کیو ایم کے اس عمل کو ان کے موقف کی حمایت قرار دیا ۔اس کے بعد صوبائی وزیر نے قرار داد پیش کی جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الیکٹرول کالج سے اعتماد کا ووٹ لیں یا مستعفی ہوجائیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے توان کا مواخدہ کیا جائے۔ قرار دادا پیش ہونے کے بعد صوبائی وزیر شازیہ مری، سیف اللہ دہاریجو، ایاز سومرو، رفیق انجنیئر، شہلا رضا اور پیر مظہرا لحق نے اپنی تقریر میں صدر پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کا قاتل قرار دیا اور کہا کہ وہ اس قرار داد کے ذریعے ان سے انتقام لے رہے۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان پر تشدد ، بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان اور ملکی صورتحال کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو قرار دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو اس کے بعد ملکی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہوں گے۔ مقررین کے مطابق سندھ اسمبلی نے اس سے قبل ملک بنانے کے لیے قرار داد منظور کی تھی اور آج ملک بچانے کی لیے یہ قرار منظور کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ پنجاب، سرحد اور اب سندھ اسمبلی صدر مشرف کو جانے کے لیے کہہ چکی ہیں مگر وہ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صدر مملکت جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران استعفےٰ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی جشن کا سماں پیدا ہو گیا ۔ استعفیٰ کا اعلان کرتے ہی ہزاروں سیاسی و مذہبی کارکنان ‘ وکلاء ‘ تاجر ‘ طلباء ‘ مزدور اور سول سوسائٹی کے ارکان سڑکوں پر نکل آئے ۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت مسلم لیگ ( ن ) ‘ پیپلزپارٹی ‘ جماعت اسلامی ‘ تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی و مقامی دفاتر ‘ اراکین اسمبلی کے پبلک سیکرٹریٹ بڑے تجارتی و کاروباری مراکز بوائز کالجوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر جشن ریلیاں نکالی گئیں ۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اس موقع پر زبردست ہوائی فائرنگ اور آتشبازی کے مظاہروں کے علاوہ پرویز مشرف کے علامتی جنازے نکالے گئے ۔ پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران کوئی تعطیل نہ ہونے کے باوجود سڑکوں پر ہو کا عالم رہا اور ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ پرویز مشرف کا آخری خطاب سننے کے لئے درجنوں اور بیسیوں شہری الیکٹرانکس کی دکانوں اور ہوٹلوں ‘ سرکاری و نجی دفاتر میںجمع رہے ۔ تاہم مستعفیٰ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی حاضرین و ناظرین خطاب کو بھول کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ جا بجا شہری اور سیاسی کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے استعفیٰ کے اعلان کے ساتھ فون کالوں اور ایس ایم ایس کے ذریعے مبارک بادوں کی وجہ سے موبائل سسٹم انتہائی معروف اور جام ہو کر رہ گیا ۔ ر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہوتے ہی پاکستانی روپے کی قیمت میں 1.20 روپے اضافہ ہو گیا جبکہ سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، انڈکس 100پوائنٹ سے یکدم 400 پوائنٹ پر پہنچ گیا ۔ مشرف کے استعفےٰ سے ملک میں بے یقینی بے چینی کی صورتحال ختم ہوتے ہی پاکستانی کرنسی میں استحکام آگیا۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 6:49 PM 0 comments

پاکستان بھر کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے



پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک ہی خبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے ایسا کم ہی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے استعفی کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی چھائی رہی۔پاکستانی اخبارات نے تو اس خبر کو بینر ہیڈلائنز، متعلقہ تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ سجایا ہے۔ اردو اخبار ایکسپریس کی سرخی ہے ’عوام کی جیت، مشرف نے ہتھیار ڈال دیے‘۔ تاہم انگریزی اخبار دی نیوز نے شہ سرخی کے لیے عبارت چننے میں کافی سخت جملے کا انتخاب کیا اور وہ یہ کہ ’مش کوئٹس ود ٹیل بٹوین ہز لیگز‘ یعنی مشرف دم دبا کر بھاگ گئے۔ لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے صدر کی رخصتی کو ’گوئنگ، گوئنگ، گان‘ جیسی عبارت سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی اخبار نے اپنی ادارتی صفحے پر ایک کارٹون میں ہاوس فل سینما گھر میں سکرین پر مشرف کی فلم کا ’دی اینڈ‘ ہوتے دکھایا ہے۔ آج کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے تو ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا۔ خبر کے علاوہ اس تاریخی فیصلے پر رائے زنی اور اس کے تمام پہلوو¿ں کا احاطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریے ’ایگزٹ مشرف‘ میں لکھا ہے کہ سابق صدر مشرف نے معیشت کی بہتری کے لیے جو بھی اچھے برے اقدامات کیے ہوں لیکن وہ ریاستی اداروں جیسے کہ پارلیمان، عدلیہ اور نوکرشاہی کو مضبوط کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جو بالآخر ان کے جانے کی بڑی وجہ بھی بنے۔ ڈیلی ایکسپریس نے اداریے میں حکمراں اتحاد کو خبردار کیا ہے کہ پرویز مشرف کے جانے سے اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اب اسے بھرپور پوری توجہ دینی ہوگی۔ دی نیوز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ صدر کے جانے سے اب حکمراں اتحاد کے پاس ناکامی کی کوئی وجہ نہیں رہی۔ اخبار نے اس سارے تنازعے میں فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ صدر کی سب سے بڑی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنماوں کے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے اس فیصلے کو ملک، قوم اور عوام کے مفاد میں قرار دیا ہے۔ ایک اخبار کی خبر کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور سینٹر نثار میمن کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کو استعفے کی خبر سن کر زاروقطار رونے لگیں۔ یاد رہے کہ ماروی میمن چند روز قبل ہی صدر سے ملی تھیں اور ان کے استعفے کی خبروں کو انہوں نے غلط قرار دیا تھا۔ ایک اور خبر کے مطابق پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک سابق فوجی نے صدر کے استعفے پر غصے میں اپنا ٹی وی بھی توڑ دیا۔ ڈان نے ایک کارٹون میں صدر کی جانب سے اپنی کرسی خالی کرنے پر مختلف لوگوں کے اس کی جانب لپکتے ہوئے دکھایا ہے۔ نیا صدر کون ہوگا اس بارے میں بھی اخبارات نے قیاس آرائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس بابت مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور، فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی، استفندیار ولی، جسٹس ریٹائرڈ سعیدالزمان صدیقی اور بلوچ قوم پرست رہنما عطا اللہ مینگل پیش پیش ہیں۔ نیا صدر کون ہوگا؟ یہی سوال آئندہ چند روز تک اخبارات کے کالم بھرنے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔