Tuesday, August 19, 2008
Pakistan: Pervez Musharraf to "seek refuge" in London
Pervez Musharraf could seek a life in exile in London after he resigned yesterday as President of Pakistan, according to a senior Western diplomat
.ISLAMABAD:AUG 19(APS)Mr Musharraf, a former general who came to power in a coup nine years ago, stepped down to avoid impeachment charges that were to be brought by Pakistan's civilian government.The United States, a close ally in the war against terrorism, and Pakistan's army have demanded that the government allow Mr Musharraf "an honourable exit" that includes indemnity from prosecution.According to daily Telegraph a senior Western diplomat in the capital Islamabad said that Mr Musharraf could first head for Saudi Arabia on a Muslim pilgrimage, but that London could be his ultimate destination.The Foreign Office would not comment on the speculation about Mr Musharraf's plans.Announcing his resignation on national televison, Mr Musharraf defended his record and said that he was leaving office knowing that whatever he has done "was for the people and for the country".He added: "I hope the nation and the people will forgive my mistakes. 'Pakistan First' has always been my philosophy."The speaker of the assembly, Mohammedian Soomro, has takes over as interim president and assumes responsibility for Pakistan's nuclear arsenal.Bilawal Bhutto Zardari, the Oxford student whose mother and the former prime minister Benazir Bhutto was assassinated in December, said: "After the martyrdom of my mother I said that democracy was the best revenge - and today it was proved true." Associated Press Service ,Islamabad
Posted by Associated Press Service at 6:35 AM 0 comments
وہ جارہا ہے مگر
پرویز مشرف اپنے زرعی فارم واقع چک شہزاد میں خوشگوار موڈ میں
پرویز مشرف کا متوقع استعفیٰ تو آگیا مگر اب اس سے بھی بڑامسئلہ یہ ہے کہ چھوڑ دیا جائے یا قید کیا جائے۔ ۔ ۔ بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ 16اگست ہفتے کو خبر دی تھی کہ فریقین اور ضامنوں کے درمیان پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس پر رکھنے کی بات بھی ہو رہی ہے اور اس کی خواہش خود پرویز مشرف نے ظاہر کی ہے مجھے اس کا تو علم نہیں کہ فیصلہ کیا ہوا یا ہوگا مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ تجویز دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو سکتی ہے حکمران اتحاد کو مواخذے سے بڑا چیلنج محفوظ راستے کا درپیش ہے پرویز کو جانا تو تھا مگر عوام صرف مواخذہ نہیں محاسبہ بھی چاہتے ہیں ۔حساب مانگتے ہیں ۔ اپنے گمشدہ پیاروں کا ،آگ اور لوہے کی بارش میں جل مرنے والے اپنے جگر گوشوں کا، بم دھماکوں میں چیتھڑے ہو کر اڑ جانے والے اپنے بیٹوں کا۔ چند ڈالروں کے عوض فروخت کردئیے جانے والے بے گناہوں کا ۔نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں لٹ جانے والی عصمتوں کا ،اپنے خالی پیٹوں کا اور بلال مشرف کے 20ارب ڈالر کا، غربت کی وجہ سے بیچے جانے والے جسموں کا اور تنگدستی کے باعث ماں باپ کے ہاتھوں مار ے جانے والے معصوم بچوں کا۔ آئین کے خلاف بغاوت کا ،منتخب وزیراعظم (نواز شریف) کا تختہ الٹنے کااور سابق وزیراعظم( بی بی شہید) کے قتل کا ۔ پتہ نہیں پرویز مشرف کے کسی بیج میٹ نے انہیں بتایا یا نہیں کہ فوجیوں کے شہر راولپنڈی کے درودیوار پر ان کے متعلق کیا لکھا ہے ۔نوشتہ دیوار تو ایک محاورہ ہے ۔جرنیلوں کے شہر میں باقاعدہ دیواروں پر لکھا ہے کہ پرویز مشرف فلاں ہے، پرویز مشرف فلاں ہے، اس لئے ہم شروع سے کہتے آئے ہیں کہ پرویز مشرف کا جانا مسئلے کا حل نہیں حل یہ ہے کہ ان پر لگے الزامات کا حساب لیا جائے۔ اس بار عوام قبول نہیں کریں گے کہ سویلین کے ساتھ کچھ اور ملٹری والے کے ساتھ کچھ اور سلوک ہو، قانون اور آئین کی بات کرنا ہے تو سب کیلئے کریں ، یہاں ہوتا کیا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو غلط کیس بنا کر ناحق عدالت کے ذریعے قتل کردیاجاتا ہے۔ اکبر بگٹی آمر کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں تو پہاڑ کوقبر بنا دیا جاتا ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر کے گھر گھس کر اس کا ریپ کیا جاتا ہے اور بجائے مجرموں کی نشاندہی کر کے انہیں پکڑنے اور سزا دینے کے مدعی ہی کو غائب کردیا جاتا ہے کیونکہ تحقیق وتفتیش کی صورت میں ان کی بدنامی ہو گی جو اللہ میاں سے لکھوا کر لائے ہیں کہ یہ فرشتے ہیں کوئی غلط کام نہیں کر سکتے۔ بینظیر بھٹو کو سڑک پر خون میں نہلا دیا جاتا ہے ۔منتخب وزرائے اعظموں کو ہتھکڑیاں لگا دی جاتی ہیں اور قلعوں کے تہہ خانوں میں اس طرح بند کر دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی ملک دشمن عناصر ہوں اور خود جو مرضی گل کھلاتے رہیں ۔ انہیں کچھ نہیں کہنا بس جانے دینا ہے، کیا بات ہے ۔حکمران اتحاد کے لئے یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ایوان صدر سے نکلنے کے بعد پرویز مشرف کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کا دونوں کو بخوبی احساس ہے کہ عوام رخصتی ہی نہیں سزا بھی چاہتے ہیں مگر اس پر کلےئر صرف نواز شریف ہیں جن کا موقف ہے کہ وہ اپنے ساتھ کی ہوئی زیادتیاں تو پرویز مشرف کو معاف کر سکتے ہیں مگر ملک اور قوم کے ساتھ جو کھلواڑ انہوں نے کیا وہ معاف کرنے کا اختیار صرف اور صرف قوم کا ہے اور قوم پرویز مشرف کو معاف نہیں کرناچاہتی۔ چند روز قبل ان کے ساتھی خواجہ سعد رفیق بھی یہی بات کررہے تھے۔ ایک مذاکرے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان، ممتاز پارلیمنٹیرین میاں عبدالستار اور راقم شریک تھے۔ مجھ سے سوال ہوا کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ پرویز مشرف ایسے ہی چلے جائیں گے اور الزامات کا سامنا نہیں کریں گے ۔اس پر میرا موقف یہ تھا کہ ’’ پرویزمشرف باقی آمروں سے مختلف واقع ہوئے ہیں ۔پھر ان کو اپنے کمانڈو ہونے کا بھی بڑا زعم ہے ۔ اس لئے مہم جوئی کرسکتے ہیں کوئی بعید نہیں کہ وہ سامنے آجائیں اور کہیں ’’لائیں میرے خلاف کیا الزامات ہیں ؟ ‘‘اس پر خواجہ سعد رفیق کا موقف بھی ملتا جلتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ پرویز مشرف نے 8سال تک اس ملک اور قوم کے ساتھ جو ظلم کئے ہیں ان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں ‘‘۔علاج یہی ہے کہ وہ قوم کو جواب دیں خود نہ آئیں تو بھی انہیں پکڑ کر پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر دیا جائے جیسے انہوں نے نواز شریف کو پولیس اور فوجیوں کے ہاتھوں عدالتوں ، جیلوں اور قلعوں میں رسوا کیاتھا اور صفائی کا پورا موقع دے کر سزا سنا دی جائے کیونکہ ویسے تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں ہمارے کہنے کی بات نہیں یہ تو زبان حلق کہہ رہی ہے کہ وہ کیا ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ زبان خلق اب کہنے لگی ہے اور ہم نے ’’2002‘‘ہی میں لکھ دیا تھا کہ ’’قہر ٹوٹے گا اور ایسا ٹوٹ کر برسے گا کہ نام نہاد فرنٹ لائن کے تمام بند بہا کر لے جائے گا‘‘ ۔جب غزنی سے علاج کے لئے معصوم بچے پاکستان آنا چاہ رہے تھے مگر فرنٹ لائن اتحادیوں نے سرحد پر ہی روک لیا اور وہ دسمبر کی سردی میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گئے۔اب اگر حکمران اتحاد پرویز کو استعفے کے بعد ایسے ہی جانے دیتا ہے تو پھر ان کی بھی خیر نہیں ۔ عوام پرویز مشرف کو مجرم سمجھتے ہیں تو وہ مجرم کو سزا دئیے بغیر بھگادینے والوں کو کیسے چھوڑ دیں گے ؟ قانون تو ان کو بھی مجرم گردانتا ہے جو مجرم کو بچانے میں اس کی مدد کریں اور فرار کرادیں ۔تو یہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے حکمران اتحاد کیلئے کریں تو کیا کریں ہماری رائے میں ابھی بھی انہیں پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر کے جواب لیا جاسکتا ہے۔پرویز مشرف کو چک شہزاد فارم ہاؤس میں رہنے دینے سے آدھا مسئلہ حل ہوجاتا ہے چونکہ دونوں کے مفاد میں بھی ہے اس لئے اس کے امکانات بھی کافی ہیں ۔ اگر پرویز مشرف کو سیکیورٹی دے کر چک شہزاد میں رکھ لیتے ہیں تو عوام کا آدھا غیض وغضب ختم ہو جائے گا ۔ ان کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا جائے گا کہ ’’ ہم نے بھاگنے تو نہیں دیا‘‘ باقی کا غصہ وقت کے ساتھ رفع دفع ہو جائے گا کیونکہ اس دوران ایسے بیانات اور وعدے کئے جاتے رہیں گے کہ ’مجرم ہمارے پاس ہے ، مناسب وقت پر مقدمہ چلا کر سزا بھی دیں گے‘‘ عوام اپنی روزی روٹی کی تلاش میں لگ جائیں گے اور دو تین ماہ کے اندر بات آئی گئی ہو جائے گی۔پرویز مشرف کے لئے یہ حل اس لئے اچھا ہے کہ آگے ان کے لئے چانس موجود رہے گا۔ چند ماہ فارم ہاؤس پر سبزیا ں اگانے اور گائے بھینس پالنے کے بعد (جیسا کہ اسی مقصد کیلئے یہ فارم ہاؤس بنائے گئے تھے مگر حکمرانوں نے آپس میں بانٹ لئے)وہ پھر سیاست میں آسکتے ہیں اور ان کے پاس جواز بھی ہو گا کہ میں ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا اس کے لئے ضروری ہے کہ قائد لیگ تب تک باقی بھی ہو اور ان کو لینا بھی چاہے ۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد حکمران اتحاد عوام کے مسائل حل نہ کر سکے اور عوام اس سے بھی متنفر ہو جائیں ۔ حکمران اتحاد برقرار نہ رہے اور اس طرح قائد لیگ کو بھی دوبارہ عوام کے پاس جانے کا موقع مل جائے اور پرویز مشرف کو بھی ہمراہ لے لیں ۔ پرویز مشرف کے دل میں واپسی کی حسرت ضرور رہے گی اور وہ کسی بھی طرح اس کو ممکن بنائیں گے۔ گزشتہ روز کی تقریر سے وہ ماحول بنانے میں کامیاب رہے ہیں انہوں اپنا کیس خوبصورتی سے پیش کر دیا ،اس کا فائدہ انہیں چند ماہ کے اندر ہونے والا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اتحاد خوشیاں منانے میں مصروف ہو جاتا ہے یا اپنا کام پکا کرتا ہے ۔ پرویز مشرف اپنا ہاتھ اوپر رکھ گئے ہیں ۔ اس ہاتھ پر ہاتھ نہ ڈالا تو حکمران اتحاد گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار سیاسی قوتوں کے ہاں کتنی کمٹمنٹ ہمت اور برداشت ہے ۔ وہ صرف پرویز مشرف سے نجات پر اکتفا کرجاتے ہیں یا جرنیلی جمہوریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملک اور قوم کی جان چھڑا دیتے ہیں ۔ وقتی حل نکال کر ڈنگ ٹپاتے ہیں یا فرشتہ آمریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر انسان کی برتری یقینی بنالیتے ہیں ۔ سیاستدانوں نے ہمیشہ ’’ آخری مکے‘‘ کے وقت کمزوری دکھائی ہے قدرت نے باربار ان کو موقع دیا ، باور کرایا کہ انسان ’’فرشتوں ‘‘ سے افضل ہے، اپنا منصب سمجھو، خدا کے نائب تم ہو، یہ ’’فرشتے‘‘ نہیں مگر یہ ہر بار اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کر گئے ۔عوامی انقلاب کا باربار ماحول بنا مگر ہر بار کلائمیکس کے نزدیک پہنچ کر سکرپٹ بدل دیاگیا۔لوہا بار بار گرم ہوا مگر کسی نے چوٹ نہیں لگائی۔ پانی ڈال دیا اب لوہا ایک بارپھر گرم ہے، بات صرف چوٹ لگانے کی ہے ،’’سلطانی جمہور‘‘ پر شب خون مارنے والے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔سلطانان جمہور انہیں انجام تک پہنچاتے ہیں یا نہیں ،ہم دیکھیں گے۔ سب دیکھیں گے مگر اس پر کیانی صاحب( ہمارے ملنے والے) کا کہنا ہے کہ دیکھنا کیا ہے ،سب کچھ طے ہو چکا ہے، اسی لئے پرویز مشرف کو قوم سے خطاب کا موقع دیاگیا، جب ہونا ہی کچھ نہیں تو دیکھنا کیا ہے ؟ ہونی صرف باتیں ہیں سنتے جائیے اور سردھنتے جائیے۔
Posted by Associated Press Service at 3:56 AM 0 comments
مشرف کے انتہائی مجرمانہ اقدامات تاریخ کا سیاہ ترین باب تحریر: چودھری ا حسن پریمی،اے پی ایس،اسلام آباد
پرویز مشرف کی روانگی نوشتہ دیوار بن چکی تھی ‘ امریکا اور فوج کی حمایت سے محرومی کے بعد عبرت آمیز ذلت ہی ان کا مقدر تھی۔ مشرف کے بعد اب ان کی پالیسیوں سے نجات بھی ضروری ہے ۔ پاکستان کے عوام برسوں سے اس دن کے منتظر تھے اب اگر پرویزمشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ عوامی امنگوں کے منافی ہوگا۔ پرویز مشرف کا دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ۔ انہوں نے قوم کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا ۔ امریکی مفادات کی تکمیل کے لئے فوج اور عوام کو آپس میں لڑایا ‘ جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو روشن خیالی کی بھینٹ چڑھایا۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ٹکوں کے عوض امریکا کے حوالہ کیا ۔ علمائے کرام کو قتل کیا گیا ۔ قوم کو مہنگائی اوربے روزگاری کا تحفہ دیا گیا ۔ آج باجوڑ خالی ہوچکا ہے اور باجوڑ کی عزت مآب خواتین اور معصوم بچے رو رہے ہیں وزیرستان اور بلوچستان کے عوام پر ستم ڈھایا گیا ہے ۔ مشرف دور حکومت نے سینکڑوں انسانی المیوں کوجنم دیا۔ مشرف ہی نہیں اس کی پالیسیوں سے بھی نجات ضروری ہے حکمران اتحاد اپنے وعدے کی روشنی میں اب فوری طورپر ججوں کو بحال کرے ۔ چارٹر آف ڈیمو کریسی کی روشنی میں ملک کو چلانے کی ضرورت ہے ۔ این آر او کو ختم کر کے لوٹی ہوئی دولت پاکستان لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر بنائی جاسکے ۔ بدامنی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے ۔ امریکی اثر سے خارجہ اور داخلہ پالیسی کو آزادی دلانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے عوام آزاد قوم کی حیثیت سے سانس لے سکے۔ عوام نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دینے کا مطالبہ کردیا ۔ ضروری ہے کہ عوام کی خواہشات اور جذبات کا احترام کیا جائے اور پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اٹھاون ٹو بی کو آئین سے ختم کردیا جائے گا۔ صدر پرویز مشرف کا استعفی سیاسی جمہوری قوتوں کی فتح ہے پوری قوم میں خوشی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔پرویز مشرف کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ملک کے قوم کے مفاد ات کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ پرویز مشرف کے استعفی سے پارلیمنٹ کو استحکام حاصل ہو گا۔ اگر چہ وزیراعظم نے اراکین کویقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اقدامات کرے گی عوامی خواہشات کے منافی کوئی اقدامات نہیں ہوں گے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئین کے آرٹیکل سکس کے تحت پرویزمشرف کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس امر کا اظہار صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اورمسلم لیگ (ن) کے سنیئر رہنما سردار مہتاب احمد خان نے پیر کو قومی اسمبلی میں پرویز مشرف کے استعفیٰ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا قومی اسمبلی میں معمول کی کارروائی کو معطل کرتے ہوئے پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد کی ممکنہ صورتحال پر ارکان نے اظہار خیال کیا سردار مہتاب احمد خان نے کہاکہ تاریخ کا ایک اہم دن ہے پارلیمانی سیاسی تاریخ میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہے معمول کی کارروائی کو نہ لیا جائے ساری قوم پارلیمنٹ کو دیکھ رہی ہے معمول کے بزنس کو لیں گے تو اہم پیغام نہ جائے گا وقفہ سوالات کو معطل کیاجائے نو سالہ آمریت سے ملک و قوم کو نجات مل گئی ساری قوم شکر بجا لارہی ہے اٹھارہ فروری کے مینڈیٹ کا قوم کو نتیجہ ملا ہے قوم کو استحصال سے نجات ملی ہے اگرچہ تاخیر سے استعفیٰ آیا ہے ایوان صدر میں صدر پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف سازشیں جاری تھیں وہ پارلیمنٹ کی توقیر کو گرانے کی سازش کر رہا تھا حکمران اتحاد کے قائدین فاٹا کے اراکین سیاسی جماعتوں کو مبارک باد دیتا ہوں نازک مرحلے پر پارلیمنٹ کا ساتھ دیا اور مشرف سے نجات دلائی سازش کے تحت معیشت کو تباہ کیاجارہا تھا۔ عوام کی خواہش کے مطابق پرویز مشرف کو ملک سے نہ جانے دیا جائے احتساب ضرور ہو تاکہ مارشل لاءکا راستہ بند ہو سکے کسی آمر کو آئین کی دھجیاں بکھیرنے کی جرات نہ ہو پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر اور تین نومبر 2007ءکو آئین کو پامال کیا گیا آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کو پھانسی دی جائے وزیر قانون فاروق نائیک نے تجویز دی کہ رولز معطل کر کے صدر مشرف کے استعفی کے حوالے سے صورتحال پر ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا جائے انہوں نے خود ہی قواعدو ضوابط معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی نے کہا کہ اس شخص سے نجات دلائی ہے جس نے صوبہ سرحد بالخصوص فاٹا کے عوام کا جینا حرام کر دیا تھا فاٹا کے مظالم کا ازالہ کیا جائے ہزاروں لوگوں کا خون بہایا گیا کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے مظالم کی تلافی کے حوالے سے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کیاجائے۔ پرویز مشرف کا جانا قوم کے لیے نیک شگون ہے جس طرح کوئی ڈکٹیٹر جاتا ہے اسی طرح جنرل(ر) پرویز مشرف بھی رسوا ہو کر رخصت ہوئے پرویز مشرف کے اپنے دور میں بہت ظلم کیے اس نے بے گناہ بچیوں اور لوگوں کو مروایا ۔ ڈالروں کے عوض بے گناہوں کو امریکہ کے حوالے کیا ۔ پرویز مشرف کا استعفی دینا ایک اچھافیصلہ ہے اس سے ملک کی سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے جنرل(ر) مشرف نے انتہائی مجرمانہ اقدامات کیے معصوم بچیوں کو ماورا ا ور چند ہزار ڈالر کے عوض اپنے ہم وطنوں کو امریکہ کے حوالے کیا مشرف کا انجام بھی ایک ڈکٹیٹر کی طرح ہوا ہے جنرل مشرف کا بیٹا جو امریکہ میں ایک انشورنس کمپنی میں انتہائی کم رینک کے درجے کی ملازمت پر کام کررہا ہے اسے امریکہ سے دہشت گردی اور اپنے لوگوں کی حوالگی کے عوض ملنے والے اربوں روپے دئیے گئے اور ان پیسوں سے سعوی پرنس سے مل کر ایک انوسٹمنٹ کمپنی قائم کی ۔کہ آمریت کی تعفن زدہ بے گورو کفن لاوارث نعش کو کوڑے نہیں لگانا چا ہیے ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ہے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کو بحال کردے ورنہ قوم انھیں معاف نہیں کرے گی مثبت عمل سے ماضی کے دھبے دھونے ہوں گے ۔ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ذہنوں میں نہیں بسا یا جا سکتا ۔ پرویز مشرف نے اچھا کیا یا برا کیا تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔ پرویز مشرف استعفی دینے کے بعد ایسے دوڑے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچا ایوان میں بیٹھے ہوئے ان کے سیاسی رفقاءکیسے حالات کا سامنا کریں گے۔ ملک پر چار جرنیلوں نے 34 سال براہ راست حکومت کی ۔ پہلا موقع ہے کہ سولہ کروڑ عوام کے فیصلے کو بندوق کی طاقت پر بالادستی حاصل ہوئی ۔ ووٹ کی طاقت نے بندوق پر فتح حاصل کی ۔ معلوم نہیں ہے کہ پرویز مشرف اس وقت کہاں ہے ۔ 12 اکتوبر 1999 ء کے اقدامات کو کسی سیاسی جماعت نے تسلیم نہیں کیا تھا آخری وقت میں مسلم لیگ(ق) نے پرویز مشرف کو قبول کرنے سے انکار کردیا آمریت کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ آمریت کی تعفن زدہ لاوارث نعش پڑی ہوئی ہے کوئی دفن کرنے والا نہیں ہے۔ آگے کی طرف دیکھنا ہے ۔ شخصیات کی جنگ نہیںہے خاک و خون کے مرحلے سے گزر کر اس مقام پر عوام آئے ہیں ۔ 60 ججز کو گھر بھیج دیا گیا افغانستان کے چپے چپے پر بمباری کے لیے پاکستان کی فضا ئی حدود کو استعمال کیا گیا آگ ہماری سرزمین پر آگئی ہے ۔ باجوڑ کے ساڑھے تین لاکھ افراد دربدر ہیں نو سالہ پالیسی کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا ۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حکمران اتحاد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کو بحال کیا جائے ورنہ قوم حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔ قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر آج بھی جیل میں بیٹھا ہوا ہے طالع آزماوں نے ملک کو بھوک دی ہے ۔ امریکہ کی غلامی دی ہے ۔ آنے والے کل سے حکمرانوں کااحتساب شروع ہو گا ۔ طے ہو گیا کہ آمریت مر چکی ہے ۔ جمہوریت کے چراغ روشن کرنے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی ‘ بے نظیر کے خون ‘ نواز شریف کی جلا وطنی ‘ آصف علی زرداری کی قید کے حوالے سے قربانیوں سے قوم سے کیے گئے وعدوں کو حکمرانوں نے پورا کرناہے ۔ اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 1:48 AM 0 comments
مشرف کا نو سالہ دورِ اقتدار تحریر : چودھری احسن پریمی، اے پی ایس،اسلام آباد
سابق صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا ۔جنرل پرویزمشرف کو سات اکتوبر سنہ انیس اٹھانوے کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پراستعٰفی دے دیا تھا۔بارہ اکتوبر سنہ انیس ننانوے کو جنرل پرویزمشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔جنرل پرویزمشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ستائیس جنوری سنہ دو ہزار کو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ بارہ مئی سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو تین مہینے کے اندر انتخابات کرانے کے لیے حکم دیا۔ سنہ دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور چودہ اگست دو ہزار ایک میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ بیس جون سنہ دو ہزار ایک کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جبکہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا۔ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنرل پرویز مشرف امریکہ کےاتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔پانچ اپریل سنہ دو ہزار دو کو صدر مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تیس اپریل سنہ دوہزار کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔ اگست دو ہزار دو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کردی گئی۔ دس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے ۔ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔ تیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی سے حلف لیا۔ پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کوراولپنڈی میں صدر مشرف کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا تاہم صدر مشرف محفوظ رہے۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس دسمبر سنہ دوہزار تین کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد سترھویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔یکم جنوری سنہ دو ہزار چار پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے چھ سو اٹھاون ارکان نے صدر مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ چار فروری سنہ دو ہزار چار کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے۔ تیس جون سنہ دوہزار چار کو چودھری شجاعت حسین سے صدر مشرف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ پندرہ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو صدر مشرف کی جانب سے سرحد اسمبلی میں پاس کیے گئے حسبہ بل کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ۔ پچیس ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو صدر پرویزمشرف کی کتاب ’ان لائن آف فائر‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی ۔ نو مارچ سنہ دوہزار سات کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ستائس جولائی کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہوگئی ۔ پانچ اکتوبر کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرکیا گیا۔ دو اکتوبر کو پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ۔ چھ اکتوبر کو ہونےوالے صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے جبکہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ۔ا±نہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔ گیارہ نومبر صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔ پندرہ نومبر کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کردیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کردیا۔ سولہ نومبر کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ا±نیس نومبر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ بائیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔ تئیس نومبر سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔ ستائیس نومبر صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا ۔اٹھائیس نومبر ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔ ا±نتیس نومبر صدر مشرف نے سویلئن لباس میں دوسری بار ملک کے صدر کا حلف ا±ٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔ نو دسمبر صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو ا±ٹھالی جائے گی۔ پندرہ دسمبر صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کو ناکامی ہوئی۔ پچیس مارچ دو ہزار آٹھ کو صدر مشرف نے وزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کوحلف دلوایا۔ سات اگست کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے’جنرل مشرف‘ کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ پنجاب ،سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔ اٹھارہ اگست کو صدر پرویزمشرف نے قوم سے خطاب کر کے اپنے استعفی کا اعلان کردیا۔ مشرف کا آخری قوم سے خطاب قارئین کی نذر ہے۔ صدر پرویز مشرف 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد آج پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاء جنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ آج یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔ جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فیصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی ریاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دیا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کیا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چیلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور میں نہیں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ء میں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چیلنج کا سامنا کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدیل ہوئی 2005 ء کے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گیا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو حل دیکھا اس میں ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجیح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل میں بھی میری یہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لیے دوجنگیں لڑیں خون کا نذرانہ دینے کے لیے تیار رہا یہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہیں کیا گیا یہ عناصر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری نو سالہ پالیسی غلط رہی ہے ۔ یہ ملک کے ساتھ فریب ہے۔ معیشت کے حوالے سے انہوںنے کہا ۔کہ دسمبر 2007 ء یعنی آٹھ ماہ قبل معیشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فیصد ، معیشت 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قیمت آٹھ سال تک 8 روپے کے ارد گرد رہی ۔ یہ معیشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنیا کی ایجنسیوں نے ملک کو این الیون ممالک میں قرار دیا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نیچے چلے گئے ۔ ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لوگ سرمایہ کار باہر لے جا رہے ہیں ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک دیا ۔ آٹے دال گھی کی قیمت دگنی ہو گئیں ۔ عوام تکالیف اٹھانے پر مجبور ہیں ۔ معیشت پختہ تھی ۔ اسی لیے عالمی صورتحال کا مقابلہ کیا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نو سالہ پالیسی کو غلط قرار دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پیسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو میں 3000 میگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ئ میں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000 میگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ء میں 10000 بجلی پیدا کررہے ہیں ۔ پیسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنیوں نے بجلی کی پیداوار میں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فریب جھوٹ ہے۔ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔میری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں میں ہر شعبے میں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام میں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو میٹر کوسٹل ہائی ، ایم ون ، ایم تھری ، اسلام آباد تا مری ایکسپریس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زیر تعمیر ہے۔ گوادر سے رتو ڈیرو شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئیں سڑکوں کا جال بچھایا ۔ میرانی ، سبک زئی ڈیم تعمیر کئے گئے منگلا ڈیم کی ریزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈیم کچی کینال زیر تعمیر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہیں مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15 سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوصبورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ئ سے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18 فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔ حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شففا انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علمائ کو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44 سال جان کو داو¿ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاو¿ں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں توقع ہے ذمہ داری ایک کردار جار رہے گا۔ میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا دل کی آواز کھل بنا دیا دل و دماغ میں جوخلفشار تھا قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی یہ ہمیشہ اس نے دکھائی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 12:30 AM 0 comments
Monday, August 18, 2008
مشرف کے مستعفی ہونے پر وزیر اعظم اور عالمی برادری کا رد عمل ۔ تحریر : سید جواد معین بخاری،اے پی ایس
اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کہا کہ وہ احتساب چاہتے ہیں لیک احتساب اور ا تقام میں بہت معمولی فرق ہے اور ہم ہیں چاہتے کہ ہم ا تقام لیں۔ آج سے اپوزیش اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کریں۔ وزیر اعظم ے کہا ’آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے لیک ہم پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے۔ آپ ے یہ ثابت کر ا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے یا آمریت کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیک میں کہتا ہوں کہ آمریت جت ی بھی بہتر ہو جمہوریت سے بہتر ہیں ہو سکتی۔‘ سید یوسف رضا گیلا ی سترھویں ترمیم اور اٹھاو ٹو بی کو ہ پہلے قبول کرتے تھے اور ہ اب کرتے ہیں۔وہ پہلے بھی کہتے تھے کہ صدر اور پارلیما کے درمیا تواز ہو ا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ سب مل کر اداروں کو مضبوط کریں کیو کہ جب بھی جمہوریت کمزور پڑتی ہے تو آمریت کو موقع ملتا ہے۔ وزیر اعظم کو ج ہوں ے بھی جیل میں ڈالا ا کے خلاف ا کی کوئی ا تقامی یت ہیں ہے اوروہ ا کو معاف کر تے ہیں۔ ادارے مستحکم ہو ے چاہیں اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاو ٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی مضبوط کر ی چاہییں۔ حکومت سچ کمیش اور مفاہمتی کمیٹی ب ا ا چا ہتی ہے۔ قومی اسمبلی کے تمام اراکی کو حکومت کی مدد کر ی ہو گی کیو کہ اکیلا وزیر اعظم کچھ ہیں کر سکتا۔ ا ہوں ے کہا کہ ملک کو دو بڑے مسائل درپیش ہیں اور ا کا حل ڈھو ڈ ا ہو گا ایک تو ہے معیشت اور دوسرا ام و اما ۔ میڈیا، وکلاءاور عدالتی سرگرمی کا جمہوریت کے لیے بہت بڑا کردار ہے۔ قومی اسمبلی میں پاکستا مسلم لیگ واز کے ممبرا ے سابق صدر کو گارڈ آف آ ر دی ے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح آمریت ملک سے کبھی ختم ہیں ہو گی۔ لاکھوں افراد کے قاتل کو تو گارڈ آف آ ر دیا جا رہا ہے جب کہ ایک عام آدمی کو پھا سی کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ عوام کا مطا لبہ ہے کہ صدر مشرف ے تی بار آئی توڑا اور وہ کارگل اور لال مسجد میں شہید ہو ے والوں کے ذمہ دار ہیں اس لیے ا کو محفوظ راستہ ہیں دی ا چاہیے۔ اگر شروع ہی میں آمر کو مثال ب ا دیا جاتا تو فوجی حکمرا یہ ہمت ہ کرتے ۔اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم یوسف رضا گیلا ی ے کی۔حکمرا اتحاد کی پارلیما ی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر کا موقف تھا کہ صدر مشرف کا احتساب ہو ا چاہیے۔ صدر مشرف کا احتساب اس لیے ہو ا چاہیے کہ آئی دہ اس عمل کو روکا جا سکے اور کوئی شب خو ہ مار سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کو ڈولیزا رائیس ے پاکستا کے سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے پر رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے دوست رہے ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ امریکہ پاکستا کی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جسے اپ ے ملک کی فوری ضروریات پر توجہ دگ ی کر ے کی ضرورت ہے، ج میں بڑھتی ہوئی ا تہا پس دی کو روک ا بھی شامل ہے۔ امریکہ پاکستا کی مستحکم، خوشحال اور جدید جمہوری مسلم مملکت ب ے میں مدد کرے گا۔ گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ہم ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو ۔ افغا ستا کے وزیر خارجہ ے کہا کہ اس استعفے سے پاکستا میں جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا ایسا پاکستا چاہتا ہے جہاں قا و کی بالا دستی ہو۔ ا ڈیا ےج رل(ر) پرویز مشرف کے استعفے کو پاکستا کا ا درو ی معاملہ قرار دیا اور کوئی رد عمل ہیں دیا۔ ا ڈیا ے کہا کہ کہ وہ ایک مستحکم پاکستا کا خواہاں ہے۔ برطا وی حکومت ے کہا کہ دہشت گردی سے مٹ ے کے لیے اقدامات، ا ڈیا کے ساتھ مذاکرات اور کرپش کے خاتمے میں سابق صدر مشرف ے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ برطا وی وزیر اعظم گورڈ براو کے ترجما ے کہا کہ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں دو وں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوئے۔ ’ہم ا کے لیے اچھے مستقبل کے خواہاں ہیں‘۔ ا ہوں ے کہا کہ برطا یہ اور پاکستا کے تعلقات کا ا حصار شخصیات پر ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ج سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو اور قا و کی بالادستی قائم ہو۔ اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 10:34 PM 0 comments
صدر پرویز مشرف ٩ سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے
پرویز مشرف کی آخری تقریرملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتاتصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہےمحاذ آرائی کی فضا میں ملک وقوم کو دھوکہ دیتے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہےدنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہےاللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرےمیری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہوصدر پرویز مشرف کا قوم سے آخری خطاباسلام آباد ۔ صدر پرویز مشرف 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد آج پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاء جنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9 سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ آج یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔ جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فیصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی ریاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دیا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کیا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چیلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور میں نہیں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ء میں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چیلنج کا سامنا کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدیل ہوئی 2005 ء کے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گیا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام میں میری نیت صاف رہی جو حل دیکھا اس میں ملک و قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجیح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل میں بھی میری یہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لیے دوجنگیں لڑیں خون کا نذرانہ دینے کے لیے تیار رہا یہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنیاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہیں کیا گیا یہ عناصر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری نو سالہ پالیسی غلط رہی ہے ۔ یہ ملک کے ساتھ فریب ہے۔ معیشت کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ دسمبر 2007 ء یعنی آٹھ ماہ قبل معیشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فیصد ، معیشت 170 ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قیمت آٹھ سال تک 8 روپے کے ارد گرد رہی ۔ یہ معیشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنیا کی ایجنسیوں نے ملک کو این الیون ممالک میں قرار دیا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نیچے چلے گئے ۔ ڈالر 77 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ لوگ سرمایہ کار باہر لے جا رہے ہیں ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہاتھ روک دیا ۔ آٹے دال گھی کی قیمت دگنی ہو گئیں ۔ عوام تکالیف اٹھانے پر مجبور ہیں ۔ معیشت پختہ تھی ۔ اسی لیے عالمی صورتحال کا مقابلہ کیا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ نو سالہ پالیسی کو غلط قرار دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پیسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو میں 3000 میگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ء میں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000 میگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ء میں 10000 بجلی پیدا کررہے ہیں ۔ پیسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنیوں نے بجلی کی پیداوار میں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فریب جھوٹ ہے۔ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔میری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں میں ہر شعبے میں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام میں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو میٹر کوسٹل ہائی ، ایم ون ، ایم تھری ، اسلام آباد تا مری ایکسپریس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زیر تعمیر ہے۔ گوادر سے رتو ڈیرو شمالی علاقہ جات کی سڑکیں بنائی گئیں سڑکوں کا جال بچھایا ۔ میرانی ، سبک زئی ڈیم تعمیر کئے گئے منگلا ڈیم کی ریزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈیم کچی کینال زیر تعمیر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہیں مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15 سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوصبورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ء سے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18 فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18 فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔ حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شففا انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علماء کو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44 سال جان کو داؤ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاؤں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں توقع ہے ذمہ داری ایک کردار جار رہے گا۔ میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا دل کی آواز کھل بنا دیا دل و دماغ میں جوخلفشار تھا قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی یہ ہمیشہ اس نے دکھائی ہے ۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے
Posted by Associated Press Service at 8:48 PM 0 comments
” خس کم جہاں پاک “ تحریر: محمد رفیق اے پی ایس
ججز تین دن میں بحال ہو نے کی توقع ہے اور پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے اعلان مری اوراسلام آباد میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ مواخذے کے فورا بعد ججز کو بحال کردیا جائے گا۔ ججز کو فورا بحال ہونا چاہیے اور عوام کویقین ہے کہ حکمران اتحاد کے وعدے کے مطابق تین دن میں جج بحال کردئیے جائیں گے۔ اور مشرف کا ستعفی ہوناوکلاءکی بھرپو ر جددجہد ‘ سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ لال مسجد آپریشن اور قبائلی علاقوں میں اپنے عوام کے خلاف کارروائی پرویز مشرف کے استعفی کا سبب بنی ہیں ” خس کم جہاں پاک “ پرویز مشرف بالاخر مستعفی ہو گئے ہیں پاکستان کی سیاسی جمہوری قوتوں وکلاءکی جدوجہد کی کامیابی ہے۔عوام کی قربانی رنگ لائی ہے ۔ حکمران اتحاد کی جانب سے اس معاملے میں پیش رفت کے باعث ملک وقوم کو مشرف سے نجات ملی پرویز مشرف کے لیے محفوظ راستہ حکمران اتحاد کی ساکھ کو تباہ کردے گا۔ حکمران اتحاد فوری طورپر وزیراعظم سے ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرائے اور تین نومبر 2007 ء کے معزول ججز کو بحال کرنے ہیںتو پی سی او ججز کو بھی پرویز مشرف کے ساتھ رخصت کیا جائے ۔ پرویز مشرف سانحہ 12 مئی‘ باجوڑ کے بے گناہ لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ‘ 9 الیون کے بعد یکطرفہ غلط پالیسی اختیار کرنے ‘ اور افغانستا ن کے بارے میں مسلمہ پالیسی کو تبدیل کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرا کو خطرات لاحق ہوئے ۔ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل سکس کے تحت پرویز مشرف کے خلاف آزاد عدلیہ سے کارروائی کا آغاز کیا جائے ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور بے نظیر بھٹو شہید کے فرزند بلاول بھٹو زراری نے کہا ہے کہ پاکستان کا اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا تاہم فی الحال نام بتانے سے قاصر ہوں۔یہ بات انہوں نے دبئی سے واپسی پر کراچی ائیرپورٹ جناح ٹرمینل پر صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔انہوں نے اپنی بات چیت میں صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا اور عندیہ دیا کہ اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے استعفے سے یہ بات سچ ہوگئی کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ سابق صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کیلئے 9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کا دورانیہ سخت ترین ثابت ہوا۔عوامی مقبولیت کا گراف حد درجہ گرگیا اورمواخذے کی تحریک شروع ہوئی جبکہ یہ سلسلہ باالآخر صدر کے استعفے پر منقطع ہوا۔ صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے حکمران اتحاد کی جانب سے زور پکڑتی مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل 18 اگست 2008ءکو استعفیٰ دیا گیا۔صدر مملکت وسابق آرمی چیف مضبوط امریکی اتحادی کے طور پر پاکستان میں صدارت کرتے رہے تاہم گزشتہ 18 ماہ کے دوران ان کی عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔9 مارچ2007ء سے18اگست2008ء کے دوران انہوں نے کئی ناپسندیدہ فیصلے کئے جن میں 9 مارچ2007ءکو انہوں نے ڈی ڑورے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا جس پر ملک بھر میں وکلاء تحریکوں کا آغاز ہوگیا۔10 جولائی کو لال مسجد پر فوج کشی کے احکامات صادر کئے گئے جس میں محتاط اندازے کے مطابق 105 افراد جاں بحق ہوئے اور ملک بھر میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔20 جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوگئے۔27 جولائی کو صدر پرویز مشرف نے دبئی میں بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات کی جس میں ملک کو سویلین اقتدار کی جانب لیجانے کی بات ہوئی اور بے نظیر بھٹو شہید کی جانب سے صدر سے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔10 ستمبر کو مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو جلاوطنی سے وطن واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے انہیں ملک واپسی کی کلین چٹ دی جاچکی تھی تاہم انہیں پاکستان سے سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔2 اکتوبر کو صدر پرویز مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو پر لگائے جانے والے تمام الزامات ختم کرنے کا اعلان کیا اور انہیں پاکستانی سیاست میں برارہ راست حصہ لینے کے لئے میدان فراہم کیا گیا۔16 اکتوبر کو پرویز مشرف بطور صدر منتخب ہوئے جبکہ 19 اکتوبر کو 8 سالہ خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر کارساز کے مقام پر خودکش حملہ ہوا۔3 نومبر کو صدر مملکت کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ہزاروں وکلاء و سیاستدانوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا جبکہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری معزول قرار دئے گئے۔11 نومبر کو صدر مشرف کی جانب ملک میں 8 جنوری 2008ءکو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا جبکہ 22 نومبر کودولت مشترکہ ممالک کی جانب سے پاکستان کی رکنیت معطل کردی گئی۔25 نومبر کو میاں نواز شریف پاکستان آگئے اور 28 نومبر کو صدر مملکت نے آرمی چیف کا عہدہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کردیا۔15 دسمبر کو ملک میں ایمرجنسی رول اٹھالیا گیا اور آئین بحال کردیا گیا۔27 دسمبر سانحہ لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو شہید کردی گئیں جس کے بعد 2 جنوری 2008ء کو انتخابات کی تاریخ میں18 فروری تک اضافہ کردیا گیا۔18 فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی مخلوط اتحادی حکومت وجود میں آئی اور سیاسی پنڈتوں کی جانب سے صدر پرویز کے استعفے کا عندیہ دیا گیا۔7 اگست 2008ءکو حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک کا آغاز کیا گیا جسے تمام صوبائی حکومتوںسے منظوری حاصل ہوئی۔16 اگست کو حکمراں اتحاد کی جانب سے صدر کے اقدامات کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی گئی اور18 اگست کو صدر مملکت نے استعفیٰ دے دیا۔صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کے استعفے پر ملک کی تینوں اسٹاک مارکیٹوں میں انڈیکس کا انقطاع مثبت زون میں ہوا۔اسلام آباد اسٹاک ایکس چینج میں 117 پوائنٹس جبکہ لاہور اسٹاک مارکیٹ میں 173 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں صدر مملکت کے استعفیٰ پر کے ایس ای انڈیکس میں500 پوائنٹس جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک ہی جست میں 1روپے20 پیسے کااضافہ ہوا۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 4.47 فیصد یا 460.91 پوائنٹس اضافے سے 10719.62 پوائنٹس ریکارڈ ہوا۔283 سرگرم کمپنیوں میں سے 236 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 10 کمپنیوں کے حصص بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔مارکیٹ میں کاروباری حجم 15 کروڑ88 لاکھ حصص سے زائد رہا علاوہ ازیں کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 589.67 پوائنٹس اضافے سے 12279.90 پوائنٹس رہا۔ڈبلیو ای بروکریج ہاو¿س کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اظہر احمد باٹلہ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے استعفے سے ملک میں موجود سیاسی بے یقینی دم توڑ گئی ہے اور انڈیکس میں اضافہ اسکا عکاس ہے۔پیر کو نمایاں کمپنیوں میں نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے93پیسے اضافے سے 124روپے63پیسے رہے جبکہ بلحاظ حصص کاروبار نیشنل بنک آف پاکستان سرفہرست رہا جس کے 1کروڑ35لاکھ74ہزار5سو حصص کا کاروبار ہوا دیگر نمایاں کمپنیوں میں این آئی بی بنک کے حصص 1روپے اضافے سے 10روپے24پیسے، زیل پاکستان کے حصص 47پیسے اضافے سے 1روپے89پیسے، او جی ڈی سی ایل کے حصص 5روپے65پیسے اضافے سے 118روپے68پیسے، پرویز احمد کمپنی کے حصص 1روپے اضافے سے 19روپے43پیسے اور عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 5روپے82پیسے اضافے سے 122روپے37پیسے رہے۔شب برآت مشرف کے اقتدار کا سورج غروب کر گئی ۔ شب برآت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس روز فرشتے لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالی کے حضور پیش کرتے ہیں اور اس رات لوگوں کی قسمت کے فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اس سال شب برآت مشرف کے اقتدار کی آخری رات ثابت ہوئی اور وہ رخصت ہو گئے ۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 8:08 PM 0 comments
پرویز مشرف ایک رویے کا نام جو اب بھی باقی ہے۔ تحریر: چودھری احسن پریمی،اے پی ایس
صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب سے قبل تلاوت کی گئی قرآنی آیت کا ترجمہ ہے " اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑھائی نہیں چاہتے اور نہ فساد چاہتے ہیں اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لئے ہے سو جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں لے آنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے وہ عمل کیا کرتے تھے"۔ سبکدوش ہونے والے صدر پرویز مشرف نے پیر کے روز قوم سے اپنے تقریبا پچاس منٹ دورانیے کے خطاب میں اپنی عدلیہ کی آزادی سلب کرنے ، لال مسجد آپریشن ، قبائلی علاقوں میں بمباری اور سینکڑوں پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق کوئی ذکر نہ کیا ۔ وہ اپنی تقریر کے دوران معاشی پالیسیوں جمہوری کاوشوں اور تعمیر وترقی سمیت 9 سالہ دور حکومت کے کار ہائے نمایاں گنواتے رہے ۔ جبکہ ان کی تقریر میں بعض جملے خالصتا مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف سے سخت نفرت اور رنج کا اشارہ دے رہے تھے۔بالآخر 18 اگست کو صدر جنرل پرویز مشرف مستعفی ہو گئے حالانکہ وہ کہتے رہے کہ مستعفی نہیں ہوں گے ۔اٹھائیس نومبر دو ہزار سات کو پاکستان فوج میں جنرل مشرف کا تقریباً چھیالیس سالہ عسکری کیرئر، جس میں نو برس بری فوج کے سپہ سالار کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں، بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اس موقعہ پر جنرل مشرف نے کہا کہ ملک کا وجود فوج کے بغیر ممکن نہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج اس وقت دباو¿ میں ہے۔ فوج پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھٹکے ہوئے عناصر ہیں جو نہیں سمجھتے کہ پاکستان کی سالمیت و ترقی میں فوج کا اہم ترین کردار ہے۔‘ جنرل مشرف نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’اس بات کا افسوس ہے کہ کل فوج کی کمان میں نہیں ہوں گا۔ یہ فوج میری زندگی ہے۔ یہ فوج میرا جنون ہے۔ اس فوج سے میں نے محبت کی ہے۔ یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا لیکن میں وردی میں اب نہیں رہوں گا۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ نئے صدر کے حوالے سے اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں مل کر کریں گی۔ عوام کو امید ہے کہ حکمران اتحادعنقریب عوام کو ججوں کی بحالی کی خوشی کی خبر بھی سنائیں گے۔وکلاءملک بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے استعفے کے ساتھ ہی معیشت میں کیابہتری آتی ہے۔ اگر مشرف کے جا نے کے بعد بھی نا انصافی، بے روز گا ری ، مہنگائی، آٹے و بجلی کا بحران جاری رہتا ہے تو عوام یہی سمجھتے رہیں گے کہ مشرف ایک رویے کا نام تھا جو مشرف کے جا نے کے بعد بھی قائم دائم ہے کیونکہ حکمران اتحاد کسی شخص کے خلاف مواخذہ نہیں کر رہی تھی بلکہ اس سوچ کے خلاف کر رہی تھی جو آئین کے خلاف ہے۔ حکمران اتحاد یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انھوں نے فی الفور ملک اور عوام کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں و معزول ججز کو بحال نہ کیا یا کوئی اور ہشیاری چالاکی کی تو معزول ججز ،وکلاءمیڈیا اور عوام جس کی وجہ سے آج مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہے۔یہی ہاتھ حکمرانوں سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ملک عوام کا ہے کسی کی نہ تو ذاتی جا گیر ہے اور نہ ہی کسی کے باپ کا ہے۔اگر حکمرانوں نے مذکورہ بحران و چیلنجز پر کو ئی اگر مگر کر نے کی کوشش کی تو یہ بھی ایک خدشہ ہے ایک بار پھرخون خوار ما رشل لاءبھی آ سکتا ہے۔ امید ہے کہ جمہوری ملک کے غیر جمہوری سیاستدان یہ نوبت نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا۔انہوں نے اپنا استعفیٰ قومی اسمبلی کی سپیکر کو دیا ہے۔ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو قائم مقام صدر ہوں گے اور آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذہ جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بحران سے پاکستان کو نکا لنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ صدر مشر ف نے فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے کردار کو سراہا اور انہیں سیلوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی دعائیں، بچوں اور بیگم کی مدد ان کی طاقت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔ پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔ صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔ ضیاءالحق سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ صدر مشرف نے اٹھارہ اگست کو استعفیٰ دیا۔صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ پندرہ ستمبر تک اعلی عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو ملک بھر کے کلیدی مقامات پر دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معزول جج پندرہ ستمبر سے پہلے بحال ہو جائیں گے۔ گذشتہ جمعہ کے روز اسلام کے جڑواں شہر راولپینڈی میں وکلاءکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد راو لپنڈی ہائی کورٹ بار میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے بتایا تھاکہ اعلان اسلام آباد کے مطابق حکمران اتحاد صدر کے مواخذے کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کو تین دن کے اندر بحال کرنے کا پابند ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر صدر مشرف کے مواخذے میں تاخیر ہوتی ہے اور پندرہ ستمبر تک ججوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انیس جولائی دو ہزار آٹھ کو آل پاکستان وکلاءکانفرس میں کیے جانے والے فیصلے کے مطابق ملک گیر دھرنے دیے جائیں گے اور دھرنے کو آہستہ آہستہ سول نا فرمانی کی تحریک میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اعلان اسلام آباد کا معاملہ بھی اعلان بھوربن جیسا ہوگا لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ حکمران اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمام ججوں کو بحال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان اسلام آباد کے بعد اب آئینی پیکج کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اور معزول ججوں کو اعلان بھوربن کے تحت انتظامی حکم نامہ کے ذریعے بحال کیا جائے۔ انہوں نے وکلاءکی طرف سے عوام سے درخواست کی کہ جس دن صدر مشرف کے مواخذے کی قرارداد منظور ہوتی ہے یا وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ملک بھر میں یوم نجات اور جشن منایا جائے۔ اعتزاز احسن نے صدر کے مواخذے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا تھاکہ کسی عدالت کو یہ آئینی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مواخذے کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری کرے اور اگر ایسا اقدام اٹھایا جاتا تو اس کی بھر پور مذمت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وکلاءکو یہ خدشہ تھا کہ صدر کے مواخذے میں تاخیر کی جائے گی لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ان کے خلاف قرداد منظور ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ صدر کا مواخذہ جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا احتساب کیاجائے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نو اکتوبر سے بارہ اکتوبر تک انٹرنیشنل کانفرس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرس میں ایک بہت بڑی تعداد میں وکلاءاور جج شرکت کریں گے۔ ججوں کی بحالی کے ل وکلاءتنظیموں کی جانب سے انیس جولائی کو حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی جس کے بعد وکلاءکی ایکشن کیمٹی کا اجلاس جمعہ کو ہوا جس میں جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، رشید اے رضوی سمیت دیگر وکلاءرہنماوں نے شرکت کی۔ واضع رہے کہ اس پہلے وکلاء رہنما حکمران اتحاد سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صدر مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جاتا۔کونڈولیزا رائس نے کہا کہ صدر مشرف امریکہ کے اچھے اتحادی ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر مشرف کو سیاسی پناہ دینے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ صدر مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی نفاذ کرنے کے فیصلے کے خلاف تھا لیکن انہوں نے وردی اتارنے کا اپنا دعدہ پورا کیا اور اب پاکستان میں ایک جمہوری حکومت ہے۔ صدر پرویز مشرف نے صوبائی اسمبلیوں کی طرف قراردادیں منظور کیے جانے کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کیا ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صدر مشرف سے ملاقات کے بعد کہا انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ صدر مشرف نے ان سے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں بھی مشورہ کیا۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ ان کی دانست میں تو اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر حکمران جماعت صدر مشرف پر مستعفیٰ ہونے کے لیے دباو¿ بڑھا رہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم ر ہنماءاور سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے اپنا یہ واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو اب صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ صدر ایک وفاق کی علامت ہوتا ہے لیکن جب وفاق کی اکائیاں ہی پرویز مشرف کو پسند نہیں کرتیں اس لیے انہیں ان صوبائی اسمبلیوں میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں کہا گیا ۔ رضا ربانی نے کہا کہ اگر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوتے تو پھر آئین کے ارٹیکل 47 کے تحت ا±ن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں حکمراں اتحاد کے پاس تعداد پوری ہے۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا تھا کہ صدر کے خلاف تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ا±سے آئندہ ایک دو روز میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کے حوالے کردیا جائے گا اور اسے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کردیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صدر کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا قانونی پہلوو¿ں سے جائزہ لینے کے بعد ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کردیا۔پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ پاکستان ٹیلی ویڑن اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ایوان صدر اسلام آباد سے صدر پرویز مشرف کے قوم سے براہ راست خطاب کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ پی ٹی وی کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کا خطاب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ایک بجے پی ٹی وی سے براہ راست نشر کیا جائے ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صدر قوم سے براہ راست خطاب کریں گے۔ براہ راست تقریر نشر کرنے کے لیے ٹیکنیکل سٹاف ایوان صدر میں انتظامات کر رہا تھا ۔ پی ٹی وی نے تکینکی وجوہات کی بناء پر ایوانِ صدر کے حکام سے صدر کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کرنے اور پھر اسے نشر کرنے کی تجویز دی تھی۔ ماضی میں ہمیشہ صدر اور وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کو پہلے ریکارڈ کیا جاتا تھا اور پھر اسے نشر کیا جاتا ۔ تاہم ایوانِ صدر نے اس بات پر اصرار کیا کے صدر اپنے قوم سے خطاب کو ریکارڈ نہیں کروانا چاہتے اور وہ براہ راست قوم سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء ایوان صدر نے پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن چینلوں کی ٹیموں کو بھی آرمی ہاو¿س راولپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی ۔ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف قوم سے خطاب کر رہے تھے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس خطاب کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس اچانک قوم سے خطاب کا محور ان کے اپنے مواخذے کی وہ تحریک ہوگی جس کے لیے حکمران اتحاد کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں۔ حکمران اتحاد کی جانب سے پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف نے تیرہ اگست کی شب ایوان صدر میں جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے مواخذے کی تحریک کا تذکرہ کیے بغیر مفاہمت کی سیاست پر زور دیا تھا۔ پیر کی صبح صدر پرویز مشرف کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ وہ استعفی دینے کی بجائے مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق صدر نے یہ بات متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کہی۔ یاد رہے کہ حکمران اتحاد کے رہنما صدر کو مسلسل یہ مشورہ دے رہے کہ وہ مواخذے کی تحریک سے قبل خود ہی رخصت ہوجائیں تو بہتر ہے۔تاہم صدارتی ترجمان میجر جنرل راشد قریشی اور صدر کی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے تواتر سے یہ بیانات آئے ہیں کہ صدر کا استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ معاشی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔یوم آزادیِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ پروگرام کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اختلافات بھلا دینے چاہیں‘۔ان کوحکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے بد عنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے کے لیے دباو¿ کا سامنا تھا۔ جمعرات کو جشن یوم آزادی کے حوالے سے ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھاکہ ’میں ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام عناصر سے مفاہمت کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کی جانب توجہ دے سکیں‘۔ ’ہمارے مخالفین مختلف سمتوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں‘۔صدر مشرف نے ملک کے دفاع کے حوالے سے کہا تھاکہ ’ہماری افواج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں‘۔صدر پرویز مشرف نے اپنا یہ خطاب ایسے دن کیا تھاکہ جب ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سرحد اور سندھ نے بھی ان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔ صدر کو اب مواخذے سے بچنے کے لیے ایک مشکل جنگ سے گزرنا پڑا۔صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے بتایا تھاکہ ’صدر مشرف کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور مواخذے کی تحریک کے خلاف لڑیں اور یا اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر جائیں‘۔ ’اگر وہ مواخذے کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی بھر پور حمایت کریں گے اور ہم اسی کو ترجیح دیں گے‘۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی پاکستانی لیڈر کا مواخذہ نہیں ہوا لہذا اگر یہ مواخذہ ہوتا ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کیونکہ حکمران اتحادی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مواخذے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد موجود ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔ اگرچہ پاکستان کے صدر کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیا ل تھا کہ وہ اس کو استعمال نہیں کریں گے۔ جب سندھ اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی گئی تو صوبائی اسمبلی میں صدر مشرف کا دفاع کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ ایم کیو ایم اور اپوزیشن کے اراکین ایوان میں غیر حاضر رہے۔ حکمران جماعت نے ایم کیو ایم کے اس عمل کو ان کے موقف کی حمایت قرار دیا ۔اس کے بعد صوبائی وزیر نے قرار داد پیش کی جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الیکٹرول کالج سے اعتماد کا ووٹ لیں یا مستعفی ہوجائیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے توان کا مواخدہ کیا جائے۔ قرار دادا پیش ہونے کے بعد صوبائی وزیر شازیہ مری، سیف اللہ دہاریجو، ایاز سومرو، رفیق انجنیئر، شہلا رضا اور پیر مظہرا لحق نے اپنی تقریر میں صدر پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کا قاتل قرار دیا اور کہا کہ وہ اس قرار داد کے ذریعے ان سے انتقام لے رہے۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان پر تشدد ، بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان اور ملکی صورتحال کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو قرار دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبائی اسمبلی کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو اس کے بعد ملکی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہوں گے۔ مقررین کے مطابق سندھ اسمبلی نے اس سے قبل ملک بنانے کے لیے قرار داد منظور کی تھی اور آج ملک بچانے کی لیے یہ قرار منظور کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ پنجاب، سرحد اور اب سندھ اسمبلی صدر مشرف کو جانے کے لیے کہہ چکی ہیں مگر وہ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صدر مملکت جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران استعفےٰ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی جشن کا سماں پیدا ہو گیا ۔ استعفیٰ کا اعلان کرتے ہی ہزاروں سیاسی و مذہبی کارکنان ‘ وکلاء ‘ تاجر ‘ طلباء ‘ مزدور اور سول سوسائٹی کے ارکان سڑکوں پر نکل آئے ۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت مسلم لیگ ( ن ) ‘ پیپلزپارٹی ‘ جماعت اسلامی ‘ تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی و مقامی دفاتر ‘ اراکین اسمبلی کے پبلک سیکرٹریٹ بڑے تجارتی و کاروباری مراکز بوائز کالجوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر جشن ریلیاں نکالی گئیں ۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اس موقع پر زبردست ہوائی فائرنگ اور آتشبازی کے مظاہروں کے علاوہ پرویز مشرف کے علامتی جنازے نکالے گئے ۔ پرویز مشرف کے آخری صدارتی خطاب کے دوران کوئی تعطیل نہ ہونے کے باوجود سڑکوں پر ہو کا عالم رہا اور ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ پرویز مشرف کا آخری خطاب سننے کے لئے درجنوں اور بیسیوں شہری الیکٹرانکس کی دکانوں اور ہوٹلوں ‘ سرکاری و نجی دفاتر میںجمع رہے ۔ تاہم مستعفیٰ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی حاضرین و ناظرین خطاب کو بھول کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ جا بجا شہری اور سیاسی کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے استعفیٰ کے اعلان کے ساتھ فون کالوں اور ایس ایم ایس کے ذریعے مبارک بادوں کی وجہ سے موبائل سسٹم انتہائی معروف اور جام ہو کر رہ گیا ۔ ر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہوتے ہی پاکستانی روپے کی قیمت میں 1.20 روپے اضافہ ہو گیا جبکہ سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، انڈکس 100پوائنٹ سے یکدم 400 پوائنٹ پر پہنچ گیا ۔ مشرف کے استعفےٰ سے ملک میں بے یقینی بے چینی کی صورتحال ختم ہوتے ہی پاکستانی کرنسی میں استحکام آگیا۔اے پی ایس
Posted by Associated Press Service at 6:49 PM 0 comments
پاکستان بھر کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے

پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک ہی خبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے ایسا کم ہی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے استعفی کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی چھائی رہی۔پاکستانی اخبارات نے تو اس خبر کو بینر ہیڈلائنز، متعلقہ تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ سجایا ہے۔ اردو اخبار ایکسپریس کی سرخی ہے ’عوام کی جیت، مشرف نے ہتھیار ڈال دیے‘۔ تاہم انگریزی اخبار دی نیوز نے شہ سرخی کے لیے عبارت چننے میں کافی سخت جملے کا انتخاب کیا اور وہ یہ کہ ’مش کوئٹس ود ٹیل بٹوین ہز لیگز‘ یعنی مشرف دم دبا کر بھاگ گئے۔ لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے صدر کی رخصتی کو ’گوئنگ، گوئنگ، گان‘ جیسی عبارت سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی اخبار نے اپنی ادارتی صفحے پر ایک کارٹون میں ہاوس فل سینما گھر میں سکرین پر مشرف کی فلم کا ’دی اینڈ‘ ہوتے دکھایا ہے۔ آج کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے تو ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا۔ خبر کے علاوہ اس تاریخی فیصلے پر رائے زنی اور اس کے تمام پہلوو¿ں کا احاطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریے ’ایگزٹ مشرف‘ میں لکھا ہے کہ سابق صدر مشرف نے معیشت کی بہتری کے لیے جو بھی اچھے برے اقدامات کیے ہوں لیکن وہ ریاستی اداروں جیسے کہ پارلیمان، عدلیہ اور نوکرشاہی کو مضبوط کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جو بالآخر ان کے جانے کی بڑی وجہ بھی بنے۔ ڈیلی ایکسپریس نے اداریے میں حکمراں اتحاد کو خبردار کیا ہے کہ پرویز مشرف کے جانے سے اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اب اسے بھرپور پوری توجہ دینی ہوگی۔ دی نیوز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ صدر کے جانے سے اب حکمراں اتحاد کے پاس ناکامی کی کوئی وجہ نہیں رہی۔ اخبار نے اس سارے تنازعے میں فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ صدر کی سب سے بڑی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنماوں کے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے اس فیصلے کو ملک، قوم اور عوام کے مفاد میں قرار دیا ہے۔ ایک اخبار کی خبر کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور سینٹر نثار میمن کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کو استعفے کی خبر سن کر زاروقطار رونے لگیں۔ یاد رہے کہ ماروی میمن چند روز قبل ہی صدر سے ملی تھیں اور ان کے استعفے کی خبروں کو انہوں نے غلط قرار دیا تھا۔ ایک اور خبر کے مطابق پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک سابق فوجی نے صدر کے استعفے پر غصے میں اپنا ٹی وی بھی توڑ دیا۔ ڈان نے ایک کارٹون میں صدر کی جانب سے اپنی کرسی خالی کرنے پر مختلف لوگوں کے اس کی جانب لپکتے ہوئے دکھایا ہے۔ نیا صدر کون ہوگا اس بارے میں بھی اخبارات نے قیاس آرائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس بابت مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور، فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی، استفندیار ولی، جسٹس ریٹائرڈ سعیدالزمان صدیقی اور بلوچ قوم پرست رہنما عطا اللہ مینگل پیش پیش ہیں۔ نیا صدر کون ہوگا؟ یہی سوال آئندہ چند روز تک اخبارات کے کالم بھرنے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔
Wednesday, July 2, 2008
ایک اور انکار….. باعث افتخار..تزئین اختر کا کالم رائے عامہ

بدھ 18 جون کوجب امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نیشنل لائبریری آڈیٹوریم میں روٹس (Roots) انٹرنیشنل کالج کی تقریب تقسیم اسناد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کیلئے جارہی تھیں تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہاں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دارالحکومت کے صحافی اکثر سفارتی تقریبات میں مدعو ہوتے ہیں جب یہاں مقیم سفیر حضرات اپنے ممالک کے خاص ایام کے سلسلے میں استقبالیہ وغیرہ منعقد کرتے ہیں ان تقریبات میں دوست ممالک کے سفیروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی نمائندگی کیلئے دو تین وزیر بھی لازمی شرکت کرتے ہیں ۔ سرکاری افسر معززین شہر بھی نظر آتے ہیں ۔ ایسی تقریبات میں امریکی سفیر کی آؤ بھگت ہم دیکھتے رہتے ہیں ہمارا مشاہدہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ امریکی سفیر کے قریب ہونے کی خاطر کس طرح چھوٹی چھوٹی کوششیں کررہے ہوتے ہیں اور سفیر محترمہ کس طرح ہر ایک کو شک کی نگاہ سے ، ڈری ڈری دیکھتی ہیں جیسے ان سے بات کرنے کی کوشش کرنے والا کہیں اسامہ کا کوئی ساتھی نہ نکل آئے۔ اس میں ان کا قصور نہیں حالات واقعی ایسے ہیں اوپر سے وہ مرد بھی نہیں عورت ہیں اور عورتوں کے دل تو بہت نازک ہوتے ہیں ۔ وہ جلد خوفزدہ ہوجاتی ہیں ۔ پتہ نہیں پاکستان اور امریکہ کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں جبکہ دونوں طرف دہشت گردی کے حوالے سے حالات خراب تھے دونوں جگہ عورتوں کی بطور سفیر تعیناتیاں زیادہ ہ ہوتی رہیں ۔ ہم نے پہلے محترمہ عابدہ حسین کو اور پھر محترمہ ملیحہ لودھی کو سفیر بنایا اور امریکہ نے وینڈی چیمبر لین، نینسی پاؤل اور اب این ڈبلیو پیٹرسن کو بھیجا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے خیال یہ ہو کہ دہشتگرد کچھ تو لحاظ کریں گے اس لئے خواتین کو آگے کر دو۔ پاکستان نے تو خیراپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔ دہشت گردی کے سخت حالات میں جرنیلوں کو سفیر بنایا۔ جنرل جہانگیر کرامت اور میجر جنرل محمود علی درانی اور اب حسین حقانی ہماری نمائندگی کررہے ہیں مگر امریکہ کی طرف سے خواتین کی تعداد زیادہ آرہی ہے۔ امریکی سفارتخانے کے دیگر سٹاف میں بھی خواتین غالب ہیں خیر ہم یہ بات صنفی امتیاز کے حوالے سے نہیں کررہے بلکہ اوپر بیان کرآئے ہیں کہ دہشت گردی کے شکار اور اس کے خلاف برسرپیکار علاقوں میں خواتین کو نہ بھیجا جائے تو مناسب ہے ورنہ ان کی آنکھوں میں وہی خوف رہے گا جو موجودہ امریکی سفیر کی آنکھوں میں نظر آتا ہے۔ ایک خوفزدہ شخص کیوں کر اپنے فرائض درست طورپر ادا کرسکتا ہے؟۔ اس سے پہلے بات ہورہی تھی آؤ بھگت کی کہ امریکی سفیر جب سفارتخانے سے نیشنل لائبریری روانہ ہوئی ہوں گی تو یقیناً ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ کوئی شخص ان سے ہاتھ ملانے اور مخاطب ہونے کا شرف حاصل کرنے سے انکار بھی کرسکتا ہے مگر یہ ہوا اور وہ اس وقت ہکا بکا رہ گئیں جب سٹیج سے صمد خرم کا نام پکارا گیا وہ سٹیج پر آئے سفیر کی طرف بڑھے۔ پرنسپل نے ان کا سرٹیفکیٹ مہمان خصوصی کو پیش کیا۔ سفیرمحترمہ نے سرٹیفکیٹ لے کر مسکراتے ہوئے صمد خرم کی طرف دیکھا جوان کے قریب پہنچ چکے تھے۔ سفیر نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھا دیا مگر اس لمحے صمد خرم کے ذہن میں کچھ اورتھا وہ سفیر محترمہ اوران کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف کوئی توجہ دیئے بغیر سیدھے ڈائس کی طرف چلے گئے۔ سفیر کے لئے یہ انتہائی غیر متوقع بات تھی۔ یور ایکسیلینسی کہہ کہہ کر جھک جھک کے ملاقات کرنے والوں کی جنہیں عادت پڑ گئی ہو ان کے لئے ایک طالب علم کی یہ حرکت کتنی ناگوار ہوسکتی ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ابھی سفیر اسی کیفیت میں تھیں کہ ڈائس سے صمد خرم نے شرکائے مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے اس اقدام کی وضاحت کی کہ وہ محترمہ سفیر کے ہاتھوں سرٹیفکیٹ لینے سے اس لئے انکاری ہیں کیونکہ ان کے ملک کی فوج ہمارے علاقوں پر حملے کررہی ہے اور ہمارے لوگوں کو شہید کررہی ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں ۔ شرکائے تقریب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں ۔ ہمیں یقین ہے انہوں نے صمد خرم کو اس احتجاج پر شاباش بے شک نہ دی ہو مگر ممتا بھری نظر سے ضرور دیکھا ہوگا جیسے کہہ رہی ہوں ’’جیتے رہو بیٹے۔‘‘10 جون کو امریکی فوج نے قبائلی علاقے میں پاک افغان بارڈرپر حملہ کیا تھا اس پر آئی ایس پی آر نے شہیدوں کی تعداد صرف 10بتائی جبکہ آزاد ذرائع کی معلومات کے مطابق اس حملے میں 30پاکستانی شہید ہوئے جن میں آدھے فوجی اور آدھے سویلین تھے یقیناً امریکی فوج کو بھی یقین تھا کہ ان کے اس اقدام پر حکومت یا پاک فوج سے کوئی نہیں بولے گا۔ یہ ہماری روایت بن چکی ہے ورنہ 10جون کو ہونے والا حملہ کوئی پہلا حملہ تونہیں تھا۔ باجوڑ مدرسے پر امریکی حملے میں 80 طلباء کی موت قوم کے حافظے میں آج بھی زندہ ہے اور اس بیچ متعدد بارمزید حملے بھی ہوتے رہے مگر دفاعی وخارجی امور کے ذمہ داروں کی طرف سے ہر بار احتجاج کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ احتجاج کم اور التجا زیادہ تھی جیسے کہہ رہے ہوں ’’ سر پلیز۔ اب جانے دیں ‘‘۔ سو جیسے امریکی سفیر کو اس تقریب میں ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی ویسے ہی امریکی فوج کو بھی پاکستانی علاقوں پر حملے اور بے گناہ پاکستانیوں کے قتل سے پہلے ایسا کوئی ڈر خطرہ نہیں ہوتا کہ آگے سے کوئی جواب بھی آسکتا ہے۔ شاید اللہ تعالی نے یہ کام کسی اور ذمہ دار کے نصیب ہی میں نہیں لکھاتھا۔ اور اللہ تعالی تو قادر مطلق ہے۔ وہ چیونٹی سے ہاتھی اور ممولے سے باز کو بھی مروا سکتا ہے۔ وہ ایک چڑیا کی چونچ کے قطرہ پانی سے آتش نمرود کو سرد بھی کروا سکتا ہے اور وہ ابابیلوں کے معمولی غول کی پھینکی ہلکی پھلکی کنکریوں سے ابرہہ کے مست ہاتھیوں کے بدمست لشکر کو گلے سڑے گوشت اور کھائے ہوئے چارے میں بھی بدل سکتا ہے اور ایک طالب علم طفل مکتب سے انکار کرواکر دنیا کی سپر پاور کو پانی پانی بھی کرسکتا ہے۔صمد خرم کے اس جراتمندانہ اقدام پر ہر پاکستانی انہیں مبارکباد دے رہا ہے۔ براس ٹیک (Brasstack) کے زید حامد نے صمد خرم کو دعا دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ماشاء اللہ جب تک ہمارے ہاں آپ جیسے نوجوان موجود ہیں جن کے دل بھی جوان ہیں اور جو قوم کی عزت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں انشاء اللہ ہماری قوم اور پوری امت مسلمہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔سٹریٹجک امور کے ماہر نوجوان صحافی احمد قریشی نے لکھا ہے کہ صمد خرم نے وہ کام کردکھایا جو حکومت اب تک کرنے سے ڈرتی رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے موقع پر موجود میڈیا (الیکٹرانک چینلز) اور والدین وطلباء کی بڑی تعداد کی طرف سے صمد خرم کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔محترمہ شبانہ فاطمہ نے صمد خرم کو دعا دی ہے کہ اللہ آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔حسن شبیر نے بھی صمد خرم کو پوری قوم کے لئے فخر کا باعث قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ نے ہمارے دل جیت لئے اللہ آپ کی حفاظت کرے۔شاہ رضا لکھتے ہیں صمد خرم آپ کے اس اقدام پر میں آپ کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ آپ کے حوصلے کی وجہ سے آپ میرے لئے بہت پیارے ہوگئے ہیں اللہ آپ کے تمام خواب سچے کرے۔ذیشان علی نے لکھا ہے ’’ویل ڈن (Well Done) صمد۔ میڈیا ان کے اقدام کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرے۔صمد خرم امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور مذکورہ تقریب میں ڈگری لینے آئے تھے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ ایک طالب علم کیلئے ڈگری کتنی اہم ہوتی ہے اور جب ڈگری ہاورڈ کی ہو تو وہ کسی کسی کے نصیب میں آتی ہے مگر یہ حوصلہ اور ہمت صمد خرم ہی کے حصے میں آئی کہ اس نے وطن کی خودمختاری اور اہل وطن کی عزت کو مقدم جانتے ہوئے یہ ڈگری امریکی سفیر سے لینے سے انکار کر دیا۔ ہمیں یقین ہے صمد خرم کے اس انکار کی گونج اس طرح پوری دنیا میں سنائی دے گی جس طرح جسٹس افتخار کے ایک انکار نے پاکستان کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ صمد خرم کا انکار بھی ہمارے لئے باعث افتخار ہے اور امریکہ کیلئے ایک للکار ہے جسے وہ جتنی جلد سن اور سمجھ لے اتنا ہی اچھا ہے۔
Friday, June 20, 2008
News in english/urdu
Thursday, June 19, 2008
Ash gets catty with Kat
KATRINA KAIF has come a long way from just being known as Salman Khan’s girlfriend.Recently Kat, as she’s fondly called, has been voted as the sexiest woman in the world by UK-based international magazine FHM and guess who’s all flustered with this news? Salman’s ex- girlfriend and Bachchan bahu, Aishwarya Rai Bachchan!Sources say that Katrina getting international recognition has upset Aishwarya who is seething with anger and grumbling about Katrina.Our source reveals, “Ash is extremely jealous that Katrina has been voted the sexiest woman in the world because she sees it as a threat to her position in Hollywood. She has been trying to make a mark in foreign movies for a long time but to no great avail and she sees Katrina as big competition. Marriage may have made Ash secure but only in her private life. In her professional life Ash still wants to be Hollywood’s numero uno Indian actress. No actress from time immemorial wants to be ‘replaced’. Their egos get damaged.”Yet another industry insider reports, “Ash was telling a close friend that ‘many of these girls pay money to be on these fancy lists and it doesn’t mean anything’.A strange remark to make. Wonder if Ash was talking about the time when she was chosen by Time magazine as one of the worlds 100 Most Influential People?Had it been any other Bollywood actress maybe Ash wouldn’t be this green with envy, but Kat is after all the gorgeous girlfriend of Ash’s ex boyfriend, Salman Khan!Cat fight in the makingKatrina who is aware of Ash’s remarks is positively annoyed.The usual diplomatic actress has this to say about Ash’s failed Hollywood endeavours, “She keeps talking about big international movies but has anybody actually seen any of her films? It’s her publicist and manager in Hollywood that keeps spreading these false tales about how hot she is internationally!” Seems a fresh cat fight is on its way???Apart from the Salman angle, Katrina and Ash have two other things in common. Both the girls were successful models before entering Bollywood and both have been the face of the cosmetic brand Lakme.After a much publicised break-up with Salman, Ash dated Vivek Oberoi briefly and then went on to marry Abhishek Bachchan.All this while Ash’s career in Bollywood soared high and she even became an international celebrity after she started attending the Cannes Film Festival and was featured on the cover of Time magazine.Katrina on the other hand, was a UK based model trying her hand in Bollywood when she met Salman who was down and out post his break-up with Ash. Kat consoled Salman and soon the two became a couple. Being Salman’s girl came with a lot of fringe benefits, one of them being an easy entry into Bollywood.Katrina’s meteoric rise in Bollywood is nothing less than a miracle! She has done about half-a-dozen films, yet, she hasn’t picked up Hindi and all the diction classes haven’t helped.But despite all this Katrina has starred in some of the biggest box-office hits in the past two-years such as Namaste London, Partner and Welcome.While she didn’t have much to do in these films, nevertheless producers have noticed her box-office value. In fact, trade buzz is that Katrina is the second highest paid actress in Bollywood after Kareena Kapoor.She definitely is the highest paid actress to have done an item number in a film for a whopping Rs1.5 crores! Her future films include a YashRaj film, a Rajkumar Santoshi film opposite the hot Ranbir Kapoor, Vipul D Shah’s Singh is Kinng and Yuvraaj.Katrina has also formed a successful on-screen pairing with Akshay Kumar, with producers vying to sign the two actors as a couple.Akshay is one of the most sought after actors in Bollywood giving solo hits.While boyfriend Salman Khan doesn’t appreciate Katrina doing films with Akshay, Kat seems to be less than concerned and is open to working with most actors. She even considered signing a film opposite Shahid Kapoor though Salman doesn’t like Shahid much. Kat is thus making it clear that she is her own person.Married versus singleAsh on the other hand isn’t at the best phase of her career right now as she is a married woman.Marriage to Abhishek Bachchan did open a lot of doors within the industry but she also has the responsibility of being the Bachchan bahu which means no hot roles and no more sexy scenes. Her smooch with Hrithik Roshan and the sexy clothes in Dhoom 2 hadn’t gone down too well with mother-in-law Jaya Bachchan.More recently she had to refuse Karan Johar’s Dostana opposite her hubby Abhishek because the role required her to be hot and sexy and romance two guys.Katrina on the other hand doesn’t have any such issues. Apart from all this, Bollywood isn’t too kind to married actresses and producers see them more as a liability.To top it even age isn’t on Ash’s side, she’s in her early 30’s while Katrina is only 23 and has a much longer shelf life!Any wonder that Ash is getting insecure and edgy with Katrina’s rising fame!
Posted by Associated Press Service at 11:16 PM 0 comments
Hamas calls on West to end boycott, as Gaza truce takes hold
GAZA CITY - A fragile truce took hold in the Gaza Strip Thursday, ending, for the time being at least, months of deadly violence and prompting Hamas to call for an end to the Western boycott against it.The truce - the result of months of indirect, Egyptian-led negotiations between Israel and the radical Islamic movement ruling Gaza - took effect at 6 am (0300 GMT) Thursday morning.But flexing their muscles in the hours before the deadline, Palestinian militants launched 32 rockets and more than 10 mortar shells at southern Israel, a military spokesman said Wednesday.Israel launched an airstrike at one group of the rocket launchers in the central Gaza Strip before dawn Thursday, killing a Hamas militant just one hour and a half before the truce began.After the truce took effect, an Israeli naval vessel also fired warning shots Wednesday morning at Palestinian fishing boats, which the military said had drifted into a 'closed security zone' on the maritime border between the northern Gaza Strip and Israel.Despite the last-minute violence, the truce took precarious hold and no more incidents were reported during its first hours Wednesday.Although Israel negotiated the truce with Hamas indirectly, internal Israeli critics have charged the deal grants legitimacy to the radical Islamic movement and recognition of it as the de-facto ruler of the Strip.Hamas too called on Western leaders 'to change their attitude' toward the movement after it committed to the truce.'We call on the international community to reconsider its decision to impose an embargo on the movement,' Hamas spokesman Sami Abu Zuhri told reporters in Gaza City.But European Union foreign policy chief Javier Solana, although he welcomed the truce, said it was too early to say whether the EU could begin holding direct talks with Hamas, which the bloc considers a terrorist organization.The truce, he nevertheless said in Brussels, could create 'a dynamic that will allow political dialogue to continue.'Israeli Prime Minister Ehud Olmert said Hamas was still a 'terrorist organization,' with which Israel did not and would not hold direct negotiations.'Hamas and the other terrorist organizations have not changed and have not become patrons of peace. These are contemptible and bloodthirsty terrorists,' Olmert told a conference near Tel Aviv.In an interview with The Sydney Morning Herald from Jerusalem published Thursday, he also warned that the truce was Hamas' last chance to avoid a massive military offensive in the Gaza Strip.Olmert was scheduled to travel to Egypt Tuesday, for talks with Egyptian President Hosny Mubarak on the truce brokered by Cairo.The first stage of the three-phase, six-month truce entails a mutual end of hostilities.According to Hamas officials, Israel is to lift severe restrictions on the entry of fuel into the Strip already in the first hours of the truce.As of Sunday, it is to ease restrictions on the entry of other goods.One week after, Cairo is to invite Hamas, Palestinian President Mahmoud Abbas and European Union representatives for talks on a mechanism to open the Rafah border crossing between southern Gaza and Egypt.Israel has made the opening of Rafah conditional on the freedom of Israeli Corporal Gilad Shalit, held captive in Gaza by Hamas for the past two years.Intense, renewed negotiations on his release in exchange for Palestinian militants imprisoned in Israel are to begin simultaneously to the talks on Rafah, with the Israeli official charged with negotiating the prisoners swap, Ofer Dekel, also due to travel to Egypt next week.Shalit's parents have expressed outrage over the truce, saying they were promised by Olmert that Israel would not agree to a deal without securing guarantees for Shalit's release. Their lawyers sent a protest letter to the Israeli premier, threatening to petition to Israel's supreme court against the agreement.Western countries imposed a boycott on Hamas after it won the 2006 Palestinian parliamentary elections, but refused calls to renounce violence, honour past interim agreements calling for a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict, and change its charter to accept Israel's right to exist.Europe and the United States have instead dealt only with Abbas of the rival Fatah party, who was elected in separate presidential elections a year earlier on a platform that did support a two-state solution.After a short-lived unity government with Fatah, Hamas seized sole control of the Gaza Strip one year ago, by ousting security forces loyal to Abbas and Fatah.Since the Gaza take-over, militants have launched more than 4,000 rockets and mortar shells at southern Israel, killing four Israelis. Israel's retaliatory strikes against militants in the densely- populated Strip have killed more than 360 Palestinians.
Posted by Associated Press Service at 11:13 PM 0 comments
Soon PPP man will be President of the country: Zardari
LAHORE : PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari said here Thursday that the days are not far off when a PPP man would be President of the country and the President House would echo with Jiye Bhutto slogans. Speaking at the launching of Jehangir Badar’s book ‘The Evolution of Democracy’ at Aiwan-e-Iqbal he said, “ PPP has history of struggle against dictators and is ready to offer sacrifices for ensuring true democracy in the country.”The function was attended by PPP leaders and intellectuals besides a large number of workers.Amid vociferous slogans of workers he said, “ PPP has the credit of making Pervez Musharraf a civilian president while its struggle against dictatorial forces would continue.”He said PPP is proud of having given supreme sacrifices for the cause of democracy.”Our founder chairman was martyred while Mohtarma Benazir Bhutto also laid down her life for the same cause.”The PPP Co-chairman said it is due to sacrifices by PPP leader and workers that people across the country not only vote for PPP but are prepared to offer every sacrifice for it.He said dictatorial forces in their bid to crush PPP badly failed and those who conspired against PPP and its leaders have eliminated themselves.Asif Ali Zardari said that PPP leaders and workers are committed to the mission of founding chairman for which they can give every sacrifice.He said when first attack was made on Mohtarma Benazir Bhutto’s caravan in Karachi on october 18 many had asked her to do politics by remaining at home like many other politicians. But she refused saying “ I am daughter of Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto and can sacrifice even my life for the cause of my people and democracy.”The PPP Co-Chairman said Benazir was assassinated but her mission is continuing and soon President, Prime Minister and chief ministers would go to Garhi Khuda Bakhsh to make a pledge to accomplish the mission.Amid deafening slogans of ‘Zinda hae BiBi Zinda hae’, and ‘Jiye Bhutto,’ he said PPP is committed to achieving the objective of providing bread, clothes and house to every countrymen.He said the basic aim of the struggle of the party was to ensure betterment of the masses and the march forward in this regard would continue despite any odds.The PPP has faced dictators in the past and if needed its vanguards are ready to face such forces in future.He said it was Bhuttoism that when Benazir was attacked on December 27, PPP workers rushed towards their beloved leader without caring for their lives, instead of fleeing.PPP Co-Chairman said those who intrigued against PPP and committed excesses with its leader to eliminate PPP, were today themselves on the run and are running to different countries.He said PPP believed in democratic norms and wanted to take all political forces along adding that it is for the first time in the history of the country that Chief Executive of Balochistan belonged to PPP.He said PPP leaders and workers would give blood donation on the occasion birth anniversary of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto on June 21 renewing their pledge not to refrain from offering any sacrifice for the cause of democracy.Earlier,Jehangir Badar speaking on the occasion said that he has dedicated his book ‘The Evolution of Democracy’ to Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and its foreword was written by her.Through a resolution which was unanimously approved by people, he said as a mark of respect to struggle and supreme sacrifice offered by Mohtarma Benazir Bhutto, people belonging to all sections of society including workers, lawyers, students, ulema, intellectuals, traders, politicians and members of assemblies demand of the government of Pakistan to declare June 21, birth day of Mohtarma Benazir Bhutto as ‘Quaid-e-Jamuriat Day’ and December 27, the day when she embraced martyrdom as ‘Shaheed-e-Jamuriat Day.”Dr. Mehdi Hassan, an intellectual, speaking on the occasion said that democracy could not flourish in the country because establishment always targeted PPP and hatched conspiracies against it.He said Ziaul Haq executed founder Chairman of the party Zulfiqar Ali Bhutto through judiciary while his widow and daughter were put behind bars and later sent in exile.He said when PPP again came into power with the support of masses after the death of Ziaul Haq in plane crash, again conspiracies were hatched and even IJI was founded to counter PPP.He said now there is coalition government in the country which is new experiment in the political history of the country.He said in a coalition government, partners are responsible for decisions and acts of the government and if a coalition partner behaves like opposition, it causes damage to coalition.He said as per Charter of Democracy signed by Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and Nawaz Sharif any judge who take oath under PCO cannot remain judge.
Posted by Associated Press Service at 11:01 PM 0 comments
PPP does not accept Pervez Musharraf as Constitutional President: Zardari
ISLAMABAD: Co-Chairman of Pakistan Peoples Party, Asif Ali Zardari Wednesday said although PPP does not accept President Pervez Musharraf as constitutional head of state, but indeed he is sitting in presidency as a reality. Speaking with private TV channel (Waqt News) he said, “I have told the friends that Pervez Musahrraf is a ground reality. After all, PPP’s Prime Minister is working with him and he is sitting as President of Pakistan.”Asif Ali Zardari said, PPP launched campaign against him. It was the PPP, which raised slogans against the President.Co-Chairman PPP said, the parliament would decide the future of President Pervez Musharraf in due course of time.To a question he said, views of other political parties would be sought to corporate in the proposed constitutional package.The PPP leader said, media has started a movement for the restoration of the judiciary. He was of the view that the results would have been much better, had it started the movement for supremacy of democracy earlier.He added that the government became more strengthened rather than becoming weak after long march of lawyers.Zardari said, Aitzaz Ahsan led the long march against the party’s policy, but the PPP has not issued-show cause notice to him on this gross violation.He said, the issue of protective custody of Dr.Abdul Qadeer Khan was created by the pervious government and its continuity is still there. But he assured that he would resolve Dr. A.Q Khan issue .He reiterated his party’s position that the strength of the judges has been increased in the finance bill in consultation with Mian Nawaz Sharif.The judges currently working in superior judiciary will remain on their posts on the restoration of the deposed judges, he said adding, “ We are not challenging the position of Mian Nawaz Sharif on the issue”.Asif Ali Zardari said that PPP is still waiting for PML (N) ministers to join federal cabinet. He said, if PPP would also call back their ministers from the Punjab cabinet, then the politics of ‘Chang Mang’ would be restarted.
Posted by Associated Press Service at 10:55 PM 0 comments
Govt committed to press freedom: Sherry
ISLAMABAD: Information and Broadcasting Minister Sherry Rehman on Thursday reiterated that the government was committed to freedom of press and said attack on a private television channel is being probed. Speaking in the National Assembly after a walkout by the journalists from the press gallery, she said Seraiki channel ‘Kook’ in Multan was attacked by some persons and one of them has been arrested.She said on the orders of the Prime Minister an investigation into the incident is being carried out which has revealed that the attack was carried out by private persons.Sherry assured the house that the rest of the attackers would also be arrested.About the ban on two programmes of Geo Television, she categorically stated that the government was not involved.“We are committed to the freedom of press and we have got nothing to do with the forces that have talked to Dubai authorities for a ban,” she stated.Sherry said the government was ready to offer Geo TV landing rights through Pakistan Television and other technical facilities like landing rights which were now available in the country.She said that as already stated by her, there will never be a ban or blackout of any programme on any channel by the present government.
Posted by Associated Press Service at 10:49 PM 0 comments
Pakistan says A Q Khan episode closed, no knowledge of compact weapon design
WASHINGTON : Pakistan Thursday said the A.Q. Khan episode is closed and the country has no knowledge of the design of a compact nuclear weapon, reportedly found in some computers in Switzerland. A Pakistani spokesman in Washington also ruled out direct access to Dr Khan.“Pakistan carried out a thorough debriefing of all involved and shared details with the International Atomic Energy Agency and friends such as the United States.“The network, as much as it was in Pakistan’s jurisdiction, was shut down. The international community, including the United States, has taken steps to shut down other parts of that illegal nuclear proliferation network,” Press Attache, Nadeem Kiani wrote in The USA Today. Spelling out Pakistan’s views in an opinion piece “The Episode is Closed” written in response to an editorial appearing in the newspaper, Kiani stated that Dr. Khan is under house arrest and is suffering from cancer. He has been allowed greater access to the phone and is now allowed to meet with some relatives and close friends. “Even so, he remains under constant guard. There is no letting up of vigilance.”Pakistan, he reminded, has implemented a series of measures, many in consultation with countries such as the United States, to ensure airtight proliferation controls. “Pakistan continues to share any information with its friends and remains vigilant against proliferators. “Direct access to Dr. Khan is not possible because he still knows important details of Pakistan’s strategic deterrent. Being privy to this information is the right of Pakistan ‘s defenders and leaders only.”“Pakistan has no knowledge of the design of a compact nuclear weapon, reportedly found in some computers in Switzerland. Dr. Khan has also expressed ignorance of these.“As far asPakistan is concerned, the A.Q. Khan episode is closed. There will be no repeat of it,” he concluded.
Posted by Associated Press Service at 10:46 PM 0 comments
4 soldiers of Pakistan Army embrace shahadat in firing near LoC
ISLAMABAD: Four soldiers of Pakistan Army embraced shahdat while three others suffered injures when a patrol party came under attack by unknown assailants from a jungle in Buttle sector of Hajira along the Line of Control (LoC) on Thursday. Director General ISPR Major Gen. Athar Abass confirming the news report said that the patrol party of Pakistan Army came under armed attack of unknown assailants from a jungle in Azad Kashmir area. In retaliation to that, he said Pakistan Army responded and cross-fire is continuing till filing of the story.He said the assailants were using small arms.To a question, he said due to the location of the scene nothing could be confirmed about the happening till the finding of the investigations which are being conducted.He said the jungle from where the fire was coming is located inside Pakistan territory but situated along the LoC.
Posted by Associated Press Service at 10:45 PM 0 comments
Presidential spokesman clarifies news item
ISLAMABAD: The Presidential spokesman has termed as totally incorrect a news item appearing in a section of the media that the President had briefed journalists on Wednesday, June 18 in which he is reported to have said that the previous government was responsible for the economic problems that the country is facing today.The spokesman added that the President is of the view that “never has the economy of Pakistan performed as well as it has done in the last 5 years i.e up to mid 2007.”The spokesman stated that it was unfortunate that such fictitious news items were being circulated in the media and remarks were being attributed to the President that he has never made.
Posted by Associated Press Service at 10:43 PM 0 comments
Parliamentarians for slash of President’s allowances
ISLAMABAD: The members of the Lower House of the Parliament Thursday demanded further slashing of allowances of the President, under the head of Charged expenditure. The House discussed the charged expenditure included in demands for grants and appropriations for the year ending on June 30, 2009.The government has demanded an amount of Rs. 353,847,000/- for staff, household and allowances of the President.Opening the discussion, Chaudhry Abdul Ghafoor said that the members can only discuss the charged expenditure “while it can not be amended on our proposals.”He said when the Parliament and Prime Minister secretariats have reduced their budgets then there is no justification for such a huge amount for President who has just a ceremonial role in democratic government.Khurram Dastagir also expressed his displeasure that members of the Parliament can only discuss these expenditures but cannot amend it.He said an amount of Rs. 230 million has been demanded under the head of other expenditure of Foreign Affairs Division which, he alleged would be spent on foreign tours of the President.Sher Baloch said the National Assembly has to approve the charged expenditures despite the fact that our conscience does not allow it.He said while approving such huge funding, we should not forget the people who are suffering badly from poverty.Hamid Saeed Kazmi said the presentation of charged expenditures before National Assembly is futile exercise as the lawmakers have no power to amend it.The Speaker National Assembly made it clear that the passage of these expenditures is constitutional obligation, which can only be amended by the Assembly with the two-third majority of the House.Shamshad Bachani called for slashing the expenditures of President and added that the government should also ensure transparent expenditures of elections because poor arrangements on the polling booths shows the opposite picture.Ahsan Iqbal said the allocation of Rs350 million for President is unjustifiable and added that in years 1998 and 1999, former President Rafiq Tarar had reduced the budget of Presidency from Rs320 million to Rs160 million.
Posted by Associated Press Service at 10:41 PM 0 comments
Judges be reinstated through parliament: Fehmida Mirza
ISLAMABAD : National Assembly Speakder Dr. Fehmida Mirza Thursday said that judges should be reinstated through the parliament. In an interview with private tv channel (Express News), she said a constitutional package would soon be tabled in the parliament.Dr. Fehmida said all laws coming in the way of supremacy of the parliament will be abolished.The Speaker also said that as part of the parliament the President must address a joint session. She said address of the President is a requirement of the constitution and she has also issued a ruling in this regard.She said the Prime Minister would soon send a summary to the president inviting him to address the parliament.To a question she said appointment of heads of standing committees would be started after the budget session.She said the government and opposition are extending full support in running the affairs of parliament. The Speaker said she is not facing any problem in running the house.
Posted by Associated Press Service at 10:28 PM 0 comments
Moral development of students responsibility of teachers: President
RAWALPINDI: President Pervez Musharraf Thursday said the moral development of students is the responsibility of teachers and they should ensure that the young generation understands and rejects corruption and nepotism. He was talking to a delegation of teachers and students of Karachi University who called on him here, according to an official press release.The President, while describing the purpose of education, observed that wholesome education must include overall grooming of a student resulting in intellectual, physical, moral and social development.Talking about good governance, the President said that responsibility of any and all governments is to ensure the security, progress and development of the nation and welfare and well being of its people.The press release said the students were of the view that looking at Pakistan’s history they found that development of the country occurred in two distinct periods of Ayub Khan and President Musharraf and that they were unable to understand the reason as to why governments change policies which are constructive and good just because the government has changed.It said the students also asked questions on different issues of their interest, including media’s role and the future of the National Internship Program (NIP).
Posted by Associated Press Service at 10:22 PM 0 comments
Pakistani forces were not targeted: US
WASHINGTON : The United States is for better coordination between Pakistani forces and international forces on Afghan side of the border, a senior State Department official said while denying suggestions that the U.S. forces targeted Pakistani military in the Mohmand border strike incident last week. Donald Camp, a senior official on South Asian Affairs, was confident that through a joint probe the two countries would get to the bottom of what actually happened.“I can certainly say that there was no targeting of Pakistani military, absolutely not,” Donald Camp a senior State Department official for South Asia told a conference of Pakistani American Congress, where he also acknowledged the country’s massive anti-terror efforts on the Afghan border.Commenting on contents of a New York Times story, Camp said the circumstances of what actually happened in Mohmand tribal border area are still murky. “But the U.S. forces are by no means targeting Pakistani security forces,” he stressed in reply to a question on the incident which resulted in the death of 11 Pakistani personnel deployed on the border post.At the Pentagon, Press Secretary Geoff Morrell said the Pakistani military is “an organization we work very closely with, and we take them at their word. When they tell us that some of their members were killed in that attack—and if that is indeed the case, that is most regrettable and unfortunate, and we express our sympathy to their families.”“That said, this is a matter that still has to be investigated, and we are now in the earliest stages of that investigation.” Camp, who is Principal Deputy Assistant Secretary of State for South Asian Affairs, was confident that the two counties would get to conclusions very soon.Pakistan had reacted strongly to the incident calling it a cowardly action and Islamabad’s envoy in Washington said Tuesday that the unfortunate incident had hurt the Pakistani nation.The New York Times in a dispatch from Islamabad reported that the incident threatened to put on hold a U.S. plan for training of a Pakistani paramilitary force in the border region as some officials saw it a deliberate fire.On Pakistan’s counterterrorism efforts, Camp said, the country has been doing an “enormous amount” in attempting to control its tribal areas along Afghan border.There are more than 100,000 Pakistani security forces in and around the border and that is a very important consideration. “What we have to have is better understanding of what is going on the border, better coordination, that is why I talked about the border coordination centers so that security forces in Afghanistan can talk to security forces in Pakistan so that we have an understanding of what is going on there, trying to avoid the tragic incident that happened in Mohmand area.”I think President “Karzai saying Pakistan can do more or should do more is his personal view,” he replied when asked about Kabul’s recent assertions that Pakistan needs to do more.
Posted by Associated Press Service at 10:14 PM 0 comments
Rs 3290.615 bln Charged Expenditure presented to NA
ISLAMABAD : Minister for Finance Syed Naveed Qamar Thursday presented Charged Expenditure of Rs 3290.615 billion to the lower House of the Parliament. The minister presented these charged expenditure included in the demands for grants and appropriations for year ending on June 30, 2009 as provided under article 82 of the Constitution.These charged expenditure include superannuation allowances and pension, civil works, National Assembly, Senate, Pakistan railways, external development loans, President House, servicing of foreign and domestic debt, foreign loans payment, audit, Supreme court, election and some other departments.As shown in details, the major chunk of the charged expenditure is for repayment of domestic debt, servicing of domestic debt and foreign loans repayment.Charged Expenditure were also discussed by the members in the House with certain recommendations and cut in some of the allocations.
Posted by Associated Press Service at 10:13 PM 0 comments
NA adopts 127 demands for grant worth Rs 1098.849 bln
ISLAMABAD : National Assembly Thursday adopted motions to approve 127 demands for grants worth Rs. 1098.849 billion out of total 179 demands for the fiscal 2009-09. Minister for Finance, Syed Naveed Qamar moved the motions to the House one by one which were adopted with majority vote without discussion as there were no cut motions on these demands for grants.After approval of these demands, the remaining demands out of the total lay out of Rs. 1339.577 billion demands of grants, would be taken up on upcoming days.The demands for grants approved Thursday pertained to Defence, Defence Services, Defence Production, Commerce, Culture, Education, Environment, Finance, Food Agriculture and Livestock, Foreign Affairs, Housing and Works, Industries and Production, IT, Railways, Port and Shipping divisions and Information and Broadcasting, National Savings, Pension and Allowance, FBR and some other divisions and departments.From Friday, the House would take up some of the remaining demands of grants and discuss these demands on opposition’s cut motions.
Posted by Associated Press Service at 10:09 PM 0 comments
بھارتی فوج کی آزادکشمیر کے سرحدی علاقے بٹل پونچھ پر شدید فائرنگ ، ٤ پاکستانی فوجی شہید ٣ فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی
بٹل پونچھ ۔ بھارتی فوج کی جمعرات کے روز آزادکشمیر کے سرحدی علاقے بٹل پونچھ پر شدید فائرنگ جس سے4پاکستانی فوجی شہید 3 فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ علاقے میں خوف وہراس پیدا ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق بٹل پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف سے بھارتی فوج نے دن 11:00بجے بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی جس سے4پاکستانی فوجی شہید اور 3فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارا فوجی قافلہ معمول کی پٹرولنگ ڈیوٹی پر تھا کہ اس پر ایک جنگل سے اچانک فائرنگ شروع کردی گئی جس کے نیتجہ میں دو فوجی موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے تھے جنہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں جام شہادت نوش کیا جبکہ تین فوجی معمولی زخمی بھی ہوئے جنرل اطہر عباس نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد مزید ایک پٹرولنگ قافلہ جائے حادثہ پر بھی بھیجا گیا تاکہ وہ پتہ چلا سکے کہ یہ فائرنگ کس نے کی تاہم تاحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اس واقعہ میں کون لوگ ملوث ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 10:00 PM 0 comments
عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے ۔امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی کا انٹرویو
واشنگٹن :امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو عراق اور افغانستان بنانا ہمارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے۔ہم نے امریکہ سے18 ارب ڈالر کی مدد حاصل ہے ۔امریکہ مخالفت میں ’’ ہتھ ہولا ‘‘ رکھا جائے کیونکہ امریکہ سپر پاور ہے ۔امریکہ سے بہتر تعلقات کیلئے پاکستان میں موجود امریکہ مخالف تنظیموں پر پابندی لگاناہو گی پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ جو تعاون کر رہاہے اپنے لئے کر رہاہے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہو ںنے کہاکہ اپنی خواہش کو فیصلہ بنانے سے معاملات حل نہیں ہوںگے۔پاکستان میں کچھ تنظیمیں امریکہ مخالف ہیں اُن کو ختم کرنا ہوگا انہوں نے کہا جو دوست کہتے ہیں کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت چھوڑ دیں وہ غلط کہتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے لیاقت باغ کے باہر دہشت گردی میں کوئی امریکی نہیں مارا گیا بلکہ ہمارے اپنے ہی لوگ مارے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ آج بھی جب آپ ملک میں سفرکرتے ہیں تو آپ کو کئی دیواروں پر امریکہ مخالف نعرے لکھے نظر آتے ہیں جن میں ’’کل روس کو ٹوٹتے دیکھا تھا اب انڈیا ٹوٹتے دیکھیں گے ، ہم بن کے جہاد کے شعلوں سے امریکہ جلتا دیکھیں گے‘‘ جیسے نعرے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک دم امریکہ سے تعاون ختم نہیں کیا جاسکتا پاکستان کو عراق اور افغانستان بنانا اور صدام حسین جیسے لوگ کھڑے کرنا ہمارے حق میں نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان 1954ء سے امریکہ کا حلیف ہے ۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مدد دی ہے۔دوستوں اور دشمنوں کے درمیان مسائل حل کرنے اور اختلافات کے طریقہ کار مختلف ہوتے ہیں۔ ہم نے امریکہ سے 18ارب ڈالر کی مدد حاصل کی ہے اور جو کچھ کیاہیامریکہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے کیاہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پرائیڈ کے نام پر لوگوں کے جذبات بھڑکانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور لوگوں کو یہ بات بتانی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرہم نے اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا ہوتا تو آج ہم دہشت گردی کو ختم کر چکے ہیں اور امریکہ کو بھی پاکستانی حدود میں مداخلت کا موقع نہ ملتا انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ مخالفت میں ’’ ہتھ ہولا ‘‘ رکھا جائے کیونکہ امریکہ سپر پاور ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جن تنظیموں پر ہم نے پابندی لگائی تھی انہوں نے نئے نام سے تنظیمیں بنا لی ہیں
Posted by Associated Press Service at 9:53 PM 0 comments
بہت جلد صدر پاکستان پی پی پی کا ہوگا اورایوان صدر میں جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔آصف علی زرداری
لاہور ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دعوی کیا ہے کہ بہت جلد صدر پاکستان پی پی پی کا ہو گا اورایوان صدر میں جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔ وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلی کو گڑھی خدا بخش لیکر جاؤں گا اور جئے بھٹو کے نعرے لگواؤں گا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ اور شہادت کے روز کو اپنے خون سے لکھ کر تاریخ رقم کریںگے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان اقبال میں پی پی پی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کی کتاب’’ایولوشن آف ڈیمو کریسی(جمہوریت کا ارتقاء) کی تقریب رونمائی کے موقع پر کیا ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر اور پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن نے بھی خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پی پی پی کے بانی رکن اسلم گورداس پوری نے سرانجام دیئے ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر نے قرار دادمیں حکومت سے مطالبہ کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے یوم پیدائش کو ’’جمہوریت ڈے ‘‘ اور شہادت کے روز کو شہید جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ۔ اس موقع پر جئے بھٹو اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے مسلسل نعرے لگتے رہے۔آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو مر کر بھی زندہ ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر جس نے ذوالفقار علی بھٹو کوختم کیا آج اس کے نام پر اس کی اولادکو بھی کوئی ووٹ نہیں دیتا جبکہ بھٹو شہید کے نام پر آج بھی ووٹ بنک بھرپور انداز میں موجود ہے ۔ بے نظیر کے افتتاحی جلوس میں جیالے جانیں دے کر پچھے نہیں ہٹے بلکہ اس وقت بھی وہ جئے بھٹو کے نعرے لگا رہے تھے اور ثابت کر رہے تھے کہ یزیدوں کا کام یزیدیت کرنا جبکہ ہمارا نصب العین حسینیت کی پیروی کرنا ہے ۔ انہوں نے ہال میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ایوان صدر میں صدر کے منصب پر پی پی پی کا نمائندہ فائز ہو گا اس تاریخی موقع پر بلاول ، بختاور ، آصفہ ، آپ اور میں بھی موجود ہونگے اور جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔عنقریب وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلی کو گڑھی خدا بخش لیکر جاوں گا ۔ فاتحہ خوانی کے بعد جئے بھٹو کے نعرے لگواؤں گا ۔ محترمہ کے افتتاحی جلوس پر جب بم دھماکہ ہوا اور چالیس جیالوں نے جام شہادت نوش فرمایا تو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ محترمہ آپ گھر بیٹھ کر ٹی وی پر سیاست کریں آپ کی جان کو خطرہ ہے مگر محترمہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہوں میری جڑیں عوام میں ہیں ان سے کسی قیمت پر بھی دور نہیں رہ سکتی ۔ جب بھی ملک پر آمر نے قبضہ کیا ہے تو پی پی پی نے ہی اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے سازشیں خوف زدہ ہیں انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ شہیدوں کا قافلہ آچکا ہے وہ خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں انہوں نے سابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو بریگیڈئر اعجاز شاہ کا نام لئے بغیر کہا کہ کوئی آسٹریلیابھاگ چکا ہے تا ہم سب کو حساب دینا ہو گا ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر نے قرار پیش کر کے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 21 جون محترمہ بے نظیر بھٹو کی ولادت کا دن ہے اسے ’’ جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ‘‘ اور 27 دسمبر شہادت کے روز کو ’’شہید جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ۔ اپنی کتاب کے متعلق انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی کتاب کو شہید محترمہ کے نام پر منسوب کر دیا ہے جس میں محترمہ کی زندگی کے مختلف ادوار اور سیاسی زندگی کے متعلق روشنی ڈالی گئی ہے ۔ کتاب محترمہ کی زندگی میں مکمل ہو چکی تھی مگر مصروفیات کے باعث اس کی رونمائی نہیں ہو سکتی تھی ۔ مہدی حسن نے کہا کہ موجودہ دور میں کولیشن حکومت چل رہی ہے جس میں دونوں جماعتوں کو باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے عوام کی خدمت کرنا چاہیے اگر ایک پارٹنر دوسرے پر تنقید کر کے اپوزیشن والا رویہ اختیار کرلے تو کولیشن حکومت کا چلنا ممکن نہیں رہتا جمہوریت کیلئے جتنی قربانیاں پی پی پی نے دی ہیں کسی دوسری جماعت کے حصہ میں نہیں ہیں جس کا گواہ گڑھی خدابخش کا قبرستان ہے ۔ انہو ںنے جہانگیر بدر کی کتاب کے متعلق بتایا کہ بے نظیر کی دونوں حکومتوںکے اختتام کی وجہ یہ بخوبی جانتے ہیںمگر انہوں نے بیان اس لئے نہیں کیا کہ یہ سیاسی آدمی ہیں ورنہ یہ حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 9:49 PM 0 comments
پیپلز پارٹی پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتی مگر وہ ایک حقیقت ہے۔ آصف علی زرداری
اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتی مگر وہ ایک حقیقت ہیں۔ ڈاکٹر قدیر کا مسئلہ سابقہ حکومت کا پیدا کردہ ہے وہی اسے حل کرے۔ بجٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر رقم رکھنے کا مقصد معزول ججز کی بحالی کے کام کا آغاز ہے ہم بھی اگر (ن) لیگ کی طرح پنجاب سے وزارتیں چھور دیتے تو چھانگا مانگا کی تاریخ دہرائی جاتی۔ میڈیا نے جتنی کوریج ججز کی بحالی کو دی اتنی کوریج اگر جمہوریت کی بحالی کو دی جاتی تو نتائج بہت بہتر ہوتے آج ایک نجی ٹی وی انٹرویومیں آصف علی زرداری نے کہاکہ فنانس بل میں ججز کی تعداد میں اضافہ نواز شریف کے مشورے سے کیاگیا تھا پیپلز پارٹی صدر پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتے مگر وہ ایک حقیقت ہیں۔ یحییٰ خان کی وردی کے تنازعہ سے ملک ٹوٹ گیا مگر بے نظیر بھٹو نے پرویزمشرف کی وردی اتروا کر جمہوریت کی راہ ہموار کی آصف علی زرداری نے ایک سوال پر کہاکہ میں تو سزا کاٹ چکا ہوں این آر او کا مجھے نہیں بلکہ تمام جماعتو ںکے کارکنوں کو فائدہ ہوا انہوں نے کہاکہ این آر او کے تحت ناجائز مقدمات ختم کئے گئے۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پہلی بار پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ صدر کے پاس کافی اختیارات ہیں جنہیں آئینی پیکج کے ذریعے ختم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا نے جتنی کوریج ججز کی بحالی کو دی ہے اتنی کوریج اگر جمہوریت کی بحالی کو دی ہوتی تو نتائج بہتر ہوتے زرداری نے کہاکہ میثاق جمہوریت کے مطابق پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والا جج نہیں رہ سکتا مگر ہم نواز شریف کی اس بارے پوزیشن کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معزول ججز بحال ہوں اور موجودہ ججز بھی ڈسٹرب نہ ہوں انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر رقم رکھنے کا مقصد ججز کی بحالی کے کام کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے ہم میاں نواز شریف کی مشاورت سے کام کر رہے ہیں اگر پیپلز پارٹی بھی پنجاب سے وزارتیں چھوڑ دیتی تو چھانگا مانگا کی تاریخ دہرائی جاتی ۔ غلام اسحاق خان نے مجھ پر کئی مقدمات بنائے میں ان میں سے14میں بری ہوا ۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ میں پھر کہتا ہوں کہ موجودہ ججز بھی رہیں گے اور معزول ججز بھی ضرور بحال ہوں گے- انہوں نے کہاکہ عوام کیلئے صرف ججز کی بحالی ہی مسئلہ نہیں بلکہ مہنگائی بے روزگاری ، بجلی ، پانی کی کمی اور دیگر بہت سے مسائل بھی ہیں جن سے انہیں نجات دلایا جانا ضروری ہے پاکستان سٹیل ملز کی یونین پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی بار جیتی ہے ہم نے آتے ہی یونین بحال کر دیں تھیں عوام کو ان کا حق دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے ہم نے لانگ مارچ کی مکمل آزادی دی ۔انہوں نے کہاکہ ن(ن) لیگ نے مرکز سے وزراء نکال لئے مگر پی پی پی نے پنجاب سے نہیں نکالے۔ انہوں نے کہاکہ قومی مفاہمت کا مقصد ملک کو بچانا ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اعتزاز احسن پارٹی پالیسی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں مگر پارٹی نے انہیں اس پر کوئی نوٹس نہیں دیا پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کو مضبوط کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے حکومت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوئی ہے آصف علی زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو لگنی والی ضرب بہت گہری ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت سے ہونے والا نقصان ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔ڈاکٹر عبدالقدیر کا مسئلہ پچھلی حکومت کا پیداکردہ ہے اس کا تسلسل موجود ہے وہی اسے حل کرے۔انہوں نے کہاکہ فنانس بل میں ججز کی تعداد میں اصافہ ، نواز شریف کے مشورے سے کیاگیا تھا ۔ گزشتہ روز لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ ایک محض ملاقات تھی اورمیں لاہور آؤں اور ان سے نہ ملوں یہ کیسے ممکن ہے انہوں نے کہاکہ میرا میاں نواز شریف سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
Posted by Associated Press Service at 9:46 PM 0 comments
ایشیا کرکٹ کپ ، قومی کرکٹ ٹیم کے ٢٠ ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا
لاہور۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے ایشیا کپ کے لئے بیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ سلیکٹرز نے وکٹ کیپر کامران اکمل کو ڈراپ کر دیا ہے ۔ ایشیا کپ کے لئے بیس ممکنہ کھلاڑیوں میں شعیب ملک ،سلمان بٹ،محمد یوسف ،یونس خان ،یاسر حمید ،بازید خان ، فواد عالم ،سہیل خان، سہیل تنویر،ناصر جمشید ،شاہد آفریدی ،نعمان اللہ ،منصور امجد،عبدالرؤف،عمر گل،سرفراز احمد ، راؤ افتخار،سعید اجمل اور وہاب ریاض شامل ہیں۔بائیس جون تک کھلاڑیوں کی تعداد کم کر کے پندرہ کر دی جائے گی۔ ایشیا کپ میں پاکستان ،بھارت،سری لنکا،بنگلہ دیش،متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔
Posted by Associated Press Service at 9:44 PM 0 comments
شاہد اورکزئی نے میاں نواز شریف ، رانا ثناء اللہ خان اور میاں مجتبی شجاع الرحمن کی اہلیت کو چیلنج کرنے کے لئے مزید دو درخواستیں دائر کر دیں
لاہور ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے مد مقابل ضمنی الیکشن میں امیدوار شاہد اورکزئی نے میاں نواز شریف کی اہلیت اور غیر منتخب وزراء کی نا اہلی کے لئے الگ الگ مزید دو درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں دائر کر دی ہیں ۔ میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف ماضی میں فاٹا سے منتخب ارکان کو خریدنے میں ملوث رہے ہیں اس لئے ایسا شخص الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہو سکتا جس پر الیکشن ٹربیونل نے میاں نواز شریف 23 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ شاہد اورکزئی نے ایک اور درخواست صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان اور میاں مجتبی شجاع الرحمن کے خلاف دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیاگ یا ہے کہ یہ دونوں وزراء سابق وزیر اعلی سردار دوست محمد کھوسہ کی کابینہ میں بھی شامل رہے ہیں جبکہ اب میاں شہباز شریف کی کابینہ کے بھی رکن ہیں ۔ آئین کی روح سے کوئی غیر منتخب شخص صرف ایک بار وزیر بن سکتا ہے اس لئے ان دونوں افراد کو وزارت کے لئے نا اہل قرار دیا جائے جس پر عدالت نے میاں مجتبی شجاع الرحمن اور رانا ثناء اللہ کو بھی 23 جون کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 9:30 PM 0 comments
بھارتی حکومت بھی کارگل جنگ کے امکان سے بے خبر تھی ،گرمیت کنول کی کتاب میں سابق فوجی سربراہ جنرل وی پی ملک کا انکشاف
نئی دہلی ۔ کارگل لڑائی کے دوران فوج کی قیادت کرنے والے جنرل وی پی ملک نے اس وقت کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کو خطرہ کا احساس نہیں تھا جس کے نتیجہ میں 1999ء کے دوران جنگ چھڑ گئی تھی۔ فوجی حکمت عملی میں ظاہر کردہ تجزیہ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ تمام کوششوں کے باوجود بھی جنگ چھڑ سکتی ہے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جو لوگ اس بات پر شک و شبہ کا اظہار کر رہے ہیں میں انہیں کارگل جنگ کی یاد دہانی کرنا چاہوں گا جو وزیر اعظم بھارت اور پاکستان کی جانب سے بڑی تشہیر کے ساتھ لاہور اعلامیہ پر دستخط کے بعد بھڑک اٹھی تھی۔ بریگیڈرریٹائرڈ (گرمیت) کنول کی تحریر کردہ کتاب ’’ ہندوستانی فوجی ڈویژن 2020‘‘کے پیش لفظ میں وی پی ملک نے بتایا کہ فوجی تاریخ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ جو ممالک تاریخی عزم و ارادہ کو نظر انداز کرتے ہیں ، وہ خود کو اچانک فوجی کارروائی ، شکست و رسوائی کی زد میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ کارگل جنگ کے حوالہ دئیے بغیر انہوں نے اس بات پر زود یا کہ سکیورٹی منصوبوں سے جنگ کے مکمل داہرہ کار کی ضرورتوں کی تکمیل ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی داخلی سیاسی تنازعات کی کثرت اور اتفاق رائے کے فقدان پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ہند، امریکہ نیوکلیر معاملت کا حوالہ دیا ، جو بائیں بازو کی مخالفت کی بناء پر تعطل کا شکار بن گیا ہے ۔ انہوں نے دفتر شاہی پر الزام عائد کیا کہ اسے دفاعی و فوجی امور کا علم و تجریہ نہیں ہے۔ سابق فوجی سربراہ نے بتایا کہ یہ انداز فکر ملک کے لیے دفاعی مفادات کے مغائر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزادی کے 60سال بعد بھی ہمارے بیشتر سیاسی قائدین و سرکاری عہدیداروں میں دفاع اور فوجی امور پر علم و تجربہ کا فقدان ہے۔
Posted by Associated Press Service at 7:50 PM 0 comments
پاکستان کے ذر مبادلہ ذخائر کا مجوعی حجم ١٠ ارب٩٠ کروڑ ٩٦ لاکھ ڈالرز ہوگیا ہے ۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان
کراچی۔ پاکستان کے ذر مبادلہ ذخائر کا مجوعی حجم 10ارب90کروڑ96لاکھ ڈالرز ہوگیا ہے۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس 8ارب26کروڑ71لاکھ ڈالرز ہیں جبکہ دیگر بنکوں کے پاس 2ارب64کروڑ25لاکھ ڈالرز ہیں۔
Posted by Associated Press Service at 7:47 PM 0 comments
امریکی جاسوس طیاروں کی پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی
شمالی وزیرستان ۔ امریکی جاسوس طیاروں نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے علاقے پر پروازیں شروع کر دی ہیں امریکی جاسوس طیاروں نے جمعرات کی صبح میر علی، غلام خان ، انگور اڈہ اور دیگر کئی علاقوں پر نچلی پروازیں کی ہیں جس کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے امریکی طیاروں کی پاکستانی سرحدی حدود کی یہ پہلی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار جاسوس طیارے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے ہیں
Posted by Associated Press Service at 7:42 PM 0 comments
اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔ ۔ ۔ بارک اوباما کا دعویٰ
واشنگٹن ۔ امریکہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بارک اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں اور یہیں سے اپنے آڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واشنگٹن میں قومی سلامتی کے تیرہ رکنی نئے مشیروں کی ٹیم سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بارک اوباما نے کہاکہ وہ صدر بننے کے بعد اسامہ بن لادن کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اگر اسامہ بن لادن مارے بھی گئے تو کوئی انہیں شہید نہیں کہے گا انہوں نے 1998ء میں صدر کلنٹن کے دور میں جاری ہونے والے ایک خفیہ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا جس میں سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کو گرفتاری کے فوری بعد مار دینے کے احکامات جاری کئے گئے تھے اوباما کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتانا چاہتے کہ اسامہ بن لادن کی زندہ گرفتاری کیلئے وہ کیا طریقہ اختیار کریں گے لیکن اگر امریکی حکومت کو ان کا ٹھکانہ معلوم ہوا تو شاید اسامہ زندہ نہ بچ سکیں بارک اوباما نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستانی قبائلی علاقوں میں آزادانہ نقل وحرکت کر رہے ہیں جو دہشت گردوں کے خلاف صدر بش اور ری پبلکن پارٹی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔
Posted by Associated Press Service at 7:37 PM 0 comments
دہشت گرد پاکستان میں بیٹھ کر نائن الیون جیسے واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، حادثہ دوبارہ پیش آیا تو اس کا ذمہ دار پاکستان ہو گا صدر پرویز مشرف
راولپنڈی ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے پاکستان کو بتایا ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں بیٹھ کر نائن الیون جیسے واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اگر ایسا حادثہ دوبارہ پیش آیا تو اس کا ذمہ دار پاکستان ہو گا صدارتی کیمپ آفس میں ایک نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں صدر مشرف نے انکشاف کیا کہ کچھ عرصے سے پاکستان سے گرفتار دہشت گردوں سے امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی اہم تنصیبات کے نقشے ملے ہیں اور امریکہ اس بات سے با خبر ہے صدر مشرف نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی سے نہ لیا تو امریکہ پاکستان کو ٹائیٹ کر سکتا ہے صدر کا کہنا تھا کہ جس تواتر سے امریکہ کے اعلیٰ عہدیدار پاکستان آ رہے ہیں اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ امریکہ تحفظات بتا چکا ہے صدر مشرف کا خیال تھا کہ مستقبل میں اگر یورپی یا امریکہ میں نائن الیون جیسا واقعہ پیش آیا تو امریکہ اور اتحادی پاکستان کو ذمہ دار سمجھیں گے اور شاید پاکستان پھر نائن الیون والی سطح پر آ جائے اور اس بار امریکہ کا نشانہ افغانستان نہیں ہو گا اس سوال پرکہ کیا امریکہ کا اگلہ نشانہ پاکستان ہو گا صدر نے چپ سادھ لی۔
Posted by Associated Press Service at 7:34 PM 0 comments
صدرمشرف مستعفی ہوں ‘ عدلیہ بحال کیا جائے ‘ فوجی آپریشن بند کیے جائیں ۔اے پی ڈی ایم
اسلام آباد۔ آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف فی الفور صدارت چھوڑ دیں ۔ عدلیہ کو 2 نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔ بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں یں فوجی آپریشن بند کیا جائے ۔ اے پی ڈی ایم کے دو روزہ اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے اعلامیے میں یہ مطالبات کیے گئے اے پی ڈی ایم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم جولائی کے پہلے ہفتے میں اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل طے کرے گا۔ انہوں نے اعلامیہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہآل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ( اے پی ڈی ایم) کے تحت 18 اور 19 جون 2008 ء کو اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس نے لندن میںگزشتہ سال منعقدہ کل جماعتی کانفرنس اور اے پی ڈی ا یم کے 18 دسمبر2007 ء کے اعلامیے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے 18 فروری کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس نے 3 نومبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی اور اس کے نتیجے میں اعلی عدالتوں کے ججز کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا اقدام کو ناقابل قبول ہے ۔ اس مینڈیٹ کے ذریعے عوام توقع رکھتے ہیں کہ پرویز مشرف نے جو غیر آئینی اقدام کیے انہیں ردکردیا جائے ۔ یہ عوامی دباؤ اے پی ڈی ایم کے مضبوط موقف اور ملک میں میڈیا کے بھرپور تعاون سے جاری وکلاء ‘ سول سوسائٹی اور عوام کے دیگر طبقات کی تحریک کا نتیجہ تھا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو اعلان بھوربن کرنا پڑا۔ یہ عوامی دباؤ اور 18 فروری کے مینڈیٹ کی ہی طاقت تھی جس کے بل بوتے پر نامزد وزیراعظم کو نظر بند ججوں کی فی الفور رہائی اور حال ہی میں ان کی تنخواہوں کے احکامات جاری کرنے پڑے۔ نئی حکومت تاہم اعلان بھوربن سے پیچھے ہٹ چکی ہے ا ور یہ پرویز مشرف کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ایسے راستوں کی تلاش میں ہے جس سے برطرف ججوں کی بحالی کے معاملے کو محدود اور کنٹرول میں رکھا جاسکے ۔ مجوزہ آئینی پیکج پر ویز مشرف کے تین نومبر کے غیر آئینی اقدام کو تحفظ دینے اور عدلیہ کو حکومتی اتھارٹی کے سامنے جھکانے کی کوشش ہے ۔ حکومت نہ صرف عدلیہ کے بارے میں ڈکٹیٹر کی پالیسیوں کوجاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت کے دیگر معاملات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن پورے زورو شور سے جاری ہے معصوم لوگوں کو جان سے مارا جا رہا ہے کوہلو اور بگتی کے لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ دیں ۔ نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو قتل کیے جانے (جان سے مار دینے) کی آج تک کوئی تحقیق نہیں کی جا سکی اگرچہ بلوچستان میں منتخب حکومت قائم ہے لیکن بلوچستان ابھی تک محاصرے میں ہے ۔ یہ دعوی کہ نئی حکومت عوام کو کپڑا اورمکان دے گی نئے بجٹ کے اعلان سے یہ اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے ۔ نیا بجٹ امیروں کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے جبکہ غریبوں پر نئے ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ بجٹ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور لوگوں کو روٹی‘ کپڑے اور مکان کی سہولیات سے محروم کردیا گیا ہے ان حالات میںو کلاء برادری کی طرف سے لانگ مارچ کی صورت میں ایک بڑی عوامی تحریک کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس میں اے پی ڈی ایم ‘ سول سوسائٹی اور عوام الناس کے مختلف طبقات نے بھرپور شرکت کی۔ یہ کانفرنس عظیم لانگ مارچ کے کامیاب انعقاد پر کانفرنس کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتی ہے اور مستقبل میں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلاتی ہے اندریں حالات یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران لانگ مارچ کے شرکاء کے مطالبات کوپوراکرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ لوگ اس صورت حال سے سخت مایوسی کا شکار ہیں اور وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ قومی کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ اعلی عدالتوں کے ججز کو 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کے مطابق بحال کیا جائے ۔ پرویز مشرف کے تمام غیر آئینی اقدامات بالخصوص 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کو رد کیا جائے ۔ پرویز مشرف کو فی الفور صدارت چھوڑ دینی چاہیے ۔ بلوچستان مین جاری تمام فوجی اور نیم فوجی آپریشن بند کیے جائیں ۔ نواب اکبربگٹی ‘ بالاچ مری اور دیگر بے گناہ ا فراد کے قتل عام کی فی الفور عدالتی تحقیقات کروائی جائیں مشرف کے دور میںلاپتہ کیے جانے والے افراد کو فی الفور بازیاب کیا جائے ۔ کراچی میںسانحہ نشر پارک ‘ 12 مئی 2007 ء اور 9 اپریل 2008 ء کے المناک واقعات میں بے گناہ افراد کے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی عدالتی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا ئیں دی جائیں ۔ قبائلی علاقوں ‘ سوات ‘ باجوڑ اور ملک کے دیگر حصوں میں معصوم لوگوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو فی الفور بند کیا جائے ۔ ا ور ان علاقوں کو بیرونی عناصر سے پاک کیا جائے ۔ ا وروہاں قانون کی عملداری کویقینی بنایا جائے ۔ پاکستان کی خود مختاری جو حقیقی خطرے میں ہے اس کے تحفظ کویقینی بنایا جائے ۔ فیڈریشن کے تمام یونٹس کو مکمل صوبائی خود مختاری دی جائے اور ان کے اقتصادی اور قدرتی وسائل پر ان کے کنٹرول کو تسلیم کیا جائے ۔سیلز ٹیکس اور کیپٹل ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے ۔ عوام کودی جانے والی تمام مالی مراعات اور سبسڈیز کو بحال کیا جائے ۔ روزہ مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کیا جائے اور انہیں بڑھنے سے روکاجائے ۔ انڈسٹریل ریلیشنز آرڈنینس 2001 ء کو منسوخ کیا جائے او رآئی ایل او کے چارٹر کے تحت کارکنوں کو نوکری کا تحفظ ‘ یونین سازی اور ہڑتال کا حق اور دوسرے بنیادی حقوق د ئیے جائیں ۔ میڈیا بالخصوص جیو پر لاگو تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے ۔ یہ کانفرنس پریس اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے عوام کی جاری جدوجہد کی سپورٹ کرنے پر میڈیا کے کردار کو سراہتی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ سپورٹ جاری رہے گی ۔ اے پی ڈی ایم جولائی میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی ‘ 16 کروڑ عوام کی تحریک کاراستہ نہ روکاجائے ضروری ہوا تو سول نافرمانی تحریک چلائیں گے ۔ پی سی اووالے ججوں کا گھیراؤ کریں گے۔
Posted by Associated Press Service at 7:30 PM 0 comments
شریف برادران اہلیت کیس میں عدالت عالیہ نے پیش نہ ہونے پر شریف برادران کا حق دفاع ختم کردیا
لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان ، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس احسن بھون پر مشتمل فل بینچ نے شریف برادران کے اہلیت کیس میں ان کے دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز شریف برادران کے خلاف اہلیت کیس کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے سمن تعمیل کرانے والے اہلکاروں نے رپورٹ پیش کی کہ شریف برادران کو نوٹس کی تعمیل کروادی گئی ہے جس پر عدالت عالیہ نے شریف برادران کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کا دفاع کا حق ختم کردیا ہے جبکہ کیس میں فریق بننے کیلئے سپیکر پنجاب اسمبلی، حکومت پنجاب ، میاں نوازشریف کے تائید کنندہ مہر ظفر اور سپریم کورٹ بار کے ایگزیکٹو رکن خواجہ طارق سہیل و اے کے ڈوگر کی فریق بننے کی درخواستوں کی سماعت پر بحث مکمل ہونے پر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔ کل درخواست دہندہ کے وکلاء کے دلائل سنے جائیں گے۔
Posted by Associated Press Service at 7:27 PM 0 comments
عوام بجلی کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیں ، پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم
اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما امین فہیم نے کہا ہے کہ ایک عام آدمی کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنا صریحاً ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ اس نا انصافی کے خلاف بطور احتجاج بجلی کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیں ۔ یہاں جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امین فہیم نے کہاکہ عوام کو چاہیے کہ وہ بجلی کے بل ادا کرنا بند کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی پورے ملک کے عوام کے لیے یقنی بنانا حکومت اور واپڈا کی ذمہ داری ہے اور مراعات یافتہ طبقہ بجلی کی عدم فراہمی سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ لوڈشیڈنگ تو غریبوں پر ہی بجلی بن کر گرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ غریبوںکو تو گرمیوں کے موسم میں صرف پنکھے کے لیے ہی بجلی درکار ہوتی ہے اور اگر وہ پنکھا بھی نہ چلا سکیں اور انہیں بل پورا ادا کرنا پڑے یہ کہاں کا انصاف ہے بلکہ یہ کھلم کھلا دھاندلی ہے اور اس دھاندلی کو ختم ہوناچاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ یہ بجٹ عام آدمی کا بجٹ نہیں کہہ سکتا ۔ بجٹ ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے عوام کو ریلیف ملے ۔ امین فہیم نے کہاکہ موجودہ حکومت بھی غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر کام کر رہی ہے اور ان کے کہنے پر ہی پٹرولیم کی مصنوعات پر سبسڈی واپس لی جا رہی ہے۔
Posted by Associated Press Service at 7:25 PM 0 comments
غلام مصطفی کھر نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کرلیا
جھنگ ۔ سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ دیدیا۔ آج ہمارے نمائندے سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی سیاسی جماعت کے نام اور منشور پر کام ہورہا ہے۔ کاغذی کاروائی مکمل ہونے پر اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان کی پارٹی میں منجھے ہوئے تجربہ کار سیاسی لوگ شامل ہوں گے جو ملک کو صاف ستھری اور جمہوری سیاست فراہم کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اتحاد چلتا نظر نہیں آرہا۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے جن ایشوز کی بنیاد پر آپس میں اتحاد قائم کیا تھا وہ سارے ویسے ہی موجود ہیںاور اب تک ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا اس لئے دونوں جماعتیں زیادہ دیر تک ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکیں گی۔
Posted by Associated Press Service at 7:23 PM 0 comments
ہندو خودکش دستے تشکیل دئیے جائیں ۔ بال ٹھاکرے
ممبئی ۔ انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے ہندوؤں سے کہا کہ ان کی حفاظت صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ اسلامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خودکش دستے تیار کریں ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھے گئے ایک سخت اداریہ میں ٹھاکرے نے تھانہ اور واشی میں ہندو تنظیموں کی جانب سے بم دھماکوں کے حالیہ و اقعات کا مضحکہ اڑایا ۔ اور کہاکہ خود کش بمباروں کو چاہیئے تھا کہ عوام کو نشانہ بنانے کے بجائے مراٹھی ڈرامہ کے دائریکٹر / پرڈویوسر اور رائٹر کو نشانہ بناتے ۔ تھانے کے ایک آڈیٹوریم میںا یک ڈرامہ کے دوران ہوئے دھماکہ میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں ہندو جاگرن منچ اور سناتن پر بھارت تنظیموں کو ملوث قرار دیاگیا ہے ۔ ٹھاکرے نے کہا کہ ان تنظیموں کو مزید طاقتور بم بنانا چاہیئے ۔ ڈرامہ تھیٹروں پر دھماکوں کے بجائے انہیں چاہئے کہ ان علاقوں میں دہشت پھیلائیں جہاں بنگلہ دیشی رہتے ہیں ا داریہ میںکہا گیا کہ ہندوؤں کے ملوث ہونے کی خبریںپڑھ کر ہمیں بڑی مسرت ہوئی لیکن جب یہ پتہ چلا کہ یہ دھماکوں کی وجہ سے ہمارے ہی طبقہ کے کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں تو ہمیںبڑی شرم محسوس ہوئی ۔ ٹھاکرے نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ چھتر پتی شیوا جی مہاراج نے تلوار کے ذریعہ مغلوں سے ہندوؤں کی حفاظت کی ۔ تحریک آزادی کے دورانل وک مانیہ تلک نے کھل کر ہندو توا کی حمایت کی جس کے نتیجے مین کانگریس میں ہندوؤں کی آواز میں اضافہ ہوا
Posted by Associated Press Service at 7:17 PM 0 comments
Ash gets catty with Kat
KATRINA KAIF has come a long way from just being known as Salman Khan’s girlfriend.Recently Kat, as she’s fondly called, has been voted as the sexiest woman in the world by UK-based international magazine FHM and guess who’s all flustered with this news? Salman’s ex- girlfriend and Bachchan bahu, Aishwarya Rai Bachchan!Sources say that Katrina getting international recognition has upset Aishwarya who is seething with anger and grumbling about Katrina.Our source reveals, “Ash is extremely jealous that Katrina has been voted the sexiest woman in the world because she sees it as a threat to her position in Hollywood. She has been trying to make a mark in foreign movies for a long time but to no great avail and she sees Katrina as big competition. Marriage may have made Ash secure but only in her private life. In her professional life Ash still wants to be Hollywood’s numero uno Indian actress. No actress from time immemorial wants to be ‘replaced’. Their egos get damaged.”Yet another industry insider reports, “Ash was telling a close friend that ‘many of these girls pay money to be on these fancy lists and it doesn’t mean anything’.A strange remark to make. Wonder if Ash was talking about the time when she was chosen by Time magazine as one of the worlds 100 Most Influential People?Had it been any other Bollywood actress maybe Ash wouldn’t be this green with envy, but Kat is after all the gorgeous girlfriend of Ash’s ex boyfriend, Salman Khan!Cat fight in the makingKatrina who is aware of Ash’s remarks is positively annoyed.The usual diplomatic actress has this to say about Ash’s failed Hollywood endeavours, “She keeps talking about big international movies but has anybody actually seen any of her films? It’s her publicist and manager in Hollywood that keeps spreading these false tales about how hot she is internationally!” Seems a fresh cat fight is on its way???Apart from the Salman angle, Katrina and Ash have two other things in common. Both the girls were successful models before entering Bollywood and both have been the face of the cosmetic brand Lakme.After a much publicised break-up with Salman, Ash dated Vivek Oberoi briefly and then went on to marry Abhishek Bachchan.All this while Ash’s career in Bollywood soared high and she even became an international celebrity after she started attending the Cannes Film Festival and was featured on the cover of Time magazine.Katrina on the other hand, was a UK based model trying her hand in Bollywood when she met Salman who was down and out post his break-up with Ash. Kat consoled Salman and soon the two became a couple. Being Salman’s girl came with a lot of fringe benefits, one of them being an easy entry into Bollywood.Katrina’s meteoric rise in Bollywood is nothing less than a miracle! She has done about half-a-dozen films, yet, she hasn’t picked up Hindi and all the diction classes haven’t helped.But despite all this Katrina has starred in some of the biggest box-office hits in the past two-years such as Namaste London, Partner and Welcome.While she didn’t have much to do in these films, nevertheless producers have noticed her box-office value. In fact, trade buzz is that Katrina is the second highest paid actress in Bollywood after Kareena Kapoor.She definitely is the highest paid actress to have done an item number in a film for a whopping Rs1.5 crores! Her future films include a YashRaj film, a Rajkumar Santoshi film opposite the hot Ranbir Kapoor, Vipul D Shah’s Singh is Kinng and Yuvraaj.Katrina has also formed a successful on-screen pairing with Akshay Kumar, with producers vying to sign the two actors as a couple.Akshay is one of the most sought after actors in Bollywood giving solo hits.While boyfriend Salman Khan doesn’t appreciate Katrina doing films with Akshay, Kat seems to be less than concerned and is open to working with most actors. She even considered signing a film opposite Shahid Kapoor though Salman doesn’t like Shahid much. Kat is thus making it clear that she is her own person.Married versus singleAsh on the other hand isn’t at the best phase of her career right now as she is a married woman.Marriage to Abhishek Bachchan did open a lot of doors within the industry but she also has the responsibility of being the Bachchan bahu which means no hot roles and no more sexy scenes. Her smooch with Hrithik Roshan and the sexy clothes in Dhoom 2 hadn’t gone down too well with mother-in-law Jaya Bachchan.More recently she had to refuse Karan Johar’s Dostana opposite her hubby Abhishek because the role required her to be hot and sexy and romance two guys.Katrina on the other hand doesn’t have any such issues. Apart from all this, Bollywood isn’t too kind to married actresses and producers see them more as a liability.To top it even age isn’t on Ash’s side, she’s in her early 30’s while Katrina is only 23 and has a much longer shelf life!Any wonder that Ash is getting insecure and edgy with Katrina’s rising fame!
Posted by Associated Press Service at 11:16 PM 0 comments
Hamas calls on West to end boycott, as Gaza truce takes hold
GAZA CITY - A fragile truce took hold in the Gaza Strip Thursday, ending, for the time being at least, months of deadly violence and prompting Hamas to call for an end to the Western boycott against it.The truce - the result of months of indirect, Egyptian-led negotiations between Israel and the radical Islamic movement ruling Gaza - took effect at 6 am (0300 GMT) Thursday morning.But flexing their muscles in the hours before the deadline, Palestinian militants launched 32 rockets and more than 10 mortar shells at southern Israel, a military spokesman said Wednesday.Israel launched an airstrike at one group of the rocket launchers in the central Gaza Strip before dawn Thursday, killing a Hamas militant just one hour and a half before the truce began.After the truce took effect, an Israeli naval vessel also fired warning shots Wednesday morning at Palestinian fishing boats, which the military said had drifted into a 'closed security zone' on the maritime border between the northern Gaza Strip and Israel.Despite the last-minute violence, the truce took precarious hold and no more incidents were reported during its first hours Wednesday.Although Israel negotiated the truce with Hamas indirectly, internal Israeli critics have charged the deal grants legitimacy to the radical Islamic movement and recognition of it as the de-facto ruler of the Strip.Hamas too called on Western leaders 'to change their attitude' toward the movement after it committed to the truce.'We call on the international community to reconsider its decision to impose an embargo on the movement,' Hamas spokesman Sami Abu Zuhri told reporters in Gaza City.But European Union foreign policy chief Javier Solana, although he welcomed the truce, said it was too early to say whether the EU could begin holding direct talks with Hamas, which the bloc considers a terrorist organization.The truce, he nevertheless said in Brussels, could create 'a dynamic that will allow political dialogue to continue.'Israeli Prime Minister Ehud Olmert said Hamas was still a 'terrorist organization,' with which Israel did not and would not hold direct negotiations.'Hamas and the other terrorist organizations have not changed and have not become patrons of peace. These are contemptible and bloodthirsty terrorists,' Olmert told a conference near Tel Aviv.In an interview with The Sydney Morning Herald from Jerusalem published Thursday, he also warned that the truce was Hamas' last chance to avoid a massive military offensive in the Gaza Strip.Olmert was scheduled to travel to Egypt Tuesday, for talks with Egyptian President Hosny Mubarak on the truce brokered by Cairo.The first stage of the three-phase, six-month truce entails a mutual end of hostilities.According to Hamas officials, Israel is to lift severe restrictions on the entry of fuel into the Strip already in the first hours of the truce.As of Sunday, it is to ease restrictions on the entry of other goods.One week after, Cairo is to invite Hamas, Palestinian President Mahmoud Abbas and European Union representatives for talks on a mechanism to open the Rafah border crossing between southern Gaza and Egypt.Israel has made the opening of Rafah conditional on the freedom of Israeli Corporal Gilad Shalit, held captive in Gaza by Hamas for the past two years.Intense, renewed negotiations on his release in exchange for Palestinian militants imprisoned in Israel are to begin simultaneously to the talks on Rafah, with the Israeli official charged with negotiating the prisoners swap, Ofer Dekel, also due to travel to Egypt next week.Shalit's parents have expressed outrage over the truce, saying they were promised by Olmert that Israel would not agree to a deal without securing guarantees for Shalit's release. Their lawyers sent a protest letter to the Israeli premier, threatening to petition to Israel's supreme court against the agreement.Western countries imposed a boycott on Hamas after it won the 2006 Palestinian parliamentary elections, but refused calls to renounce violence, honour past interim agreements calling for a two-state solution to the Israeli-Palestinian conflict, and change its charter to accept Israel's right to exist.Europe and the United States have instead dealt only with Abbas of the rival Fatah party, who was elected in separate presidential elections a year earlier on a platform that did support a two-state solution.After a short-lived unity government with Fatah, Hamas seized sole control of the Gaza Strip one year ago, by ousting security forces loyal to Abbas and Fatah.Since the Gaza take-over, militants have launched more than 4,000 rockets and mortar shells at southern Israel, killing four Israelis. Israel's retaliatory strikes against militants in the densely- populated Strip have killed more than 360 Palestinians.
Posted by Associated Press Service at 11:13 PM 0 comments
Soon PPP man will be President of the country: Zardari
LAHORE : PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari said here Thursday that the days are not far off when a PPP man would be President of the country and the President House would echo with Jiye Bhutto slogans. Speaking at the launching of Jehangir Badar’s book ‘The Evolution of Democracy’ at Aiwan-e-Iqbal he said, “ PPP has history of struggle against dictators and is ready to offer sacrifices for ensuring true democracy in the country.”The function was attended by PPP leaders and intellectuals besides a large number of workers.Amid vociferous slogans of workers he said, “ PPP has the credit of making Pervez Musharraf a civilian president while its struggle against dictatorial forces would continue.”He said PPP is proud of having given supreme sacrifices for the cause of democracy.”Our founder chairman was martyred while Mohtarma Benazir Bhutto also laid down her life for the same cause.”The PPP Co-chairman said it is due to sacrifices by PPP leader and workers that people across the country not only vote for PPP but are prepared to offer every sacrifice for it.He said dictatorial forces in their bid to crush PPP badly failed and those who conspired against PPP and its leaders have eliminated themselves.Asif Ali Zardari said that PPP leaders and workers are committed to the mission of founding chairman for which they can give every sacrifice.He said when first attack was made on Mohtarma Benazir Bhutto’s caravan in Karachi on october 18 many had asked her to do politics by remaining at home like many other politicians. But she refused saying “ I am daughter of Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto and can sacrifice even my life for the cause of my people and democracy.”The PPP Co-Chairman said Benazir was assassinated but her mission is continuing and soon President, Prime Minister and chief ministers would go to Garhi Khuda Bakhsh to make a pledge to accomplish the mission.Amid deafening slogans of ‘Zinda hae BiBi Zinda hae’, and ‘Jiye Bhutto,’ he said PPP is committed to achieving the objective of providing bread, clothes and house to every countrymen.He said the basic aim of the struggle of the party was to ensure betterment of the masses and the march forward in this regard would continue despite any odds.The PPP has faced dictators in the past and if needed its vanguards are ready to face such forces in future.He said it was Bhuttoism that when Benazir was attacked on December 27, PPP workers rushed towards their beloved leader without caring for their lives, instead of fleeing.PPP Co-Chairman said those who intrigued against PPP and committed excesses with its leader to eliminate PPP, were today themselves on the run and are running to different countries.He said PPP believed in democratic norms and wanted to take all political forces along adding that it is for the first time in the history of the country that Chief Executive of Balochistan belonged to PPP.He said PPP leaders and workers would give blood donation on the occasion birth anniversary of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto on June 21 renewing their pledge not to refrain from offering any sacrifice for the cause of democracy.Earlier,Jehangir Badar speaking on the occasion said that he has dedicated his book ‘The Evolution of Democracy’ to Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and its foreword was written by her.Through a resolution which was unanimously approved by people, he said as a mark of respect to struggle and supreme sacrifice offered by Mohtarma Benazir Bhutto, people belonging to all sections of society including workers, lawyers, students, ulema, intellectuals, traders, politicians and members of assemblies demand of the government of Pakistan to declare June 21, birth day of Mohtarma Benazir Bhutto as ‘Quaid-e-Jamuriat Day’ and December 27, the day when she embraced martyrdom as ‘Shaheed-e-Jamuriat Day.”Dr. Mehdi Hassan, an intellectual, speaking on the occasion said that democracy could not flourish in the country because establishment always targeted PPP and hatched conspiracies against it.He said Ziaul Haq executed founder Chairman of the party Zulfiqar Ali Bhutto through judiciary while his widow and daughter were put behind bars and later sent in exile.He said when PPP again came into power with the support of masses after the death of Ziaul Haq in plane crash, again conspiracies were hatched and even IJI was founded to counter PPP.He said now there is coalition government in the country which is new experiment in the political history of the country.He said in a coalition government, partners are responsible for decisions and acts of the government and if a coalition partner behaves like opposition, it causes damage to coalition.He said as per Charter of Democracy signed by Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and Nawaz Sharif any judge who take oath under PCO cannot remain judge.
Posted by Associated Press Service at 11:01 PM 0 comments
PPP does not accept Pervez Musharraf as Constitutional President: Zardari
ISLAMABAD: Co-Chairman of Pakistan Peoples Party, Asif Ali Zardari Wednesday said although PPP does not accept President Pervez Musharraf as constitutional head of state, but indeed he is sitting in presidency as a reality. Speaking with private TV channel (Waqt News) he said, “I have told the friends that Pervez Musahrraf is a ground reality. After all, PPP’s Prime Minister is working with him and he is sitting as President of Pakistan.”Asif Ali Zardari said, PPP launched campaign against him. It was the PPP, which raised slogans against the President.Co-Chairman PPP said, the parliament would decide the future of President Pervez Musharraf in due course of time.To a question he said, views of other political parties would be sought to corporate in the proposed constitutional package.The PPP leader said, media has started a movement for the restoration of the judiciary. He was of the view that the results would have been much better, had it started the movement for supremacy of democracy earlier.He added that the government became more strengthened rather than becoming weak after long march of lawyers.Zardari said, Aitzaz Ahsan led the long march against the party’s policy, but the PPP has not issued-show cause notice to him on this gross violation.He said, the issue of protective custody of Dr.Abdul Qadeer Khan was created by the pervious government and its continuity is still there. But he assured that he would resolve Dr. A.Q Khan issue .He reiterated his party’s position that the strength of the judges has been increased in the finance bill in consultation with Mian Nawaz Sharif.The judges currently working in superior judiciary will remain on their posts on the restoration of the deposed judges, he said adding, “ We are not challenging the position of Mian Nawaz Sharif on the issue”.Asif Ali Zardari said that PPP is still waiting for PML (N) ministers to join federal cabinet. He said, if PPP would also call back their ministers from the Punjab cabinet, then the politics of ‘Chang Mang’ would be restarted.
Posted by Associated Press Service at 10:55 PM 0 comments
Govt committed to press freedom: Sherry
ISLAMABAD: Information and Broadcasting Minister Sherry Rehman on Thursday reiterated that the government was committed to freedom of press and said attack on a private television channel is being probed. Speaking in the National Assembly after a walkout by the journalists from the press gallery, she said Seraiki channel ‘Kook’ in Multan was attacked by some persons and one of them has been arrested.She said on the orders of the Prime Minister an investigation into the incident is being carried out which has revealed that the attack was carried out by private persons.Sherry assured the house that the rest of the attackers would also be arrested.About the ban on two programmes of Geo Television, she categorically stated that the government was not involved.“We are committed to the freedom of press and we have got nothing to do with the forces that have talked to Dubai authorities for a ban,” she stated.Sherry said the government was ready to offer Geo TV landing rights through Pakistan Television and other technical facilities like landing rights which were now available in the country.She said that as already stated by her, there will never be a ban or blackout of any programme on any channel by the present government.
Posted by Associated Press Service at 10:49 PM 0 comments
Pakistan says A Q Khan episode closed, no knowledge of compact weapon design
WASHINGTON : Pakistan Thursday said the A.Q. Khan episode is closed and the country has no knowledge of the design of a compact nuclear weapon, reportedly found in some computers in Switzerland. A Pakistani spokesman in Washington also ruled out direct access to Dr Khan.“Pakistan carried out a thorough debriefing of all involved and shared details with the International Atomic Energy Agency and friends such as the United States.“The network, as much as it was in Pakistan’s jurisdiction, was shut down. The international community, including the United States, has taken steps to shut down other parts of that illegal nuclear proliferation network,” Press Attache, Nadeem Kiani wrote in The USA Today. Spelling out Pakistan’s views in an opinion piece “The Episode is Closed” written in response to an editorial appearing in the newspaper, Kiani stated that Dr. Khan is under house arrest and is suffering from cancer. He has been allowed greater access to the phone and is now allowed to meet with some relatives and close friends. “Even so, he remains under constant guard. There is no letting up of vigilance.”Pakistan, he reminded, has implemented a series of measures, many in consultation with countries such as the United States, to ensure airtight proliferation controls. “Pakistan continues to share any information with its friends and remains vigilant against proliferators. “Direct access to Dr. Khan is not possible because he still knows important details of Pakistan’s strategic deterrent. Being privy to this information is the right of Pakistan ‘s defenders and leaders only.”“Pakistan has no knowledge of the design of a compact nuclear weapon, reportedly found in some computers in Switzerland. Dr. Khan has also expressed ignorance of these.“As far asPakistan is concerned, the A.Q. Khan episode is closed. There will be no repeat of it,” he concluded.
Posted by Associated Press Service at 10:46 PM 0 comments
4 soldiers of Pakistan Army embrace shahadat in firing near LoC
ISLAMABAD: Four soldiers of Pakistan Army embraced shahdat while three others suffered injures when a patrol party came under attack by unknown assailants from a jungle in Buttle sector of Hajira along the Line of Control (LoC) on Thursday. Director General ISPR Major Gen. Athar Abass confirming the news report said that the patrol party of Pakistan Army came under armed attack of unknown assailants from a jungle in Azad Kashmir area. In retaliation to that, he said Pakistan Army responded and cross-fire is continuing till filing of the story.He said the assailants were using small arms.To a question, he said due to the location of the scene nothing could be confirmed about the happening till the finding of the investigations which are being conducted.He said the jungle from where the fire was coming is located inside Pakistan territory but situated along the LoC.
Posted by Associated Press Service at 10:45 PM 0 comments
Presidential spokesman clarifies news item
ISLAMABAD: The Presidential spokesman has termed as totally incorrect a news item appearing in a section of the media that the President had briefed journalists on Wednesday, June 18 in which he is reported to have said that the previous government was responsible for the economic problems that the country is facing today.The spokesman added that the President is of the view that “never has the economy of Pakistan performed as well as it has done in the last 5 years i.e up to mid 2007.”The spokesman stated that it was unfortunate that such fictitious news items were being circulated in the media and remarks were being attributed to the President that he has never made.
Posted by Associated Press Service at 10:43 PM 0 comments
Parliamentarians for slash of President’s allowances
ISLAMABAD: The members of the Lower House of the Parliament Thursday demanded further slashing of allowances of the President, under the head of Charged expenditure. The House discussed the charged expenditure included in demands for grants and appropriations for the year ending on June 30, 2009.The government has demanded an amount of Rs. 353,847,000/- for staff, household and allowances of the President.Opening the discussion, Chaudhry Abdul Ghafoor said that the members can only discuss the charged expenditure “while it can not be amended on our proposals.”He said when the Parliament and Prime Minister secretariats have reduced their budgets then there is no justification for such a huge amount for President who has just a ceremonial role in democratic government.Khurram Dastagir also expressed his displeasure that members of the Parliament can only discuss these expenditures but cannot amend it.He said an amount of Rs. 230 million has been demanded under the head of other expenditure of Foreign Affairs Division which, he alleged would be spent on foreign tours of the President.Sher Baloch said the National Assembly has to approve the charged expenditures despite the fact that our conscience does not allow it.He said while approving such huge funding, we should not forget the people who are suffering badly from poverty.Hamid Saeed Kazmi said the presentation of charged expenditures before National Assembly is futile exercise as the lawmakers have no power to amend it.The Speaker National Assembly made it clear that the passage of these expenditures is constitutional obligation, which can only be amended by the Assembly with the two-third majority of the House.Shamshad Bachani called for slashing the expenditures of President and added that the government should also ensure transparent expenditures of elections because poor arrangements on the polling booths shows the opposite picture.Ahsan Iqbal said the allocation of Rs350 million for President is unjustifiable and added that in years 1998 and 1999, former President Rafiq Tarar had reduced the budget of Presidency from Rs320 million to Rs160 million.
Posted by Associated Press Service at 10:41 PM 0 comments
Judges be reinstated through parliament: Fehmida Mirza
ISLAMABAD : National Assembly Speakder Dr. Fehmida Mirza Thursday said that judges should be reinstated through the parliament. In an interview with private tv channel (Express News), she said a constitutional package would soon be tabled in the parliament.Dr. Fehmida said all laws coming in the way of supremacy of the parliament will be abolished.The Speaker also said that as part of the parliament the President must address a joint session. She said address of the President is a requirement of the constitution and she has also issued a ruling in this regard.She said the Prime Minister would soon send a summary to the president inviting him to address the parliament.To a question she said appointment of heads of standing committees would be started after the budget session.She said the government and opposition are extending full support in running the affairs of parliament. The Speaker said she is not facing any problem in running the house.
Posted by Associated Press Service at 10:28 PM 0 comments
Moral development of students responsibility of teachers: President
RAWALPINDI: President Pervez Musharraf Thursday said the moral development of students is the responsibility of teachers and they should ensure that the young generation understands and rejects corruption and nepotism. He was talking to a delegation of teachers and students of Karachi University who called on him here, according to an official press release.The President, while describing the purpose of education, observed that wholesome education must include overall grooming of a student resulting in intellectual, physical, moral and social development.Talking about good governance, the President said that responsibility of any and all governments is to ensure the security, progress and development of the nation and welfare and well being of its people.The press release said the students were of the view that looking at Pakistan’s history they found that development of the country occurred in two distinct periods of Ayub Khan and President Musharraf and that they were unable to understand the reason as to why governments change policies which are constructive and good just because the government has changed.It said the students also asked questions on different issues of their interest, including media’s role and the future of the National Internship Program (NIP).
Posted by Associated Press Service at 10:22 PM 0 comments
Pakistani forces were not targeted: US
WASHINGTON : The United States is for better coordination between Pakistani forces and international forces on Afghan side of the border, a senior State Department official said while denying suggestions that the U.S. forces targeted Pakistani military in the Mohmand border strike incident last week. Donald Camp, a senior official on South Asian Affairs, was confident that through a joint probe the two countries would get to the bottom of what actually happened.“I can certainly say that there was no targeting of Pakistani military, absolutely not,” Donald Camp a senior State Department official for South Asia told a conference of Pakistani American Congress, where he also acknowledged the country’s massive anti-terror efforts on the Afghan border.Commenting on contents of a New York Times story, Camp said the circumstances of what actually happened in Mohmand tribal border area are still murky. “But the U.S. forces are by no means targeting Pakistani security forces,” he stressed in reply to a question on the incident which resulted in the death of 11 Pakistani personnel deployed on the border post.At the Pentagon, Press Secretary Geoff Morrell said the Pakistani military is “an organization we work very closely with, and we take them at their word. When they tell us that some of their members were killed in that attack—and if that is indeed the case, that is most regrettable and unfortunate, and we express our sympathy to their families.”“That said, this is a matter that still has to be investigated, and we are now in the earliest stages of that investigation.” Camp, who is Principal Deputy Assistant Secretary of State for South Asian Affairs, was confident that the two counties would get to conclusions very soon.Pakistan had reacted strongly to the incident calling it a cowardly action and Islamabad’s envoy in Washington said Tuesday that the unfortunate incident had hurt the Pakistani nation.The New York Times in a dispatch from Islamabad reported that the incident threatened to put on hold a U.S. plan for training of a Pakistani paramilitary force in the border region as some officials saw it a deliberate fire.On Pakistan’s counterterrorism efforts, Camp said, the country has been doing an “enormous amount” in attempting to control its tribal areas along Afghan border.There are more than 100,000 Pakistani security forces in and around the border and that is a very important consideration. “What we have to have is better understanding of what is going on the border, better coordination, that is why I talked about the border coordination centers so that security forces in Afghanistan can talk to security forces in Pakistan so that we have an understanding of what is going on there, trying to avoid the tragic incident that happened in Mohmand area.”I think President “Karzai saying Pakistan can do more or should do more is his personal view,” he replied when asked about Kabul’s recent assertions that Pakistan needs to do more.
Posted by Associated Press Service at 10:14 PM 0 comments
Rs 3290.615 bln Charged Expenditure presented to NA
ISLAMABAD : Minister for Finance Syed Naveed Qamar Thursday presented Charged Expenditure of Rs 3290.615 billion to the lower House of the Parliament. The minister presented these charged expenditure included in the demands for grants and appropriations for year ending on June 30, 2009 as provided under article 82 of the Constitution.These charged expenditure include superannuation allowances and pension, civil works, National Assembly, Senate, Pakistan railways, external development loans, President House, servicing of foreign and domestic debt, foreign loans payment, audit, Supreme court, election and some other departments.As shown in details, the major chunk of the charged expenditure is for repayment of domestic debt, servicing of domestic debt and foreign loans repayment.Charged Expenditure were also discussed by the members in the House with certain recommendations and cut in some of the allocations.
Posted by Associated Press Service at 10:13 PM 0 comments
NA adopts 127 demands for grant worth Rs 1098.849 bln
ISLAMABAD : National Assembly Thursday adopted motions to approve 127 demands for grants worth Rs. 1098.849 billion out of total 179 demands for the fiscal 2009-09. Minister for Finance, Syed Naveed Qamar moved the motions to the House one by one which were adopted with majority vote without discussion as there were no cut motions on these demands for grants.After approval of these demands, the remaining demands out of the total lay out of Rs. 1339.577 billion demands of grants, would be taken up on upcoming days.The demands for grants approved Thursday pertained to Defence, Defence Services, Defence Production, Commerce, Culture, Education, Environment, Finance, Food Agriculture and Livestock, Foreign Affairs, Housing and Works, Industries and Production, IT, Railways, Port and Shipping divisions and Information and Broadcasting, National Savings, Pension and Allowance, FBR and some other divisions and departments.From Friday, the House would take up some of the remaining demands of grants and discuss these demands on opposition’s cut motions.
Posted by Associated Press Service at 10:09 PM 0 comments
بھارتی فوج کی آزادکشمیر کے سرحدی علاقے بٹل پونچھ پر شدید فائرنگ ، ٤ پاکستانی فوجی شہید ٣ فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی
بٹل پونچھ ۔ بھارتی فوج کی جمعرات کے روز آزادکشمیر کے سرحدی علاقے بٹل پونچھ پر شدید فائرنگ جس سے4پاکستانی فوجی شہید 3 فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ علاقے میں خوف وہراس پیدا ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق بٹل پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف سے بھارتی فوج نے دن 11:00بجے بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی جس سے4پاکستانی فوجی شہید اور 3فوجیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارا فوجی قافلہ معمول کی پٹرولنگ ڈیوٹی پر تھا کہ اس پر ایک جنگل سے اچانک فائرنگ شروع کردی گئی جس کے نیتجہ میں دو فوجی موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے تھے جنہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں جام شہادت نوش کیا جبکہ تین فوجی معمولی زخمی بھی ہوئے جنرل اطہر عباس نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد مزید ایک پٹرولنگ قافلہ جائے حادثہ پر بھی بھیجا گیا تاکہ وہ پتہ چلا سکے کہ یہ فائرنگ کس نے کی تاہم تاحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اس واقعہ میں کون لوگ ملوث ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 10:00 PM 0 comments
عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے ۔امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی کا انٹرویو
واشنگٹن :امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو عراق اور افغانستان بنانا ہمارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے۔ہم نے امریکہ سے18 ارب ڈالر کی مدد حاصل ہے ۔امریکہ مخالفت میں ’’ ہتھ ہولا ‘‘ رکھا جائے کیونکہ امریکہ سپر پاور ہے ۔امریکہ سے بہتر تعلقات کیلئے پاکستان میں موجود امریکہ مخالف تنظیموں پر پابندی لگاناہو گی پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ جو تعاون کر رہاہے اپنے لئے کر رہاہے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہو ںنے کہاکہ اپنی خواہش کو فیصلہ بنانے سے معاملات حل نہیں ہوںگے۔پاکستان میں کچھ تنظیمیں امریکہ مخالف ہیں اُن کو ختم کرنا ہوگا انہوں نے کہا جو دوست کہتے ہیں کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت چھوڑ دیں وہ غلط کہتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے لیاقت باغ کے باہر دہشت گردی میں کوئی امریکی نہیں مارا گیا بلکہ ہمارے اپنے ہی لوگ مارے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ آج بھی جب آپ ملک میں سفرکرتے ہیں تو آپ کو کئی دیواروں پر امریکہ مخالف نعرے لکھے نظر آتے ہیں جن میں ’’کل روس کو ٹوٹتے دیکھا تھا اب انڈیا ٹوٹتے دیکھیں گے ، ہم بن کے جہاد کے شعلوں سے امریکہ جلتا دیکھیں گے‘‘ جیسے نعرے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک دم امریکہ سے تعاون ختم نہیں کیا جاسکتا پاکستان کو عراق اور افغانستان بنانا اور صدام حسین جیسے لوگ کھڑے کرنا ہمارے حق میں نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان 1954ء سے امریکہ کا حلیف ہے ۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مدد دی ہے۔دوستوں اور دشمنوں کے درمیان مسائل حل کرنے اور اختلافات کے طریقہ کار مختلف ہوتے ہیں۔ ہم نے امریکہ سے 18ارب ڈالر کی مدد حاصل کی ہے اور جو کچھ کیاہیامریکہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے کیاہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پرائیڈ کے نام پر لوگوں کے جذبات بھڑکانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور لوگوں کو یہ بات بتانی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرہم نے اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا ہوتا تو آج ہم دہشت گردی کو ختم کر چکے ہیں اور امریکہ کو بھی پاکستانی حدود میں مداخلت کا موقع نہ ملتا انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ مخالفت میں ’’ ہتھ ہولا ‘‘ رکھا جائے کیونکہ امریکہ سپر پاور ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جن تنظیموں پر ہم نے پابندی لگائی تھی انہوں نے نئے نام سے تنظیمیں بنا لی ہیں
Posted by Associated Press Service at 9:53 PM 0 comments
بہت جلد صدر پاکستان پی پی پی کا ہوگا اورایوان صدر میں جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔آصف علی زرداری
لاہور ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دعوی کیا ہے کہ بہت جلد صدر پاکستان پی پی پی کا ہو گا اورایوان صدر میں جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔ وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلی کو گڑھی خدا بخش لیکر جاؤں گا اور جئے بھٹو کے نعرے لگواؤں گا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ اور شہادت کے روز کو اپنے خون سے لکھ کر تاریخ رقم کریںگے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان اقبال میں پی پی پی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کی کتاب’’ایولوشن آف ڈیمو کریسی(جمہوریت کا ارتقاء) کی تقریب رونمائی کے موقع پر کیا ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر اور پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن نے بھی خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پی پی پی کے بانی رکن اسلم گورداس پوری نے سرانجام دیئے ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر نے قرار دادمیں حکومت سے مطالبہ کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے یوم پیدائش کو ’’جمہوریت ڈے ‘‘ اور شہادت کے روز کو شہید جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ۔ اس موقع پر جئے بھٹو اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے مسلسل نعرے لگتے رہے۔آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو مر کر بھی زندہ ہیں جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر جس نے ذوالفقار علی بھٹو کوختم کیا آج اس کے نام پر اس کی اولادکو بھی کوئی ووٹ نہیں دیتا جبکہ بھٹو شہید کے نام پر آج بھی ووٹ بنک بھرپور انداز میں موجود ہے ۔ بے نظیر کے افتتاحی جلوس میں جیالے جانیں دے کر پچھے نہیں ہٹے بلکہ اس وقت بھی وہ جئے بھٹو کے نعرے لگا رہے تھے اور ثابت کر رہے تھے کہ یزیدوں کا کام یزیدیت کرنا جبکہ ہمارا نصب العین حسینیت کی پیروی کرنا ہے ۔ انہوں نے ہال میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ایوان صدر میں صدر کے منصب پر پی پی پی کا نمائندہ فائز ہو گا اس تاریخی موقع پر بلاول ، بختاور ، آصفہ ، آپ اور میں بھی موجود ہونگے اور جئے بھٹو کے نعرے لگیں گے ۔عنقریب وزیر اعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلی کو گڑھی خدا بخش لیکر جاوں گا ۔ فاتحہ خوانی کے بعد جئے بھٹو کے نعرے لگواؤں گا ۔ محترمہ کے افتتاحی جلوس پر جب بم دھماکہ ہوا اور چالیس جیالوں نے جام شہادت نوش فرمایا تو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ محترمہ آپ گھر بیٹھ کر ٹی وی پر سیاست کریں آپ کی جان کو خطرہ ہے مگر محترمہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہوں میری جڑیں عوام میں ہیں ان سے کسی قیمت پر بھی دور نہیں رہ سکتی ۔ جب بھی ملک پر آمر نے قبضہ کیا ہے تو پی پی پی نے ہی اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے سازشیں خوف زدہ ہیں انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ شہیدوں کا قافلہ آچکا ہے وہ خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں انہوں نے سابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو بریگیڈئر اعجاز شاہ کا نام لئے بغیر کہا کہ کوئی آسٹریلیابھاگ چکا ہے تا ہم سب کو حساب دینا ہو گا ۔ اس موقع پر جہانگیر بدر نے قرار پیش کر کے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 21 جون محترمہ بے نظیر بھٹو کی ولادت کا دن ہے اسے ’’ جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ‘‘ اور 27 دسمبر شہادت کے روز کو ’’شہید جمہوریت ڈے قرار دیا جائے ۔ اپنی کتاب کے متعلق انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی کتاب کو شہید محترمہ کے نام پر منسوب کر دیا ہے جس میں محترمہ کی زندگی کے مختلف ادوار اور سیاسی زندگی کے متعلق روشنی ڈالی گئی ہے ۔ کتاب محترمہ کی زندگی میں مکمل ہو چکی تھی مگر مصروفیات کے باعث اس کی رونمائی نہیں ہو سکتی تھی ۔ مہدی حسن نے کہا کہ موجودہ دور میں کولیشن حکومت چل رہی ہے جس میں دونوں جماعتوں کو باہمی مشورے اور اتفاق رائے سے عوام کی خدمت کرنا چاہیے اگر ایک پارٹنر دوسرے پر تنقید کر کے اپوزیشن والا رویہ اختیار کرلے تو کولیشن حکومت کا چلنا ممکن نہیں رہتا جمہوریت کیلئے جتنی قربانیاں پی پی پی نے دی ہیں کسی دوسری جماعت کے حصہ میں نہیں ہیں جس کا گواہ گڑھی خدابخش کا قبرستان ہے ۔ انہو ںنے جہانگیر بدر کی کتاب کے متعلق بتایا کہ بے نظیر کی دونوں حکومتوںکے اختتام کی وجہ یہ بخوبی جانتے ہیںمگر انہوں نے بیان اس لئے نہیں کیا کہ یہ سیاسی آدمی ہیں ورنہ یہ حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 9:49 PM 0 comments
پیپلز پارٹی پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتی مگر وہ ایک حقیقت ہے۔ آصف علی زرداری
اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتی مگر وہ ایک حقیقت ہیں۔ ڈاکٹر قدیر کا مسئلہ سابقہ حکومت کا پیدا کردہ ہے وہی اسے حل کرے۔ بجٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر رقم رکھنے کا مقصد معزول ججز کی بحالی کے کام کا آغاز ہے ہم بھی اگر (ن) لیگ کی طرح پنجاب سے وزارتیں چھور دیتے تو چھانگا مانگا کی تاریخ دہرائی جاتی۔ میڈیا نے جتنی کوریج ججز کی بحالی کو دی اتنی کوریج اگر جمہوریت کی بحالی کو دی جاتی تو نتائج بہت بہتر ہوتے آج ایک نجی ٹی وی انٹرویومیں آصف علی زرداری نے کہاکہ فنانس بل میں ججز کی تعداد میں اضافہ نواز شریف کے مشورے سے کیاگیا تھا پیپلز پارٹی صدر پرویز مشرف کو صدر نہیں مانتے مگر وہ ایک حقیقت ہیں۔ یحییٰ خان کی وردی کے تنازعہ سے ملک ٹوٹ گیا مگر بے نظیر بھٹو نے پرویزمشرف کی وردی اتروا کر جمہوریت کی راہ ہموار کی آصف علی زرداری نے ایک سوال پر کہاکہ میں تو سزا کاٹ چکا ہوں این آر او کا مجھے نہیں بلکہ تمام جماعتو ںکے کارکنوں کو فائدہ ہوا انہوں نے کہاکہ این آر او کے تحت ناجائز مقدمات ختم کئے گئے۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پہلی بار پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ صدر کے پاس کافی اختیارات ہیں جنہیں آئینی پیکج کے ذریعے ختم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا نے جتنی کوریج ججز کی بحالی کو دی ہے اتنی کوریج اگر جمہوریت کی بحالی کو دی ہوتی تو نتائج بہتر ہوتے زرداری نے کہاکہ میثاق جمہوریت کے مطابق پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والا جج نہیں رہ سکتا مگر ہم نواز شریف کی اس بارے پوزیشن کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معزول ججز بحال ہوں اور موجودہ ججز بھی ڈسٹرب نہ ہوں انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ججز کی تعداد بڑھا کر رقم رکھنے کا مقصد ججز کی بحالی کے کام کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے ہم میاں نواز شریف کی مشاورت سے کام کر رہے ہیں اگر پیپلز پارٹی بھی پنجاب سے وزارتیں چھوڑ دیتی تو چھانگا مانگا کی تاریخ دہرائی جاتی ۔ غلام اسحاق خان نے مجھ پر کئی مقدمات بنائے میں ان میں سے14میں بری ہوا ۔ آصف علی زرداری نے کہاکہ میں پھر کہتا ہوں کہ موجودہ ججز بھی رہیں گے اور معزول ججز بھی ضرور بحال ہوں گے- انہوں نے کہاکہ عوام کیلئے صرف ججز کی بحالی ہی مسئلہ نہیں بلکہ مہنگائی بے روزگاری ، بجلی ، پانی کی کمی اور دیگر بہت سے مسائل بھی ہیں جن سے انہیں نجات دلایا جانا ضروری ہے پاکستان سٹیل ملز کی یونین پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی بار جیتی ہے ہم نے آتے ہی یونین بحال کر دیں تھیں عوام کو ان کا حق دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے ہم نے لانگ مارچ کی مکمل آزادی دی ۔انہوں نے کہاکہ ن(ن) لیگ نے مرکز سے وزراء نکال لئے مگر پی پی پی نے پنجاب سے نہیں نکالے۔ انہوں نے کہاکہ قومی مفاہمت کا مقصد ملک کو بچانا ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اعتزاز احسن پارٹی پالیسی کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں مگر پارٹی نے انہیں اس پر کوئی نوٹس نہیں دیا پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کو مضبوط کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے حکومت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوئی ہے آصف علی زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو لگنی والی ضرب بہت گہری ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت سے ہونے والا نقصان ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔ڈاکٹر عبدالقدیر کا مسئلہ پچھلی حکومت کا پیداکردہ ہے اس کا تسلسل موجود ہے وہی اسے حل کرے۔انہوں نے کہاکہ فنانس بل میں ججز کی تعداد میں اصافہ ، نواز شریف کے مشورے سے کیاگیا تھا ۔ گزشتہ روز لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ ایک محض ملاقات تھی اورمیں لاہور آؤں اور ان سے نہ ملوں یہ کیسے ممکن ہے انہوں نے کہاکہ میرا میاں نواز شریف سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
Posted by Associated Press Service at 9:46 PM 0 comments
ایشیا کرکٹ کپ ، قومی کرکٹ ٹیم کے ٢٠ ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا
لاہور۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے ایشیا کپ کے لئے بیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ سلیکٹرز نے وکٹ کیپر کامران اکمل کو ڈراپ کر دیا ہے ۔ ایشیا کپ کے لئے بیس ممکنہ کھلاڑیوں میں شعیب ملک ،سلمان بٹ،محمد یوسف ،یونس خان ،یاسر حمید ،بازید خان ، فواد عالم ،سہیل خان، سہیل تنویر،ناصر جمشید ،شاہد آفریدی ،نعمان اللہ ،منصور امجد،عبدالرؤف،عمر گل،سرفراز احمد ، راؤ افتخار،سعید اجمل اور وہاب ریاض شامل ہیں۔بائیس جون تک کھلاڑیوں کی تعداد کم کر کے پندرہ کر دی جائے گی۔ ایشیا کپ میں پاکستان ،بھارت،سری لنکا،بنگلہ دیش،متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔
Posted by Associated Press Service at 9:44 PM 0 comments
شاہد اورکزئی نے میاں نواز شریف ، رانا ثناء اللہ خان اور میاں مجتبی شجاع الرحمن کی اہلیت کو چیلنج کرنے کے لئے مزید دو درخواستیں دائر کر دیں
لاہور ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے مد مقابل ضمنی الیکشن میں امیدوار شاہد اورکزئی نے میاں نواز شریف کی اہلیت اور غیر منتخب وزراء کی نا اہلی کے لئے الگ الگ مزید دو درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں دائر کر دی ہیں ۔ میاں نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف ماضی میں فاٹا سے منتخب ارکان کو خریدنے میں ملوث رہے ہیں اس لئے ایسا شخص الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہو سکتا جس پر الیکشن ٹربیونل نے میاں نواز شریف 23 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ شاہد اورکزئی نے ایک اور درخواست صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان اور میاں مجتبی شجاع الرحمن کے خلاف دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیاگ یا ہے کہ یہ دونوں وزراء سابق وزیر اعلی سردار دوست محمد کھوسہ کی کابینہ میں بھی شامل رہے ہیں جبکہ اب میاں شہباز شریف کی کابینہ کے بھی رکن ہیں ۔ آئین کی روح سے کوئی غیر منتخب شخص صرف ایک بار وزیر بن سکتا ہے اس لئے ان دونوں افراد کو وزارت کے لئے نا اہل قرار دیا جائے جس پر عدالت نے میاں مجتبی شجاع الرحمن اور رانا ثناء اللہ کو بھی 23 جون کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔
Posted by Associated Press Service at 9:30 PM 0 comments
بھارتی حکومت بھی کارگل جنگ کے امکان سے بے خبر تھی ،گرمیت کنول کی کتاب میں سابق فوجی سربراہ جنرل وی پی ملک کا انکشاف
نئی دہلی ۔ کارگل لڑائی کے دوران فوج کی قیادت کرنے والے جنرل وی پی ملک نے اس وقت کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کو خطرہ کا احساس نہیں تھا جس کے نتیجہ میں 1999ء کے دوران جنگ چھڑ گئی تھی۔ فوجی حکمت عملی میں ظاہر کردہ تجزیہ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ تمام کوششوں کے باوجود بھی جنگ چھڑ سکتی ہے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جو لوگ اس بات پر شک و شبہ کا اظہار کر رہے ہیں میں انہیں کارگل جنگ کی یاد دہانی کرنا چاہوں گا جو وزیر اعظم بھارت اور پاکستان کی جانب سے بڑی تشہیر کے ساتھ لاہور اعلامیہ پر دستخط کے بعد بھڑک اٹھی تھی۔ بریگیڈرریٹائرڈ (گرمیت) کنول کی تحریر کردہ کتاب ’’ ہندوستانی فوجی ڈویژن 2020‘‘کے پیش لفظ میں وی پی ملک نے بتایا کہ فوجی تاریخ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ جو ممالک تاریخی عزم و ارادہ کو نظر انداز کرتے ہیں ، وہ خود کو اچانک فوجی کارروائی ، شکست و رسوائی کی زد میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ کارگل جنگ کے حوالہ دئیے بغیر انہوں نے اس بات پر زود یا کہ سکیورٹی منصوبوں سے جنگ کے مکمل داہرہ کار کی ضرورتوں کی تکمیل ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی داخلی سیاسی تنازعات کی کثرت اور اتفاق رائے کے فقدان پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ہند، امریکہ نیوکلیر معاملت کا حوالہ دیا ، جو بائیں بازو کی مخالفت کی بناء پر تعطل کا شکار بن گیا ہے ۔ انہوں نے دفتر شاہی پر الزام عائد کیا کہ اسے دفاعی و فوجی امور کا علم و تجریہ نہیں ہے۔ سابق فوجی سربراہ نے بتایا کہ یہ انداز فکر ملک کے لیے دفاعی مفادات کے مغائر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزادی کے 60سال بعد بھی ہمارے بیشتر سیاسی قائدین و سرکاری عہدیداروں میں دفاع اور فوجی امور پر علم و تجربہ کا فقدان ہے۔
Posted by Associated Press Service at 7:50 PM 0 comments
پاکستان کے ذر مبادلہ ذخائر کا مجوعی حجم ١٠ ارب٩٠ کروڑ ٩٦ لاکھ ڈالرز ہوگیا ہے ۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان
کراچی۔ پاکستان کے ذر مبادلہ ذخائر کا مجوعی حجم 10ارب90کروڑ96لاکھ ڈالرز ہوگیا ہے۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس 8ارب26کروڑ71لاکھ ڈالرز ہیں جبکہ دیگر بنکوں کے پاس 2ارب64کروڑ25لاکھ ڈالرز ہیں۔
Posted by Associated Press Service at 7:47 PM 0 comments
امریکی جاسوس طیاروں کی پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی
شمالی وزیرستان ۔ امریکی جاسوس طیاروں نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے علاقے پر پروازیں شروع کر دی ہیں امریکی جاسوس طیاروں نے جمعرات کی صبح میر علی، غلام خان ، انگور اڈہ اور دیگر کئی علاقوں پر نچلی پروازیں کی ہیں جس کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے امریکی طیاروں کی پاکستانی سرحدی حدود کی یہ پہلی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار جاسوس طیارے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے ہیں
Posted by Associated Press Service at 7:42 PM 0 comments
اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔ ۔ ۔ بارک اوباما کا دعویٰ
واشنگٹن ۔ امریکہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بارک اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں اور یہیں سے اپنے آڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واشنگٹن میں قومی سلامتی کے تیرہ رکنی نئے مشیروں کی ٹیم سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بارک اوباما نے کہاکہ وہ صدر بننے کے بعد اسامہ بن لادن کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اگر اسامہ بن لادن مارے بھی گئے تو کوئی انہیں شہید نہیں کہے گا انہوں نے 1998ء میں صدر کلنٹن کے دور میں جاری ہونے والے ایک خفیہ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا جس میں سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کو گرفتاری کے فوری بعد مار دینے کے احکامات جاری کئے گئے تھے اوباما کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتانا چاہتے کہ اسامہ بن لادن کی زندہ گرفتاری کیلئے وہ کیا طریقہ اختیار کریں گے لیکن اگر امریکی حکومت کو ان کا ٹھکانہ معلوم ہوا تو شاید اسامہ زندہ نہ بچ سکیں بارک اوباما نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھی پاکستانی قبائلی علاقوں میں آزادانہ نقل وحرکت کر رہے ہیں جو دہشت گردوں کے خلاف صدر بش اور ری پبلکن پارٹی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔
Posted by Associated Press Service at 7:37 PM 0 comments
دہشت گرد پاکستان میں بیٹھ کر نائن الیون جیسے واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، حادثہ دوبارہ پیش آیا تو اس کا ذمہ دار پاکستان ہو گا صدر پرویز مشرف
راولپنڈی ۔ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے پاکستان کو بتایا ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں بیٹھ کر نائن الیون جیسے واقعہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اگر ایسا حادثہ دوبارہ پیش آیا تو اس کا ذمہ دار پاکستان ہو گا صدارتی کیمپ آفس میں ایک نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں صدر مشرف نے انکشاف کیا کہ کچھ عرصے سے پاکستان سے گرفتار دہشت گردوں سے امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی اہم تنصیبات کے نقشے ملے ہیں اور امریکہ اس بات سے با خبر ہے صدر مشرف نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی سے نہ لیا تو امریکہ پاکستان کو ٹائیٹ کر سکتا ہے صدر کا کہنا تھا کہ جس تواتر سے امریکہ کے اعلیٰ عہدیدار پاکستان آ رہے ہیں اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ امریکہ تحفظات بتا چکا ہے صدر مشرف کا خیال تھا کہ مستقبل میں اگر یورپی یا امریکہ میں نائن الیون جیسا واقعہ پیش آیا تو امریکہ اور اتحادی پاکستان کو ذمہ دار سمجھیں گے اور شاید پاکستان پھر نائن الیون والی سطح پر آ جائے اور اس بار امریکہ کا نشانہ افغانستان نہیں ہو گا اس سوال پرکہ کیا امریکہ کا اگلہ نشانہ پاکستان ہو گا صدر نے چپ سادھ لی۔
Posted by Associated Press Service at 7:34 PM 0 comments
صدرمشرف مستعفی ہوں ‘ عدلیہ بحال کیا جائے ‘ فوجی آپریشن بند کیے جائیں ۔اے پی ڈی ایم
اسلام آباد۔ آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف فی الفور صدارت چھوڑ دیں ۔ عدلیہ کو 2 نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔ بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں یں فوجی آپریشن بند کیا جائے ۔ اے پی ڈی ایم کے دو روزہ اجلاس کے خاتمے پر جاری ہونے والے اعلامیے میں یہ مطالبات کیے گئے اے پی ڈی ایم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم جولائی کے پہلے ہفتے میں اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل طے کرے گا۔ انہوں نے اعلامیہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہآل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ( اے پی ڈی ایم) کے تحت 18 اور 19 جون 2008 ء کو اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس نے لندن میںگزشتہ سال منعقدہ کل جماعتی کانفرنس اور اے پی ڈی ا یم کے 18 دسمبر2007 ء کے اعلامیے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے 18 فروری کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس نے 3 نومبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی اور اس کے نتیجے میں اعلی عدالتوں کے ججز کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کا اقدام کو ناقابل قبول ہے ۔ اس مینڈیٹ کے ذریعے عوام توقع رکھتے ہیں کہ پرویز مشرف نے جو غیر آئینی اقدام کیے انہیں ردکردیا جائے ۔ یہ عوامی دباؤ اے پی ڈی ایم کے مضبوط موقف اور ملک میں میڈیا کے بھرپور تعاون سے جاری وکلاء ‘ سول سوسائٹی اور عوام کے دیگر طبقات کی تحریک کا نتیجہ تھا کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو اعلان بھوربن کرنا پڑا۔ یہ عوامی دباؤ اور 18 فروری کے مینڈیٹ کی ہی طاقت تھی جس کے بل بوتے پر نامزد وزیراعظم کو نظر بند ججوں کی فی الفور رہائی اور حال ہی میں ان کی تنخواہوں کے احکامات جاری کرنے پڑے۔ نئی حکومت تاہم اعلان بھوربن سے پیچھے ہٹ چکی ہے ا ور یہ پرویز مشرف کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ایسے راستوں کی تلاش میں ہے جس سے برطرف ججوں کی بحالی کے معاملے کو محدود اور کنٹرول میں رکھا جاسکے ۔ مجوزہ آئینی پیکج پر ویز مشرف کے تین نومبر کے غیر آئینی اقدام کو تحفظ دینے اور عدلیہ کو حکومتی اتھارٹی کے سامنے جھکانے کی کوشش ہے ۔ حکومت نہ صرف عدلیہ کے بارے میں ڈکٹیٹر کی پالیسیوں کوجاری رکھے ہوئے ہے بلکہ حکومت کے دیگر معاملات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن پورے زورو شور سے جاری ہے معصوم لوگوں کو جان سے مارا جا رہا ہے کوہلو اور بگتی کے لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ دیں ۔ نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو قتل کیے جانے (جان سے مار دینے) کی آج تک کوئی تحقیق نہیں کی جا سکی اگرچہ بلوچستان میں منتخب حکومت قائم ہے لیکن بلوچستان ابھی تک محاصرے میں ہے ۔ یہ دعوی کہ نئی حکومت عوام کو کپڑا اورمکان دے گی نئے بجٹ کے اعلان سے یہ اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے ۔ نیا بجٹ امیروں کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے جبکہ غریبوں پر نئے ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ بجٹ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور لوگوں کو روٹی‘ کپڑے اور مکان کی سہولیات سے محروم کردیا گیا ہے ان حالات میںو کلاء برادری کی طرف سے لانگ مارچ کی صورت میں ایک بڑی عوامی تحریک کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس میں اے پی ڈی ایم ‘ سول سوسائٹی اور عوام الناس کے مختلف طبقات نے بھرپور شرکت کی۔ یہ کانفرنس عظیم لانگ مارچ کے کامیاب انعقاد پر کانفرنس کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتی ہے اور مستقبل میں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلاتی ہے اندریں حالات یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران لانگ مارچ کے شرکاء کے مطالبات کوپوراکرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ لوگ اس صورت حال سے سخت مایوسی کا شکار ہیں اور وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ قومی کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ اعلی عدالتوں کے ججز کو 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کے مطابق بحال کیا جائے ۔ پرویز مشرف کے تمام غیر آئینی اقدامات بالخصوص 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کو رد کیا جائے ۔ پرویز مشرف کو فی الفور صدارت چھوڑ دینی چاہیے ۔ بلوچستان مین جاری تمام فوجی اور نیم فوجی آپریشن بند کیے جائیں ۔ نواب اکبربگٹی ‘ بالاچ مری اور دیگر بے گناہ ا فراد کے قتل عام کی فی الفور عدالتی تحقیقات کروائی جائیں مشرف کے دور میںلاپتہ کیے جانے والے افراد کو فی الفور بازیاب کیا جائے ۔ کراچی میںسانحہ نشر پارک ‘ 12 مئی 2007 ء اور 9 اپریل 2008 ء کے المناک واقعات میں بے گناہ افراد کے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی عدالتی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا ئیں دی جائیں ۔ قبائلی علاقوں ‘ سوات ‘ باجوڑ اور ملک کے دیگر حصوں میں معصوم لوگوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو فی الفور بند کیا جائے ۔ ا ور ان علاقوں کو بیرونی عناصر سے پاک کیا جائے ۔ ا وروہاں قانون کی عملداری کویقینی بنایا جائے ۔ پاکستان کی خود مختاری جو حقیقی خطرے میں ہے اس کے تحفظ کویقینی بنایا جائے ۔ فیڈریشن کے تمام یونٹس کو مکمل صوبائی خود مختاری دی جائے اور ان کے اقتصادی اور قدرتی وسائل پر ان کے کنٹرول کو تسلیم کیا جائے ۔سیلز ٹیکس اور کیپٹل ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے ۔ عوام کودی جانے والی تمام مالی مراعات اور سبسڈیز کو بحال کیا جائے ۔ روزہ مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کیا جائے اور انہیں بڑھنے سے روکاجائے ۔ انڈسٹریل ریلیشنز آرڈنینس 2001 ء کو منسوخ کیا جائے او رآئی ایل او کے چارٹر کے تحت کارکنوں کو نوکری کا تحفظ ‘ یونین سازی اور ہڑتال کا حق اور دوسرے بنیادی حقوق د ئیے جائیں ۔ میڈیا بالخصوص جیو پر لاگو تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے ۔ یہ کانفرنس پریس اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے عوام کی جاری جدوجہد کی سپورٹ کرنے پر میڈیا کے کردار کو سراہتی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ سپورٹ جاری رہے گی ۔ اے پی ڈی ایم جولائی میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی ‘ 16 کروڑ عوام کی تحریک کاراستہ نہ روکاجائے ضروری ہوا تو سول نافرمانی تحریک چلائیں گے ۔ پی سی اووالے ججوں کا گھیراؤ کریں گے۔
Posted by Associated Press Service at 7:30 PM 0 comments
شریف برادران اہلیت کیس میں عدالت عالیہ نے پیش نہ ہونے پر شریف برادران کا حق دفاع ختم کردیا
لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان ، مسٹر جسٹس حسنات احمد خان اور مسٹر جسٹس احسن بھون پر مشتمل فل بینچ نے شریف برادران کے اہلیت کیس میں ان کے دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز شریف برادران کے خلاف اہلیت کیس کی سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے سمن تعمیل کرانے والے اہلکاروں نے رپورٹ پیش کی کہ شریف برادران کو نوٹس کی تعمیل کروادی گئی ہے جس پر عدالت عالیہ نے شریف برادران کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کا دفاع کا حق ختم کردیا ہے جبکہ کیس میں فریق بننے کیلئے سپیکر پنجاب اسمبلی، حکومت پنجاب ، میاں نوازشریف کے تائید کنندہ مہر ظفر اور سپریم کورٹ بار کے ایگزیکٹو رکن خواجہ طارق سہیل و اے کے ڈوگر کی فریق بننے کی درخواستوں کی سماعت پر بحث مکمل ہونے پر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔ کل درخواست دہندہ کے وکلاء کے دلائل سنے جائیں گے۔
Posted by Associated Press Service at 7:27 PM 0 comments
عوام بجلی کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیں ، پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم
اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما امین فہیم نے کہا ہے کہ ایک عام آدمی کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنا صریحاً ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ اس نا انصافی کے خلاف بطور احتجاج بجلی کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیں ۔ یہاں جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امین فہیم نے کہاکہ عوام کو چاہیے کہ وہ بجلی کے بل ادا کرنا بند کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی پورے ملک کے عوام کے لیے یقنی بنانا حکومت اور واپڈا کی ذمہ داری ہے اور مراعات یافتہ طبقہ بجلی کی عدم فراہمی سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ لوڈشیڈنگ تو غریبوں پر ہی بجلی بن کر گرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ غریبوںکو تو گرمیوں کے موسم میں صرف پنکھے کے لیے ہی بجلی درکار ہوتی ہے اور اگر وہ پنکھا بھی نہ چلا سکیں اور انہیں بل پورا ادا کرنا پڑے یہ کہاں کا انصاف ہے بلکہ یہ کھلم کھلا دھاندلی ہے اور اس دھاندلی کو ختم ہوناچاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ یہ بجٹ عام آدمی کا بجٹ نہیں کہہ سکتا ۔ بجٹ ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے عوام کو ریلیف ملے ۔ امین فہیم نے کہاکہ موجودہ حکومت بھی غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر کام کر رہی ہے اور ان کے کہنے پر ہی پٹرولیم کی مصنوعات پر سبسڈی واپس لی جا رہی ہے۔
Posted by Associated Press Service at 7:25 PM 0 comments
غلام مصطفی کھر نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کرلیا
جھنگ ۔ سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ دیدیا۔ آج ہمارے نمائندے سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی سیاسی جماعت کے نام اور منشور پر کام ہورہا ہے۔ کاغذی کاروائی مکمل ہونے پر اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان کی پارٹی میں منجھے ہوئے تجربہ کار سیاسی لوگ شامل ہوں گے جو ملک کو صاف ستھری اور جمہوری سیاست فراہم کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اتحاد چلتا نظر نہیں آرہا۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے جن ایشوز کی بنیاد پر آپس میں اتحاد قائم کیا تھا وہ سارے ویسے ہی موجود ہیںاور اب تک ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا اس لئے دونوں جماعتیں زیادہ دیر تک ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکیں گی۔
Posted by Associated Press Service at 7:23 PM 0 comments
ہندو خودکش دستے تشکیل دئیے جائیں ۔ بال ٹھاکرے
ممبئی ۔ انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے ہندوؤں سے کہا کہ ان کی حفاظت صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ اسلامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خودکش دستے تیار کریں ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھے گئے ایک سخت اداریہ میں ٹھاکرے نے تھانہ اور واشی میں ہندو تنظیموں کی جانب سے بم دھماکوں کے حالیہ و اقعات کا مضحکہ اڑایا ۔ اور کہاکہ خود کش بمباروں کو چاہیئے تھا کہ عوام کو نشانہ بنانے کے بجائے مراٹھی ڈرامہ کے دائریکٹر / پرڈویوسر اور رائٹر کو نشانہ بناتے ۔ تھانے کے ایک آڈیٹوریم میںا یک ڈرامہ کے دوران ہوئے دھماکہ میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں ہندو جاگرن منچ اور سناتن پر بھارت تنظیموں کو ملوث قرار دیاگیا ہے ۔ ٹھاکرے نے کہا کہ ان تنظیموں کو مزید طاقتور بم بنانا چاہیئے ۔ ڈرامہ تھیٹروں پر دھماکوں کے بجائے انہیں چاہئے کہ ان علاقوں میں دہشت پھیلائیں جہاں بنگلہ دیشی رہتے ہیں ا داریہ میںکہا گیا کہ ہندوؤں کے ملوث ہونے کی خبریںپڑھ کر ہمیں بڑی مسرت ہوئی لیکن جب یہ پتہ چلا کہ یہ دھماکوں کی وجہ سے ہمارے ہی طبقہ کے کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں تو ہمیںبڑی شرم محسوس ہوئی ۔ ٹھاکرے نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ چھتر پتی شیوا جی مہاراج نے تلوار کے ذریعہ مغلوں سے ہندوؤں کی حفاظت کی ۔ تحریک آزادی کے دورانل وک مانیہ تلک نے کھل کر ہندو توا کی حمایت کی جس کے نتیجے مین کانگریس میں ہندوؤں کی آواز میں اضافہ ہوا
Posted by Associated Press Service at 7:17 PM 0 comments
Subscribe to:
Comments (Atom)