
بدھ 18 جون کوجب امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نیشنل لائبریری آڈیٹوریم میں روٹس (Roots) انٹرنیشنل کالج کی تقریب تقسیم اسناد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کیلئے جارہی تھیں تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہاں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دارالحکومت کے صحافی اکثر سفارتی تقریبات میں مدعو ہوتے ہیں جب یہاں مقیم سفیر حضرات اپنے ممالک کے خاص ایام کے سلسلے میں استقبالیہ وغیرہ منعقد کرتے ہیں ان تقریبات میں دوست ممالک کے سفیروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی نمائندگی کیلئے دو تین وزیر بھی لازمی شرکت کرتے ہیں ۔ سرکاری افسر معززین شہر بھی نظر آتے ہیں ۔ ایسی تقریبات میں امریکی سفیر کی آؤ بھگت ہم دیکھتے رہتے ہیں ہمارا مشاہدہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ امریکی سفیر کے قریب ہونے کی خاطر کس طرح چھوٹی چھوٹی کوششیں کررہے ہوتے ہیں اور سفیر محترمہ کس طرح ہر ایک کو شک کی نگاہ سے ، ڈری ڈری دیکھتی ہیں جیسے ان سے بات کرنے کی کوشش کرنے والا کہیں اسامہ کا کوئی ساتھی نہ نکل آئے۔ اس میں ان کا قصور نہیں حالات واقعی ایسے ہیں اوپر سے وہ مرد بھی نہیں عورت ہیں اور عورتوں کے دل تو بہت نازک ہوتے ہیں ۔ وہ جلد خوفزدہ ہوجاتی ہیں ۔ پتہ نہیں پاکستان اور امریکہ کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں جبکہ دونوں طرف دہشت گردی کے حوالے سے حالات خراب تھے دونوں جگہ عورتوں کی بطور سفیر تعیناتیاں زیادہ ہ ہوتی رہیں ۔ ہم نے پہلے محترمہ عابدہ حسین کو اور پھر محترمہ ملیحہ لودھی کو سفیر بنایا اور امریکہ نے وینڈی چیمبر لین، نینسی پاؤل اور اب این ڈبلیو پیٹرسن کو بھیجا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے خیال یہ ہو کہ دہشتگرد کچھ تو لحاظ کریں گے اس لئے خواتین کو آگے کر دو۔ پاکستان نے تو خیراپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔ دہشت گردی کے سخت حالات میں جرنیلوں کو سفیر بنایا۔ جنرل جہانگیر کرامت اور میجر جنرل محمود علی درانی اور اب حسین حقانی ہماری نمائندگی کررہے ہیں مگر امریکہ کی طرف سے خواتین کی تعداد زیادہ آرہی ہے۔ امریکی سفارتخانے کے دیگر سٹاف میں بھی خواتین غالب ہیں خیر ہم یہ بات صنفی امتیاز کے حوالے سے نہیں کررہے بلکہ اوپر بیان کرآئے ہیں کہ دہشت گردی کے شکار اور اس کے خلاف برسرپیکار علاقوں میں خواتین کو نہ بھیجا جائے تو مناسب ہے ورنہ ان کی آنکھوں میں وہی خوف رہے گا جو موجودہ امریکی سفیر کی آنکھوں میں نظر آتا ہے۔ ایک خوفزدہ شخص کیوں کر اپنے فرائض درست طورپر ادا کرسکتا ہے؟۔ اس سے پہلے بات ہورہی تھی آؤ بھگت کی کہ امریکی سفیر جب سفارتخانے سے نیشنل لائبریری روانہ ہوئی ہوں گی تو یقیناً ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ کوئی شخص ان سے ہاتھ ملانے اور مخاطب ہونے کا شرف حاصل کرنے سے انکار بھی کرسکتا ہے مگر یہ ہوا اور وہ اس وقت ہکا بکا رہ گئیں جب سٹیج سے صمد خرم کا نام پکارا گیا وہ سٹیج پر آئے سفیر کی طرف بڑھے۔ پرنسپل نے ان کا سرٹیفکیٹ مہمان خصوصی کو پیش کیا۔ سفیرمحترمہ نے سرٹیفکیٹ لے کر مسکراتے ہوئے صمد خرم کی طرف دیکھا جوان کے قریب پہنچ چکے تھے۔ سفیر نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھا دیا مگر اس لمحے صمد خرم کے ذہن میں کچھ اورتھا وہ سفیر محترمہ اوران کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف کوئی توجہ دیئے بغیر سیدھے ڈائس کی طرف چلے گئے۔ سفیر کے لئے یہ انتہائی غیر متوقع بات تھی۔ یور ایکسیلینسی کہہ کہہ کر جھک جھک کے ملاقات کرنے والوں کی جنہیں عادت پڑ گئی ہو ان کے لئے ایک طالب علم کی یہ حرکت کتنی ناگوار ہوسکتی ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ابھی سفیر اسی کیفیت میں تھیں کہ ڈائس سے صمد خرم نے شرکائے مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے اس اقدام کی وضاحت کی کہ وہ محترمہ سفیر کے ہاتھوں سرٹیفکیٹ لینے سے اس لئے انکاری ہیں کیونکہ ان کے ملک کی فوج ہمارے علاقوں پر حملے کررہی ہے اور ہمارے لوگوں کو شہید کررہی ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں ۔ شرکائے تقریب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں ۔ ہمیں یقین ہے انہوں نے صمد خرم کو اس احتجاج پر شاباش بے شک نہ دی ہو مگر ممتا بھری نظر سے ضرور دیکھا ہوگا جیسے کہہ رہی ہوں ’’جیتے رہو بیٹے۔‘‘10 جون کو امریکی فوج نے قبائلی علاقے میں پاک افغان بارڈرپر حملہ کیا تھا اس پر آئی ایس پی آر نے شہیدوں کی تعداد صرف 10بتائی جبکہ آزاد ذرائع کی معلومات کے مطابق اس حملے میں 30پاکستانی شہید ہوئے جن میں آدھے فوجی اور آدھے سویلین تھے یقیناً امریکی فوج کو بھی یقین تھا کہ ان کے اس اقدام پر حکومت یا پاک فوج سے کوئی نہیں بولے گا۔ یہ ہماری روایت بن چکی ہے ورنہ 10جون کو ہونے والا حملہ کوئی پہلا حملہ تونہیں تھا۔ باجوڑ مدرسے پر امریکی حملے میں 80 طلباء کی موت قوم کے حافظے میں آج بھی زندہ ہے اور اس بیچ متعدد بارمزید حملے بھی ہوتے رہے مگر دفاعی وخارجی امور کے ذمہ داروں کی طرف سے ہر بار احتجاج کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ احتجاج کم اور التجا زیادہ تھی جیسے کہہ رہے ہوں ’’ سر پلیز۔ اب جانے دیں ‘‘۔ سو جیسے امریکی سفیر کو اس تقریب میں ایسے ردعمل کی توقع نہیں تھی ویسے ہی امریکی فوج کو بھی پاکستانی علاقوں پر حملے اور بے گناہ پاکستانیوں کے قتل سے پہلے ایسا کوئی ڈر خطرہ نہیں ہوتا کہ آگے سے کوئی جواب بھی آسکتا ہے۔ شاید اللہ تعالی نے یہ کام کسی اور ذمہ دار کے نصیب ہی میں نہیں لکھاتھا۔ اور اللہ تعالی تو قادر مطلق ہے۔ وہ چیونٹی سے ہاتھی اور ممولے سے باز کو بھی مروا سکتا ہے۔ وہ ایک چڑیا کی چونچ کے قطرہ پانی سے آتش نمرود کو سرد بھی کروا سکتا ہے اور وہ ابابیلوں کے معمولی غول کی پھینکی ہلکی پھلکی کنکریوں سے ابرہہ کے مست ہاتھیوں کے بدمست لشکر کو گلے سڑے گوشت اور کھائے ہوئے چارے میں بھی بدل سکتا ہے اور ایک طالب علم طفل مکتب سے انکار کرواکر دنیا کی سپر پاور کو پانی پانی بھی کرسکتا ہے۔صمد خرم کے اس جراتمندانہ اقدام پر ہر پاکستانی انہیں مبارکباد دے رہا ہے۔ براس ٹیک (Brasstack) کے زید حامد نے صمد خرم کو دعا دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ ماشاء اللہ جب تک ہمارے ہاں آپ جیسے نوجوان موجود ہیں جن کے دل بھی جوان ہیں اور جو قوم کی عزت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں انشاء اللہ ہماری قوم اور پوری امت مسلمہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔سٹریٹجک امور کے ماہر نوجوان صحافی احمد قریشی نے لکھا ہے کہ صمد خرم نے وہ کام کردکھایا جو حکومت اب تک کرنے سے ڈرتی رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے موقع پر موجود میڈیا (الیکٹرانک چینلز) اور والدین وطلباء کی بڑی تعداد کی طرف سے صمد خرم کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔محترمہ شبانہ فاطمہ نے صمد خرم کو دعا دی ہے کہ اللہ آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔حسن شبیر نے بھی صمد خرم کو پوری قوم کے لئے فخر کا باعث قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ نے ہمارے دل جیت لئے اللہ آپ کی حفاظت کرے۔شاہ رضا لکھتے ہیں صمد خرم آپ کے اس اقدام پر میں آپ کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ آپ کے حوصلے کی وجہ سے آپ میرے لئے بہت پیارے ہوگئے ہیں اللہ آپ کے تمام خواب سچے کرے۔ذیشان علی نے لکھا ہے ’’ویل ڈن (Well Done) صمد۔ میڈیا ان کے اقدام کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرے۔صمد خرم امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور مذکورہ تقریب میں ڈگری لینے آئے تھے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ ایک طالب علم کیلئے ڈگری کتنی اہم ہوتی ہے اور جب ڈگری ہاورڈ کی ہو تو وہ کسی کسی کے نصیب میں آتی ہے مگر یہ حوصلہ اور ہمت صمد خرم ہی کے حصے میں آئی کہ اس نے وطن کی خودمختاری اور اہل وطن کی عزت کو مقدم جانتے ہوئے یہ ڈگری امریکی سفیر سے لینے سے انکار کر دیا۔ ہمیں یقین ہے صمد خرم کے اس انکار کی گونج اس طرح پوری دنیا میں سنائی دے گی جس طرح جسٹس افتخار کے ایک انکار نے پاکستان کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ صمد خرم کا انکار بھی ہمارے لئے باعث افتخار ہے اور امریکہ کیلئے ایک للکار ہے جسے وہ جتنی جلد سن اور سمجھ لے اتنا ہی اچھا ہے۔