Saturday, May 31, 2008

ایٹم بم تو ہے مگر۔۔۔۔بجلی نہیں(تزئین اختر کا کالم رائے عامہ )




۔ دس سال قبل پاکستان آج کے روز ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرا تھا۔ یہ دھماکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں ہوئے اور وہی اس پروگرام کے خالق اور معماربھی تھے۔ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے دو بار ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان پر ایک کتاب ’’جو ہر طراز‘‘ لکھی گئی تھی جس کی دوبارہ اشاعت کا اہتمام جناب ضیاء شاہد نے کیا تھا۔ معذرت خواہ ہوں مصنف کا نام یاد نہیں۔ یہ 2003ء کے وسط کی بات ہے۔ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی تھے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کہوٹہ سے ہٹایا جاچکا تھا۔ وہ ان کے مشیر کے طور پر وزیراعظم سیکرٹریٹ ہی میں بیٹھا کرتے تھے۔ میجر اسلام ڈاکٹر صاحب کے سیکرٹری تھے۔ ضیاء شاہد صاحب نے لاہور سے کتابیں چھپوا کر اسلام آباد بھیجیں اور مجھے ہدایت کی کہ کسی اور کے ہاتھ بھیجنے کے بجائے خود جاکر پیش کرو۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نہ بھی کہتے تو بھی میں ہی جاتا کیونکہ ڈاکٹر صاحب سے مشرف ملاقات کا اس سے اچھا موقع شائد پھر نہ ملتا۔ ایک بار ڈاکٹر صاحب سے دفتر میں ملاقات ہوئی اور دوسری بار ان کے گھر۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر صاحب کوایک لحاظ سے کھڈے لائن لگایا جاچکا تھا۔ ایسے حالات میں کتابیں لے کر وزیراعظم سیکرٹریٹ پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کا دفتر ڈھونڈا۔ میجر اسلام نے بہت گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ کتاب دیکھی اور پھر جان پہچان کے بعد کہنے لگے ’’آپ بھی ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھیں‘‘۔ میرے لیے یہ بہت غیر متوقع فرمائش تھی۔ عرض کیا ’’میں ڈاکٹر صاحب پر کتاب کیسے لکھ سکتا ہوں؟ ابھی تو ان سے میری ایک ملاقات بھی نہیں ہوئی‘‘۔ میجر اسلام نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب پر کافی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میںسے ریفرنس لے لیں۔ اس کے علاوہ اخبارات سے تازہ مواد (کٹنگ) وغیرہ لے لیں‘‘۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ میں اس قابل ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھوں‘‘۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں خود کو کتاب لکھنے ہی کے قابل نہیں سمجھتا تھا اور ڈاکٹر صاحب تو ویسے ہی بہت بڑا موضوع تھے۔ پھر کتاب لکھنے کا جو طریقہ میجر اسلام صاحب نے بتایا اس سے بھی میں متفق نہیں تھا۔ بات چیت جاری تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے بلاوا آگیا۔ ان کے دفتر کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن و دل کی کیا کیفیت تھی مجھ میں وہ بیان کرنے کی سکت نہیں تو کتاب کیسے لکھی جاسکتی تھی۔ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا تھا کیونکہ میں ان لوگوں میں شامل ہونے جارہا تھا جن کی ڈاکٹر صاحب تک رسائی ہوئی اور جن سے وہ ہم کلام ہوئے۔ تاہم ایک بات کا افسوس رہے گا کہ فوٹو گرافر ساتھ کیوں نہیں لے کر گیا۔ ان جذبات و احساسات کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے دفتر میں قدم رکھا تو وہ بہت موٹی فائل سامنے رکھے اس کے مطالعے میں مصروف تھے۔ ہمیں اپنے سامنے پاکر متوجہ ہوئے اور بڑی شفقت کے ساتھ حال چال دریافت کیا۔ میں نے کتاب پیش کی تو بہت خوش ہوئے۔ ضیاء شاہد صاحب نے کتاب کا سر ورق خوبصورت انداز میں دوبارہ بنوایا تھا۔ اس کا کاغذ بھی پہلے ایڈیشن سے بہتر تھا اور پرنٹنگ بھی معیاری تھی۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ (Presentable) بنانے کے لیے ضیاء شاہد صاحب نے اپنے ادارے کے سب سے سمجھدار اور ہنرمند رکن عبدالجبار ثاقب کی ذمہ داری لگائی تھی جو انہوں نے بخوبی پوری کی۔ ڈاکٹر صاحب کو کتاب بہت پسند آئی۔ اس طرح رسمی بات چیت کے دوران ہی میں نے دریافت کیا کہ آج کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’ان دنوں تعلیم کے فروغ پر کام کررہا ہوں۔ انہوں نے موٹی سی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دبئی میں یونیورسٹی کے قیام کی فائل ہے۔ اس پر کام ہورہا ہے۔ وہاں بن جائے تو پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔ یہاں بھی کیمپس بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات سے پہلے میجر اسلام کے ساتھ گفتگو کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ان کے حالات اچھے نہیں۔ گویا آگے چل کر جو ڈی بریفنگ ہوئی اور بعدازاں صدر جنرل مشرف نے پی ٹی وی پر لاکر معافی منگوائی اور قید کر دیا اس کی ابتداء ہو چکی تھی۔ میجر اسلام اس وقت دو مختلف کیفیات میں گفتگو کررہے تھے۔ ایک طرف وہ ڈاکٹر صاحب کے اس وقت کے حالات سے پریشان تھے اور آگے کا منظر انہیں نظر بھی آرہا تھا اور دوسری طرف وہ ایک نئے بندے کے سامنے جو اخبار والا بھی تھا حقائق کھول کر بیان کرنے سے بھی ہچکچارہے تھے۔ یعنی بولنا بھی چاہ رہے تھے مگر گھبرا بھی رہے تھے۔ تاہم اس گو مگو کی گفتگو سے بھی میں نے اتنا مطلب ضرور اخذ کر لیا کہ ’’یہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اچھا نہیں کررہے‘‘۔چند روز بعد جب کتابوں کی مکمل کھیپ لے کر ڈاکٹر صاحب کے گھر جانا ہوا تو میری کیفیت پہلے سے اس طرح مختلف تھی کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ ان کے دفتر جاتے ہوئے چیک کئے جانے یا کسی جگہ نوٹ ہونے کا احساس نہیں تھا لیکن میجر اسلام کی گفتگو کے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا تو مجھے علم تھا کہ میری آمد اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ایجنسیوں کے رجسٹر میں ضرور آئے گی مگر چونکہ میری ایسی کوئی حیثیت نہیں تھی جس پر کسی کو اعتراض ہو سکتا۔ اس لیے مجھے کوئی ڈر خوف یا پریشانی بھی لاحق نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت گھر سے باہر نکل کر سڑک پر ٹہل رہے تھے جیسا کہ ای سیون کے مکینوںکا شام کو مارگلہ کے دامن میں چہل قدمی کرنا مشغلہ ہے۔ اس سے اتنا ضرور واضح ہوا کہ ابھی ان پر کوئی خاص پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور وہ کہیں بھی آجاسکتے تھے مگر ان کے ہاتھ میں موجود چھڑی بتارہی تھی کہ ان کی صحت گر رہی ہے۔بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے گرد اسی وقت سے شکنجہ کسنا شروع کر دیا گیا تھا۔ دسمبر2003ء میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھیوں اور پھر خود ڈاکٹر صاحب سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ اسی دوران ’’ڈی بریفنگ‘‘ کا لفظ بھی سننے کو ملا۔یہ خبریں سب سے پہلے روزنامہ ’’جناح‘‘ میں عبدالودود قریشی صاحب نے دیں۔ میں اس وقت ’’خبریں‘‘ سے ’’پاکستان آبزرور‘‘ جاچکا تھا جہاں زاہد ملک صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب پر زاہد ملک صاحب کتابیں لکھ چکے ہیں جو بلاشبہ قوم کی بڑی خدمت ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح انہوں نے تاریخ رقم کی ہے ۔ زاہد ملک کی دیگر کتابوں میں ایک کتاب ڈی بریفنگ پر بھی ہے جو انہی دنوں مرتب ہورہی تھی۔ جب میں پاکستان آبزرور میں تھا یہ 2004ء کی پہلی سہ ماہی کا عرصہ تھا۔ مجھے افسوس رہے گا کہ زاہد ملک صاحب کے اعتماد کے باوجود اس کتاب کے سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکا۔ میں ان کا ہمیشہ ممنون رہوں گا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا مگر اس کا کیا کروں کہ میں نے خود کو اس لائق کبھی نہیں سمجھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بے شک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے معتبر اور محترم ہے۔ اسلامی دنیا کو ایٹمی طاقت سے ہمکنار کرکے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اعتماد اور اہمیت کا احساس دلانے والا اور کوئی سپوت اسلامی دنیا میں بلامبالغہ اور بلاخوف تردید کسی اور ماں‘ کسی اور دھرتی نے نہیں جنا۔ ان جیسا کہیں سے لایا نہیں جاسکا۔ وہ اپنے جیسا ایک ہی تھا جو پاکستان نے مہیا کیا پھر یہ کیوں ہوا کہ ہمی نے اس کو مجرم بنا کر پیش کر دیا؟ امریکیوں نے جنرل مشرف کے سامنے ایسا کیا رکھ دیا کہ ان کی زبان گنگ ہو گئی؟ ان کی ساری کی ساری فصاحت و بلاغت جس کا اظہار ہم وطنوں کو مخاطب کرکے کرتے رہتے ہیں امریکیوں کے سامنے کیوں دھری کی دھری رہ گئی؟ وہ کیا نقطہ تھا جس نے محرم کو مجرم بنا دیا؟ یہ جنرل مشرف وہی ہیں نا جنہوں نے بش کی ایک ٹیلی فون کال پر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نام نہاد فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ قوم اور قومی لیڈروں کی تو بات ہی جانے دیں کسی ایک کور کمانڈر تک سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ یقیناً یہ وہی جنرل مشرف ہیں پھر یہ جنرل مشرف ڈاکٹر قدیر کے خلاف امریکی چارج شیٹ پر دوسری بات کس طرح کرتے؟ پچھلے دنوں خارجہ امور کے ماہرین ایک چینل پر یہی رونا رو رہے تھے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پارلیمنٹ سے مشورہ کرکے جواب دے سکتا ہے۔ اس سے Do this ، Do that اورDo More کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے اس ایک فرد کو کرنا ہے اس لیے ڈکٹیٹر ’’ناں‘‘کرنے یا وقت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا مگر اس پر محترم نسیم انور بیگ صاحب کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر کا ضمیر تو ہوتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر سے پوچھ سکتا ہے کہ جو وہ کرنے جارہا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط۔ بیگ صاحب کی بات درست ہے مگر ضمیر کوئی مجسم چیز نہیں۔ اس کو اگر دیکھا جاسکتا ہے تو وہ صرف اعمال اور اقدامات کی صورت میں ہی ممکن ہے اور ہمارے ڈکٹیٹروں کے سب اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں ضمیر کی جھلک کسی کو نظر آتی ہے تو آکر بتا سکتا ہے ورنہ اکثریت اس بارے میں مکمل نابینا واقع ہوئی ہے۔اب منتخب حکومت جہاں دیگر جمہوری روایات کو فروغ دینے جارہی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے مسئلے پر بھی فرد واحد کے اقدامات کو کالعدم قرار دے کر جمہوری فیصلہ کرنے پر غور کر لیا جائے۔ پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات بھی زیر غور آئیں اور امریکی الزامات پر بھی بات ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان میں حقیقت کتنی ہے اور پروپیگنڈا کس حد تک ہے اور اگر ڈاکٹر قدیر پر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا وہ یہ کام اکیلے کر سکتے تھے؟ نہیں تو اور کون کون شامل تھا اور وہ لوگ کیوں مقدس گائے بن کر قوم کو چارہ بنا کراس کی جگالی کئے جارہے ہیں۔ اوپن ڈی بیٹ ہو۔ اس کے لیے جرات چاہیے ہو گی۔ اس ایشو کو صدر کے کورٹ میں پھینکنے کے بجائے قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے خود ڈیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس ملک میں ہر ہیرو کو زیرو بنا کر رکھ دینے کی روایت جاری رہے گی اور اس کی آڑ میں لیڈر شپ کے فقدان کا بہانہ بنا کر آمریت مسلط کرنے کا مکروہ کھیل بھی چلتا رہے گا۔ اس کی زد میں یقیناً وہ لوگ بھی آکر رہیں گے جو فی الحال اس سے پہلو تہی کررہے ہیں۔ بہرحال صدر مشرف پر باقی بہت سے سوالوں کے ساتھ ساتھ اس کا جواب بھی قرض ہے کہ بقول آپ کے جب ڈاکٹر قدیر ایٹمی پھیلاؤ پر کام کررہے تھے تو اس وقت بطور نگران و محافظ ایٹمی پروگرام آپ کیا کررہے تھے۔ آپ سے پہلے والے کیا کررہے تھے؟ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کس کس کے ساتھ کیا کیا ہوا؟ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بقول ہنری کسنجر ’’عبرت کا نشان‘‘ بنایا گیا۔ ملک کے ایک اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر کے پہلے قید میں ڈالا پھر جلا وطن کر دیا گیا۔ اس پروگرام کے خالق کو خجل کر کے رکھ دیا گیا۔ یہ چند موٹی موٹی مثالیں ہیں اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ یہ سب کس نے کیا اور کون کون آلہ کار بنا اور یہ جو لوگ بھی تھے دیکھنا ہے کہ یہ ہر بار کیوں بچ نکلتے ہیں؟ان کا’’کِلاّ‘‘کون سی ایسی جگہ لگاہواہے کہوہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتاہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدناماس ملک کے سیاستدان بھی غلط، اس ملک کے سائنسدان بھی غلط، اس ملک کے جج بھی غلط، یہاں سب غلط، نہیں غلط تو صرف جرنیل۔ کتنی عجیب بات ہے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی ہمیشہ آرمی کے پاس رہی مگر اس کے مبینہ ’’پھیلاؤ‘‘یا ایٹمی دھماکوں یا اس کے آغازکی سزا صرف اورصرف سیاستدانوں اور سائنسدانوں کو ملتی رہی اور اس کے لئے آلہ کار بھی ہمیشہ یہی آرمی چیف ہی بنے تو پھر قوم کی اس امانت کے اصل محافظ تو سیاستدان ہوئے وہی سیاستدان جن کے متعلق مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں نے ہمیشہ یہی کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کا فقدان ہے جبکہ اصل لیڈر شپ ان کے سامنے موجود تھی اور جس کو وہ منظرسے ہٹاتے رہے۔کیونکہ یہ امریکہ بہادر کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے جو وہ چاہتاتھا۔ہم بھی کیسی بدقسمت قوم ہیں۔ ایٹمی طاقت سے لیس کرنے والے کو نشان عبرت بنا دیا اور پچاس سال قوم کے لیے بہترین دماغ اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے جو طاقت حاصل کی اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک فون کال کا سامنا کرنے کی جرات نہیں ہوئی اور وہیں ڈھیر ہو گئے۔چلیں اس نقطہ نظر ہی سے دیکھ لیتے ہیں کہ ایٹم بم چلانے کی نہیں دکھانے کی چیز ہے جس کو دکھا کر ایٹمی طاقت کا حامل ملک دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے اور ترقی کی دوڑ میں تیز بھاگ سکتا ہے مگر ہمارے ساتھ ایسی بھی کوئی صورتحال نہیں۔ دنیا میں کون ہماری بات مان رہا ہے۔ سب ہم سے منوائے جارہے ہیں اور ترقی کی جس دوڑ کے خواب ہمیں دکھائے گئے تھے ہم تو ان خوابوں سے بھی محروم ہو گئے کیونکہ جب کئی کئی گھنٹے بجلی بند ہو گی تو نیند بھی نہیں آتی۔ آنکھ لگے تو کوئی خواب بھی دیکھے۔ ایٹمی پروگرام کے خالقوں اور نگرانوں سے کوئی پوچھے ایٹم کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے پر کیوں کام نہیں کیا؟ جب ایک ایٹم پھٹتا ہے تو اس سے لامتناہی توانائی خارج ہوتی ہے اس سے تباہی ہوتی ہے۔ اس توانائی کو بجلی کی شکل دینے پر کوئی توجہ دی گئی ہوتی تو آج پاکستان ایشیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ بجلی اتنی ہوتی کہ مفت بانٹنے سے بھی ختم نہ ہوتی بلکہ برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا۔ ہم تصور ہی کر سکتے ہیں کہ اگر بجلی مفت ملنے لگے تو عام آدمی سے لے کر ملک تک اس کے کیا معاشی اثرات ہو سکتے تھے۔ یہ اثرات کثیر الجہتی ہوتے۔ بجلی کا بل تو ختم ہو ہی جاتا۔ گھر میں آنے والی روز مرہ استعمال کی اکثر اشیائے صرف بھی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتیں۔ یہ سب تو نہیں ہو سکا البتہ ایک کریڈٹ ضرور پاکستان کے حصے میں آگیا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے مگر بجلی نہیں ۔کل تلک جو امر تھا افتخار کاآج کیوں باعث ہے اعتذار کا ؟ہم نے سمجھا جس کو اپنا نگہباںآمر مطلق تھا وہ بے کار کا

Thursday, May 22, 2008

عوام کا قانون شکن قیادت سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

حکومت کومعاشی استحکام کے لیے سخت کام کر نا ہوگا تاکہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو جس میں غریب عوام کو ریلیف پیکج فراہم کیا جاسکے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اشیائے خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔ عوام کو قومی مجرموں نے مصیبت میں ڈال دیا ہواہے اور دور دور تک دکھائی نہیں دیتا کہ تمام بحرانوں پر قابو پا لیا جائے گا۔ حکمرانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے اور عوام ایک وقت کی روٹی کیلئے بلبلا رہے ہیں۔ملک میں انصاف نا م کی کوئی چیز نہیں اور جس ملک میں انصاف نہ ہو و ہاں چور چکے اور قرضہ چور بد معاش دن دیہاڑے پو لیس اسکواڈ کے پروٹوکول میں سرعام دھند ناتے پھرتے ہیں۔ ججز کی بحالی کے بعد بھی اگرچہ تما م بحران جوں کے توں رہیں گے لیکن یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ بحران کے پیدا کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف کار وائی ضرور ہوگی۔ اور اس وقت عوام کا تماشا دیکھنے والے سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے منہ زور قانون شکن بد معاش جوابدہ ہوں گے۔ اور جب ان سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پوچھیں گے کہ یہ کر سی اور اقتدار آپ کو جہیز میں نہیں ملا اور جب انہیں بتا یا جا ئے گا کہ یہ ملک آپ کے باپ کا نہیں کہ آپ جو چاہیں من ما نی کر تے رہیں بلکہ یہ ملک اس سولہ کروڑ عوام کا ہے جس کی خوشحالی اور ترقی کے نا م پر آپ اربوں ڈالرز غیر ملکی قرضے کھا گئے ہیں اور یہ سا را بوجھ مختلف بحرانوں کی شکل میں عوام کے کندھوں پر ڈال پر دیا گیا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے کہ تما م قومی مجرم ،ججز کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس وقت ججز کی بحالی ملک و قو م کی بقا کا مسئلہ ہے۔ عوام اس وقت آٹا،بجلی،پانی،مہنگائی،بے روزگاری اور نا انصافی سے تنگ آ کر چلا رہے ہیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ اور نہ ہی کوئی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتدار کی ہوس نے سب کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے کو ئی بھی اقتدار چھوڑنے کو تیا ر نہیں قانون شکن ما فیا بے شرم ہو چکا ہے اور ایک دوسرے کی ٹا نگیں کھیچنے میں لگا ہوا ہے۔ اس وقت جو ملک کے حا لات کا ناک نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ سرحد والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں، پنجاب والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں جبکہ گورنر پنجاب اپنی بیان بازی کر رہے ہیں اور یہی صورت حال مر کز میں ہے کہ پیپلز پا رٹی کس خفیہ ہاتھ سے بلیک میل ہو رہی ہے ؟ جو کہ حیران کن بات ہے حالانکہ پیپلز پا رٹی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی قیادت ماضی میںکسی حا ضر سروس جر نیل سے بھی بلیک میل نہیں ہوئی ۔جان دے دی لیکن اپنے اصولی موقف پر ڈٹی رہی۔ ایوان صدر اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہے۔ن کے وفاقی وزراء کے جانے سے وازرتیں خا لی پڑی ہوئی ہیں اگرچہ ان کے اضافی چارج دے دیے ہوئے ہیں لیکن ایک وزیر کے پاس چار چار اضافی چارج ہیں وہ کسی ایک وازرت میں وقت نہیں دے سکتا جس کی وجہ سے عوام کو دقت کا سا منا ہو رہا ہے ۔ پیپلز پا رٹی کے اراکین اسمبلی کی اکثریت ہے لیکن قیادت کو ان پر اعتبار ہی نہیں کہ انھیں کسی وزارت کی ذمہ داری سونپی جا سکے۔ ان وزارتوں کے متعلقہ محکموں اور ڈا ئریکٹورٹ میں طرح طرح کی من مانیاں اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے وہاں کے ملازمین اور عوام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ عوام کو وزراءکی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے رسائی حاصل نہیں ہورہی اور آئے روز مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم جناب خورشید شاہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ وفاقی نظامت تعلیمات کی بھی خبر لیں وہاں کچھ اساتذہ کو دو دو سال سے مکا نوں کا کرایہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے انھیں کئی مسائل کا سامنا ہے کرایہ اسلئے نہیں دیا گیا کہ بجٹ شاٹ ہے بلکہ بعض سکولز کی پر نسپل نے بعض ٹیچر کو تنگ کرنے کیلئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہائرنگ فارمز کی تصدیق ایک سال تک روکے رکھی اور جب ایک سال بعد ان کی فائل جمع ہوئی تو پتہ چلا کہ اب بجٹ شاٹ ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم اور قائم مقام ڈی جی ایجوکیشن عتیق الرحمن سے گزارش ہے کہ ان پر نسپلز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور اس ضمن میں ایف جی جونئیر ماڈل سکول کی پر نسپل مسرت صادق کے دحونس آمیز رویے کا سکینڈل قومی اخبارات میں آ چکا ہے لیکن اس کے خلاف ابھی تک کو ئی کا روائی عمل میں نہیں آسکی۔ جسکی وجہ وفاقی نظامت تعلیم میں اسے ان کا لی بھیڑوں کی پشت پنائی حاصل ہے جو مسرت صادق جیسی بدکردار پر نسپلز کو استعمال کر کے شریف النفس ٹیچرز کو ذہنی کو فت پہنچا تے ہیں اور ان کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازشیں کر کے اور جھوٹے الزامات لگا کر بد نام کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی اولین فرصت میں حل کریں اور اس سر کش پر نسپل کے خلاف کا روائی کریں تاکہ اس پتہ چلے کہ اختیارات کا غلط استعمال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔جبکہ اب عوام عدلیہ کی آزادی اور آئین وقانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس وقت ملک میں لاقانونیت کا سیلاب آیا ہوا ہے جس میں عوام خشک تنکوں کی طرح بہہ رے ہیں اور بعض ڈوب کے مر رہے ہیں اگرچہ فوج کو سیاست سے دور کیا جا رہا ہے جو کہ جنرل کیا نی کا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن پاک فوج کی یہ روایت اور شان رہی ہے کہ جب بھی وطن عزیز میں کوئی ناگہانی آفت یا مصیبت آئی ہے اس نے اس عوام کو بچانے کی کوشش کی ہے مثال کے طور پر ملک کے کسی حصے میں جب بھی کوئی سیلاب آیا ہے تو پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ڈوبتے لوگوں کو بچایا ہے بلکہ ہیلی کاپٹروں سے ان تک خوراک بھی پہنچانے کا اہتمام کیا ہے میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں قانون شکن اور اقتدار کی ہوس کے بھوکے قومی مجرموں کی وجہ سے مختلف بحرانوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اور یہ سیلاب اتنا شدید ہے کہ عوام کو کچھ نظر نہیں آ رہا کہ یہ بحران کسی کنارے بھی لگے گا اور اس کے حل کیلئے عوام کو فوج کی مدد درکار ہے عوام ا پنی پاک فوج سے بے حدمحبت کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں نااہل قیادت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں درا ڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہمارے عوام با شعور ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کہ ہماری پاک فوج دنیا کی ایک بہترین منظم فوج ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کو پاک فوج کھٹکتی ہے۔ ملک میں اس وقت جو عدلیہ کا بحران ہے اس کو عوامی خواہشات اور قانون کے مطابق حل کرنے میں کوئی بھی تیار نہیں اور بچوں کی طرح ہر کوئی ضد کر رہا ہے کہ میں ئینی صدر ہوں کوئی کہتا ہے کہ ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے کوئی کہتا ہے کہ عوام نے عدلیہ کی بحالی اور مشرف کی پا لیسوں کے خلاف ووٹ دیے ہیں وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل کر نے کی کسی کو ہوش نہیں ۔عوام کدھر جائیں تو اس نا امیدیں میں بھی عوام ما یوس نہیں کیونکہ ان کی نظریں پاک فوج کے سر براہ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ آئینی بحران کو حل کرنے میں عوام کی مدد کریں گے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاک فوج قوم کی حمایت سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ جبکہ عوام نے خبر دار کیا ہے کہ مائنس ون یا مائنس ٹو کا فارمولہ وکلاء اور عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہر صورت بحال ہونا ہے ان کے بغیر معزول ججوں کی بحالی وکلاءتحریک کے منافی ہوگی جس پر سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ وکلاء تحریک کو عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے اور آئندہ چند روز کے اندر وکلاء تحریک کا فیصلہ کن اور آخری راو¿نڈ شروع ہونے والا ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے دیگر معزول جج صاحبان کو 24 مئی کو فیصل آباد اور اس کے بعد لاہور میں وکلاء کنونشن کے موقع پر آئین کے تحت ان جج صاحبان کو مکمل پروٹوکول اور سیکورٹی فراہم کرے گی جبکہ وکلاء تحریک کے دوران لانگ مارچ سمیت ہر ایونٹ کے موقع پر وکلاء کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی ۔ مسلم لیگ (ن) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے ججوں کے معزولی کے 3 نومبر کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھتی ہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور معزول کئے جانے والے دیگر تمام ججوںکو آئین کے تحت انہیں سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا وہی پروٹوکول ہو گا جو آئین و قانون کے تحت ایک چیف جسٹس کا ہونا چاہیئے کیونکہ آئین کے تحت انہیں معزول نہیں کیا گیا اور عوام کی نظرمیں وہ آج بھی حقیقی چیف جسٹس ہیں ۔ ججوں کی بحالی کے حوالہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم ان کی بحالی کیلئے طریقہ کار پر اختلاف ضرور ہے ۔ وفاقی حکومت تو ان ججوں کو تنخواہ دینے کی پیش کش بھی کر چکی ہے ،تنخواہ صرف حاضر سروس ججوں کو ہی دی جا سکتی ہے ۔ ججوں کی بحالی کوئی غیر آئینی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کسی کو بھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیئے ۔پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر اختلافات کو دور کیا جا چکا ہے ۔ باقی ماندہ اختلافات دور کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کی جانب سے 3`3 ارکان پر مشتمل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے ۔ اگر چیف جسٹس کے پروگراموں پر متعلقہ بار ایسوسی ایشن سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت دیں تو اسے قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ماضی میں ایسے پروگراموں میں سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تاہم مسلم لیگ (ن) کے ورکرز چیف جسٹس اور دیگر معزول جج صاحبان کا بار ایسوسی ایشن کی باو¿نڈری وال کے باہر بھرپور استقبال کریں گے ۔ ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے تاہم جب وہ نگران وزیر تھے اس دوران کچھ مسائل ضرور پیدا ہوئے ۔ پنجاب حکومت کی معزول ججوںکو پروٹوکول دینے کی پالیسی ایوان صدر سے ٹکراو¿ نہیں ہے ۔ جب 3 نومبر کا اقدام ہی غیر آئینی اور غیر قانونی تھا تو پھر ٹکراو¿ کیسا ۔ جبکہ پنجاب کے وزیر قانون نے یہ بھی کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے مسلم لیگ اپنی صوبائی حکومت سمیت کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کر ے گی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف کو بھی پنجاب حکومت سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ یہاں آئیں گے تو اس کا فیصلہ بھی کرلیا جائے گا ہماری اپنی سیاسی سوچ اور اپنا منشور ہے جس پر ہم اپنے اپنے طریقے سے عمل پیرا ہیں ۔ ایوان صدر نے 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا حالانکہ جنرل (ر) پرویز مشرف انتخابات سے پہلے اعلان کر چکے تھے کہ اگر ان کی حامی جماعتیں الیکشن ہار گئیں تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ۔ قوم مایوس نہ ہو ججز ایک نہ ایک دن ضرور بحال ہوں گے ۔ مسئلہ کشمیر کا ایسا حل ہونا چاہیے جو دونوں ملکوں کو قابل قبول اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ ججز کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی سے دوبارہ معاہدہ کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کو گولی سے نہیں بات چیت سے خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کیاجا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقد یر کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہونا چاہیے ۔با اختیار حکومت ہی روٹی کپڑا اور عوام کے دیگر مسائل حل کر سکتی ہے ۔ پنجاب کے گورنر کی تعیناتی پرن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا انھیں اقتداد چھوڑنے کا نہیں اتحاد ٹوٹنے کا دکھ ہے ۔ ملک میں عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی میں میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے قوم کا حکمران اتحاد کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر ججوں کو بحال نہ کر کے قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ اتحاد ٹوٹنے سے ایوان صدر میں تھوڑی سی جان پڑی ہے۔ لوگوں نے تبدیلی کیلئے ووٹ استعمال کیا مگر ابھی تک تبدیلی نظر نہیں آرہی ابھی تک وہی چہرے اقتدار پر براجمان ہیں ۔ پرویزمشرف کے تمام اقدامات کو ختم کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔ لوگ ججز کی بحالی چاہتے ہیں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ایک معاہدہ کیا مگر اس پر تاحال عمل نہیں ہوا مشرف ابھی تک سیٹ پر موجود ہیں اس لئے لوگ مایوس ہیں اتحاد میں دراڑ جس نے بھی ڈالی ہے قوم سب جانتی ہے پہلی مرتبہ دو بڑی جماعتوں نے اتحاد قائم کر کے ایک نئی مثال قائم کی مگر اس میں دراڑ سے قوم مایوس اور پریشان ہے اتحادی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ ڈکٹیٹر کے تمام غیر آئینی اقدامات کو فوراً ختم کر دیتی مگر تاحال مسئلہ جوں کا توں ہے دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی اسی کے تحت ہی معاہدہ طے پایا مگر اس پر عملد رآمد نہیں ہو سکا جس سے قوم میں مایوسی پھیلی ۔ ججز کی بحالی کیلئے سادہ قرار داد ہی کافی تھی کہ آئینی پیکج کی ضرورت نہ تھی جمہوریت کے دشمن جو مختلف روپ دھار کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ مل کر ڈکٹیٹر کے اقدامات کو ختم کریں وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت پھلے پھولے ۔ جبکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں کابینہ سے استعفے دینے پر افسوس ہے ہم نے بیس سال متحارب رہنے کے بعد اتحاد کا راستہ اپنایا تھا مگر یہ زیادہ دیر نہ چلا اس کا ہمیں افسوس ہے انہوں نے کہا ہے کہ اقتدار کی لالچ نہیں اگر ایسا ہوتا تو اتنی وزارتیں نہ چھوڑتے ہمارے سامنے ایک مقصد تھا مگر افسوس کہ وہ پورا نہ ہوا ہم کسی آمر کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک نہیں کرنا چاہتے میرے خیال میں آصف علی زرداری نے ایسا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ججز بحال ہونے چاہیے تھا عدلیہ صرف ہماری نہیں پوری قوم کی ہے او رپوری قوم کو اس کی بحالی کی امیدیں ہو چلی تھیں قوم کی محبوب عدلیہ کو مشرف نے نکال کر اپنی من پسند عدلیہ لگائی عدلیہ کو بحال کر کے قوم کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے تھا مگر افسوس ہم کامیاب نہیں ہو سکے قوم نے ہمیں ججز کی بحالی کیلئے ہی ووٹ دیا تھا ہم نے ایسا نہ کر کے قوم کو مایوس کیاہے ہم نے اس مقصد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لندن گئے دبئی گئے انہوں نے امید ظاہر کیا کہ ججز ایک نہ ایک دن عزت ووقار کے ساتھ ضرور بحال ہوں گے۔ تاہم اس کیلئے ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کب بحال ہوں گے مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ ضرور بحال ہوں گے ۔ میڈیا کی اس سلسلے میں کوششوں کی داد دیتا ہوں ایک سوال پر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ آمر کبھی بھی غیر قانونی طور پر اقتدار میں نہیں رہ سکتا مصمم ارادہ یہی ہونا چاہے کہ عدلیہ آزا دہو میڈیا آزاد ہو فوج کی سیاست میں مداخلت ختم ہو ہمارا ملک ہماری عزت کا سمجھوتہ نہ ہو ہمارے فیصلے ملک کے اندر ہی ہوں باہر نہ ہوں لوگوں نے پارلیمنٹ با اختیار منتخب کی ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کو بالادست ہی رکھیں اگر ایسا نہیں تو قصور ہمارا ہے کسی اور کا نہیں ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنے اختیارات واپس لے اس کا فائدہ قوم اور ملک کو پہنچے گا سیاسی جماعتوں کو تو پہنچے گا ہی عوام نے ہمیں اختیار دیا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنا اختیار استعمال کریں اسی اختیارات سے آٹا ، بجلی اور ضروری اشیاء سستی کریں آج عوام روٹی کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں بجلی نہیں ہے اگر پیچھے سازشی عناصر بیٹھے ہوں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہمیں چائیے کہ ججز بحال کرتے سترہویں ترمیم کرتے آئین بحال کرتے صدر سے غیر قانونی اختیارات واپس لیتے ہم اس سب کو ممکن بنانے کیلئے ساتھ دینے کو اب بھی تیار ہیں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے منشور میں ججز ،معیشت کی بحالی کی بات ہے امن وامان کی بات کی ہے عوام کو ریلیف د ینے کی بات ہے ججز کی بحالی ، عدلیہ کی آزادی پر ملک و قوم کا مستقبل وابستہ ہے نواز شریف اس معاہدے کا پابند ہوں جو مری میں ہوا اگر پیپلزپارٹی اس سے ہٹی ہے تو میں نے اسے منانے کی بھرپور کوشش کی ہے عوام کا ہمارے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ہم کبھی بھی پیپلز پارٹی کو غیر مستحکم نہیں کریں گے ہم اس عمل کو چلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت حکومت سے باہر آگئے ہیں حکومت کو گرانے کی کوئی بات نہیں کریں گے بلکہ چلانے میں مدد کریں گے ججز کی بحالی اگر اعلان مری کے مطابق ہوتی ہے تو دوبارہ اتحاد کے آپشنز کھلے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ مشرف ہمیں سائیڈ پر کر دیں اگر ہم کابینہ سے باہر ہو گئے ہیں تو کوئی قیامت نہیں آئی مشرف نے آگے ہمیں ملک سے باہر کر دیا تو سیاست اور عوام کے دلوں سے تو باہر نہیں کر سکے ہم الحمد اللہ اب بھی عوام اور سیاست میں موجود ہیں پرویزمشرف سیاسی اور اخلاقی طور پر بہت کمزور ہو گئے ہیں ایوان صدر اٹھارہ فروری کو تو بالکل فارغ ہو گیا ہے ہمارے اتحاد ٹوٹنے سے تھوڑی سے اس میں جان پڑی ہے انہوں نے کہاکہ فوج کو ا پنا کام کرنا چاہیے صدر یا سیاستدانوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے قوم اور ملک کی ہوتی ہے وہ کسی شخص کی نہیں ہوتی اس وقت فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اسی طرح ہمیشہ ہونا چاہیے ماضی میں مشرف نے جو کچھ کیا ہے وہ قوم کی طرف سے نہیں کیا ہے اس وقت کے جرنیلوں کو اس کام کیلئے مشرف کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہو سکتا ہے کہ صدر بش کی ذاتی حمایت مشرف کے ساتھ ہو مگر انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ حالات کیا رخ اختیار کر چکے ہیں ہم پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیکھنا چاہتا ہم کسی بیرونی طاقت کی ملک کے اندر مداخلت کو پسند نہیں کر تے ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم ججز کو اندرونی طورپر بحال کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام میں مایوسی کی کیفیت ہے تاہم ہم حالات کو بحال ضرور کر لیں گے ہم جمہوری سسٹم کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی پاکستان کو مستحکم کرے گی اگر ایسا ہو گا تو ہم بہت خوش ہوں گے ہم پھر سے زرداری کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں گے پنجاب میں ہماری مخلوط حکومت ہے پیپلزپارٹی کو ہر فیصلے میں اپنی اتحادی جماعت سے پوچھنا چاہیے ان کے ووٹ ہم سے کوئی بہت زیادہ نہیں اس لئے کوئی فیصلہ کرنا سے پہلے ہم سے ضرور پوچھا جانا چاہیے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہماری پارٹی کو نقصان پہنچایا ان کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے طاقت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا طاقت استعمال کر کے دیکھ لیا گیا ہے دہشت گردوں کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ بات چیت کا راستہ ہر ایک کیلئے کھلا رکھنا چاہیے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات کو حل ہونا چاہے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اگر دونوں ممالک کے درمیان ویزہ سسٹم ختم کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے دونوں جانب کی عوام کو آر پار آزادانہ آنا جانا چاہیے میں بھارتی حکام سے بھی صرور بات چیت کروں گا کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے ہم چاہتے ہیں کہ کارگل کے مسئلے پر کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طے شدہ فارمولے کے تحت ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی راولپنڈی سمیت کسی جگہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے مین امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ۔ 18 فروری کے انتخابات بھی پوری طرح شفاف نہیں تھے تاہم نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کو جمہوریت کی کی فوری ضرورت تھی ۔ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے مکمل حامی ہیں لیکن عجلت میں کوئی کام کرنے کی بجائے عدلیہ کی مستقل آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ان اندرونی سازشوں کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے بعض عناصر پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ آٹھ سال کے دوران راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں اپنے خلاف زیر سماعت ریفرنسز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے اعزاز مین ایک تقریب کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ‘ پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر ‘ سینیٹر ڈاکٹر بابر اعوان بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران آصف زرداری مزاح سے بھرپور دلچسپ چٹکلے اور جملے بھی چست کرتے رہے ۔ آصف زرداری نے خوشگوار موڈ میںگپ شپ لگاتے ہوئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان یہ فارمولہ پہلے سے طے ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹ پر دوسری پارٹی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جس کی پابندی کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نواز شریف اور شہباز شریف کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جبکہ راولپنڈی کے حلقہ این اے 55 سمیت دیگر حلقوں میں بھی مسلم لیگ کے مدمقابل کو ئی امیدوار کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے 18 فروری کے نتائج کے حوالہ سے کہا کہ یہ نتائج پوری طرح تسلی بخش نہیں اور نہ ہی میں یہ نتائج تسلیم کرتا ہوں ہم نے حالیہ انتخابات کے نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کوجمہوریت کی فوری ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت پوری پیپلزپارٹی ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی حامی ہے ا ور ہم ہر قیمت پر ججوں کو بحال اور عدلیہ کو آزاد کریں گے ۔ لیکن اس حوالے سے بعض لوگ عجلت میں جو نتائج چاہتے ہیں وہ آسان نہیں ہم سیاستدان ہیں اور سیاست میں ایسا راستہ تلاش کررہے ہیں جس سے عدلیہ کی آزادی ‘ جمہوریت کے استحکام ‘ معیشت کی مضبوط ملک وقوم کی ترقی کے ذریعے عوامی خواہشات پر عمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے آئینی پیکج تقریبا تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور نواز شریف کی اسلام آباد آمد پر انہیں اس کے مندر جات سے تفصیلی آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ملک میں پیدا کردہ خوراک کا بحران مصنوعی ہے ۔ کیونکہ بعض عناصر ملک قوم کے خلاف اندرونی سازشوں میںملوث ہیں جس طرح چنگیز خان کوئی علاقہ یا قلع فتح کرنے سے پہلے اپنے ایجنٹ بھیج کر وہاں کی طاقت کو اندرونی طورپر کھوکھلا کرتا تھا اسی طرح آج پاکستان کو تورنے کے لیے بھی سازشیں ہو رہی ہیں ۔ اور اندرونی سازشیں باہر سے مسلط کردہ جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گندم سمیت خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے مشاورت جاری ہے جلد اس پر قابو پالیا جائے گا انہوں نے گندم کی افغانستان سمگلنگ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی گندم پالیسی میں ہمیشہ افغانستان کو شامل رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا انحصار ہی پاکستان پر ہے ۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اب تک ملک وقوم کو پانچ بھٹو دے چکے ہین انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے جس کے لیے پنجاب ‘ بلوچستان اور سندھ مین ان کی حفاظت کے لیے الگ الگ گاڑیاں اور سخت سیکورٹی پلان تھا لیکن ہم نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ بی بی کے ساتھ پنجاب میں اتنا بڑا سانحہ پیش آئے گا ہمارا خیال تھا کہ وہ یہاں محفوظ ہیں اور یہاں انہیں کچھ نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ جیلوں کے نظام میں اصلاحات کے لیے صوبوں کوہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ جبکہ صدارتی ترجمان راشد قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی قسم کے آئینی پیکج کو ایوان صدر میں پیش کرنے کی تردید کرتے ہوئے اس خبر کو بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ نہ کوئی آئینی پیکج ایوان صدر میں پیش کیاگیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں ایوان صدر کے پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی رابطے ہیں یہ بالکل لا شعوری بات ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدارتی ترجمان نے کہاکہ اس بارے میں خبریں اور تبصرے بالکل غلط ہیں میں نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایوان صدر کی آئینی پیکج پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی سے کوئی رابطہ ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے عدلیہ کی بحالی کے لئے ہونے والے لانگ مارچ اور وکلاء کنونشن کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے عملدرآمد کمیٹی کے قیام اور اس کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے ، لانگ مارچ کا نام”جسٹس افتخارمارچ“رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وکلاء رہنماو¿ں نے جنرل باڈی اجلاسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او کے خاتمے کے خوف سے ججوں کو بحال نہیں کیا جارہا،لیکن وکلاء اپنی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم بہت کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری منیر الرحمن نے کہا ہے کہ وکلاء تحریک ضرور کامیاب ہوگی‘ وکلاء اتحاد کا مظاہرہ کریں ورنہ 9 مارچ‘ 12 مئی‘ 9 اپریل اور 3 نومبر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ جنرل باڈی سے شعاع النبی‘ غفار کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف لینا غیر آئینی ہے‘ عوام کا حکمرانوں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق عملدرآمد کمیٹی کے عہدیداروں میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حاجی سیدالرحمن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن کو عملدرآمد کمیٹی کا معاون کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ارکان میں حاجی سیدالرحمن، چوہدری اعتزازاحسن، رشید اے رضوی، حامد خان، امداد اعوان، علی احمد کرد، چوہدری امین جاوید تمام صوبائی بار کونسلوں کے وائس چیئرمین، تمام ہائی کورٹس بار ایسوسی ایشنوں کے صدر اور لاہور کراچی پشاور اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشنوں کے صدر شامل ہیں۔ عملدرآمد کمیٹی کو لاہور میں ہونے والے آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کی قرارداد کی روشنی میں حتمی شکل دی گئی ہے۔ عملدرآمد کمیٹی لانگ مارچ کے روٹس کا تعین کریگی اور وکلائ کنونشن سمیت دیگر تمام معاملات کو بھی حتمی شکل دے گی تاکہ 10 جون سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جاسکے۔ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سردار عصمت اللہ خان کی زیرصدارت ہوا جس میں کراچی بار کے جنرل سیکرٹری نعیم قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ اجلاس میں صحافیوں کو بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا نہ ہی اجلاس میں موجود ڈویڑنل نمائندوں کی فہرست جاری کی گئی۔ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں سردار عصمت اللہ خان نے کہا کہ 10 جون کو جو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس کا نام چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مارچ رکھا گیا ہے۔ 24 مئی کو فیصل آباد میں وکلاء کنونشن میں شرکت کیلئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وکلاء جلوس کی شکل میں صبح 7 بجے ان کی رہائش گاہ سے لے کر بذریعہ موٹر وے فیصل آباد جائیں گے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، طلبہ، تاجر برادری، مزدوروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 24 مئی کے کاروان میں شرکت کریں کیونکہ ججز کو فنکشنل کرنے کی تحریک اب ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہمیں کسی سے گلہ نہیں ہماری جنگ جاری رہے گی۔ کراچی بار کے سیکرٹری جنرل نعیم قریشی نے کہا کہ 19 اپریل کو کراچی میں بار اور وکلاء کو جلایا گیا لیکن اس پر راولپنڈی میں جو ردعمل تھا اس نے ہمارا حوصلہ بلند کیا ۔ این آر او کی تلوار معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے ججز کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ جبکہ وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے اتحادی حکومت پر کوئی دباو¿ نہیں ہے اور نہ ایسا کچھ قبول کیا جائے گا، عوام کو مایوس نہیں کرینگے،انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لئے طریقہ طے کرنا ہے ،کیو نکہ کرسی ایک ہے اور چیف جسٹس دو ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اسے دہرایا نہیں جا سکتا، ن لیگ کے وزراء جلد کابینہ میں شامل ہو جائیں گے، دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے تیار کی گئی 3نکاتی حکمت عملی کو امریکا نے سراہا ہے ۔ اس بارے میں میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں، نواز شریف کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے اور کسی سیاسی جماعت کے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان معزول ججوں کو جلد از جلد بحال کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ یہ وسیع البنیاد ہے اور اس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماہرین طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں اور جلد سفارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اور اسے دہرایا نہیں جا سکتا۔ گزشتہ دنوں انھوں نے بین الاقوامی فورم پر اس کمٹمنٹ کا اظہاربھی کیاکہ تمام معزول جج صاحبان کو بحال کیا جائے گا۔ جب ان سے طریقہ ہائے کار کے بارے میں استفسار کیا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ ایک موجودہ چیف جسٹس ہے اور ایک دوسرا چیف جسٹس ہے، جسے بحال کرنا ہے، ہمیں ایک چیف جسٹس رکھنا ہے اور آئینی ماہرین اس بارے میں طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی طرف سے دیئے گئے استعفوں کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے بعد بہت جلد کابینہ میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ججوں کی بحالی کیلئے لوگوں کو کب تک انتظار کرنا ہو گا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے عوام بہت بالغ النظر، ذہین اور متحمل مزاج ہیں۔ وہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر بش کو بتایا کہ انتہا پسندی و دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے تین نکاتی حکمت عملی کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شامل ہے جو عسکریت پسند نہیں ہیں یا جو ہتھیار ڈال کر دہشت گردی کے انسداد میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، مواصلات کو بہتر بنانے، روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے فاٹا میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی بھی خواہاں ہے اور آخری چارہ کار کے طور پر اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے وہاں فورس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی امریکہ کو قابل قبول ہے اور انہوں نے ہماری کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہماری سرزمین پر 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین ہیں، عالمی غذائی سیکورٹی کا خطرہ بھی ہمارے اوپر منڈلا رہا ہے، ہمیں نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں بلکہ افغانستان کی بھی اور گندم وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اسمگل کی جا رہی ہے۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان کی تعمیرنو کیلئے 30 کروڑ ڈالر کی معاونت دے رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ شاندار تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان بھارت سے اچھی توقعات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب بنیادی مسائل کو حل کرنا ہو گا، کشمیر کے عوام اپنا حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔ مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ شرم الشیخ میں مسلم رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقاتوں میں انہوں نے بہت اچھی بات چیت کی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، زراعت، دفاع اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے بارے میں تجربات کا تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے سیاسی حمایت کو تقویت دینے اور ملک و قوم کیلئے وسیع تر اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی، ہم تیز تر اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ وکلاء نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان کہ ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس نہیں لایا جاسکتا ،پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے انکا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سے پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف مزید گررہاہے اور پارٹی عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی ہے ریٹائرڈ جسٹس وجہیہ الدین احمد نے کہا کہ 3نومبر 2007کو جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس لایاگیا اور پیپلز پارٹی مشرف کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی رہی ہے اور یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم 3نومبر کے اقدامات کا حوالہ دے رہے تھے یا کسی اور صورتحال کا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے سے اب تک کسی بھی ایشو پر نتائج دینے میں ناکام رہی ہے اور وزیر اعظم کا بیان مری اعلامیہ کے خلاف ہے۔ چاہے ججوں کا معاملہ ہو یا اقتصادی بحران ، سکیورٹی مسائل ہوں یا سیاسی معاملات، پیپلزپارٹی نے عوام کو مایوس کیا ہے پارٹی نے ایک بھی ایشو پر نتائج نہیں دیئے وکلاء رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی کے ترجمانوں سے اس سلسلے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے انہوں نے مزید کہا پیپلز پارٹی کو موجودہ مسائل حل کرنے ہونگے ورنہ اسکی مقبولیت مزید گرے گی“ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی پیکیج تیار کررہی ہے جس سے چاروں مستفید ہوں،پرویز مشرف ، آصف زرداری، پی سی او ججوں کو فائدہ ہو اور کچھ عوامی مطالبات بھی تسلیم ہو جائیں انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ اگر ہر ایک کو” خوش“ کرنے کی کوشش کی گئی تو سب کچھ ضائع ہو جائیگا ۔جسٹس وجہیہ الدین نے کہا کہ ”وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی کیلئے شروع ہوئی تھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زرداری یا وزیر اعظم کیا کہتے ہیں ۔جسٹس (ر) طارق محمود نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کو واضح اعلان کرنا چاہئے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے درمیانی راستہ اختیار کرکے معزول عدلیہ کی بحالی پر پوری قوم کو ابہام کا شکار کیا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ 3نومبر کو ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں گن پوائنٹ پر دوسرا لایا گیا مگر وکلاء یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں کہ کسی جج کی تعیناتی صرف خالی سیٹ پر ہی کی جاسکتی ہے موجود ججوں کی جگہ پر نہیں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنی مرضی سے ایسا بیان نہیں دے سکتے ہیں یہیں سے ”کسی“ نے انکو ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی پر واضح نہیں ہے مگر تنخواہوں کی ادائیگیوں کے حکم سے وہ انہیں سپریم کورٹ کا جج تسلیم کرتے ہیں وکیل نے کہا کہ اگر 2نومبر کے مطابق معزول ججوں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں تو پیپلز پارٹی جسٹس افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے خود بخود تسلیم کرتی ہے لیکن انکا وزیر اعظم اصل صورتحال کے برعکس بیان دے رہا ہے ۔سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے قریبی معاون اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے منتخب وزیر اعظم نے ایسا بیان جاری کیا جس سے ایک آمر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیان بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں اور انکے فلسفے سے انحراف ہے جنہوں نے ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے اپنی زندگیاں قربان کیں یہ خوفناک بات ہے کہ ایسی پارٹی کا منتخب وزیراعظم مشرف کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنیوالے بیانات دے رہا ہے ۔اس طرح ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ۔اطہر من اللہ نے کہا ”کسی سپریم کورٹ نے کبھی پی سی او کو معطل نہیں کیا “لیکن اس پی سی او کو سپریم کورٹ کے 7رکنی بنچ نے معطل کیا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا بیان میثاق جمہوریت کی بھی واضح نفی ہے ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ہٹنے تک خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جب تک پرویز مشرف منظر سے نہیں ہٹتے پاکستان میں خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جبکہ وفاقی سیکرٹری برائے انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ محمد اکرم شہیدی نے کہا ہے کہ نئے انفارمیشن ایکٹ میں صحافیوں کو اطلاعات تک بروقت رسائی دینے ، احتساب کا عمل یقینی بنانے میں مدددینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے میڈیا کی تمام ضروریات کا احاطہ کیاجائیگا،شہید ی نے اس موقع پر مزید کہا کہ سی پی این ای، اے پی این ایس اور پی ایف یوجے سمیت تمام فریقین کے ایک اور اجلاس 25 تا26 مئی تک ہوگا جس میں اس پر غور کیاجائیگا جس کے بعد یہ بل منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کر دیاجائیگا۔سیکر ٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت ایک آزاد فضاپیدا کرنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے اور اس حقیقت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اب تمام ٹی وی چینلز کے اینکرز مختلف معاملات پر آزادانہ بحث کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں60 کے قریب ٹی وی چینلزکام کر رہے ہیں اور میڈیا سے وابستہ اداروں کو ذمہ داری اور بالغ نظر صحافت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور وزارت اطلاعات ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اس طرح میڈیاکی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت میڈیاکو دبانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کریگی ۔ جبکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول تک صدر پرویز مشرف کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ(ن) لیگ کو پیپلزپارٹی سے دور کرکے پی پی پی (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے اور اس میں وہ کافی کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں مرزا اسلم بیگ نے کہا ک ہے ہ جب ذاتی مفادات قومی مفادات پر مقدم ہو جائیں تو کمزور فیصلے ہوتے ہیں این آراو کے تحت جو آصف زرداری کو مفادات حاصل ہوئے ہیں مقدمات ختم ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم کے خلاف قتل سمیت 2800 مقدمات تھے سب ختم ہو گئے جب اتنا بڑا احسان مندی کا بوجھ ہو تو پھر ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آجاتے ہیں اور جب تک یہ غالب رہیں گے یہ لوگ دب کر بات کرتے رہیں گے مگر ایسا کوئی دباو¿ نواز شریف اور اے پی ڈی ایم پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس ٹکراو¿ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں جو آج پیدا ہوا ہے اگر یہاں مضبوط قومی حکومت قائم ہوئی تو وہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت نہیں ڈال سکتی بلکہ طاقت کے زور پر ان معاملات کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہو گی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن ناکام اور ناقص خارجہ پالیسی کارد عمل ہے۔ پرویز مشرف صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے وطن عزیز کے محب وطن اور معصوم شہریوں کو اپنی انا اور نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی حملوں اور دیگر دھماکوں میں معصوم شہری اور پاکستانی فوجی ہی مارے جارہے ہیں لیکن حکومت سچ چھپا رہی ہے ۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج قبائلی علاقو ںمیں ستر ملین ماہانہ لے کر امریکا کی خدمت کررہی ہے اور اس کے کرائے کے گوریلوں کاکردار ادا کر رہے ہیں ۔ طالبانائزیشن کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان اور پاکستانی فوج قبائلی علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں اور سنگین مسئلہ کا حل مذاکرات سے ہی نکالا جائے بصورت دیگر وطن عزیز پر طالبانائزیشن اور دہشت گردی جیسا عذاب مسلط ہی رہے گا۔ ملکی موجودہ صورتحال سے ثابت ہو گیا کہ اے پی ڈی ایم کے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا ۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر نیگرو پونٹے اور باو¿چر کی پارٹی قیادت سے ملاقاتوں اور امریکی مداخلت پر پیپلز پارٹی الیکشن لڑنے پر مجبور ہوئی تھی لیکن اس وقت ساری سیاسی جماعتیں اے پی ڈی ایم کی کال پر الیکشن کا بائیکاٹ کرتیں تو آج یہ کھچڑی نہ پکتی اور ججز اور عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ۔ عمران خان نے کہا کہ ملک پر مسلط چور ڈاکو قومی لٹیرے اور الطاف حسین جیسے دہشت گرد معزول ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اسی لیے اب آئینی پیکج کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ہاتھ باندھنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں لیکن وکلاء سیاستدانوں سمیت پوری پاکستانی قوم چیف جسٹس کی پشت پر ہے اور معزول ججز سمیت عدلیہ کی بحالی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے ملک بھر کے وکلاء کی جرات اور تحریک کو سلام پیش کیا کہ شریف الدین پیرزادہ سمیت کئی ایک میر جعفر اور میر صادق ان کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں مگر وکلاء نے ان کی سازشیں ناکام بنا کر ملک کو لیڈر شپ دی ۔عمران خان نے کہاکہ یہ کہاں کا قانون و انصاف ہے کہ مفاہمتی آرڈیننس کے تحت آصف زرداری اور سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت تھوک کے حساب سے کرپشن کیسز والوں کے مقدمات ختم کر کے انہیں این آر او کی گنگا سے نہلا کر پاک صاف کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دور میں 55 ارب سے زائد رقم کے قرضے لے کر معاف کروائے گئے ایک غریب معمولی جرم اور معمولی قرضے کی پاداش میں سالوں جیلوں میں سڑتا رہتا ہے لیکن پرویز مشرف نے اربوں روپے لوٹنے والوں اور کتنے ہی معصوم بے گناہ شہریوں کے قاتلوں کو تحفظ فراہم کر کے انہیں ہر قسم کے احتساب سے بچا لیا ہے ۔عمران خان نے بتایا کہ پرویز مشرف نے آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر کیسز کے سلسلے میں صرف ایک وکیل کو بارہ کروڑ روپے دئیے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی لٹیروں کے خلاف قائم کیسز کے لیے کروڑوں روپے کا کس قدر بے دریغ استعمال کر کے اور خزانہ خالی کر کے ان قومی مجرموں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کر دیاگیا اس کا احتساب ضروری ہے جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ان کا سیاسی کردار ہے لہذا وہ استعفیٰ نہیں دیں گے آئینی طورپر منتخب صدر ہوں پانچ سالہ مدت پوری کروں گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور حامد ناصر چٹھہ سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ججز کی بحالی اور صدر ، وزیراعظم کے درمیان اختیارات میں توازن قائم کرنے اور سیکیورٹی کونسل کے خاتمے سے متعلق آئینی پیکج اور حالیہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ یہ ملاقات صدر پرویز مشرف کی خواہش پر ہوئی ہے جس میں (ق) لیگ کی طرف سے معزول ججز کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر صدر پرویز مشرف نے عدم اطمینان اور ناخوشی کا اظہار کیا ہے کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف( ق) لیگ بھی میدان میں آ گئی ہے صدر مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی او ر(ن) لیگ سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تحفظ دے دیا جائے تو وہ اپنے عہدے سے اس سال کے آخر تک مستعفی ہو جائیں گے یہ ایک گلے شکوے کی ملاقات تھی جس میں چوہدری شجاعت حسین نے ان کوششوں اور سازشوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے انہیں ہٹانے کیلئے کوشش کی گئیں اور اس میں کچھ سرکاری ادارے بھی شامل تھے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے تیار کئے جانے والے آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت سروسز چیفس اور صوبائی گورنرز سمیت اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم ہو کو ہو گا چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد تین سال مقرر کر دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں اس مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی ختم اور سروسز چیفس سمیت دیگر اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم کو منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی پیکیج میں صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو ہو گا جبکہ صوبوں کے گورنروں، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی تقرری بھی وزیراعظم کریں گے۔ عدلیہ کے حوالے سے آئینی پیکیج میں چیف جسٹس کی میعاد عہدہ تین سال مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی مدت ملازمت تین سال بڑھائی جائے گی۔صدارتی ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ آئینی پیکیج کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار ہے تاہم ججوں کی بحالی اور صدر وزیراعظم کے درمیان اختیارات کے توازن کے حوالے سے آئینی پیکیج کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو آئینی پیکیج کا کوئی مسودہ ایوان صدر آیا اور نہ ہی یہاں سے کوئی بھیجا گیا ہے ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج پر مشاورت کے لئے صدر پرویز مشرف سے چوہدری شجاعت، حامد ناصر چٹھہ، رضا حیات ہراج اور ماروی میمن نے ملاقات کی ہے۔جبکہ حکومت پاکستان نے واضح کیاہے کہ دہشت گردوں سے امن معاہدہ ہوا ہے او رنہ ہی ان سے بات چیت کی جائے گی اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کو گندم کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے تمام سرکاری محکموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپڈا کے واجبات ایک ماہ کے اندر ادا کر دیں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیریں رحمن نے میڈیا کو بریفنگ دی اورکہاکہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ کسی دہشت گرد سے بات چیت نہیں ہو گی اور فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ایسے لوگ رہا نہیں ہوں گے جو اسلحہ رکھتے ہوں اور زور و جبر سے عزائم منوانا چاہتے ہوں جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی میں کمی لائی گئی ہے تاکہ وہاں کے پرامن علاقائی لوگ واپس اپنے گھروں کو جا سکیں مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پا رہا ہے شیریں رحمان نے کہا کہ فوج نے اپنی کوئی بٹالین وہاں سے کم نہیں کی ہے بلکہ وہ سویلین کی مدد کے اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت ان لوگوں کو معاوضہ دے گی جن کے گھر یا جائیداد کو نقصان پہنچا ہے حکومت وہاں کے متعلقہ لوگوں کے ساتھ امن کے قیام کیلئے مل کر کام کرے گی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ گندم کی برآمد پر پابندی جاری رہے گی تاکہ صارفین تک وافر مقدار میں گندم کی رسائی ہو پاسکو کو کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان اور سرحد کے لئے مقرر کردہ گندم کا ہدف پورا کرے کیونکہ وہاں گندم کی سب سے زیادہ کمی ہے یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو گندم کی درآمد کی اجازت دے گی اور اس پر دس فیصد ڈیوٹی وہ بھی ہٹا دی گئی ہے گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف پچاس لاکھ ٹن مقرر کیاگیاہے جبکہ گندم کی برآمد پر پابندی برقرار رہے گی آٹے کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے مخصوص سطح پر گندم کا ذخیرہ سال بھر برقرار رکھا جائے گا آئینی پیکج کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے بتایا کہ تمام فیصلے قومی امنگوں کے مطابق کئے جائیں گے اگر کسی فیصلے پر کسی جانب سے کوئی احتجاج ہوتا ہے تو یہ عوام کا جمہوری حق ہے کابینہ کم از کم اجرت 6 ہزار مقرر کرنے کے فیصلے پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ قانون میں تبدیلی اور اسے بچت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا قومی مفاہمت کی پالیسی کے تحت کابینہ نے جہیز کی حد مقرر کرنے کا سرکاری بل واپس لینے کا فیصلہ کیاہے سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کے انور بھنڈر کا نجی بل پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے بل کے تحت جہیز کی حد 30 ہزار روپے جبکہ تحائف کی حد 50 ہزارروپے مقرر کی گئی ہے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران چین میں زلزلے کی وجہ سے اموات اور لا پتہ افراد کی تعداد 70ہزار سے بھی تجاوز کرنے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ نقصان کے پیش نظر ہم امدادی سامان میں جائزہ لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ چین ہمارا عظیم دوست ہے اور شرم الشیخ میں انہیں حکومت چین کی جانب سے درخواست کی گئی کہ متاثرین کیلئے خیموں کی اشد ضرورت ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے فوری طور پر چار۔130طیاروں اور 30ٹرکوں کے ذریعے خیمے اور دوسرا امدادی سامان چین روانہ کیاگیا چین میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی پاکستان میں 2005ء کے زلزلے کے بعد چین نے امدادی اشیاء کے علاوہ 3کروڑ ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کی تھی۔ تحریر : اے پی ایس اسلام آباد

Saturday, May 17, 2008

عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے . ملک پر امریکی حملہ، ججز کی بحالی اور مہنگائی کی لہر بلند ترین سطح ُپر۔۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

ملک میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ جاری ہے اور حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح تقریبا 30 فیصد کے قریب پہنچ رہا ہے ۔ یہ اضافہ ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ ، 15 مئی 2008 ء کوختم ہونے والے ہفتے کے دورا ن گزشتہ سال کے اسی ہفتے کی نسبت تین ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے ملک کے غریب ترین طبقے کے لیے حساس اعشاریوں میں مہنگائی میں29.89 فیصد 5 ہزار روپے آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی میں 29.16 فیصد 12 ہزار روپے کے آمدنی و الے متوسط طبقے کے لیے مہنگائی میں26.28 فیصد ،12 ہزارسے زائدآمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 23.22 فیصد اضافہ جبکہ مجموعی طورپر تمام طبقوں کے مہنگائی کی شرح میں 26.25 فیصداضافہ ریکارڈکیا گیا ہے زیادہ تر بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اضافہ ہوا جوغریب کے استعمال کے لیے ہیںاوریہ اضافہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ بتایا جاتا ہے ۔ 15 مئی 2008 ءکو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران گزشتہ مالی سال کے اس ہفتے کی نسبت موٹے چاول کی قیمت میں 146 فیصد ، دال مسور کی قیمت میں 119 فیصد ، چاول بناستی کی قیمت میں 94 فیصد ، گھی ویجیٹل (ڈبہ ) کی قیمت میں 59 فیصد ،گندم کی قیمت میں 67 فیصد ، گندم کے آٹے کی قیمت میں 66 فیصد ، دال چنا کی قیمت میں55 فیصد ،تیل سرسوں کی قیمت میں 72 فیصد ، کوکنگ آئل کی قیمت میں 59 فیصد ، سمیت 49 اشیائ خریداری کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 4 کی قیمتوں میں معمولی سی کمی ریکارڈکی گئی ہے ۔ ججوں کی بحالی کی تحریک صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں۔ تحریک کو روکنا جمہوری حکومت کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آ جائیں گی۔ جس سے جمہوریت کا عمل متاثر ہو گا۔ عدلیہ کی بحالی کے بغیر میڈیا کی آزادی کا دفاع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ججوں کی عدم بحالی سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تسلسل کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا تاہم اب بھی وفاق میں صدر مشرف کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔ گورنر پنجاب کی تقرری ایک متنازع معاملہ ہے۔ اس بارے میں مسلم لیگ ن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے۔اصولوں کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاقی کابینہ سے الگ ہوئی ہے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ واپس نہیں آئیں گے پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی نگران حکومت کے متنازع کرداروں کو پاکستان کے عوام پر مسلط کیا جارہاہے جو تبدیلی کیلئے ووٹ دینے والی عوام کے ساتھ بڑی نا انصافی ہے پیپلزپارٹی کا دوہرا معیار ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم کا گورنر نہیں بدلا گیا جبکہ پنجاب میں ان کی حکومت ہے اور پرویز مشرف کا آدمی گورنر لگا دیاگیا جبکہ احسن اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا اگر پیپلز پارٹی صعوبتیں سہنے والے اپنے کسی کارکن کو گورنر لگاتی تو مسلم لیگ (ن) کو کوئی اعتراض نہ ہوتا اسلمان تاثیر کو گورنر پنجاب لگاتے وقت ان کی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی صرف آگاہ کیا گیا تھا ان کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے مسلم لیگ(ن) کے وزراء اصولوں کی بنیاد پر کابینہ سے الگ ہوئے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ آپس میں نہیں آئیں گے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ ہمیں جمہوریت کوئی نہیں سکھا سکتا ، میرے لئے پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ میں چاہتا ہوں پیپلز پارٹی اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مجھے مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتروں ۔ اگورنر پنجاب سلمان تاثیر نے زندگی میں سیاست کے نشیب و فراز اور قید بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں جہاں ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما بھی شامل رہے ہیں ۔ انھیں کوئی نہیں سکھا سکتا کہ جمہوریت کیا ہے آج وہ اس گورنر ہاو¿س میں موجود ہیں تو اس کے لئے انھوںنے طویل جدوجہد کی ہے ۔ اٹنہو اتار چڑھا و¿ آتے رہتے ہیں سیاست میں آخری فتح ہوتی ہے اور نہ آخری شکست ہوتی ہے ۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے ان کی حکمت عملی اس احوال پر ہو گی کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں وفاق میں جو ہمیں مینڈیٹ ملا ہے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتریں اور پنجاب میں جمہوری تمل قائم رہے ۔ اب یہ گورنر ہاو¿س عوامی بن چکا ہے اور اس کے دروازے عوام کے لئے کھلے رہیں گے ۔ پنجاب میں اندر اور باہر سے آکر بہت سے لوگ اسے لوٹتے رہے ہیں لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو پنجاب میں آئے تو انہو ںنے عوام کے دل لوٹ لئے جبکہ گورنر پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب کے لوگ غیر مند لوگ ہیں ہم سے کوئی پیار کرے تو اس پر سب کچھ لٹا دیتے ہیں اس موقع پر انہوں نے جیو ے بھٹو سدا جیوے کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ بلاول کو بھی ہم پنجاب سے الیکشن لڑائیں گے سارا پنجاب لاڑکانہ ہے ہم بلاول کو پنجاب اسمبلی میں پہنچائیں گے ۔ باجوڑ پر امریکی طیاروں کا میزائل حملہ افسوسناک ہے ابھی تک موجودہ حکومت کی امریکہ اور بھارت کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جو پالیسی سابقہ حکومت کی تھی جاری ہے ۔پیپلز پارٹی دو کشتیوں میں سوار ہو کر جمہوریت کو سبوتاڑ کرنے کی جو کشش کر رہی ہے وہ ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ وہ غیر آئینی و غیر قانونی صدر پرویز مشرف کو عملا قبول کر چکی ہے اعلان مری اور اعلان دبئی سمیت کسی بھی معاملے میں پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ اختیارات عملا ایوان صدر کے پاس ہیں جبکہ اس حوالے سے حافظ حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے معزول ججز کی بحالی کی قرار داد کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کے بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تا ہم انہوں نے اس بارے میں اپنی کسی اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے مواخذے کی تحریک بھی پیش کی جائے کیونکہ ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔مسلم لیگ ن کی طرف سے مرکزی وزارتوں سے استعفوں کے بعد ایک متنازعہ شخصیت کو گورنر پنجاب بنایا جانا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ایوان صدر کی ایک اور سازش ہے ۔ پرویز مشرف کی اتحادی جماعت ق لیگ کو ری کنڈیشن کر کے اور ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات پیپلز پارٹی ایوان صدر کے اشارے پر کر رہی ہے ۔ آصف زرداری اپنی اتحادی جماعتوںکو اعتماد میں لئے بغیر جو قدم بھی اٹھائیں گے وہ ملک اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ جون کے پہلے ہفتے میں اے پی ڈی ایم کے زیر اہتمام قومی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔کانفرنس میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد بھی شرکت کریں گے اس نے حکمران اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا فوری طور پر مواخذہ کیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں پاکستان کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی ترتیب دینا ممکن نہیں ہے۔ 18فروری کے بعد بھی ملک پر اسی طرح امریکی دباو¿ موجود ہے اور باجوڑ ووزیرستان میں بغیر پائلٹ امریکی جاسوسی طیارے میزائل داغ رہے ہیں۔ جس کے بارے میں ہماری فوج اور حکومت بھی لاعلم رہتی ہے۔ حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کوئی آئینی پیکج منظور کرنے کیلئے ارکان کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے تاہم وہ اس پوزیشن میں ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کا مواخذہ کرسکے۔ آج بھی امریکہ پاکستان پر گذشتہ آٹھ سالوں کی طرح حاوی ہے۔ امریکی صدر بش کہہ رہے ہیں کہ آئندہ امریکہ پر حملہ ہوا تو اس کی منصوبہ بندی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کی جائے گی جبکہ امریکی کانگریس کے اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر انہیںموقع ملے تو ان کی ترجیح عراق یا افغانستان کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کرنا اور وہاں فوج لے جانا ہوگا۔ پاکستان کو عملا امریکی کالونی بنادیا گیا ہے۔ تین روز قبل جو باجوڑ پر بغیر پائلٹ طیارے نے میزائل داغا اس کیلئے ٹارگٹ پاکستان کے اندر سے ہی کسی نے فراہم کیا تھا جس کے نتیجہ میں پرامن عالم دین کے گھر، مسجد اور حجرے کو نشانہ بنایا گیا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حملے کے بعد پاکستان کی افواج اور حکومت نے اس حملہ سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ تین ماہ سے امریکہ کے یہ بغیر پائلٹ طیارے جنوبی وزیرستان اور باجوڑ پر پرواز کررہے ہیں۔ اب وزیراعظم نے محض یہ بیان دیا ہے کہ وہ مصر میں منعقدہ کانفرنس میں امریکی صدر سے اس بات پر احتجاج کریں گے۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حملہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کو ملک کے دفاع کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ججوں کی بحالی بھی اس لئے ابھی تک نہیں ہوسکی کہ انہیں بحال کرنے پر بھی امریکی دباو¿ موجود ہے اور امریکہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے گمشدہ افراد کے حوالے سے نوٹس لیا جبکہ موجودہ حکمران کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ دباو¿ اس لئے قبول کررہے ہیں کہ امریکہ کی ملٹری ودوسری امداد کے بغیر پاکستان کا گزارہ نہیں ہے یہ کیسی پالیسی ہے کہ امریکہ سے فوجی امداد اپنے ہی شہریوں پر استعمال کرنے کیلئے حاصل کی جارہی ہے۔ افتخار محمد چودھری کا دوسرا جرم پرویز مشرف کے الیکشن لڑنے سے متعلق اہلیت کے بارے میں آنے والا فیصلہ تھا اور تیسرا جرم این آر او جس کے تحت اربوں روپے کی کرپشن معاف کی گئی کو عدالت میں ٹرائل کرنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کی سب سے بڑی وجہ ایوان صدر میں کی جانے والی سازشیں ہیں۔ ملک میں مہنگائی اور غربت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے۔ کشمیر پر بھی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ پاکستان کے دریا خشک ہوچکے ہیں، عوام کو پانی میسر نہیں ہے لیکن حکومت کو ان معاملات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ا عام شہری حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ اس نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے کیا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں اے پی ڈی ایم کا موقف آج بالکل سچ ثابت ہوچکا ہے۔ دو ماہ قبل میاں برادران کو اسی الیکشن کمیشن نے الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور آج ان کے کاغذات منظور کرلئے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو جو ہدایت دی جاتی ہے وہ اسی پر عمل کرتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بغیر عدالتی بحران حل نہیں ہوسکے گا۔ ملکی مسائل کو قومی حکومت کے ذریعے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ملک میں گشتہ جمعہ کو دینی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ڈمہ ڈولہ میں امریکہ کے میزائل حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ صوبہ سرحد کے تمام علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ دینی و مذہبی جماعتوں نے حکومت سے اس امریکی جارحیت کا سخت نوٹس لینے اور موثر انداز میں اس کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ امریکی جارحیت کے خلاف ملک بھر کی مساجد میں مذمتی قرار داد منظور کی گئیں ۔ جبکہ صوبہ سرحد کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ضلعی وتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے ۔ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام جماعت اسلامی ‘جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر مذہبی و دینی تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا جے یو آئی(ف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانافضل الرحمان کی اپیل پر ملک بھر میں باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ پر امریکی حملے کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا ۔ صوبہ سرحد اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ملک بھر اور صوبائی دارالحکومت میں اس موقع پر احتجاجی قرار داد منظور کی گئی جس میں باجوڑ پر امریکی حملے کوپاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ واقعہ انسانیت کے خلاف ہے قرا رداد میں کہاگیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں لیکن اقوام متحدہ ا ور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں قرا رداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت امریکہ میں باقاعدہ احتجاج کرے ۔ قرار داد میں وزارت خارجہ کی طرف سے مذمتی بیان جاری نہ کرنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ۔ حکومت خارجہ پالیسی کوپارلیمنٹ میں زیر بحث لائے اور خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کرے اور سابقہ حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل کرے ۔تحریر اے پی ایس،اسلام آباد

Sunday, May 11, 2008

پاکستان کا مستقبل،فاطمہ بھٹو اور عوام ۔۔۔تحریر چودھری احسن پریمی



نئی اتحادی حکومت کو عوام نے صرف روٹی، کپڑے اور مکان کا نہیں بلکہ عدلیہ کی بحالی کا بھی مینڈیٹ دیا ہے۔ وعدوں سے پھرنے کی بجائے عوام کی توقعات پر پورا اتریں عدلیہ کی آزادی، ملک میں قانون کی حکمرانی، ملکی معیشت کو مضبوط بنانا اورخاص طور پر بجلی کے بحران کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح کے دعوے تھے حکومت کا اصل مقصد عوام کو بحرانوں سے نجات دلانا ہے اور جب تک ملکی معیشت کو مضبوط اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاتا اس وقت تک نئی حکومت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتی۔عدلیہ کی بحالی قوم کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے اورنئی حکومت کو قوم کو یقین دلاتا ہوگا کہ ججز کی بحالی سمیت تمام وعدوں کو پورا کیا جائیگا اور اس سے ملک میں آئین، انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو گی۔اگر حکمرانوں نے اس بار پھر عوام کو چکر دینے کی کوشش کی تو نئے اتحادی یہ بات یاد رکھیں اب دونوں جماعتوں کے خلاف نعرہ لگے گا۔اور فو ج کو سیاست سے پاک کرنے کی باتیں کرنے والے سیاستدان یہ بھی ےاد رکھیں کہ جب تک ہماری سیاسی قیادت میں بدیانتی،بدعنوانی، غلط بیانی اور دو نمبری موجود رہے گی فوج کو بھی مداخلت کا موقع ملتا رہے گا ۔ اور اس وقت ہر طرف جو پہیہ جام کی کیفیت نظر آرہی ہے لگتا ہے کہ تیاری شروع ہے۔ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ اس دفعہ چور، بدمعاش اور قرضہ چوروں کا ساتھ دینے کی بجائے فوج عوام کا ساتھ دے گی اور ملک کی بھاگ دوڑ اور قیادت عالمی و ژن رکھنے والی فاطمہ بھٹو کے حوالے ہوگی ۔اور فاطمہ بھٹو کو وزیر اعظم بنایا جائے گا اور تمام بحرانوں پر قابو پایا جائے گا جو ساٹھ سالوں سے بدعنوان سول و فوجی حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں۔جبکہ وزارت قانون نے گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک بریفنگ جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو آ ئینی ترمیم کے بغیر بارہ مئی کو بحال کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ یہ ناممکن بھی ہے وزارت قانون نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 182 کے تحت ہم معزول ججز کو ایڈہاک جج کے طور پر بحال کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے بھی ہمیں صدر اور چیف جسٹس کی مرضی کی ضرورت ہے۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے اختلافات تا حال برقرار ہیں اور آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے مابین لندن میں جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے،آصف زرداری سے بعض نکات پر اختلاف ہے،3نومبر کو حلف لینے والے ججز ہماری نظر میں جائز نہیں،پی پی کے سربراہ نے سوچنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی سی او ججز کے حوالے سے کڑوی گولی کھانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ حکمراں اتحاد برقرار رہے، پی سی او ججز کو ایڈہاک کے طور پر برقرار رکھنا چاہیے۔12مئی تک تاریخ بڑھانے کا مقصد ججز کی بحالی تھا، مذاکرات کے دوران دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں،آصف زراداری نے سوچنے کے لیے مزید وقت مانگاہے عدلیہ کی بحالی پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے،انھوںنے اعتزاز احسن،فخرالدین ابراہیم اور حفیظ پیرزادہ کو دبئی بات چیت کے دوران کمیٹی میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا،کمیٹی نے پی سی او ججز کے حوالے سے مختلف رائے دی تھی،اعتزاز احسن سمیت دوارکان پی سی او ججز کو ایڈہاک ججز کے طورپر برقرار رکھنے کوتیار ہیں جبکہ حفیظ پیرزادہ کا نکتہ نظر اسکے برخلاف ہے۔نواز شریف نے کہا ہے کہ سارا کام ق لیگ والوں نے بگاڑا اور ججوں کوبرباد کیا۔ ا یڈہاک ججوں کے مسئلہ پر تنازعہ بدستور قائم ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے سپریم کورٹ کے ججوں کو مستقل جج کے طور پر رکھا جائے اور ججوں کی تعداد بڑھائی جائے لیکن مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ ان ججوں کو ایڈہاک بنیاد پر رکھا جائے اور تعداد بڑھانے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی قیادت میں دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان مذاکرات میں ان تجاویز پر غور کیا گیا جو ان دونوں جماعتوں کی آئینی کمیٹی نے تیار کی تھیں۔ ایک کے سوا دیگر تمام سفارشات پر اتفاق رائے ہے صرف ایڈہاک ججوں کی تقرری کا ایشو متنازع ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تعداد بڑھانے کے لئے آئین میں ترمیم کی خاطر مزید مہلت دی جائے لیکن مسلم لیگ (ن) نے دھمکی دی ہے کہ توسیع دو مرتبہ ہو چکی ہے اور معزول ججوں کو 12مئی تک بحال نہ کیا گیا تو ان کے وزیر کابینہ چھوڑ دیں گے اور دونوں حکمرانوں جماعتوں کی راہیں جدا ہو سکتی ہیں۔ البتہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے چہروں سے پریشانی واضح دکھائی دے رہی تھی اور اندازہ ہو رہا تھا کہ ”مذاکرات کے اندر سب اچھا نہیں تھا“ البتہ میاں شہباز شریف نے یہ تبصرہ کیا کہ ایڈہاک ججوں کے معاملے پر ہم اپنے موقف پر قائم ہیں مذاکرات میں آصف زرداری کے ہمراہ اس بار رحمن ملک کے بجائے امریکہ میں نامزد پاکستانی سفیر حسین حقانی تھے جبکہ میاں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف، اسحق ڈار، خواجہ آصف اور سید غوث علی شاہ تھے۔ حسین حقانی کی مذاکرات میں موجودگی اور امریکہ کے پیغام کے حوالے سے خواجہ آصف کے مطابق یہ محض قیاس آرائی ہے امریکہ نے پیغام بھیجنا ہوتا تو فون پر بتا سکتا تھا نمائندہ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ججوں کی بحالی کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ 12 مئی حتمی تاریخ ہے۔پاکستان میں ججز کی بحالی کے ایشو میں امریکہ کی براہ راست مداخلت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس معاملے پر امریکی ایما پر نواز شریف پر اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباو¿ ڈال رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے ججز کی بحالی کے معاملے پر امریکی دباو¿ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ امریکی نائب وزیر خارجہ حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین سے ججز کی بحالی کے ایشو پر بات چیت کے لیے گزشتہ اتوار کو لندن پہنچیں ہیں ۔ اسی ملاقات کے پیش نظر نواز شریف نے لندن میں اپنے قیام میں ایک دن کی توسیع کی ہے ۔ ججز کی بحالی کے معاملے پر نواز شریف نے کسی صورت اپنے موقف پر سمجھوتہ اور کسی بھی بیرونی دباو¿ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف نے متبادل حکمت عملی طے کر لی ہے جس کا اعلان آج( پیر کو) اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائے گا سعودی عرب کے اعلی حکام کی جانب سے بھی امریکی ایما پر نواز شریف کو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباو¿ ڈالا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ججز کی بحالی کے ایشو پر کمزوری نہ دکھانے اور بیرونی دباو¿ قبول کرنے کا دو ٹوک فیصلہ کر لیا ہے ۔ پاکستان کے اس اہم قومی ایشو کے حوالے سے امریکہ کی براہ راست مداخلت پر سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ معزول ججوں کی بحالی کے پیچیدہ مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی آخری کوششوں کے سلسلے میں حکومتی اتحاد کی دو اہم جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور شروع ہوا۔ دونوں جماعتیں گذشتہ روز اس مسئلہ پر کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنماو¿ں کے درمیان لندن میں سات گھنٹوں پر مشتمل بات چیت کے دو دور ہوئے تاہم ایک دوسرے کو بعض نکات پر آمادہ نہیں کر سکے، اگرچہ دونوں جماعتیں عمومی طور پر ججوں کی بحالی پر متفق ہیں تاہم اصل مسئلہ ججوں کی بحالی کا طریقہ کار کا ہے۔ معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے قوم کو مسلسل اضطراب میں رکھا جا رہا ہے جو ایک تشویشناک بات ہے ۔ آصف علی زرداری کے ساتھ شہباز شریف کے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے کی توقع نہیں ہے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ۔عوام کسی آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کریں گے اس کا مطلب مشرف کے اقدام کو جائز قرار دینا ہو گا امریکہ ہماری پالیسیوں میں مسلسل مداخلت کر رہا ہے اور وہ حکومت پر مسلسل دباو¿ ڈال کر اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے ۔۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف ہمارے ساتھ رہیں گے12مئی کے بعد نئی اپوزیشن نہیں بنے گی تاہم سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی (ق) لیگ سے اتحاد ہو گا یا نہیں ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ججز کی بحالی پر نہیں طریقہ کار پر اختلاف ہے، اداروں میں تصادم اوربیک وقت 2چیف جسٹس نہیں چاہتے،عدلیہ کی بحالی کا وعدہ ضرور پورا کیا جائیگا لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے اداروں میں تصادم ہو ۔ صدر پرویزکے مستقبل کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے ‘امریکہ کو ججز کی بحالی سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے تعاون چاہتا ہے۔ ججز کی بحالی کے معاملہ میں صرف طریقہ کار پر معمولی اختلاف ہے اور انشاء اللہ اسے بہت جلد حل کر لیا جائیگاکوئی ایسا کام نہیں چاہتے کہ جس سے کوئی ایک بحران ختم اور دوسرا کھڑا ہو جائے۔دو چیف جسٹس لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں۔حکمران اتحاد 12 مئی کو ججز کی بحالی کے معاملہ پر انتہائی سنجیدہ ہے ۔ ا ن افواہوں میں کوئی صداقت نہ ہے کہ میاں نواز شریف 12 مئی کے بعد اپوزیشن میں چلے جائیں گے نواز شریف ان کے انتہائی قابل احترام اتحادی ساتھی ہیں جن کی تمام حکمران اتحاد انتہائی عزت کرتا ہے ذا تی طور پر ضلعی حکومتوں کے حق میں ہیں۔ لیکن ضلعی حکومتوں کا جو بنیادی تصور تھا اس کی بنیاد اصل میں پارٹی کی بنیاد پر الیکشن تھے جس میں ضلعی نمائندے مناسب طریقے سے منتخب ہوتے تھے تاہم موجودہ ضلعی حکومتوں کے نظام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔اعتزاز احسن کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پارٹی کی قیادت ہی کرنے کی مجاز ہے اور وہ بحیثیت وزیراعظم اس سلسلہ میں کچھ نہ کہنا چاہتے ہیں ذاتیات کی بات نہیں کرنی بلکہ ملک آئین اور قانون کی بات کرنی ہے صدر سے میرے تعلقات صرف اتنے ہیں جس کا آئین اور قانون تقاضا کرتا ہے، گورنر کی تبدیلی ایک معمول کا معاملہ ہے، ہماری پہلی ترجیح امن و امان کی بحالی ہے توانائی کے بحران پر قابو پانا اور غذائی قلت کو دور کرنا اور بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ججوں کی بحالی کیلئے مذاکرات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا 13 نکاتی موقف جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ (1) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری یہ محسوس کرتے ہیں کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہونی چاہئے اور ملک کو بچانے کیلئے ان میں بڑے معاملات پر اتفاق ہونا چاہئے۔ پارٹیوں کے اندر اور درمیان یا ان کا اداروں کے ساتھ تصادم پاکستان کی سالمیت کیلئے تباہ کن ہوگا۔ (2) محترمہ بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد آصف زرداری نے تحمل کی اپیل کی اور تمام طاقتوں سے پ±رتشدد رویّے کی بجائے پ±رامن رویّے کا مظاہرہ کرنے کیلئے کہا تاکہ پاکستان کو بحران سے بچایا جاسکے۔ پیپلز پارٹی نے اس وقت بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور نہ اب کرے گی۔ (3) ججوں کی بحالی کیلئے بھوربن معاہدہ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی سیاسی عزم کا اظہار اور دوسری طرف قومی مفاہمت کا اظہار تھا۔ (4) کچھ لوگوں نے اعلان بھوربن کو، اسکے ساتھ منسلک آئینی اور سیاسی ایشوز کو دیکھے بغیر ہی، ججوں کی بحالی تک ہی محدود کرلیا ہے۔ میثاق جمہوریت یا پھر قومی مفاہمت کے وسیع معاملات کے تحت ججوں کی بحالی کے سوال کو آئینی معاملات کو علیحدہ کرتے ہوئے حل نہیں کیا جاسکتا۔ (5) شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کتاب ”اسلام، جمہوریت اور مغرب“ کی روح کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک نئے کل کیلئے آج ہی سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان، سول سوسائٹی اور پاکستان کے عوام الناس کے درمیان پل تعمیر کر رہے ہیں جو ماضی میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے گا اور ہمیں بہتر مستقبل کی جانب لے جائے گا۔ ملک میں مفاہمت کے ماحول کی ضرورت ہے تاکہ ملک ان چیلنجز کا سامنا کرسکے جس کا اسے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت سے کئی مسائل ورثے میں ملے ہیں اور ان مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر زیر بحث لانا چاہئے۔ (6) پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور پیپلز پارٹی اس پر قائم ہے۔ اعلان بھوربن درحقیقت اس ہی عزم کا تسلسل تھا اور یہ سمجھا گیا تھا کہ اعلان بھوربن پر میثاق جمہوریت کے تحت ہی عمل ہوگا۔ (7) پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ تصادم ملک، اسکی سالمیت اور معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پارٹی چاہتی ہے کہ تمام جمہوری قوتیں عوام کی خدمت اور اداروں، بشمول پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ، کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھیں۔ (8) پاکستان پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کی واپسی کو روکا جاسکے اور قومی مفاہمت اور حکمران اتحاد کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ (9) پاکستان پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت ججوں کی بحالی میں حائل قانونی رکاوٹیں اس طرح سے ختم کرنا چاہتی ہے کہ اس عمل میں ایسی کوئی خرابی پیدا نہ ہو جسے غیر جمہوری قوتوں استعمال کر سکیں۔ (10) یہ اصول کی بات ہے کہ دونوں جماعتیں عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں۔ اختلاف صرف بحالی کے طریقہ? کار پر ہے۔ اختلافات کو آئین کے تحت ختم کیا جائے گا اور متعلقہ آئینی ایشوز پر مختلف تشریحات موجود ہیں۔ (11) پاکستان پیپلز پارٹی عدلیہ کی صورتحال میں بہتری لانے اور عوام کو سستے اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے آئینی پیکیج لانا چاہتی ہے۔ میثاق جمہوریت میں پہلے ہی اس آئینی پیکیج کا ذکر موجود ہے اور 2006ء میں میاں نواز شریف اس سے اتفاق کر چکے ہیں۔ (12) پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ عوام اور تمام جمہوری قوتیں ملک میں جمہوری اقدار کو مزید مستحکم بنانے کیلئے کام کریں۔ (13) پاکتسان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ اس وقت ملک کے عوام کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی جمہوریت اور ملک کی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ یہ الجھے ہوئے معاملات کی تشریح اور سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کا وقت نہیں ہی ہے۔ پیپلزپارٹی مخلوط حکومت کو قائم رکھنے کیلئے تمام درکار اقدامات اور اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہے ۔ جو کہ اس کا خوش آئند اقدام ہے ۔اور اس حوالے سے شری رحمن نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلزپارٹی کا اتحاد برقرار رہے گا۔ ا ججوں کی بحالی کا مسئلہ ایک آئینی مسئلہ ہے اور پولیس کے ذریعہ نہ جج بحال ہوسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ ججوں کو سبکدوش کیا جاسکتا ہے۔ معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر مذاکرات کی مکمل ناکامی کی صورت میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنا تعاون یکسر ختم نہ کرے بلکہ وقتی طور پر اپنے احتجاج کو کابینہ سے علیحدگی تک محدود رکھے اگرچہ ن نے جو کچھ بھی کرنا ہے اس بارے میں انھیں کوئی ابہام نہیں ہے۔ جو کچھ وکلا کمیونٹی اور عوام چاہتے ہیں وہ اس کی قدر کریں انھوں نے اتنے طویل مذاکرات صرف اسی لئے کئے ہیں تاکہ کوئی حل نکل آئے“۔ چوہدری نثار کا اہم ترین بیان یہ تھا کہ ”معزول ججوں کی بحالی کے اپنے مطالبے کیلئے ہم اپنی پنجاب حکومت کی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت قائم رہتی ہے تو ٹھیک ہے اور اگر ختم ہوجاتی ہے تو بھی ہمیں کوئی پشیمانی نہیں ہوگی۔ ”فی الوقت پیپلز پارٹی کیلئے حکومت قائم رکھنا ہوسکتا ہے مشکل نہ ہو لیکن کابینہ سے ن کی علیحدگی سے مختصر عرصے میں اس کو شدید جھٹکا ضرور لگے گا“۔ ”پاکستان کو درپیش مسائل کے انبار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بنیادی ضرورت ہے کہ یہ دونوں بڑی پارلیمانی پارٹیاں تعاون کے راستے پر چلتی رہیں اور ملک کو تمام مسائل سے چھٹکارا دلانے کیلئے صلاحیتوں کا مشترکہ استعمال کریں“۔ اس بارے میں جانتے ہوئے کہ مسلم لیگ ن کا ان کے ساتھ تعاون زیادہ دیر نہیں چلے گا زرداری نے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملاکر تیاری پہلے ہی کرلی ہے تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جاسکے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اول الذکر حکمران اتحاد میں تنہا رہ گئی ہے کیونکہ اتحاد کے دوسرے ارکان ایم کیو ایم‘ اے این پی‘ جے یو آئی اور آزاد ارکان معزول ججوں کی بحالی کے خلاف ہیں۔ اسی حقیقت کے باعث پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین زرداری کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں کیونکہ وہ تمام ان کی حمایت کررہے ہیں ۔لیکن ان سب کی یہی رائے ہے کہ مسلم لیگ ن نے ججوں کے معاملے پر اپنے موقف کے باعث سیاسی طور پر بڑا فائدہ اٹھایا ہے اور اگر اس کے وزراء نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کرلی تو انہیں مزید بونس مل جائے گا‘ تاہم زرداری کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کشتی سے نہیں اترے گی کیونکہ ان کو احساس ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے اولین دشمن پرویز مشرف کے سوا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی وجہ سے حکمران اتحاد کی کمزوری سے صدر کو خود بخود فائدہ ہوگا اور اتحاد کا کوئی رکن بھی اس حقیقت کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں پڑنے سے مشرف خوش ہوں گے۔ وہ ایسی صورتحال کا طویل عرصے سے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا واحد ہدف نواز شریف ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر کو اس قدر تنہا کردیا جائے کہ تمام اتحادی انہیں چھوڑ دیں۔ مسلم لیگ ن کے وزراء نے نشاندہی کی کہ زرداری کے اہم مشیر ان کی لندن مذاکرات میں مدد کررہے ہیں‘ غیرمنتخب شدہ ہیں جبکہ عوامی نمائندوں کو معاملات سے دور رکھا ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک اور امریکا میں متعین پاکستان کے سفیر حسین حقانی لندن میں زرداری کی نواز شریف کے ساتھ اہم مذاکرات میں مدد کررہے ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کی مدد شہباز شریف‘ خواجہ آصف اور اسحاق ڈار کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ق جس نے ابھی مناسب اور ابہام سے عاری پالیسیاں بنانی ہیں‘ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اس سہولت کی شادی / اتحاد کے ٹوٹنے کے انتظار میں ہے۔ اگر مسلم لیگ ن حکمران اتحاد سے علیحدہ ہوجاتی ہے تو ق لیگ کے 51اراکین قومی اسمبلی مشرف کے حکم پر پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بتایا ہے کہ ”اتحاد کے وجود کا انحصار معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہونے والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مذاکرات کے نتیجے پر ہے“۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلم لیگ ق نے ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاق اور پنجاب کی سطح پر پیپلز پارٹی کی طرف دست تعاون بڑھانے کی باتیں قبل ازوقت ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق نے باہمی تعاون کیا تو مسلم لیگ ن کی پنجاب میں چھٹی ہوجائے گی کیونکہ دونوں پارٹیوں کے ملنے سے بڑی اکثریت وجود میں آئے گی۔“ موجودہ حکمران امریکا کے دباو¿ میں ہیں، ججوں کی بحالی کے معاملے میں امریکا مداخلت کررہاہے جبکہ لندن مذاکرات بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں اورایسی صورتحال میں عوام تماشائی نہیں رہیں گے۔ ملک کے 16کروڑ عوام اورکسی صورت 3نومبر کے بعد والی صورتحال اور پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو قبول نہیں کریگی۔ جبکہ ججوں کی بحالی میں روڑے اٹکانے کے خلاف اے پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس 14 مئی کو منعقد کیا جارہا ہے جس میں اے پی ڈی ایم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی جبکہ جماعت اسلامی کی شوریٰ کا اجلاس 16مئی کو طلب کیا گیا ہے اور انھوں نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ اس ملک سے پرویزمشرف کی آمریت کو ختم کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ ہم کسی آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کرینگے، آئینی پیکج دراصل پرویز مشرف کے غیرآئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے لایا جارہا ہے اور ایوان صدر سے منصوبے پھیلائے جارہے ہیں کہ ملک میں 2سپریم کورٹ اور دو چیف جسٹس ہونگے جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور ملک کو تقسیم کرنے کااورافراتفری پھیلانے کا منصوبہ ہے، ایسے منصوبوں کو وکلائ، سول سوسائٹی اور ہم ملکر ناکام بنائیں گے۔ پاکستان کے عوام جسٹس افتخا ر چوہدری کے بغیر ججوں کی بحا لی قبول نہیں کریں گے عوام اعلان مری کے مطابق تما م جج بحال چاہتے ہیں ۔ ججز کی بحا لی کیلئے آئین میں ترمیم تین نومبر کے غیر آئینی اقدامات کو تسلیم کر نے کے مترادف ہو گی ۔ ججز بحا لی کمیٹی کے فیصلوں سے قوم کو ایک فوری طور پر آگا ہ کیا جائے۔ فرد واحد کو اختیار نہیں کہ وہ آئین میں تر میم کر ے یا اسے معطل کر کے 60جج گرفتار کر لے ۔فر د واحد کے اقدامات تسلیم کر لئے گئے تو آئندہ ججوں کے ساتھ ارکا ن پا رلیمنٹ بھی گرفتار کر لئے جا ئیں گے ۔ سیاسی جماعتوں کے اختلافات جلد ختم ہونے چاہئیں۔ میثاق جمہوریت پر عمل کریں قومی سطح پر خوراک کابحران پیداہورہاہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 126ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی ہے ،ملک معاشی بحران سے دوچارہے،لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، لہٰذا سیاسی جماعتوں میں باہمی اختلافات جتنی جلدختم ہوں اتنااچھاہے تاکہ ہم غریب عوام کے بنیادی مسائل حل کرسکیں۔ ملک پہلے ہی ان گنت مسائل کاشکار ہے اور ججوں کامسئلہ ایک ایسی شکل اختیارکرتاجارہاہے کہ جتنی جلدحل ہوجائے ملک کیلئے بہترہے ۔ملک کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے‘ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا دیں اتحادی حکومت کے کندھوں پر قوم نے بھاری ذمہ داری ڈالی ہے اورانھیں عوامی توقعات پر پورا اترنا چاہیے ۔اے پی ایس




Wednesday, May 7, 2008

Time for renaissance of miniature art: Sherry





ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD : Minister for Information and Broadcasting Ms Sherry Rehman said on Tuesday that miniature art was witnessing renaissance in the country. The minister was talking to reporters after inaugurating the Exhibition of Miniature Paintings by Najamul Hassan Kazmi at Nomad Art Gallery.The exhibition would remain open till May 16. Sherry Rehman said that there was a need to construct new museums and upgrade old museums in the country.About the performance of National Art Gallery (NAG) she said it was doing well.
However she urged the private sector to come forward for promotion of art galleries. About Public-private sector partnership she gave the example of Mohatta Palace Museum in Karachi.She said that as art lovers we should encourage and support arts.

Earlier while inspecting the exhibition she appreciated the work of the artist. She said he has broken the conventional boundaries of miniature art by introducing innovative techniques.
Kazmi has used a technique in which an ordinary paper is stained with tea to give the impression as if the portrait has been drawn over leather.
Talking to journalists Najamul Hassan Kazmi said he used this technique to infuse new spirit into miniature painting.
He said previously, he used to work with natural leave colour but this time he has used poster colour, acrylic, natural leave colour and mixed media giving an entire new impact to his latest collection.
The artist has used needle to draw minute details in his subject and such details could not be noticed with a naked eye.

Tuesday, May 6, 2008

An Interview with Shabnam Shakeel by Nasir Mughal,Interested readers can see daily Jinnah May 6,2008




Gilani stresses knowledge-based economy for sustainable growth





ASSOCIATED PRESS SERVICE

RAWALPINDI : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Monday said the government believed in a knowledge-based economy and called for promoting research and linkages between development institutions and industry to achieve sustainable economic growth. Addressing the 14th Convocation of the College of Electrical and Mechanical Engineering (EME), under the National University of Sciences and Technology, he said high priority needs to be given to the development and advancement of science and technology.
Giving his vision of promoting science and technology in the country, Gilani stressed strengthening of existing institutions involved in research and development activities both in the public and private sector.
“Strong linkages should be established between research and development institutions and industry for value addition in the manufacturing sector,” he added.
Gilani called for capacity building of the manpower in research and development centers with emphasis to improve qualitative research.
He lauded NUST as a centre of excellence that was undertaking qualitative comprehensive learning programme that not only included all disciplines of engineering but also subjects like business administration and information technology.
Gilani said universities should not just produce job seekers but also job creators through research, technology, management entrepreneurship.
The Prime Minister was particularly pleased to note presence of several female graduates that represented a right kind of gender-mix in steering country on road to progress and development.
Gilani greeted the faculty on the listing of NUST among the world’s top 500 universities, due to quality research and an excellent academic environment.
He announced a grant of Rs. 50 million for the construction of an academic block and another Rs. 39 million for promotion of sports facility and PM’s Gold Medal and grant to the overall best students to complete their Ph.D degree abroad.
The Prime Minister later awarded gold medals to top winners and degrees to the batch of 210 graduates in the disciplines of electrical, mechanical, computer and mechatronics.
In his address, Director NUST, Lt. Gen. Mohammad Asghar noted that higher education was gaining unprecedented momentum in the country.
He said NUST now ranked among the world top 500 universities because of its world-class research and linkages with international institutions.
Gen. Asghar informed that NUST had collaboration with 40 universities in 15 countries, which were keen to expand their collaboration with NUST for its quality graduates.
He said the university was reaching to disadvantage people through its outreach programme and sought the government support in this regard.
The commandant of EME College, Maj. Gen. Najeeb Tariq, recapped the activities of the institution set up in Quetta in 1957.
Having established its credibility as a premier equipment-training institute, EME College started its own B.Sc. Engineering Program in 1981, which was subsequently shifted to Naval Engineering College, Karachi.
In April 1984, having stayed for 26 years at Quetta, the College moved to its present premises.
Gen. Tariq said that the college faculty has contributed 1800 research papers in reputed journals.
The institution, he added, was working whole-heartedly to achieve new heights.

Monday, May 5, 2008

PM announces historic development package for the city





ASSOCIATED PRESS SERVICE

MULTAN: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Sunday announced a historic development package for the city which includes start of work on Motorway (M-4), construction of educational institutions, road schemes, housing and load management plan for industrial and agriculture sector. Speaking at the Multan Press Club function ‘Guftgoo’, the prime minister said the work on all these projects would start next month and completed within five years.
He also announced expansion of Multan airport to make it of international standard for which the ministry of defence and the Civil Aviation Authority will acquire the land. The work would start in June this year.
He said six low cost housing schemes in Shuja Abad and Jalalpur would be started for which the provincial government will provide the land and requisite funds.
He said National Highway Authority would commence work on Multan Faisalabad Motorway (M-4) project in July 2008.
Prime Minister Gilani said road infrastructure in the historic city of Multan will be improved to ease traffic congestion.
For this purpose work on ring road in the inner city, which will have Northern and Southern by-pass, will be started.
He said construction of Northern By-pass will be completed at a cost of Rs 50 million in June next year, for which the land is already available. The Southern by-pass, he added, will be completed in a phased manner which will also include acquisition of land.
He said portion of ring road, passing from inner city will have underpasses and where needed, the crossings will be widened and improved.
Syed Yousuf Raza Gilani said the work on establishment of a women’s university and University of Science and Technology will start in July.
He also announced setting up of five colleges for girls and two colleges for boys and a cadet college in the city.
Water supply and sewerage schemes at a cost of Rs 5.92 billion will also be initiated.
He said to impart technical and vocational training to the youth of Multan, NAVTEC will present him a comprehensive plan for establishment of training institutes before June 30.
He announced to upgrade Bagh Langay Khan and Municipal library and refurbishment of Qasim Bagh stadium.
Prime Minister Gilani said a football ground and an athletics track of international standard will be constructed in the stadium.
Multan city, where he said, he grew up will be made into a national heritage city on the pattern of Faiz city of Morocco.
He said for proper load management after consultation with the representatives of industry, agriculture and power looms sector, the distribution of electricity to them will be rationalized according to their needs.
He said those who were arrested during the power looms strike will be set free tonight by the provincial government.
He announced to make Multan a model health district and said every Basic Health Unit (BHU) will have doctor and required staff and supply of medicines will be ensured.
He said Metro Cash-n-Carry store will open its branch in the city at a cost of Rs 2 billion having special storage for kinoo and mangoes. Prime Minister Gilani will lay the foundation stone of the store next week.
The other announcements by the prime minister include 15 buses for women colleges, upgradation of cancer hospital at Nishter College to 100 beds and two buses for the college.
The Prime Minister said that a special committee to oversee the package will be formed which he himself will chair.
The Prime Minister said that the development package has been announced after consultation with the federal government, provincial government and representatives of the city.