Saturday, May 17, 2008

عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے . ملک پر امریکی حملہ، ججز کی بحالی اور مہنگائی کی لہر بلند ترین سطح ُپر۔۔۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

ملک میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ جاری ہے اور حساس اعشاریوں میں افراط زر کی شرح تقریبا 30 فیصد کے قریب پہنچ رہا ہے ۔ یہ اضافہ ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ ، 15 مئی 2008 ء کوختم ہونے والے ہفتے کے دورا ن گزشتہ سال کے اسی ہفتے کی نسبت تین ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے ملک کے غریب ترین طبقے کے لیے حساس اعشاریوں میں مہنگائی میں29.89 فیصد 5 ہزار روپے آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی میں 29.16 فیصد 12 ہزار روپے کے آمدنی و الے متوسط طبقے کے لیے مہنگائی میں26.28 فیصد ،12 ہزارسے زائدآمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 23.22 فیصد اضافہ جبکہ مجموعی طورپر تمام طبقوں کے مہنگائی کی شرح میں 26.25 فیصداضافہ ریکارڈکیا گیا ہے زیادہ تر بنیادی ضرورت کی اشیاء میں اضافہ ہوا جوغریب کے استعمال کے لیے ہیںاوریہ اضافہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ بتایا جاتا ہے ۔ 15 مئی 2008 ءکو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران گزشتہ مالی سال کے اس ہفتے کی نسبت موٹے چاول کی قیمت میں 146 فیصد ، دال مسور کی قیمت میں 119 فیصد ، چاول بناستی کی قیمت میں 94 فیصد ، گھی ویجیٹل (ڈبہ ) کی قیمت میں 59 فیصد ،گندم کی قیمت میں 67 فیصد ، گندم کے آٹے کی قیمت میں 66 فیصد ، دال چنا کی قیمت میں55 فیصد ،تیل سرسوں کی قیمت میں 72 فیصد ، کوکنگ آئل کی قیمت میں 59 فیصد ، سمیت 49 اشیائ خریداری کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 4 کی قیمتوں میں معمولی سی کمی ریکارڈکی گئی ہے ۔ ججوں کی بحالی کی تحریک صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں۔ تحریک کو روکنا جمہوری حکومت کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آ جائیں گی۔ جس سے جمہوریت کا عمل متاثر ہو گا۔ عدلیہ کی بحالی کے بغیر میڈیا کی آزادی کا دفاع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ججوں کی عدم بحالی سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا تسلسل کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا تاہم اب بھی وفاق میں صدر مشرف کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔ گورنر پنجاب کی تقرری ایک متنازع معاملہ ہے۔ اس بارے میں مسلم لیگ ن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے۔اصولوں کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاقی کابینہ سے الگ ہوئی ہے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ واپس نہیں آئیں گے پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی نگران حکومت کے متنازع کرداروں کو پاکستان کے عوام پر مسلط کیا جارہاہے جو تبدیلی کیلئے ووٹ دینے والی عوام کے ساتھ بڑی نا انصافی ہے پیپلزپارٹی کا دوہرا معیار ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم کا گورنر نہیں بدلا گیا جبکہ پنجاب میں ان کی حکومت ہے اور پرویز مشرف کا آدمی گورنر لگا دیاگیا جبکہ احسن اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا اگر پیپلز پارٹی صعوبتیں سہنے والے اپنے کسی کارکن کو گورنر لگاتی تو مسلم لیگ (ن) کو کوئی اعتراض نہ ہوتا اسلمان تاثیر کو گورنر پنجاب لگاتے وقت ان کی جماعت سے مشاورت نہیں کی گئی صرف آگاہ کیا گیا تھا ان کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کو گورنر لگانا حکمران اتحاد کے خلاف سازش ہے مسلم لیگ(ن) کے وزراء اصولوں کی بنیاد پر کابینہ سے الگ ہوئے اور جب تک جج بحال نہیں ہوتے وہ آپس میں نہیں آئیں گے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ ہمیں جمہوریت کوئی نہیں سکھا سکتا ، میرے لئے پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ میں چاہتا ہوں پیپلز پارٹی اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مجھے مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتروں ۔ اگورنر پنجاب سلمان تاثیر نے زندگی میں سیاست کے نشیب و فراز اور قید بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں جہاں ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما بھی شامل رہے ہیں ۔ انھیں کوئی نہیں سکھا سکتا کہ جمہوریت کیا ہے آج وہ اس گورنر ہاو¿س میں موجود ہیں تو اس کے لئے انھوںنے طویل جدوجہد کی ہے ۔ اٹنہو اتار چڑھا و¿ آتے رہتے ہیں سیاست میں آخری فتح ہوتی ہے اور نہ آخری شکست ہوتی ہے ۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے ان کی حکمت عملی اس احوال پر ہو گی کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سب برابر ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں وفاق میں جو ہمیں مینڈیٹ ملا ہے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر پورا اتریں اور پنجاب میں جمہوری تمل قائم رہے ۔ اب یہ گورنر ہاو¿س عوامی بن چکا ہے اور اس کے دروازے عوام کے لئے کھلے رہیں گے ۔ پنجاب میں اندر اور باہر سے آکر بہت سے لوگ اسے لوٹتے رہے ہیں لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو پنجاب میں آئے تو انہو ںنے عوام کے دل لوٹ لئے جبکہ گورنر پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب کے لوگ غیر مند لوگ ہیں ہم سے کوئی پیار کرے تو اس پر سب کچھ لٹا دیتے ہیں اس موقع پر انہوں نے جیو ے بھٹو سدا جیوے کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ بلاول کو بھی ہم پنجاب سے الیکشن لڑائیں گے سارا پنجاب لاڑکانہ ہے ہم بلاول کو پنجاب اسمبلی میں پہنچائیں گے ۔ باجوڑ پر امریکی طیاروں کا میزائل حملہ افسوسناک ہے ابھی تک موجودہ حکومت کی امریکہ اور بھارت کے حوالے سے خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جو پالیسی سابقہ حکومت کی تھی جاری ہے ۔پیپلز پارٹی دو کشتیوں میں سوار ہو کر جمہوریت کو سبوتاڑ کرنے کی جو کشش کر رہی ہے وہ ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ وہ غیر آئینی و غیر قانونی صدر پرویز مشرف کو عملا قبول کر چکی ہے اعلان مری اور اعلان دبئی سمیت کسی بھی معاملے میں پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ اختیارات عملا ایوان صدر کے پاس ہیں جبکہ اس حوالے سے حافظ حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے معزول ججز کی بحالی کی قرار داد کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کے بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تا ہم انہوں نے اس بارے میں اپنی کسی اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے مواخذے کی تحریک بھی پیش کی جائے کیونکہ ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔مسلم لیگ ن کی طرف سے مرکزی وزارتوں سے استعفوں کے بعد ایک متنازعہ شخصیت کو گورنر پنجاب بنایا جانا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ایوان صدر کی ایک اور سازش ہے ۔ پرویز مشرف کی اتحادی جماعت ق لیگ کو ری کنڈیشن کر کے اور ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات پیپلز پارٹی ایوان صدر کے اشارے پر کر رہی ہے ۔ آصف زرداری اپنی اتحادی جماعتوںکو اعتماد میں لئے بغیر جو قدم بھی اٹھائیں گے وہ ملک اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ جون کے پہلے ہفتے میں اے پی ڈی ایم کے زیر اہتمام قومی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں معزول ججوں کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔کانفرنس میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد بھی شرکت کریں گے اس نے حکمران اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا فوری طور پر مواخذہ کیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں پاکستان کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی ترتیب دینا ممکن نہیں ہے۔ 18فروری کے بعد بھی ملک پر اسی طرح امریکی دباو¿ موجود ہے اور باجوڑ ووزیرستان میں بغیر پائلٹ امریکی جاسوسی طیارے میزائل داغ رہے ہیں۔ جس کے بارے میں ہماری فوج اور حکومت بھی لاعلم رہتی ہے۔ حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کوئی آئینی پیکج منظور کرنے کیلئے ارکان کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے تاہم وہ اس پوزیشن میں ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کا مواخذہ کرسکے۔ آج بھی امریکہ پاکستان پر گذشتہ آٹھ سالوں کی طرح حاوی ہے۔ امریکی صدر بش کہہ رہے ہیں کہ آئندہ امریکہ پر حملہ ہوا تو اس کی منصوبہ بندی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کی جائے گی جبکہ امریکی کانگریس کے اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر انہیںموقع ملے تو ان کی ترجیح عراق یا افغانستان کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر حملہ کرنا اور وہاں فوج لے جانا ہوگا۔ پاکستان کو عملا امریکی کالونی بنادیا گیا ہے۔ تین روز قبل جو باجوڑ پر بغیر پائلٹ طیارے نے میزائل داغا اس کیلئے ٹارگٹ پاکستان کے اندر سے ہی کسی نے فراہم کیا تھا جس کے نتیجہ میں پرامن عالم دین کے گھر، مسجد اور حجرے کو نشانہ بنایا گیا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حملے کے بعد پاکستان کی افواج اور حکومت نے اس حملہ سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ تین ماہ سے امریکہ کے یہ بغیر پائلٹ طیارے جنوبی وزیرستان اور باجوڑ پر پرواز کررہے ہیں۔ اب وزیراعظم نے محض یہ بیان دیا ہے کہ وہ مصر میں منعقدہ کانفرنس میں امریکی صدر سے اس بات پر احتجاج کریں گے۔ جبکہ قا ضی حسین احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حملہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ افواج پاکستان کو ملک کے دفاع کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ججوں کی بحالی بھی اس لئے ابھی تک نہیں ہوسکی کہ انہیں بحال کرنے پر بھی امریکی دباو¿ موجود ہے اور امریکہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے گمشدہ افراد کے حوالے سے نوٹس لیا جبکہ موجودہ حکمران کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ دباو¿ اس لئے قبول کررہے ہیں کہ امریکہ کی ملٹری ودوسری امداد کے بغیر پاکستان کا گزارہ نہیں ہے یہ کیسی پالیسی ہے کہ امریکہ سے فوجی امداد اپنے ہی شہریوں پر استعمال کرنے کیلئے حاصل کی جارہی ہے۔ افتخار محمد چودھری کا دوسرا جرم پرویز مشرف کے الیکشن لڑنے سے متعلق اہلیت کے بارے میں آنے والا فیصلہ تھا اور تیسرا جرم این آر او جس کے تحت اربوں روپے کی کرپشن معاف کی گئی کو عدالت میں ٹرائل کرنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کی سب سے بڑی وجہ ایوان صدر میں کی جانے والی سازشیں ہیں۔ ملک میں مہنگائی اور غربت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت اس وقت گھٹن میں ہے۔ کشمیر پر بھی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ پاکستان کے دریا خشک ہوچکے ہیں، عوام کو پانی میسر نہیں ہے لیکن حکومت کو ان معاملات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ا عام شہری حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ اس نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے کیا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں اے پی ڈی ایم کا موقف آج بالکل سچ ثابت ہوچکا ہے۔ دو ماہ قبل میاں برادران کو اسی الیکشن کمیشن نے الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور آج ان کے کاغذات منظور کرلئے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو جو ہدایت دی جاتی ہے وہ اسی پر عمل کرتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بغیر عدالتی بحران حل نہیں ہوسکے گا۔ ملکی مسائل کو قومی حکومت کے ذریعے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ملک میں گشتہ جمعہ کو دینی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ڈمہ ڈولہ میں امریکہ کے میزائل حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ صوبہ سرحد کے تمام علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ دینی و مذہبی جماعتوں نے حکومت سے اس امریکی جارحیت کا سخت نوٹس لینے اور موثر انداز میں اس کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ امریکی جارحیت کے خلاف ملک بھر کی مساجد میں مذمتی قرار داد منظور کی گئیں ۔ جبکہ صوبہ سرحد کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ضلعی وتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے ۔ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام جماعت اسلامی ‘جمعیت علماء اسلام (ف) اور دیگر مذہبی و دینی تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا جے یو آئی(ف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانافضل الرحمان کی اپیل پر ملک بھر میں باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ پر امریکی حملے کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا ۔ صوبہ سرحد اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ملک بھر اور صوبائی دارالحکومت میں اس موقع پر احتجاجی قرار داد منظور کی گئی جس میں باجوڑ پر امریکی حملے کوپاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ واقعہ انسانیت کے خلاف ہے قرا رداد میں کہاگیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں لیکن اقوام متحدہ ا ور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں قرا رداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت امریکہ میں باقاعدہ احتجاج کرے ۔ قرار داد میں وزارت خارجہ کی طرف سے مذمتی بیان جاری نہ کرنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ۔ حکومت خارجہ پالیسی کوپارلیمنٹ میں زیر بحث لائے اور خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کرے اور سابقہ حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل کرے ۔تحریر اے پی ایس،اسلام آباد

Sunday, May 11, 2008

پاکستان کا مستقبل،فاطمہ بھٹو اور عوام ۔۔۔تحریر چودھری احسن پریمی



نئی اتحادی حکومت کو عوام نے صرف روٹی، کپڑے اور مکان کا نہیں بلکہ عدلیہ کی بحالی کا بھی مینڈیٹ دیا ہے۔ وعدوں سے پھرنے کی بجائے عوام کی توقعات پر پورا اتریں عدلیہ کی آزادی، ملک میں قانون کی حکمرانی، ملکی معیشت کو مضبوط بنانا اورخاص طور پر بجلی کے بحران کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح کے دعوے تھے حکومت کا اصل مقصد عوام کو بحرانوں سے نجات دلانا ہے اور جب تک ملکی معیشت کو مضبوط اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاتا اس وقت تک نئی حکومت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتی۔عدلیہ کی بحالی قوم کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے اورنئی حکومت کو قوم کو یقین دلاتا ہوگا کہ ججز کی بحالی سمیت تمام وعدوں کو پورا کیا جائیگا اور اس سے ملک میں آئین، انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو گی۔اگر حکمرانوں نے اس بار پھر عوام کو چکر دینے کی کوشش کی تو نئے اتحادی یہ بات یاد رکھیں اب دونوں جماعتوں کے خلاف نعرہ لگے گا۔اور فو ج کو سیاست سے پاک کرنے کی باتیں کرنے والے سیاستدان یہ بھی ےاد رکھیں کہ جب تک ہماری سیاسی قیادت میں بدیانتی،بدعنوانی، غلط بیانی اور دو نمبری موجود رہے گی فوج کو بھی مداخلت کا موقع ملتا رہے گا ۔ اور اس وقت ہر طرف جو پہیہ جام کی کیفیت نظر آرہی ہے لگتا ہے کہ تیاری شروع ہے۔ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ اس دفعہ چور، بدمعاش اور قرضہ چوروں کا ساتھ دینے کی بجائے فوج عوام کا ساتھ دے گی اور ملک کی بھاگ دوڑ اور قیادت عالمی و ژن رکھنے والی فاطمہ بھٹو کے حوالے ہوگی ۔اور فاطمہ بھٹو کو وزیر اعظم بنایا جائے گا اور تمام بحرانوں پر قابو پایا جائے گا جو ساٹھ سالوں سے بدعنوان سول و فوجی حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں۔جبکہ وزارت قانون نے گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک بریفنگ جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو آ ئینی ترمیم کے بغیر بارہ مئی کو بحال کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ یہ ناممکن بھی ہے وزارت قانون نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 182 کے تحت ہم معزول ججز کو ایڈہاک جج کے طور پر بحال کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے بھی ہمیں صدر اور چیف جسٹس کی مرضی کی ضرورت ہے۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے اختلافات تا حال برقرار ہیں اور آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے مابین لندن میں جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے،آصف زرداری سے بعض نکات پر اختلاف ہے،3نومبر کو حلف لینے والے ججز ہماری نظر میں جائز نہیں،پی پی کے سربراہ نے سوچنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی سی او ججز کے حوالے سے کڑوی گولی کھانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ حکمراں اتحاد برقرار رہے، پی سی او ججز کو ایڈہاک کے طور پر برقرار رکھنا چاہیے۔12مئی تک تاریخ بڑھانے کا مقصد ججز کی بحالی تھا، مذاکرات کے دوران دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں،آصف زراداری نے سوچنے کے لیے مزید وقت مانگاہے عدلیہ کی بحالی پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے،انھوںنے اعتزاز احسن،فخرالدین ابراہیم اور حفیظ پیرزادہ کو دبئی بات چیت کے دوران کمیٹی میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا،کمیٹی نے پی سی او ججز کے حوالے سے مختلف رائے دی تھی،اعتزاز احسن سمیت دوارکان پی سی او ججز کو ایڈہاک ججز کے طورپر برقرار رکھنے کوتیار ہیں جبکہ حفیظ پیرزادہ کا نکتہ نظر اسکے برخلاف ہے۔نواز شریف نے کہا ہے کہ سارا کام ق لیگ والوں نے بگاڑا اور ججوں کوبرباد کیا۔ ا یڈہاک ججوں کے مسئلہ پر تنازعہ بدستور قائم ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے سپریم کورٹ کے ججوں کو مستقل جج کے طور پر رکھا جائے اور ججوں کی تعداد بڑھائی جائے لیکن مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ ان ججوں کو ایڈہاک بنیاد پر رکھا جائے اور تعداد بڑھانے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی قیادت میں دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان مذاکرات میں ان تجاویز پر غور کیا گیا جو ان دونوں جماعتوں کی آئینی کمیٹی نے تیار کی تھیں۔ ایک کے سوا دیگر تمام سفارشات پر اتفاق رائے ہے صرف ایڈہاک ججوں کی تقرری کا ایشو متنازع ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تعداد بڑھانے کے لئے آئین میں ترمیم کی خاطر مزید مہلت دی جائے لیکن مسلم لیگ (ن) نے دھمکی دی ہے کہ توسیع دو مرتبہ ہو چکی ہے اور معزول ججوں کو 12مئی تک بحال نہ کیا گیا تو ان کے وزیر کابینہ چھوڑ دیں گے اور دونوں حکمرانوں جماعتوں کی راہیں جدا ہو سکتی ہیں۔ البتہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے چہروں سے پریشانی واضح دکھائی دے رہی تھی اور اندازہ ہو رہا تھا کہ ”مذاکرات کے اندر سب اچھا نہیں تھا“ البتہ میاں شہباز شریف نے یہ تبصرہ کیا کہ ایڈہاک ججوں کے معاملے پر ہم اپنے موقف پر قائم ہیں مذاکرات میں آصف زرداری کے ہمراہ اس بار رحمن ملک کے بجائے امریکہ میں نامزد پاکستانی سفیر حسین حقانی تھے جبکہ میاں نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف، اسحق ڈار، خواجہ آصف اور سید غوث علی شاہ تھے۔ حسین حقانی کی مذاکرات میں موجودگی اور امریکہ کے پیغام کے حوالے سے خواجہ آصف کے مطابق یہ محض قیاس آرائی ہے امریکہ نے پیغام بھیجنا ہوتا تو فون پر بتا سکتا تھا نمائندہ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ججوں کی بحالی کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ 12 مئی حتمی تاریخ ہے۔پاکستان میں ججز کی بحالی کے ایشو میں امریکہ کی براہ راست مداخلت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باو¿چر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس معاملے پر امریکی ایما پر نواز شریف پر اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباو¿ ڈال رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے ججز کی بحالی کے معاملے پر امریکی دباو¿ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ امریکی نائب وزیر خارجہ حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین سے ججز کی بحالی کے ایشو پر بات چیت کے لیے گزشتہ اتوار کو لندن پہنچیں ہیں ۔ اسی ملاقات کے پیش نظر نواز شریف نے لندن میں اپنے قیام میں ایک دن کی توسیع کی ہے ۔ ججز کی بحالی کے معاملے پر نواز شریف نے کسی صورت اپنے موقف پر سمجھوتہ اور کسی بھی بیرونی دباو¿ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف نے متبادل حکمت عملی طے کر لی ہے جس کا اعلان آج( پیر کو) اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائے گا سعودی عرب کے اعلی حکام کی جانب سے بھی امریکی ایما پر نواز شریف کو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباو¿ ڈالا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ججز کی بحالی کے ایشو پر کمزوری نہ دکھانے اور بیرونی دباو¿ قبول کرنے کا دو ٹوک فیصلہ کر لیا ہے ۔ پاکستان کے اس اہم قومی ایشو کے حوالے سے امریکہ کی براہ راست مداخلت پر سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ معزول ججوں کی بحالی کے پیچیدہ مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی آخری کوششوں کے سلسلے میں حکومتی اتحاد کی دو اہم جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور شروع ہوا۔ دونوں جماعتیں گذشتہ روز اس مسئلہ پر کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنماو¿ں کے درمیان لندن میں سات گھنٹوں پر مشتمل بات چیت کے دو دور ہوئے تاہم ایک دوسرے کو بعض نکات پر آمادہ نہیں کر سکے، اگرچہ دونوں جماعتیں عمومی طور پر ججوں کی بحالی پر متفق ہیں تاہم اصل مسئلہ ججوں کی بحالی کا طریقہ کار کا ہے۔ معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے قوم کو مسلسل اضطراب میں رکھا جا رہا ہے جو ایک تشویشناک بات ہے ۔ آصف علی زرداری کے ساتھ شہباز شریف کے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے کی توقع نہیں ہے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ۔عوام کسی آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کریں گے اس کا مطلب مشرف کے اقدام کو جائز قرار دینا ہو گا امریکہ ہماری پالیسیوں میں مسلسل مداخلت کر رہا ہے اور وہ حکومت پر مسلسل دباو¿ ڈال کر اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے ۔۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف ہمارے ساتھ رہیں گے12مئی کے بعد نئی اپوزیشن نہیں بنے گی تاہم سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی (ق) لیگ سے اتحاد ہو گا یا نہیں ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ججز کی بحالی پر نہیں طریقہ کار پر اختلاف ہے، اداروں میں تصادم اوربیک وقت 2چیف جسٹس نہیں چاہتے،عدلیہ کی بحالی کا وعدہ ضرور پورا کیا جائیگا لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے اداروں میں تصادم ہو ۔ صدر پرویزکے مستقبل کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے ‘امریکہ کو ججز کی بحالی سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے تعاون چاہتا ہے۔ ججز کی بحالی کے معاملہ میں صرف طریقہ کار پر معمولی اختلاف ہے اور انشاء اللہ اسے بہت جلد حل کر لیا جائیگاکوئی ایسا کام نہیں چاہتے کہ جس سے کوئی ایک بحران ختم اور دوسرا کھڑا ہو جائے۔دو چیف جسٹس لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں۔حکمران اتحاد 12 مئی کو ججز کی بحالی کے معاملہ پر انتہائی سنجیدہ ہے ۔ ا ن افواہوں میں کوئی صداقت نہ ہے کہ میاں نواز شریف 12 مئی کے بعد اپوزیشن میں چلے جائیں گے نواز شریف ان کے انتہائی قابل احترام اتحادی ساتھی ہیں جن کی تمام حکمران اتحاد انتہائی عزت کرتا ہے ذا تی طور پر ضلعی حکومتوں کے حق میں ہیں۔ لیکن ضلعی حکومتوں کا جو بنیادی تصور تھا اس کی بنیاد اصل میں پارٹی کی بنیاد پر الیکشن تھے جس میں ضلعی نمائندے مناسب طریقے سے منتخب ہوتے تھے تاہم موجودہ ضلعی حکومتوں کے نظام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔اعتزاز احسن کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پارٹی کی قیادت ہی کرنے کی مجاز ہے اور وہ بحیثیت وزیراعظم اس سلسلہ میں کچھ نہ کہنا چاہتے ہیں ذاتیات کی بات نہیں کرنی بلکہ ملک آئین اور قانون کی بات کرنی ہے صدر سے میرے تعلقات صرف اتنے ہیں جس کا آئین اور قانون تقاضا کرتا ہے، گورنر کی تبدیلی ایک معمول کا معاملہ ہے، ہماری پہلی ترجیح امن و امان کی بحالی ہے توانائی کے بحران پر قابو پانا اور غذائی قلت کو دور کرنا اور بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ججوں کی بحالی کیلئے مذاکرات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا 13 نکاتی موقف جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ (1) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری یہ محسوس کرتے ہیں کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہونی چاہئے اور ملک کو بچانے کیلئے ان میں بڑے معاملات پر اتفاق ہونا چاہئے۔ پارٹیوں کے اندر اور درمیان یا ان کا اداروں کے ساتھ تصادم پاکستان کی سالمیت کیلئے تباہ کن ہوگا۔ (2) محترمہ بینظیر بھٹو کی تدفین کے بعد آصف زرداری نے تحمل کی اپیل کی اور تمام طاقتوں سے پ±رتشدد رویّے کی بجائے پ±رامن رویّے کا مظاہرہ کرنے کیلئے کہا تاکہ پاکستان کو بحران سے بچایا جاسکے۔ پیپلز پارٹی نے اس وقت بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور نہ اب کرے گی۔ (3) ججوں کی بحالی کیلئے بھوربن معاہدہ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی سیاسی عزم کا اظہار اور دوسری طرف قومی مفاہمت کا اظہار تھا۔ (4) کچھ لوگوں نے اعلان بھوربن کو، اسکے ساتھ منسلک آئینی اور سیاسی ایشوز کو دیکھے بغیر ہی، ججوں کی بحالی تک ہی محدود کرلیا ہے۔ میثاق جمہوریت یا پھر قومی مفاہمت کے وسیع معاملات کے تحت ججوں کی بحالی کے سوال کو آئینی معاملات کو علیحدہ کرتے ہوئے حل نہیں کیا جاسکتا۔ (5) شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کتاب ”اسلام، جمہوریت اور مغرب“ کی روح کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک نئے کل کیلئے آج ہی سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان، سول سوسائٹی اور پاکستان کے عوام الناس کے درمیان پل تعمیر کر رہے ہیں جو ماضی میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے گا اور ہمیں بہتر مستقبل کی جانب لے جائے گا۔ ملک میں مفاہمت کے ماحول کی ضرورت ہے تاکہ ملک ان چیلنجز کا سامنا کرسکے جس کا اسے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت سے کئی مسائل ورثے میں ملے ہیں اور ان مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر زیر بحث لانا چاہئے۔ (6) پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور پیپلز پارٹی اس پر قائم ہے۔ اعلان بھوربن درحقیقت اس ہی عزم کا تسلسل تھا اور یہ سمجھا گیا تھا کہ اعلان بھوربن پر میثاق جمہوریت کے تحت ہی عمل ہوگا۔ (7) پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ تصادم ملک، اسکی سالمیت اور معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پارٹی چاہتی ہے کہ تمام جمہوری قوتیں عوام کی خدمت اور اداروں، بشمول پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ، کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھیں۔ (8) پاکستان پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کی واپسی کو روکا جاسکے اور قومی مفاہمت اور حکمران اتحاد کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ (9) پاکستان پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت ججوں کی بحالی میں حائل قانونی رکاوٹیں اس طرح سے ختم کرنا چاہتی ہے کہ اس عمل میں ایسی کوئی خرابی پیدا نہ ہو جسے غیر جمہوری قوتوں استعمال کر سکیں۔ (10) یہ اصول کی بات ہے کہ دونوں جماعتیں عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں۔ اختلاف صرف بحالی کے طریقہ? کار پر ہے۔ اختلافات کو آئین کے تحت ختم کیا جائے گا اور متعلقہ آئینی ایشوز پر مختلف تشریحات موجود ہیں۔ (11) پاکستان پیپلز پارٹی عدلیہ کی صورتحال میں بہتری لانے اور عوام کو سستے اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے آئینی پیکیج لانا چاہتی ہے۔ میثاق جمہوریت میں پہلے ہی اس آئینی پیکیج کا ذکر موجود ہے اور 2006ء میں میاں نواز شریف اس سے اتفاق کر چکے ہیں۔ (12) پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ عوام اور تمام جمہوری قوتیں ملک میں جمہوری اقدار کو مزید مستحکم بنانے کیلئے کام کریں۔ (13) پاکتسان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ اس وقت ملک کے عوام کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی جمہوریت اور ملک کی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ یہ الجھے ہوئے معاملات کی تشریح اور سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کا وقت نہیں ہی ہے۔ پیپلزپارٹی مخلوط حکومت کو قائم رکھنے کیلئے تمام درکار اقدامات اور اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہے ۔ جو کہ اس کا خوش آئند اقدام ہے ۔اور اس حوالے سے شری رحمن نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلزپارٹی کا اتحاد برقرار رہے گا۔ ا ججوں کی بحالی کا مسئلہ ایک آئینی مسئلہ ہے اور پولیس کے ذریعہ نہ جج بحال ہوسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ ججوں کو سبکدوش کیا جاسکتا ہے۔ معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر مذاکرات کی مکمل ناکامی کی صورت میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنا تعاون یکسر ختم نہ کرے بلکہ وقتی طور پر اپنے احتجاج کو کابینہ سے علیحدگی تک محدود رکھے اگرچہ ن نے جو کچھ بھی کرنا ہے اس بارے میں انھیں کوئی ابہام نہیں ہے۔ جو کچھ وکلا کمیونٹی اور عوام چاہتے ہیں وہ اس کی قدر کریں انھوں نے اتنے طویل مذاکرات صرف اسی لئے کئے ہیں تاکہ کوئی حل نکل آئے“۔ چوہدری نثار کا اہم ترین بیان یہ تھا کہ ”معزول ججوں کی بحالی کے اپنے مطالبے کیلئے ہم اپنی پنجاب حکومت کی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت قائم رہتی ہے تو ٹھیک ہے اور اگر ختم ہوجاتی ہے تو بھی ہمیں کوئی پشیمانی نہیں ہوگی۔ ”فی الوقت پیپلز پارٹی کیلئے حکومت قائم رکھنا ہوسکتا ہے مشکل نہ ہو لیکن کابینہ سے ن کی علیحدگی سے مختصر عرصے میں اس کو شدید جھٹکا ضرور لگے گا“۔ ”پاکستان کو درپیش مسائل کے انبار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بنیادی ضرورت ہے کہ یہ دونوں بڑی پارلیمانی پارٹیاں تعاون کے راستے پر چلتی رہیں اور ملک کو تمام مسائل سے چھٹکارا دلانے کیلئے صلاحیتوں کا مشترکہ استعمال کریں“۔ اس بارے میں جانتے ہوئے کہ مسلم لیگ ن کا ان کے ساتھ تعاون زیادہ دیر نہیں چلے گا زرداری نے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملاکر تیاری پہلے ہی کرلی ہے تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جاسکے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اول الذکر حکمران اتحاد میں تنہا رہ گئی ہے کیونکہ اتحاد کے دوسرے ارکان ایم کیو ایم‘ اے این پی‘ جے یو آئی اور آزاد ارکان معزول ججوں کی بحالی کے خلاف ہیں۔ اسی حقیقت کے باعث پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین زرداری کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں کیونکہ وہ تمام ان کی حمایت کررہے ہیں ۔لیکن ان سب کی یہی رائے ہے کہ مسلم لیگ ن نے ججوں کے معاملے پر اپنے موقف کے باعث سیاسی طور پر بڑا فائدہ اٹھایا ہے اور اگر اس کے وزراء نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کرلی تو انہیں مزید بونس مل جائے گا‘ تاہم زرداری کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کشتی سے نہیں اترے گی کیونکہ ان کو احساس ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے اولین دشمن پرویز مشرف کے سوا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی وجہ سے حکمران اتحاد کی کمزوری سے صدر کو خود بخود فائدہ ہوگا اور اتحاد کا کوئی رکن بھی اس حقیقت کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں دراڑیں پڑنے سے مشرف خوش ہوں گے۔ وہ ایسی صورتحال کا طویل عرصے سے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا واحد ہدف نواز شریف ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر کو اس قدر تنہا کردیا جائے کہ تمام اتحادی انہیں چھوڑ دیں۔ مسلم لیگ ن کے وزراء نے نشاندہی کی کہ زرداری کے اہم مشیر ان کی لندن مذاکرات میں مدد کررہے ہیں‘ غیرمنتخب شدہ ہیں جبکہ عوامی نمائندوں کو معاملات سے دور رکھا ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمن ملک اور امریکا میں متعین پاکستان کے سفیر حسین حقانی لندن میں زرداری کی نواز شریف کے ساتھ اہم مذاکرات میں مدد کررہے ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کی مدد شہباز شریف‘ خواجہ آصف اور اسحاق ڈار کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ق جس نے ابھی مناسب اور ابہام سے عاری پالیسیاں بنانی ہیں‘ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اس سہولت کی شادی / اتحاد کے ٹوٹنے کے انتظار میں ہے۔ اگر مسلم لیگ ن حکمران اتحاد سے علیحدہ ہوجاتی ہے تو ق لیگ کے 51اراکین قومی اسمبلی مشرف کے حکم پر پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بتایا ہے کہ ”اتحاد کے وجود کا انحصار معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہونے والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مذاکرات کے نتیجے پر ہے“۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلم لیگ ق نے ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاق اور پنجاب کی سطح پر پیپلز پارٹی کی طرف دست تعاون بڑھانے کی باتیں قبل ازوقت ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق نے باہمی تعاون کیا تو مسلم لیگ ن کی پنجاب میں چھٹی ہوجائے گی کیونکہ دونوں پارٹیوں کے ملنے سے بڑی اکثریت وجود میں آئے گی۔“ موجودہ حکمران امریکا کے دباو¿ میں ہیں، ججوں کی بحالی کے معاملے میں امریکا مداخلت کررہاہے جبکہ لندن مذاکرات بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں اورایسی صورتحال میں عوام تماشائی نہیں رہیں گے۔ ملک کے 16کروڑ عوام اورکسی صورت 3نومبر کے بعد والی صورتحال اور پی سی او ججوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو قبول نہیں کریگی۔ جبکہ ججوں کی بحالی میں روڑے اٹکانے کے خلاف اے پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس 14 مئی کو منعقد کیا جارہا ہے جس میں اے پی ڈی ایم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی جبکہ جماعت اسلامی کی شوریٰ کا اجلاس 16مئی کو طلب کیا گیا ہے اور انھوں نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ اس ملک سے پرویزمشرف کی آمریت کو ختم کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ ہم کسی آئینی پیکج کو تسلیم نہیں کرینگے، آئینی پیکج دراصل پرویز مشرف کے غیرآئینی اور غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دینے کیلئے لایا جارہا ہے اور ایوان صدر سے منصوبے پھیلائے جارہے ہیں کہ ملک میں 2سپریم کورٹ اور دو چیف جسٹس ہونگے جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور ملک کو تقسیم کرنے کااورافراتفری پھیلانے کا منصوبہ ہے، ایسے منصوبوں کو وکلائ، سول سوسائٹی اور ہم ملکر ناکام بنائیں گے۔ پاکستان کے عوام جسٹس افتخا ر چوہدری کے بغیر ججوں کی بحا لی قبول نہیں کریں گے عوام اعلان مری کے مطابق تما م جج بحال چاہتے ہیں ۔ ججز کی بحا لی کیلئے آئین میں ترمیم تین نومبر کے غیر آئینی اقدامات کو تسلیم کر نے کے مترادف ہو گی ۔ ججز بحا لی کمیٹی کے فیصلوں سے قوم کو ایک فوری طور پر آگا ہ کیا جائے۔ فرد واحد کو اختیار نہیں کہ وہ آئین میں تر میم کر ے یا اسے معطل کر کے 60جج گرفتار کر لے ۔فر د واحد کے اقدامات تسلیم کر لئے گئے تو آئندہ ججوں کے ساتھ ارکا ن پا رلیمنٹ بھی گرفتار کر لئے جا ئیں گے ۔ سیاسی جماعتوں کے اختلافات جلد ختم ہونے چاہئیں۔ میثاق جمہوریت پر عمل کریں قومی سطح پر خوراک کابحران پیداہورہاہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 126ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی ہے ،ملک معاشی بحران سے دوچارہے،لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، لہٰذا سیاسی جماعتوں میں باہمی اختلافات جتنی جلدختم ہوں اتنااچھاہے تاکہ ہم غریب عوام کے بنیادی مسائل حل کرسکیں۔ ملک پہلے ہی ان گنت مسائل کاشکار ہے اور ججوں کامسئلہ ایک ایسی شکل اختیارکرتاجارہاہے کہ جتنی جلدحل ہوجائے ملک کیلئے بہترہے ۔ملک کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے‘ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا دیں اتحادی حکومت کے کندھوں پر قوم نے بھاری ذمہ داری ڈالی ہے اورانھیں عوامی توقعات پر پورا اترنا چاہیے ۔اے پی ایس




Wednesday, May 7, 2008

Time for renaissance of miniature art: Sherry





ASSOCIATED PRESS SERVICE

ISLAMABAD : Minister for Information and Broadcasting Ms Sherry Rehman said on Tuesday that miniature art was witnessing renaissance in the country. The minister was talking to reporters after inaugurating the Exhibition of Miniature Paintings by Najamul Hassan Kazmi at Nomad Art Gallery.The exhibition would remain open till May 16. Sherry Rehman said that there was a need to construct new museums and upgrade old museums in the country.About the performance of National Art Gallery (NAG) she said it was doing well.
However she urged the private sector to come forward for promotion of art galleries. About Public-private sector partnership she gave the example of Mohatta Palace Museum in Karachi.She said that as art lovers we should encourage and support arts.

Earlier while inspecting the exhibition she appreciated the work of the artist. She said he has broken the conventional boundaries of miniature art by introducing innovative techniques.
Kazmi has used a technique in which an ordinary paper is stained with tea to give the impression as if the portrait has been drawn over leather.
Talking to journalists Najamul Hassan Kazmi said he used this technique to infuse new spirit into miniature painting.
He said previously, he used to work with natural leave colour but this time he has used poster colour, acrylic, natural leave colour and mixed media giving an entire new impact to his latest collection.
The artist has used needle to draw minute details in his subject and such details could not be noticed with a naked eye.

Tuesday, May 6, 2008

An Interview with Shabnam Shakeel by Nasir Mughal,Interested readers can see daily Jinnah May 6,2008




Gilani stresses knowledge-based economy for sustainable growth





ASSOCIATED PRESS SERVICE

RAWALPINDI : Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani Monday said the government believed in a knowledge-based economy and called for promoting research and linkages between development institutions and industry to achieve sustainable economic growth. Addressing the 14th Convocation of the College of Electrical and Mechanical Engineering (EME), under the National University of Sciences and Technology, he said high priority needs to be given to the development and advancement of science and technology.
Giving his vision of promoting science and technology in the country, Gilani stressed strengthening of existing institutions involved in research and development activities both in the public and private sector.
“Strong linkages should be established between research and development institutions and industry for value addition in the manufacturing sector,” he added.
Gilani called for capacity building of the manpower in research and development centers with emphasis to improve qualitative research.
He lauded NUST as a centre of excellence that was undertaking qualitative comprehensive learning programme that not only included all disciplines of engineering but also subjects like business administration and information technology.
Gilani said universities should not just produce job seekers but also job creators through research, technology, management entrepreneurship.
The Prime Minister was particularly pleased to note presence of several female graduates that represented a right kind of gender-mix in steering country on road to progress and development.
Gilani greeted the faculty on the listing of NUST among the world’s top 500 universities, due to quality research and an excellent academic environment.
He announced a grant of Rs. 50 million for the construction of an academic block and another Rs. 39 million for promotion of sports facility and PM’s Gold Medal and grant to the overall best students to complete their Ph.D degree abroad.
The Prime Minister later awarded gold medals to top winners and degrees to the batch of 210 graduates in the disciplines of electrical, mechanical, computer and mechatronics.
In his address, Director NUST, Lt. Gen. Mohammad Asghar noted that higher education was gaining unprecedented momentum in the country.
He said NUST now ranked among the world top 500 universities because of its world-class research and linkages with international institutions.
Gen. Asghar informed that NUST had collaboration with 40 universities in 15 countries, which were keen to expand their collaboration with NUST for its quality graduates.
He said the university was reaching to disadvantage people through its outreach programme and sought the government support in this regard.
The commandant of EME College, Maj. Gen. Najeeb Tariq, recapped the activities of the institution set up in Quetta in 1957.
Having established its credibility as a premier equipment-training institute, EME College started its own B.Sc. Engineering Program in 1981, which was subsequently shifted to Naval Engineering College, Karachi.
In April 1984, having stayed for 26 years at Quetta, the College moved to its present premises.
Gen. Tariq said that the college faculty has contributed 1800 research papers in reputed journals.
The institution, he added, was working whole-heartedly to achieve new heights.

Monday, May 5, 2008

PM announces historic development package for the city





ASSOCIATED PRESS SERVICE

MULTAN: Prime Minister Syed Yousuf Raza Gilani on Sunday announced a historic development package for the city which includes start of work on Motorway (M-4), construction of educational institutions, road schemes, housing and load management plan for industrial and agriculture sector. Speaking at the Multan Press Club function ‘Guftgoo’, the prime minister said the work on all these projects would start next month and completed within five years.
He also announced expansion of Multan airport to make it of international standard for which the ministry of defence and the Civil Aviation Authority will acquire the land. The work would start in June this year.
He said six low cost housing schemes in Shuja Abad and Jalalpur would be started for which the provincial government will provide the land and requisite funds.
He said National Highway Authority would commence work on Multan Faisalabad Motorway (M-4) project in July 2008.
Prime Minister Gilani said road infrastructure in the historic city of Multan will be improved to ease traffic congestion.
For this purpose work on ring road in the inner city, which will have Northern and Southern by-pass, will be started.
He said construction of Northern By-pass will be completed at a cost of Rs 50 million in June next year, for which the land is already available. The Southern by-pass, he added, will be completed in a phased manner which will also include acquisition of land.
He said portion of ring road, passing from inner city will have underpasses and where needed, the crossings will be widened and improved.
Syed Yousuf Raza Gilani said the work on establishment of a women’s university and University of Science and Technology will start in July.
He also announced setting up of five colleges for girls and two colleges for boys and a cadet college in the city.
Water supply and sewerage schemes at a cost of Rs 5.92 billion will also be initiated.
He said to impart technical and vocational training to the youth of Multan, NAVTEC will present him a comprehensive plan for establishment of training institutes before June 30.
He announced to upgrade Bagh Langay Khan and Municipal library and refurbishment of Qasim Bagh stadium.
Prime Minister Gilani said a football ground and an athletics track of international standard will be constructed in the stadium.
Multan city, where he said, he grew up will be made into a national heritage city on the pattern of Faiz city of Morocco.
He said for proper load management after consultation with the representatives of industry, agriculture and power looms sector, the distribution of electricity to them will be rationalized according to their needs.
He said those who were arrested during the power looms strike will be set free tonight by the provincial government.
He announced to make Multan a model health district and said every Basic Health Unit (BHU) will have doctor and required staff and supply of medicines will be ensured.
He said Metro Cash-n-Carry store will open its branch in the city at a cost of Rs 2 billion having special storage for kinoo and mangoes. Prime Minister Gilani will lay the foundation stone of the store next week.
The other announcements by the prime minister include 15 buses for women colleges, upgradation of cancer hospital at Nishter College to 100 beds and two buses for the college.
The Prime Minister said that a special committee to oversee the package will be formed which he himself will chair.
The Prime Minister said that the development package has been announced after consultation with the federal government, provincial government and representatives of the city.